66

سرمایاکاری

کسی ملک کی قومی آمدنی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ قومی آمدنی (الیف) مساوی ہوتی ہے ۔ اس کے اخراجات ضروریات (ض) جمع اخراجات سرمایاکاری (ک) کے ۔ اس اصول کے تحت الیف = ض + ک کے ۔ اس مساوات کی دونوں طرح کی علامتیں تبدل پذیر ہیں ۔ اس لئے اگر ہم کسی ملک کی قومی آمدنی کو زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں ، جس کا دوسرے الفاظ میں یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ ہم اس ملک کی پیداواریا ماحصل بڑھانا چاہتے ہیں اور اس طرح بے روزگاری یا پوشیدہ بے روزگاری سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ملک کے معیار زندگی کو بڑھانے کے خواہاں ہیں تو ہمیں ملک کے اخراجات ضروریات یا سرمایا کاری یا دونوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہوگا ۔ مختلف ملک ترقی کی مختلف منزلوں پر یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا اخراجات ضروریات یا سرمایا کاری یا دونوں میں زیادہ اضافہ کرنا ہوگا ۔ کیوںکہ صرف اور سرمایا کاری وونوں تبدل پذیر علامات ہیں ۔ حکومت ملک کی معیشت کو اس طرح متاثر کر سکتی ہے کہ یا تو اخرجات ضروریات بڑھ جائیں اور یا سرمایا کاری یا دونوں تاکہ ایک کم ترقی یافتہ ملک کم سے کم مدت میں ترقی یافتہ ہوجائے اور ایک ترقی یافتہ ملک اپنے آپ کو کسادبازاری اور خوشحالی کے مد جزر Trade Sycle سے بچا سکے ۔
اس تجزیہ کے مقصد کے لئے آسان ترین خاکہ مسز جون رابنسن Mrs JoanRabinson نے اپنے ایک لیکچر ’اقتصادی ترقی کا نظریہ‘ The Theory of Ecnomic Deveploment میں جو کراچی یونیورسٹی میں میں ۱۰ اگست ۱۹۵۵؁ء میں دیئے گئے میں پیش کیا تھا ۔ 

اوسط مزدوری = 1 K Y W P C R s G
پہلا سال 500 100 60.0 40.0 80.0 20.0 4%
دوسرا سال 520 104 62. 4 41.6 83.2 20.8 4%
اوسط مزدوری = 1.1
پہلا سال 550 100 66.0 34.0 83.0 17.0 3%
دوسرا سال 567 103 68.0 35.0 85.5 17.5 3%
اوسط مزدوری = 0.9
پہلا سال 450 100 54.0 46.0 77.0 5 % 23.0
دوسرا سال 473 105 56.7 48.3 8.8 5% 24.1
K= موجودہ مشینری کی قیمت Value of Phsical Capital
Y= قومی آمدنی فی سال National Income per year
W= سالانہ مجموعی اجرت یا سالانہ مجموعی مزدور Total Wage per year
P= سالانہ مجموعی منافع Total Profits per year
C= سالانہ اخراجات ضروریات Consumption per year
SیاI = سالانہ بچت یا سالانہ اخراجات سرمایاکاری Saving or Investment per year
G = شرح ترقی سالانہDevlploment Rate per year
فرض کریں کہ ایک سال میں اوسط مزدوری ’1‘ہے ۔ ملک میں موجودہ مشینری ’K‘ 500 ہے ۔ مزدوروں کا قومی آمدنی ’Y‘ میں حصہ 60 فیصد ہے ۔ اس لئے مجموعی مزدوری ’W‘ 60 ہے اور جو حصہ سرمایاکار کو ملتا ہے 40 فیصد ہے ۔ اس لئے مجموعی منافع ’P ‘40 ہے ۔ ملک میں اخراجات ضروریات ’C‘ 80 فیصد ہے ۔ بچت کا رجحان 20 فیصد ہے اور یہ کہ تمام کا تمام دوبارہ سرمایاکاری پر خرچ کر دیا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے مجموعی بچت یا سرمایا کاری 20 فیصد ہے ۔ ہم یہ بھی فرض کرتے ہیں کہ مجموعی بچت سرمایاکار ہی کرسکتا ہے اور ایک مزدور بچت نہیں کرسکتا ہے ۔
پہلے سال میں شرح ترقی مشینری میں اضافہ 20 کو شروع سال کی سرمایاکاری 500 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی یعنی 500/20 جو 4 فیصد کے برابرہے ۔
دوسرے سال میں سرمایاکاری ’K‘ 500 جمع 20 ہو جائے گی ۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 جمع 4 کے حساب سے ترقی 104 ہوجائے گی ۔ مزدوری ’W‘ 104کا 60 فیصد کے حساب سے 62.4 کے برابر ہوگی ۔ نفع ’P‘ 104 کا 40 فیصدی کے حساب سے 41.6 کے برابر ہو گا ۔ اخراجات ضروریات ’C‘ 104 کا 80 فیصد یعنی 83.2 کے برابر ہوگی ۔ بچت ’S‘ یا سرمایا کاری I 104 کا 20 فیصد یعنی 20.2 ہوں گے ۔ دوسرے سال میں شرح ترقی سرمایاکاری میں اضافہ 20.8 کو دوسرے سال میں شروع کی سرمایاکاری 520 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی یعنی 520/8 جو 20.4 چار فیصد کے برابر ہے ۔ ملک کی معشت 4 فیصد سالانہ سے ترقی کرتی رہے گی اگر اوسط مزدوری 1 رکھی جائے ۔
اب فرض کریں ایک سال میں مزدوروں کی اوسط 1.1 تک بڑھا دی جاتی ہے اور اس سال میں مجموعی سرمایاکاری ’K‘ 550 ہے ۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 ہے ۔ مجموعی مزدوری ’W‘ 10 فیصد بڑھ جاتی ہے کیوںکہ اوسط مزدوری اس سال 1.1 ہو گئی ہے ، اس لئے یہ اب 66 ہوجاتی ہے ۔ مجموعی نفع ’P‘ قومی آمدنی 100 اور مجموعی مزدوری کا اوسط کا فرق یعنی 34 ہے ۔ اب یہ بھی فرض کریں کہ سرمایاکاروں Entrepreneurs اخرجات صرف رجحان 2/1 ہے ۔ یعنی جب ان کی آمدنی میں 6 کی کمی ہوجاتی ہے تو ان کی ضروریات میں 3 کی تخفیف ہوجاتی ہے ۔ لیکن مزدورں کی آمدنی میں 6 کا اضافہ ہوگیاہے اور انہوں نے وہ سب آمدنی خرچ کردی ۔ کیوں کہ ہم فرض کرچکے ہیں کہ مزدور طبقہ بچت نہیں کرتا ہے ۔ اس لئے اخراجات میں ضروریات میں اضافہ صرف 6 تفریق 3 یعنی 3 ہے ۔ اس لئے مجموعی اخراجات صرف ’C‘ 83.2 ہے ۔ ہم نے فرض کیا ہے کہ تمام بچت سرمایا کار طبقہ class Entrepreneursکرتا ہے ۔ ان کی مجموعی آمدنی ’P‘ میں 6 کی تخفیف ہوگئی ہے اور انہوں نے اپنے اخراجات ضروریات میں 3 کی کمی کردی ہے ، جیسا کہ ہم نے بتایا ہے ۔ اس لئے وہ اپنی بچت میں بھی 3 کمی کردیں گے تاکہ وہ اپنی آمدنی کی 6 تخفیف پورا کرسکیں ۔ اس لئے بچت ’S‘ یا سرمایاکاری ’I‘ 20 تفریق 3 یعنی 17 ہوگا ۔ پہلے سال کی ترقی سرمایاکاری میں اضافہ 17 کو سال کی سرمایاکاری 550 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی ، یعنی 500/17 جو 3 فیصدی کے برابر ہے ۔
دوسرے سال میں سرمایاکاری ’K‘ 550 جمع اضافہ 17 = 567 ہو جائے گا ۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 جمع 3 فیصد کے حساب سے ترقی مزدوری ’W‘ 103 کی 66 فٖیصد یعنی 68 فیصد کے برابر ہوجائے گی ۔ نفع ’P‘ 103 کا 34 فیصد یعنی 35 ہوگا ۔ اخراجات ضروریات ’C‘ 103 کا 83 فیصد یعنی 85,5 ہوں گے ۔ بچت ’S‘ یا سرمایاکاری ’I‘ 103 کا 17 فیصد 17,5 کے برابر ہوگی ۔ دوسرے سال میں شرح ترقی سرمایاکاری میں اضافہ کو دوسرے سال میں شروع کی سرمایاکاری پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی ۔ یعنی 567/17.5 جو 3 فیصد کے برابر ہے ۔
اس طرح ملک کی معیشت میں 3 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کرتی رہے گی ۔ اگر اوسط مزدوری 1.1 رکھی جائے ۔
فرض کریں کسی سال مزدوری گھٹ کر 9 فیصد رہ جاتی ہے اور اس سال مجموعی سرمایاکاری ’K‘ 450 ہے ۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 ، مجموعی مزدوری ’W‘ 10 فیصد کم ہونے کی وجہ سے 54 ہے تو مجموعی نفع ’P‘ مجموعی قومی آمدنی 100 اور مجموعی آمدنی 54 کا فرق یعنی 46 ہوگا ۔ پہلے یہ فرض کرلیاگیا ہے کہ سرمایاکار طبقہ کا رجحان صرف 2/1 ہے ۔ اس لئے جب ان کی آمدنی میں 6 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے توان کے اخراجات صرف میں بھی 3 فیصدکا اضافہ ہوجاتا ہے ۔ لیکن مزدوروں کی آمدنی میں 6 فیصد کی تخفیف ہوگئی ہے اور وہ اپنی تمام آمدنی خرچ کرڈالتے ہیں ، اس لئے اخراجات ضروریات 80 جمع 3 منفی 6=77 ہو گا ۔ سرمایاکار طبقہ اپنی اضافہ آمدنی کا نصف حصہ یعنی 3 فیصد اپنے اخراجات صرف میں لے آیا ہے ۔ اس لئے باقی ماندہ 3 فیصد کو وہ بچت ’S‘ یا سرمایا کاری ’I‘ پر لگائیں گے ، اس لئے بچت ’S‘ یا سرمایاکاری ’I‘ 20 فیصدجمع 23 فیصد کے برابر ہوگی ۔ پہلے سال کی شرح ترقی سرمایاکاری میں اضافہ 23 کو شروع سال کی سرمایاکاری 450 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی یعنی 450/23 جو 5 فیصد کے برابر ہے ۔
دوسرے سال سرمایاکاری ’K‘ 450 جمع 23 کا اضافہ =473 ہوگا ۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 جمع 5 فیصد کے حساب میں سے ترقی = 105 ہوگی ۔ مزدوری ’W‘ 105 کی 54 فیصد = 56.7 ہوگی ۔ نفع ‘P‘ 105 کا 46 فیصد =48.3 فیصد ہوگا ۔ اخراجات ’C‘ صرف 105 کا 77 فیصد =80.8 ہوگا ۔ بچت ’S‘ یا سرمایاکاری ’I‘ 105 کا 23 فیصد =24.1 ہوگی ۔ دوسرے سال میں شرح ترقی سرمایا کاری میں اضافہ 42.1 دوسرے سال میں شروع کی سرمایاکاری 43 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی ، یعنی 473/24.1 جو 5 فیصد کے برابر ہے ۔ اس طرح ملکی معیشت 5 فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی کرتی رہے گی ۔ بشرطیکہ اوسط مزدوری 9,0 فیصد برقرار رکھی جائے ۔
مندرجہ بالا تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ شرح ترقی کی زیادتی یعنی 5 فیصد کے لئے اوسط مزدوری کم ہونا چاہیے اور منافع زیادہ ہونا چاہیے اور اس شرح کی ترقی کو برقرار رکنے کے لئے ضروری کہ یہ سب کا سب منافع تخلیق سرمایاکاری Capital Farmatiom میں خرچ کیا جائے ۔ کم ترقی یافتہ ممالک اسی صورت میں ترقی کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی مزدوری کم رکھیں اور نتیجا اخراجات بھی کم رکھیں گے ۔ کیوں کہ ہم نے یہ فرض کیاہے کہ مزدور بالکل بچت نہیں کرتے ہیں اور اپنی تمام آمدنی خرچ کردیتے ہیں ۔
لیکن مزدور طبقہ کو اس صبر آزما مصیبت میں مبتلا کرکے کوئی ترقی پذیر ملک اسی صورت میں ترقی کرسکتا ہے ۔ جب کہ تمام کا تمام منافع ترقی کے لئے سرمایا کاری میں لگایا جائے ۔ اس قسم کی ضمانت کے لئے شخصی کاروبار پر پورے طور پر اعتبار نہیںکیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے ترقی پذیر ممالک کو ترقی کے ابتدائی مراحل پر حکومتی مداخلت کی زیادہ ضرورت ہے ۔
تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں