72

سفید نسل اور نسل پرستی

ٍٍ آج مغرب کی انسان دوستی ، آزاد خیالی ، ہمدردی اور وسعت نظری کی مثال بنے ہوئے ہیں اور ہمارا دانشور طبقہ ان کی تعریفیں کرتا ہوا تھکتا نہیں ہے ۔ اس کی نسبت مشرقیوں کو نہایت تنگ نظر خیال کیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ انہوں نے ماضی کے تمام مسلم فاتحین کو آج کے پیمانے پر تولتے ہیں ۔ انہیں لٹیرے اور بہت کچھ کہا جاتا ہے ۔ حلانکہ ان کا موازنہ کرنا ہے تو اس دور سے کیا جائے ، ناکہ آج کے دور سے ۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے مغرب آج کی نسبت پہلے نہایت تنگ نظر تھا اور انہوں نے اخلاخیات کے اپنے ہی پیمانے بنائے ہوئے تھے ۔ مغرب کی تعریقفیں اور انہیں برا کہنے والوں نے مغرب کو اس نظر سے نہیں دیکھتے کہ کل تک ان کے اخلاقیات کے پیمانے کیا تھے ۔ جہاں نہایت معمولی معولی باتوں پر بچوں تک کو پھانسی چڑھا دیا جاتا تھا ۔ خود برطانیہ جس میں بیسویں صدی کی ابتدا تک ۱۰۲ جرم کی سزا سزائے موت تھی اور بیسویں صدی کی پہلی ڈھائی میں ایک دس سال کی بچے کو پھانسی دی گئی تھی ۔ جس کا جرم یہ تھا اس نے ایک چاندی کا چمچ چرایا تھا ۔ اس طرح کی سزاؤں کا مشرق کبھی تصور پیدا نہیں ہوا ۔ مغرب کی آزاد خیای کی تصویر آج کی بات ہے ، ورنہ مغرب میں گزشتہ صدی کے وسط تک وسعت نظری پیدا نہیں ہوئی تھی اور ان کے اخلاقیات کے پیمانے آج سے مختلف تھے ۔ گزشتہ صدی کے ساتویں ڈھائی تک امریکہ اور جنوبی افریقہ میں کالوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوتا تھا اس کی مغرب کی تعریف کرنے والے تاویل پیش کریں گے ۔ یہ ایک بڑی حقیقت جس سے بہت کم لوگ آگاہ ہیں ان کل کی تنگ نظری اور آج کی وسعت خیالی کے پیچھے بھی معاشی و سیاسی مفاد ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے ۔ ان کی نسل پرستی کے وہ پہلو ہیں جن کی مشرق مثال پیش نہیں کرسکتا ہے ۔ آج جو مغرب میں عورتوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ڈاکٹر گستاولی نے جب 1885 میں تمدن عرب لکھی تو اس نے اعتراف کیا عرب معاشرے میں ہمارے معاشرے سے زیادہ حقوق حاصل ہیں ۔ خاص کر عورتیں جائیداد کی مالک ہوسکتی ہیں اور دوسرا جب چہاہے طلاق لے سکتیں اور عورتوں کو یہ حقوق حاصل نہیں ہیں ۔ دوسرا انہوں نے اس بات پر ھیرت کا اظہار کیا کہ مسلم معاشرے میں غلام گھر کے فرد کی طرح رہتے ہیں ۔ ان کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے اس کا ہمارے معاشرے میں تصور نہیں کیا جاتا ہے ۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب مغرب میں غلامی کے خلاف بات کرنا شروع کردی تھی اور خاص کر امریکہ میں اگرچہ قانونی طور غلامی سے آزاد ہوچکے تھے مگر ان کے خلاف جو سلوک کیا جاتا تھا وہ کتابوں میں مرقوم ہے ۔ جب کہ مسلم معاشرے میں غلاموں کے تاجداد بننے کی بیسوں مثالیں ملتی ہیں ۔
اٹھاویں صدی عیسویں کی ابتدا میں دنیا کی دولت اور نو آبادیوں پر چار ملک چھائے ہوئے تھے ۔ جو ۱۷۶۳ء تا ۱۸۲۵ء کے دوران یا تو مٹ چکی تھیں یا ان میں بڑی تبدیلی آچکی تھی ۔ ۱۷۶۳ء میں انگلستان نے امریکہ میں فرانس کے مقبوضات پر قبضہ کرلیا تھا ۔ ۱۷۷۶ء میں امریکہ کے اعلان آزادی کے بعد برطانوی حکومت کو سخت صدمہ پہنچا تھا ۔ ۱۸۱۰ء تا ۱۸۲۵ء کے درمیان امریکہ میں اسپین کی نو آبادی کا خاتمہ ہوگیا اور ۱۸۲۲ء میں پرتگال کے قبضے سے برازیل نکل گیا ۔
اس لیے اور یورپ کے صنعتی انقلاب کے باعث یورپ اور خصوصاً انگلستان کے ماہرین معاشیات نے تجارتی نظریہ زر کے بجائے آزادنہ تجارت کی اہمیت پر زور دیا ۔ نگلستان میں جمیز مل اور مالتھس وغیرہ آزاد تجارت کے حامی تھے ۔ وہ دنیا کے دور دراز حصوں پر مقبوضات کے خلاف تھے جنانچہ کابڈن Cabdan نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمت علمی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا کہ قدرت اپنے قوانین کی برتری قائم رکھے گی اور سفید چمڑی والوں کو اپنے ملکوں میں واپس آنا پڑے گا ۔ یہی حال ایک حد تک فرانس تھا اور جرمنی میں بسمارک نے تو نو آبادی کے جھگڑوں میں الجھنا پسند نہیں کیا ۔ چنانچہ جب فرانس نے اپنی شکست فاش کے نتیجے میں الساس لورین کے بدلے کوچین اور چائینا جرمنی کو دینا چاہے تو بسمارک انکار کر دیا ۔ اگرچہ بعد میں بسمارک کی حکمت علمی بدل گئی ۔
مگر یورپ کے صنعتی انقلاب نے یورپ میں ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ اسے اپنی حکمت عملی بدلنی پڑی ۔ کیوں کہ نئی نئی ایجادات کی وجہ سے کارخانوں میں کثیر مقدار میں مال تیار ہونے لگا اور اس مال کی کھپت کے لیے نئی منڈیوں کی بہت شدید ضرورت تھی ۔ اس کے علاوہ کارخانوں کو اپنے مال کی تیاری کے لیے سستے خام مال کی بھی شدید ضرورت تھی ۔ اسی زمانے میں ذرائع آمد نے نہایت ترقی کرلی تھی اور ریل ، دخانی جہاز ، تاربرقی کی ایجاد نے دور دراز کے علاقوں تک رسائی کو آسان کردیا تھا ۔ اس لیے تیار شدہ مال کی کھپت اور خام مال کے حصول کے لیے صرف ایشیا اور افریقہ کے علاقہ تھے جہاں قبضہ سے یورپی ممالک کو زیادہ آمدنی کی توقع تھی ۔ اس لیے یورپی ممالک نے نو آبادیوں پر قبضہ کرنے کی ڈور شروع ہوگئی ۔ ان معاشی اسباب کی بنا پر وطنیت کا ایک نیا تخیل پیدا ہوا اور اس نے تجارتی نظریہ زر کو ایک نئے روپ میں دوبارہ زندہ کر دیا ۔
وطن پرستی سے مراد کسی ایک علاقہ لوگ جو ایک ہی زبان بولتے ہیں یا ایک ہی نسل سے ہیں یا جن کا تمدن اور تاریخی روایات ایک ہیں اور ایک آزاد ریاست میں الگ رہنا چاہیے ہیں ہیں ۔ مگر اس کے برعکس وطن پرستی معنیٰ یہ قرار کہ کسی یورپ کی ریاست کے لوگ ملکی تجارتی اور معاشی مفادات میں رنگدار لوگوں پر حکومت کریں ۔
اگرچہ اس کے وطنیت Partriotism زیادہ مقبول نہیں ہوا اس کی جگہ قومیت یا قوم پرستی Nationalism نے لے لی جس کے معنیٰ بھی یہی تھے ۔ اس کے بعد یورپ ممالک کی نو آبادیاں حاصل کرنے کی یا ان پر قبضہ کرنے کی ڈور شروع ہوگئی ۔ اس ڈرو میں برطانیہ سب سے آگے تھا ۔ فرانس اور ہالینڈ بعد میں شامل ہوئے اور فرانس کے ملکی حالات نے کچھ زیادہ ساتھ نہ دیا ۔ پھر بھی اسے نے افریقہ میں ایک بڑا علاقہ حاصل کرلیا ۔ جرمنی چوں کہ بہت بعد میں شریک ہوا اس لیے اس کے ہاتھ افریقہ میں کچھ علاقہ ہی ہاتھ آیا ۔ اسپین نے اس مرتبہ نو آبادیوں کے لیے کوئی کوشش نہیں کی ۔ اٹلی بہت بعد میں جاکر افریقہ کے کچھ حصہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا ۔
نو آبادیوں پر قبضہ کرنے کی اس ڈور میں بعض ملکوں کو زیادہ اور بعض کو کم حصہ ملا ۔ لیکن تقریباً پوری دنیا انیسویں صدی کے آخر تک یورپی ملکوں کے حلقوں میں بٹ گئی ۔ اس تقسیم سے محروم ملکوں میں شکایات پیدا ہوگئی تھی ۔ لہذا لینن نے بہت پہلے کہا تھا کہ دنیا کی یہ تقسیم قطعی نہیں ہے اور مزید علاقوں پر قبضہ کے لیے ملکوں کے درمیان جنگیں ہوسکتی ہیں ۔ لینن کی بات درست نکلی اور دنیا میں میں دو بڑی جنگیں مقاصد کے لے لیے جنگیں لڑیں ۔
یورپی ممالک نے نو آبادیوں پر قبضہ خالص معاشی فوائد کے لیے کیا تھا ۔ مگر ان ملکوں نے اپنے عوام کے سامنے اس کی مختلف تاولیں پیش کیں تھیں ۔ ان میں وطن پرستی اور سفید نسل کی برتری کا نظریہ زیادہ پیش پیش تھے ۔ ان نو آبادیوں پرقبضہ کی حمایت کرنے والوں میں فوجی افسر ، وہاں متعین عہداروں اور ان کے اہل خانہ ، سرمایادار یا کارخانہ دار اور عیسائی مشنری حامی تھے ۔ ان میں فوجی افسروں جو ان ملکوں میں فتوحات حاصل کرتے تھے اس سے انہیں فوائد حاصل ہوتے تھے ۔ نو آبادی کے عہدے دار اور ان کے خانداں والوں کو دولت کے علاوہ بے شمار فائدے حاصل تھے ۔ مشنریاں نو آبادیوں میں عیسایت کی تبلیغ کرنا چاہتی تھی ۔ سرمایاداروں کو ان نوآبادوں کی بدولت ان کے مال کی کھپت اور سستہ خام مل رہا تھا اس لیے وہ دل و جان سے ان نو آبادیوں پر قبضہ کے حامی تھے اور انہیں براہ راست معاشی فائدہ ہو رہا تھا ۔ لیکن عام لوگوں کو ان نو آبادیوں کی بدولت کی بدولت روزگار میسر تھا مگر ان کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے ۔ اس لیے پروپنگنڈا کیا جاتا تھا کہ سفید اقوام نسلاً دنیا کی رنگ دار اقوام سے برتر ہے ، ان کا فرض ہے وہ ان پر حکومت کریں اور وہ دنیا کی غیر متمدن اور پست اقوام کو اپنا تمدن سیکھائیں ۔
جب کبھی نو آبادیوں کوئی کوئی خطرہ درپیش ہوتا تو اسے قومی عزت کا مسلہ کہہ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے قومی عزت پر آنچ نے آنی چاہیے ۔ اس لیے اگر کوئی محکوم قوم آزادی کے لیے مزاحمت کرے تو اس کی سرکوبی قومی فرض ہوجاتی تھی ۔ بقول پروفیسر مون کے اگر کوئی مسلمان کسی اطالوی لڑکی کو بھگا کر لے جائے تو اٹلی کو یہ حق ہے کہ وہ طرابلس پر قبضہ کرلے ۔ اگر میکسکو والے امریکہ جھنڈے کو سلامی نہیں دیں تو امریکہ بحری بیڑا ویراکرز پر قبضہ کرسکتا ہے ۔ کیوں کہ قوم کا سر ہر معاملے میں اونچا رہنا چاہیے ۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی نو آبادی کے مسلے پر دو یورپی ملکوں میں اختلاف شدد سے بڑھ جاتے تھے تو دونوں کی قومی عزت خطرے میں پڑ جاتی تھی ۔ مثلاً مراکش پر قبضہ کرنے کی جب فرانس نے کوشش کی تو جرمنی نے مخالفت کی اس سے فرانس اگر مان لیتا تو اس کی قومی عزت خطرے میں پڑ جاتی تھی ۔ اگر جرمنی اعتراض واپس لے لیتا تو اس اس کی قومی عزت کو ٹھیس پہنچتی ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں ۔
یورپ کی آبادی کسی ایک نسل سے تعلق نہیں رکھتی ہے بلکہ یہ مختلف نسلیں اس میں شامل ہیں ۔ ان میں مسلسل نسلی اختلاط اور نگ و جدل رہا ۔ یاد رہے جنگ و جدل خود نسلی اختلاط کا ایک ذریعہ ہے ۔ اس لیے یورپ کی کسی خالص نسل سے خیال کرنا محض خام خیال ہے ۔ اس کے باوجود سفید نسل کی برتری کا پرچار کیا گیا ۔ جس میں سفید آدمی برتری اور اس کے بوجھ کے مفروضے پیش کیے گئے ۔ کہا گیا کہ یورپی یعنی سفید یا نارڈک یا آریائی نسل دنیا کی تمام نسلوں سے ہر لحاظ سے برتر ہے اور اس کا فرض ہے کہ دنیا کی تمام نسلوں پر حکومت کرے ۔ دوسرا یہ کہا گیا کہ نسلی اختلاط سفید نسل کے لیے حیاتیاتی اور تمدنی نقطہ نظر سے بہت مضر ہے ۔ کیوں کہ اس طرح سفید نسل خودکشی کرلے گی ۔
ان طاقتوں نے اپنے مفاد کے لیے بہت سے نظرے اپنائے یا انہیں غلط معنیٰ پہنائے گئے ۔ اس کے لیے ڈارون Darwin کا نظریہ ارتقاء کی غلط تشریح کی گئی اور اس کے ذریعہ لسانی ، مذہبی ، اخلاقی اور نفسیاتی دلائل دئیے گئے ۔ اس طرح اس نظریہ کو غلط رنگ میں پیش کرکے نسلی ، مذہبی اور تمدنی تعصبات پیدا کئے گئے اور یورپی نسل اور یورپی تمدن کو دنیا کی سب سے بہترین نسل قرار دیا گیا ۔
۱۷۷۵ء؁ میں جے ایف بلومن باخ J F Blumenbach نے قافوالی نسلCancassian Race اصطلاع استعمال کی ۔ جس سے اس کی مراد یورپین نسل تھی ۔ اس کے پاس یہ قدیم کھوپڑی قاف واقع جارجیا سے آئی تھی اس لیے اس نے یہ نام تجویز کیا تھا ۔ بلو من باخ کا خیال تھا کہ تمام بنی نوع انسان کی نسل ایک ہی ۔ نہ صرف بلکہ دماغی حد تک سب ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اگر کوئی فرق ہے تو درجہ کا ہے نوع یا قسم کا نہیں ۔ تمام نسلیں ایک دوسرے سے درجہ بدرجہ ملی ہوئیں ۔ بلومن باغ کا نام تو مشہور ہوگیا ، مگر اس کے نظریے کو مصنفین اور محقیقن نے عمداً فراموش کردیا ۔
فرانسیسی مصنف گلابی نو نے مختلف نسلوں پر ۱۸۵۵ء؁ میں Essau Sur Einegalite das raecs human ines کتاب لکھی ۔ جس میں نام نہاد آریائی نسل کی برتری کا قصہ الاپا ۔ اس کے بعد لاپوژ Lapouge نے آریائی نسل اور نسل اور نارڈک نسل کو ایک ثابت کرنے کی کوشش کی ۔
۱۸۵۹ء؁ میں چارس ڈاون کی کتاب Origin of Species شائع ہوئی ۔ ۱۸۷۱ء؁ میں اس کی دوسری کتاب Descent of Men شائع ہوئی ۔ نسل پرستوں نے ڈارون کے نظریے کو ٹور مروڑ کر ارتقاء کے نظریہ کو مسخ کرکے عوام کو طرح طرح سے سفید نسل انسان کی سب سے ترقی یافتہ صورت ہے اور دوسری نسلیں ابھی ارتقاء کی کمترین منزلیں طہ کر رہی ہیں ۔ گویا وہ ابھی سفید نسل اور بندر کی درمیانی کڑیاں ہے ۔ گو اس کی قسم کی کوئی بات ڈاون نے نہیں کی تھی ۔ مگر یورپ نے علم و فنون میں جو ترقی کی اور دنیا کے بڑے حصہ پر اپنی حکومت قائم کرلی تھی اس کی بنیاد پر انہوں نے یہ فرض کرلیا تھی ۔ وہ جان بوجھ کر تاریخ کو بھول گئے تھے کہ کس طرح عربوں ، ترکوں ، ہنوں اور منگولوں نے یورپ پر حکومت کی تھی اور ایشیا نے دنیا کو جو تہذیب و ترقی کے سبق دیئے تھے وہ صرف محقیقن کو یاد تھے ۔ جب کہ عوام و الناس کا خیال تھا کہ یون سے تہذیب و تمدن کی ابتدا ہوئی ہے اور یورپ کے علاوہ دنیا کے دوسرے حصے جاہل اور وحشی رہے ہیں اور اب بھی جاہل ہیں ۔ یہاں تک چین اور قدیم ہندوستان کے عظیم انشان تمدنوں کی داستانیں یورپ کے مدارس کی عام کتابوں میں شامل نہیں تھیں ۔
انیسویں صدی عیسویں میں یورپ میں اس خیال نے جنم لے لیا تھا کہ سفید نسلی اعلٰ نسل ہے اور اس اعلیٰ نسل کا فرض ہے کہ وہ دنیا کی غیر متمدن اقوام یعنی ایشیا اور افریقہ کے باشندوں کو تہذیب سکھائے ۔ فرانسیسی ادیب ژذل فیری نے کہا تھا کہ اعلیٰ نسلوں کا فرض ہے کہ وہ پست نسلوں کو تہذیب سکھائیں ۔ فرانس اس کے لیے ایک مثالی حثیت رکھتا ہے ۔ جرمن اور آگے بڑھ گئے انہوں نے جرمن تہذیب کو افریقہ کے جنگلوں کے علاوہ ہوسکے تو دوسرے یورپی ملکوں کی نو آبادیوں میں بھی ۔ مشہور انگریز شاعر لارڈ کپلنگ نے اس کے لیے سفید آدمی کے بوجھ کی اصطلاح ایجاد کی ۔ اس کی نظم کا یہ حصہ دیکھیں ۔
Take up the white man,s burden……..
Send forth the best ye breed……..
Go bind your sond to exile…….
To serve your captive,s need.
To wait in benvy haness…….
On fluttered fold and wild…….
Your new caufht Sullen peopies
Half-devil and half child.
جہاں متمدن سفید آدمی کو اپنے فرض کا احساس تھا کہ وہ غیر متمدن ایشیائی اور افریقی دیسی باشندوں کو بقول کپلنگ نیم طفل اور نیم شیطان ہیں تربیت دے اور انہیں تمدن سکھائے ، وہاں اس یہ بھی یقین تھا کہ یہ غیر متمدن لوگ طبعاً اور فطرتاً پست ہیں اور کبھی متمدن نہیں ہوسکتے ہیں ۔ کپلنگ نے بھی لکھا ہے ہے ۔
For East ai East and West is West.
And never th twins shalaa meet,
ساتھ ہی اے یقین تھا کہ دنیا کے تمدن سارا نظام ، انسانیت اور آزادی کے تمام تر تخیلات سفید آدمی کے دم سے وابستہ ہیں ۔ اس لیے کپلینگ کہتا ہے ۔
There.s but one Task for all,
one life for each to gibe,
What stands if freedom fall?
Who dies if England live,
اگرچہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ غیر متمدن دیسی اقوام سفید آدمی سے پست تر ہیں اور پست تر رہیں گے ، کبھی ان کا تمدن اچھی طرح اختیار نہ کرسکیں گے اور سفید اقوام ہی تمدن کی اصل بانی اور اصل نگہبان ہیں پھر بھی (معلوم نہیں کیوں ؟) ان کا فرض یہ ہے کہ قربانی کرکے سفید آدمی کا بوجھ (یعنی رنگ والی غیر متمدن اقوام کو فائدہ پہنچانے کی کوششوں کا بوجھ) برابر اٹھاتی رہیں ۔ ان نیم طفل نیم وحشی قوموں کی تربیت پھر بھی سفید آدمی کا فرض ہے اور کپلنگ کہتا ہے کہ
Take up the white man,s burden
with patience to abide
To veil the threat of terror
And chedk the show of pride
By ope speech and simple
An hundred times made plain
To seek another,s profit
To work another,s gain
حیرت ہے کہ سفید آدمی اس سخت بوجھ کو اٹھائے رہنے پر کیوں مصر ہے ۔ بقول فارسٹر E M Forster اور زیادہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ جب کوئی اور سفید آدمی کا یہ بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے (یا جنگ کرکے اس سے بوجھ چھین لینا چاہتا ہے) تو وہ لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتا ہے اور بعض اوقات انہیں وحشی غیر متمدن انسانوں کو اپنے مخالف سفید آدمی سے لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لاتا ہے ۔ پست نسلوں پر سفید رنگ کے آدمی کی گرفت مظبوط رکھنا چاہتے تھے ۔
سفید نسل کا ارتقا
موجودہ انسان چوتھے برفانی دور میں ارتقاء پزیر ہوا ہے ۔ اس سے پہلے کئی انسان نما نسلیں وجود میں آئیں اور فنا ہوگئیں ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ انسان کا جنم کہاں ہوا تھا ۔ البتہ جس وقت موجودہ انسان وجود میں آیا اس وقت کرہ ارض پر چوتھا برفانی دور چل رہا تھا اور یورپ سیکڑوں فٹ اونچی برف میں چھپا ہوا تھا ۔ اس لیے زیادہ امکانات انسان کے جنم لینے کے وسط ایشیاء یا افریقہ میں ہیں ۔ چوتھے برفانی دور کے خاتمے پر کئی نسلیں وجود میں آگئیں تھی ۔ جو یورپ ، ایشیاء اور افریقہ میں پھیل چکی تھیں ۔ انسان نما نوع کے فنا ہوجانے اور موجودہ انسان کے باقی رہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو فطرت نے دنیا کے مختلف جغرافیائی آب و ہوا براشت کرنے صلاحیت دی ہے ۔ وہ خط استوا اور بحر منجمد شمالی کے موسم اور آپ و ہوا کو برادشت کرسکتا ہے ۔ اس کے لیے اسنے اپنی عقل و فہم کے ذریعہ مصنوعی ذرائع مثلاً گھر بنانا ، کپڑوں اور آگ کا استعمال اور شکار کے لیے ہتھیار کا استعمال سیکھ لیا ہے ۔
یہ نسل انسانی جو کہ انسان عاقل کہلاتی ہے دنیا کی تمام نوع نسلیں اسی شاخیں ہیں ۔ اس لیے جو ہکسکے ایک ہی نام انسانی گروہEthnic group تجویز کیا ہے ۔ انسان کی شکل و صورت ، جسامت اور قطع وٖضع میں تبدیلی اس کے رہن سہن اور جغرافیائی خطوں کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ مثلا خطہ استوا کے باشندوں کا سیاہ اس لیے ہوتا ہے کہ اسے قدرت نے گرمی کو براشت کرنے کے لیے صلاحیت ہوتی ہے یا چینی باشندوں یورپ سے شکل و صورت ، آنکھوں اور سر کی ساخت میں مختلف ہیں تو اس وجہ جغرافیائی حالات کا اثر ہے ۔ یورپ کے باشندے نسلی لحاظ ایشیا اور افریقہ کے باشندوں سے مختلف ہیں ۔ یورپ میں جو نسلی گروہ آباد ہوئے وہ کچھ یوں ہیں ۔
بحیر روم کی نسل یا میڈیٹری نین ۔ جسے Elliot Smith نے گندمی نسل لکھا ہے ۔ اس گروہ کا رنگ سفیدی مائل سے گندمی بلکہ خاصا گہرا رنگ ہوتا ہے ۔ اس گروہ کے کے بحیرہ روم کے چاروں طرف یعنی یورپی ملکوں کے علاوہ افریقہ اور ایشیا میں بھی آباد ہوا ہے ۔ ایلیٹ اسمتھ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی قدیم باشندوں کی ہڈیوں کی جو ساخت تھی وہ بحیرہ روم کے باشندوں کی ہے ۔ سامی نسلوں کا تعلق اسی گروہ سے ہے ۔
آریا یا شمالی یا نارڈک گروہ ۔ اس گروہ کی جلد سرخی مائل سفید ہے اور بال سیدھے ہیں ، بالوں کا رنگ پیلا ، بھورا یا سنہرا ہوتا ہے ، آنکیھیں نیلی یا بھوری ہوتی ہیں ، قدر اکثر اونچا ہے ۔ اس گروہ کے نمونے اسکینڈی نیویا ، شمالی روس اور جزائر برطانیہ میں زیادہ ملتے ہیں ۔ اس گروہ کا اصل وطن وسط ایشیا بتایا جاتا ہے ۔ نسل پرستوں کا کہنا ہے کہ آریائی زبانیں اسی گروہ کی تھی اور اس نے اپنایا ہے ۔
یوریشیائی یا آلپائینی گروہ ۔ اس گروہ کا سر چوڑا اور رنگ سفید ہوتا ہے ۔ یہ گروہ ہمالیہ کے شمال سے لے کر ایشیائے کوچک ، بلقان اور یورپ کے وسطی پہاڑوں پر آباد ہیں ۔
آلپائینی ۔ اس گروہ کا سر چوڑا ، بال سیاہی مائل ، ناک ذرا چوڑی اور قد اوسط ہوتا ہے ۔ اس گروہ کے لوگ روس سے لے کر وسط فرانس تک پائے جاتے ہیں ۔ اس گروہ کی مغربی شاخ سلاف کہلاتی ہے ۔
یوریشائی یا دنیاری Dinarie گروہ کہلاتی ہے ۔ یہ بحیرہ اڈریاٹک کے شمالی سواحل پر عام طور پر پائی جاتی ہے ۔ جنوبی پولینڈ اور جرمنی کے بعض حصوں میں اس نسل کے لوگ ملتے ہیں ۔ ان کا قد اونچا ، بال سیا ، رنگ گندمی مائل اور چہرہ لمبا ہوتا ہے ۔
مشرقی گروہ ۔ اس گروہ کا قد میانہ ، چہرہ چوڑا اور ہڈی دار ، جلد سفید ، بال اکثر راکھ کے رنگ کے ، ناک اٹھی ہوئی ۔ اس گروہ میں فن ، سفید روسی ، یوکرینی ، پول اور ایستھونی شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ یورپ ترکی گروہ کے لوگ بلقان ، کریمیا اور ہنگری میں ملتے ہیں ۔
اس تفصیل سے ایک سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ان میں کسی خاص نسل کو یورپی نسل نہیں کہے سکتے ہیں اور نہ ہی یہ سب نسلیں سفید رنگ کی کی ہیں ۔ یورپی علاقہ کبھی بھی ایشیا اور افریقہ سے جدا رہے ہیں ۔ ایشیا اور یورپ میں ، نسلی اختلاط و ربط ہجرت اور جنگ و جدل کی صورت جاری رہا ہے ۔ یاد رہے جنگ بھی نسلی اختلاط کا ایک ذریعہ ہے ۔ اس کے باوجود یورپ میں نسل پرستی کے تمام نظریوں کی بنیاد اس مفروضہ پر تھی کہ ایک یورپ طبعاً اور فطرتاً دنیا کی تمام نسل سے برتر ہیں اور انہیں ان پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے ۔
انسانی نسلوں کے بارے میں مختف نظریات ہیں ۔ ان تفصیل درج ذیل درج ہے ۔
(۱) مذہبی نظریہ ۔ اس کے مطابق تمام بنی نوع انسان حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں حام ، سامی اور یافت کی نسل سے ہیں ۔ یہ نظریہ امریکہ کی دریافت کے اہم نہیں رہا اور اس میں زرد اور شرق الہند کی نسلوں کا بھی ذکر نہیں ہے ۔
(۲) سفید رنگ یا یورپین ہونے کا نظریہ ۔ اہل یورپ کا رنگ عام طور سفید ہے اور وہ سفید رنگ کو ایک علحیدہ نسل سمجھتے تھے ۔ حالانکہ کچھ ترک و ایرانی اور یہودی کی یورپیوں کی طرح سفید رنگ کے ہوتے ہیں ۔ اس نظریہ کے مطابق یورپ کے لوگ اپنے کو دوسری رنگ درار نسلوں سے برتر قرار دیئے گئے ۔ یہاں تک کہ بہت سے یورپی ملکوں کے قانون میں بھی اسے استعمال کیا گیا ۔ مثلا انگلستان کی سول سروس میں صرف ایسے برطانوی باشندے اہل تھے جو یورپین نسل سے ہوں ۔ امریکہ میں بسنے کے لیے سفید یا یورپین ہونے کی شرط تھی ۔ انگلستان کی لبرل پارٹی نے بھی یورپین نسل کی حمایت کی تھی ۔ جنگ عظیم اول میں برطانیہ کے وزیر اعظم نے کوشش کی کہ ترکی کا وجود یورپ میں باقی نہ رہے ۔ اب بھی اسی اصول کے تحت یورپین کامن مارکیٹ میں ترکی کو رکنیت نہیں دی جارہی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سی یورپی اقوام مثلاً فن ، استھونی ، ہنگری اور باسک آریائی زبانیں نہیں بولتی ہیں ۔ جو قومیں آریائی زبانیں نہیں بولتی ہیں وہ اپنے یورپین یا سفید کہتی ہیں تھیں ۔ ایچ اے ایل فیشر نے اپنی تاریخ یورپ میں لکھتا ہے کہ ہم آسانی سے پیکنگ ، بنارس اور طہران کے لوگوں کے مقابلے میں یورپین آدمی کو پہچان سکتے ہیں۔ مگر فیشر شاید یہ بھول گیا کہ بہت سے ہندوستانیوں کو اٹلی ، اسپین اور یونان کے باشندے سمجھنا اور پرتگالی باشندوں کو ایشیا اور یورپ کے باشندے سمجھنا یورپ میں عام بات ہے ۔ کیوں کہ پرتگال ، اسپین ، یونان ، اٹلی اور جنوبی فرانس کے بہت سے لوگوں کا رنگ گندمی ہے ۔ نسلی ملاپ کی بنا پر کوئی جغرافیائی خط حدود بندی نہیں کی جاسکتی ہے ۔ اس طرح بہت سے مصریوں ، شامیون ، عربوں اور الجرائر اور تیونس کے بربر باشندوں کا رنگ اتنا صاف ہوتا ہے کہ ان اور یورپین باشندوں کو کوئی فرق نہیں معلوم ہوتا ہے ۔
(۳) آریائی نسل کا نظریہ ۔ پہلے پہل جب لسانیات کا تقابلی مطالعہ کی گیا تو یہ درریافت ہوا کہ یورپ کی زبانیں اور ہند آریائی زبانیں ایک گروہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس لیے آریائی نسل کے نظریہ نے جنم لیا ۔ اس میں ایک بڑا نقص یہ تھا کہ بہت سی رنگدار قومیں جن میں روس کے جارجین ، آرمینا ، ایران ، افغانستان اور برصغیر کی قومیں آریائی زبانیں بولتی ہیں اور ان کا بھی آریا ہونے کا دعویٰ ہے ۔ اس لیے ایشیائی قوموں کو مخلوط قراد دیا گیا ۔
(۴) نارڈک نسل کا نظریہ ۔ یہ اصل میں آریائیں نسل ہی ہے مگر ایشیا میں آباد آریاؤں کو مخلوط النسل بتایا گیا اور یورپیوں کو خالص آریائی اور اس فرق کو واضح کرنے کے لیے یورپیوں نارڈک نسل کہا گیا ۔ اس نظریہ کے مطابق یورپ کی سفید نسل اصل میں نارڈک یعنی سفید سنہرے بالوں والی دراز قد نسل تھی ۔ جس کا وطن اسکینڈی نیویا یا جنوبی روس تھا ۔ یہی نسل میڈی ٹرے نین نسل اور یوریشیائی نسلوں سے ملی اور ان کے رنگ کو سفید کر دیا ۔ یہ نسل جس کے خالص نمونے شمالی یورپ اور خصوصاٗ اسکینڈی نیویا ، جرمنی اور انگلینڈ میں نظر آتے ہیں ۔ یورپ کے مفکروں کے مطابق یہ بنی و نوع انسان کی عظیم نسل ہے ۔ یہ نظریہ جرمنی میں سرکاری طور پر رائج رہا ۔ جرمنی کے علاوہ امریکہ میں نارڈک نسل کے نظریہ کو پھیلانے کی کوشش کی گئی مگر اس قدر کامیابی نہیں ہوئی ۔ اس نظریہ کی بنا پر جرمنی اور امریکہ کے نسلی اختلاط کا مدار ہے ۔
جرمنی میں اس نظریہ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی تھی ۔ اسی زمانے جرمنی جو پہلی جنگ کی تیاری کر رہا تھا ۔ اسے اس طرح کے نظرے کی بڑی ضرورت تھی ۔ چنانچہ گستاف کوزی نا نے اپنی کتاب اسی موضع پر لکھی اور اس نے کوشش کی کہ نارڈک یا آریائی نسل کا اصل وطن بالٹک کو قرار دے ۔ جب کہ ّآریاؤں کا اصل وطن وسط ایشیا تھا اور آثار قدیمہ کی تحقیق سے ثابت ہوچکا تھا کہ یہاں میڈی ٹرے نین نسل آباد تھی ۔ بہرحال نارڈک نظریہ جرمنی میں بہت مقبول ہوا اور نسل پرست نازی پارٹی کا راستہ رفتہ رفتہ صاف ہوگیا ۔
ہٹلر کی کوشش تھی کہ تمام جرمن بولنے والے باشندوں کو ایک ہی مملکت کے تحت لایا جائے اور دوسرے اس کے محکوم ہوں ۔ یہ حکمت عملی ابتدا میں بسمارک کی تھی اور بعد میں ہٹلر نے اسے وسیع پیمانے پر پھیلایا ۔ اس نے نو آبادیوں کے بجائے جرمنی کی بہتری دیکھی کہ یورپ میں ایک طاقت ور ریاست قائم کی جائے ۔ چنانچہ جب فرانس سے اس نے الساس اور لورین اور ڈنمارک سے شلیگ ہول اشٹاین چھینا ۔ اگرچہ بعد میں بسمارک نے جرمن تاجروں اور سرمایاداروں کے زیر اثر اس نے نو آبادی مقبوضات حاصل کرنے کی کوشش ضرور کی مگر اس کی حثیت ثانوی رہی ۔ قیصر ولیم ثانی اور اس کے بعد ہٹلر اسی حکمت علی کو آگے بڑھایا ۔ کیوں کہ سفید نسل یا یورپین نسل کی برتری کا نظریہ اس کے لیے کافی نہیں تھا ۔ اس کے لیے نارڈک نسل کے نسل کے دعویٰ کو آگے بڑھایا گیا اور اس کے مطابق جرمنوں کو دنیا کی دوسری نسلوں بلکہ یورپ کی تمام نسلوں سے برتری کا دعویٰ کیا گیا کہ صرف یورپین یا سفید نسل ہونا کافی نہیں ہے بلکہ نارڈک ہونا ضروری ہے ۔
امریکہ میں آباد کاری کے وقت بہت احتیاط کی گئی تھی کہ ایشیائی یا رنگ دار ، یہود اور مسلمان باشندے میں آباد نہ ہونے پائیں ۔ دوسری طرف امریکہ میں وسیع عریض زمینیں خالی پڑیں تھیں اور انہیں استعمال میں لانے کے لیے افرادی قوت کی شدید ضرورت تھی ۔ افرادی قوت کو پورا کرنے کے لیے افریقہ سے غلاموں درآمد کیا گیا ۔ اس احتیاط کے باوجود امریکہ میں چینیوں اور جاپانی کی بڑی تعداد غیر قانونی راستوں سے امریکہ آگئی تھی ۔ ان لوگوں کا معیار زندگی نسبتاً پست تھا اور وہ بہت کم معاوضہ پر مختلف کام انجام دیتے ہیں ۔ اس سے مقامی لوگوں یعنی سفید فاموں کی بے روزگاری کا خطرہ تھا ۔ اس کو روکنے کی ایک صورت یہ تھی کہ امریکہ میں مزید ایشیائیوں کو آباد نہ ہونے دیا جائے ۔
دو عالمی جنگوں کے باعث یورپ سے بڑی تعداد میں یہودی ، روس اور مشرقی یورپ کے باشندے امریکہ آئے تھے ۔ ان میں سے جو مالدار تھے ان کو خوش آمدید کہا گیا تھا ۔ مگر آنے والوں میں مفلوک الحال لوگوں کی تعداد زیادہ تھے ۔ اس سے بھی بہت سے امریکیوں کو اندیشہ تھا کہ اس کا اثر ملک کی خوشحالی اور عام معیار زندگی پر پڑے گا ۔ اس لیے امریکہ میں ایسی بہت سی کتابیں لکھی گئیں جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ملک میں غیر نسل یا مشرقی نسل اور مسلمانوں کے باشندوں کی آمد سے ملک میں تعصب پھیلے گا اور اس کا اثر ملک پر بھی پڑے گا ۔ ان کتابوں میں سب سے زیادہ متعصبانہ کتاب امریکہ کے ایک شخص Medlson Grant نے The passing of the great race کے نام سے لکھی تھی ۔ اس کتاب لکھنے پر میڈیسن گرانٹ کو نیویارک کی زوالاجکل سوسائیٹی کا صدر ، امریکن میوزیم آف نیچرل ہسڑی کا ٹریسٹی اور امریکن جغرافیائی سوسائیٹی کا مشیر مقرر کردیا گیا ۔
اسی میڈیسن گرانٹ کے شاگرد لوتھراپ اسٹوڈارڈ The Rising Tide of Color لکھی ۔ اس کتاب کا مقدمہ میڈیسن گرانٹ نے لکھا جس میں تاریخ کو بری طرح مسخ کیا گیا ۔ اگر ان کا حوالہ دیا جائے گا تو بات بہت لمبی ہوجائے گی ۔ اس کے لیے ایک مثال کافی کہ حضرت عیسیٰ کو بھی ناردک قرار دیا گیا اور لکھا تھا کہ ایشیائیوں اور مشرقی یورپ کے باشندے جو کہ بیحد غریب ہونے کی وجہ سے بہت پست معیار زندگی گزار رہے ہیں اور اس وجہ سے مقابلے میں نارڈک یا سفید آدمی کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ۔
امریکہ میں ابتدا سے ہی رنگدار باشندوں کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ کیوں کہ اندیشہ تھا کہ انہیں اجازت دی گئی تو بڑی تعداد میں امریکہ آجائیں گے ۔ اس سے ایک طرف امیریکہ میں سفید فام اقلیت میں ہوجائیں گے اور معیار زندگی کی پستی کے باعث وہ کم معاوضہ میں کام کریں گے ۔ اس طرح بہت جلد ملک میں چھا جائیں گے ۔ اس سے ملک سفید فام باشندوں کی خوشحال پر اثر پڑے گا ۔ یہ صورت حال امریکہ میں یورپ کے ان باشندوں سے بھی پیدا ہوئی جو کہ جنگ کے باعث تباہ ہوچکے تھے ۔ اس لیے مزید احتیاط کی ضرورت تھی ۔ اس لیے امریکہ کے نام نہاد محقیقین نے نارڈک نسل نسل کو سفید نسل یا آریائی نسل کی جڑ قرار دیا اور اس امر پر زور دیتے رہے کہ صرف نارڈک نسل کے باشندوں کو امریکہ آنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔
معاہدہ ورسائی میں سرحدیں زیادہ تر نسلی بنیاد پر ملکوں کی سرحدیں مقرر کی گئیں تھیں ۔ اس بنا پر چیکو سلاوکیا کی مملکت قائم کی گئی ، سربیاکو مٹا کر یوگوسلافیہ بنایا گیا ۔ بالٹک کی ریاستوں کو آزادی دی گئی ۔ لیکن بہت امریکی میڈی سن گرانٹ اور ان کے ہم خیال بہت امریکی نازیوں کی طرح اس معاہدے کے مخالف تھے ۔ کیوں کہ ان کے خیال میں اس طرح نارڈک نسل کو کمزور کردیا گیا اور اس سے ایشیا کو یورپ پر حملہ کرنے کا موقع ملے گا ۔ واضح رہے ایشیا سے مراد ان کی اشتراکی روس تھا ۔
میڈی سن گرانٹ کے شاگرد لوتھارپ اسٹوڈارڈ جو کتابیں لکھیں ان میں سے دو تین بہت مشہور ہوئیں ۔ ایک کتاب اس نے پان اسلامزم کی ڈھمکی کے متعلق لکھی ، تمدن کی بغاوت Revolt aginst Civilazatin لکھی ۔ ایک کتاب رنگ کی بڑھتی ہوئی فوج The Rising Tide of Color میں اس نے لکھا کہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امور انسانی میں خاص چیز سیاست نہیں نسل ہوتی ہے ۔ اس نے سفید فاموں کو خبررار کیا تھا کہ رنگدار نسلوں میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے اگر یہ شرح قائم رہی تو دنیا میں سفید ملوکیت کو بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ نسلیں جلد ہی سفید فاموں کے ملکوں میں آباد ہونے کی کوشش کریں گیں ۔ مشرق بعید میں جاپان کی بڑھتی ہوئی طاقت نے ۱۹۰۵ء؁ میں جاپان نے روس کو شکست دی ۔ اس بعد جنگ عظیم دوم میں جاپان نے امریکی بندرگاہ پرل ہاربر پر حملہ کیا اور تیزی سے مشرقی بعید میں برماتک قبصہ کرلیا تھا ۔ اس سے سفید اقوام کی نسلی برتری پر ضرب پڑی اور امریکی سفید فام خوفزدہ ہوگئے ۔ جاپان کی فتوحات اتنی مستحکم تھیں کہ اسے شکست دینا محال ہوچکا تھا ۔ اس لیے اس بڑھتی ہوئی قوت کو روکنے کے لیے چاپان پر ایٹمی حملہ کرنا پڑا ۔
امریکہ جہاں پہلے ہیں افرادی قوت کی کمی تھی وہ جاپان کے حملے کی وجہ سے جنگ میں حصہ لینے پر مجبور ہوگیا تھا ۔ اسے اپنی فوجوں میں اضافہ کرنا پڑا تاکہ جنگ میں محوری قوتوں کے خلاف کاروائیاں کرسکے ۔ فوج میں امریکی جوانوں کے شامل ہونے کی وجہ ملک میں کام کرنے والے افراد کی شدید کمی ہوگئی تھی ۔ اس لیے امریکی خواتین کو کارخانوں میں کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ ورنہ اس سے پہلی امریکہ خواتین میں گھریلو امور انجام دیتی تھیں ۔ جنگ ختم ہوگئٰی مگر افرادی قوت کی کمی برقرار رہی تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ نے جنگ کے بعد بھی اپنی فوجوں میں کمی نہیں کی بلکہ اس میں اضافہ کیا ۔ کیوں کہ امریکہ نے کمنسٹوں کے خلاف مزاحمت کے لیے یورپ بلکہ پوری دنیا میں ایسے اڈے قائم کئے جہاں اس کی فوجیں موجود رہتی تھیں اور وہ دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا تھا ۔ ان میں خاص طور پر وہ اڈے شامل تھے جہاں پہلے برطانوی فوجیں ہوا کرتی تھیں ۔ اب وہاں امریکہ نے اپنی فوجیں تعینات کردیں تھیں ۔ یورپ سے امریکہ تارکین وطن آرہے تھے مگر وہ محدود تعداد میں تھے ۔ دوسری طرف امریکہ میں شرح پیدائش جنگ کے بعد بہت گر گئی تھی اور امریکہ میں کام کرنے والوں کی نہایت کمی تھی ۔ دوسری طرف مشرقی وسطیٰ میں تیل کی دریافت سے وہاں بھی امریکہ جوانوں کی ضرورت تھی ۔ مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں تیل کی دریافت کی وجہ سے دولت کی ریل پیل ہوئی تو عرب ملکوں نے اس دولت سے امریکہ اسلحہ کی خریدار میں دلچسپی ظاہر کی ۔ ان اسلحہ کے کارخانوں میں کام کرنے کے لیے لوگوں کی شدید ضرورت تھی ۔ اس لیے امریکہ مجبور ہوگیا کہ وہ تارکین وطن کے لیے ملک کے دروازے کھولے اور اپنی پالیسی میں نظر ثانی کرے ۔ لہذا اب رفتہ رفتہ رنگدار جن میں ایشیا ، لاطنی امریکہ اور افریقہ کے محدود لوگوں کو اجازت دیتا رہتا ہے ۔ دوسری طرف پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے لیے امریکہ میں جانا ایک سہانا سپنا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قانونی یا غیرغانونی طور پر امریکہ چلے چائیں ۔ آخر میں ایک اہم بات کہوں گا تاریکین وطن کا کسی اور ملک میں آباد ہونا حملے کی ایک قسم ہے ۔ اس سے وہاں تسلی اختلاط بڑھتا ہے ۔ یہ نسلی اختلاط رفتہ رفتہ سفید فاموں کا اثر بہت کم کردے گا ۔ کیوں سفید فاموں میں شرح پیدائش اتنی گرچکی ہے کہ وہاں معاشرے کو قائم رکھنا ایک اہم مسلہ بن چکا ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں