65

سلام ہے معاشی لال بجھکڑوں کو

سلام ہے پاکستان کے مالیاتی لال بجھکڑوں کو جنہوں نے پاکستان میں سود کی شرح میں .75 جیسی خطیر شرح سود میں کمی کردی ہے ۔ حالانکہ ہم امید کر رہے تھے تھے یہ شرح بہت کم ہے اور اسے مزید بڑھائی جائے گی ۔ اب ہم امید رکھتے ہیں آنے والے مہینے میں پیٹرول کی قیمت میں .010 پیسے کی کمی ضرور کریں گے اور ہم عیاشی کریں گے ۔ ہم امید کرتے ایسے فیصلوں کے بعد پاکستان کی معیشت سسک رہی ہے دم توڑ دے گی ۔ 
اس وقت دنیا کرونا کی شکار ہونے کے بعد دنیا کے بشتر ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کردی ہیں یا فضائی اور زمینی رابطے معطل کردیے ہیں اور دنیا کسادبازای کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔ اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے دنیا کے اکثر ملکوں نے اپنی شرح سود فوری طور پر صفر یا ایک فیصد تک محدود کردی ہے ۔ مثلاً امریکہ نے سود کی شرح سفر ایک جاپان میں منفی ایک ہوچکی ہے ۔ دنیا کی بہت سی صنعتیں مکمل طور پر یا جزوی طور بند ہوچکی ہیں ۔ دنیا پھر میں بہت سے ممالک اپنے عوام میں رقوم تقسیم نہیں کر رہے ہیں کہ لوگوں کی قوت خرید کم نہ ہو ۔ اس طرح ان کاروبار سے منسلک لوگوں کی بڑی تعداد جو کسی نہ کسی طرح منسلک ہے بے روزگا ہونے کا خطرہ ہوگیا تھا اس خطرہ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ۔ مگر ہمارے مالیاتی لال بجھکڑوں کی پوری کوشش رہی کہ وہ پاکستانی کو ختم کرنے کی سر تور کوشش کر رہے ۔ پاکستان کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ صاحب نے یہ خوش خبری سنائی کہ ہم کرونا کی روم تھام کے لیے جو رقم خرچ کریں گے اس کو مالیاتی خسارے میں شامل نہیں کیا جائے گا ۔ ہمارے وزیر اعظم نے بھی ایک بیان داغ دیا کہ ترقی پزیر ملکوں کے قرض معاف کیے جائیں ۔ حالانکہ آئی ایم ایف بہت کچھ کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے ۔ آئی ایم ایف نے سات سو ارب ڈالڑ دنیا بھر میں نجی اداروں اور کمپنیوں کی امداد کے لیے مخصوص کر دیئے ہیں اور یہ رقم انہیں بطور امداد دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ دس ہزار ارب ڈالر مختلف ملکوں کو قرض کے لیے رکھے ہیں ۔ یہ معمولی رقم نہیں ہے یاد رہے پاکستان نے صرف چھ ارب کے لیے اپنی معیشت گروی رکھدی تھی ۔ 
میرا دل تو ماتم کرنے کو جی چاہا رہا ہے کہ پاکستان سے معیشت دان ختم ہوگئے ہیں جو باہر سے بلا کر معیشت دانوں کو ملکی تباہ کرنے کے لیے ہمارے سر پر بیٹھایا گیا ۔ اس سے اچھا تھا کوئی اور بزدار تلاش کرکے اسے معاشیات کا وزیر بنا دیتے ۔ شاید اس میں خطرہ تھا وہ بھی اندھا دھند ایسے فیصلے نہیں کرلیں جس سے ملکی معیشت ترقی نہ کرلے ۔ اللہ ہم پر رحم کرے ایک طرف طرف مالیاتی فیصلے اور دوسری طرف کرونا کا عذاب ، اللہ ہمیں ان دونوں سے نجات دے ۔ آمین 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں