84

سندھ دریا کی پوجا

وسط ایشیا اور برصغیر میں کئی اولیا کے مقبرے قدیم بدھ اور ہندوؤں کے اسٹوپوں اور مندورؤں پر واقع ہیں ۔ ایسا ہی ایک مزار شیخ بہائ الدین نقشبندی کا بخارا میں ہے ۔ وہاں پہلے بدھوں کا اسٹوپہ تھا اور زائرین کا مرکز ہوا کرتا تھا اور یہ قیصر ہندی کہلاتا تھا ۔ مگر شیخ بہائ الدین نقشبندی کی تدفین کے بعد یہ عرفان محل کہلانے لگا ۔ اس طرح سہون میں شہباز قلدر جن کے مزار کو ہندو اور مسلمان یکساں تقدس دیتے ہیں ۔ ان کے مزار کے بارے میں جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ ان کو جہاں دفن کیا گیا ہے وہ پہلے ہندوؤں کا مندر تھا ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ شہباز قلندر کے بارے میں بہت سے کہانیاں ہندوؤں کے دور یا ماقبل اسلام سے تعلق رکھتی ہیں ۔ جنہیں بعد میں شہباز قلندر سے وابستہ کر دیا گیا ۔ شہباز قلند کا ایک مقبول عام لقب جھولے لال ہے ۔ جو مقامی ہندوئوں کا دیوتا ہے اور اس کی پوجا آج بھی برصغیر میں چالیس لاکھ ہندو پوجتے ہیں اور یہ پانی کا دیوتا مانا جاتا ہے ۔ اس کا ایک مندر اڈیرو لال ہے اور اس مندر کے ایک حصہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہے اور اسے خواجہ خضر کی درگا مانتے ہیں ۔ یاد رہے برصغیر میں خصر کا تعلق پانی سے تعلق مانتے ہیں اور ماچھی ، کشتی بان اور تجارت کے لیے سمندر کا سفر کرنے والے مسلمان خواجہ خضر کو بہت مانتے ہیں ۔ ان کی تمام کہانیاں اور خواجہ خضر کی خصوصیات جھولے لال سے ملتی ہیں ۔ یعنی مسلمان ہونے والوں نے جھولے لال کو مسلمان کرکے خواجہ خضر اور شہباز قلندر کردیا ہے ۔ شہباز قلندر کی زیارت کرنے والے پہلے پیر صدرالدین کے مزار لکی صدر شاہ پر آتے ہیں اور وہاں سے پھر کشتی کے ذریعے شہباز قلندر کے مزار پر آتے تھے ۔ یہ وہی صدر الدین ہیں جن کے بقول تحفہ الکرام کے جنہوں نے کہا تھا محنت میں نے کی تھی اور سب کچھ سمٹ کر شہباز قلندر لے گیا ۔

یہاں کے بہت سے مندروں یا اسٹوپوں کو بعد میں مزار میں تبدیل کردیا گیا ۔ ان میں اسلام آباد میں مشہور امام بڑی کا مزار ہے ۔ جس کے بارے میں ڈاکٹر حسن دانی کا کہنا ہے کہ یہاں پہلے بدھوں کا اسٹوپہ ہوا کرتا تھا ۔ ایک ایسا ہی مزار بلوچستان میں بی بی نانی کا ہے ۔ یہاں قدیم زمانے میں بی بی نانی یا نانیا دیوی مندر تھا ۔ یہ وسط ایشیا میں سیتھوں کی مشہور دیوی تھی اور پارسی اناہیتا کے نام سے زمین کی دیوی اور اہورا مزد کی ہے ۔ جب اس علاقہ کے لوگوں مسلمان ہوئے تو اس دیوی کا تقدس ان کے دلوں سے محو نہیں ہوا تھا ۔ اس لیے اس مندر کو بی بی نانی کا مزار بنا دیا اور اس کی بدستور تحریم کی جاتی رہی ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہاں کے باشندوں کے دلوں سے قدیم دیوتائوں ، مقامات اور خاندان جن کا قدیم مذہبی تقدس اور کہانیاں محو نہیں ہوئیں اور وہ مقامات جو ان کے نذدیک مقدس تھے انہیں مزارات میں تبدیل کردیا گیا اور ایسے خاندانوں کو سید تسلیم کرلیا گیا ۔ ایسا ہی ایک مزار یا مندر جہاں اب بھی ہندوئوں کی پوجا مقام تھا اور مسلمان ہونے کے بعد ایک ولی کا مزار ہے اور اڈیرو لال  ٹنڈوم آدم کے نذدیک دونوں کے نذدیک تقدس آمیز ہے ۔

ہندو مظاہر فطرت کی پوجا کرتے تھے ، ان میں سورج ، چاند ۔ دریا ، پہاڑ اور دوسرے مظاہر فطرت شامل ہیں ۔ یہ دریا کو بھی دیوتا تسلیم کرتے تھے اور اس کی پوجا کرتے ہیں ۔ ان کے نذدیک تمام دریا مقدس ہیں اور ان میں دریائے سندھ بھی شامل ہے جس کی پوجا ہوتی ہے ۔ دریائے سندھ کی پوجا کرنے والا فرقہ دریا پنتھی کہلاتا ہے ۔ یہ فرقہ دریائے سندھ کو اڈیرو لال کہتا ہے ۔ اس کلمہ کی اصل اندو لال ہے جو کہ رفتہ رفتہ اڈیرو لال میں بدل گیا اور مسلمانوں کی آمد کے بعد مسلمانوں نے اڈیرو لال کو خصر کے نام سے تقدس دے دیا ۔ پہلے میں کہہ چکا ہوں خضر برصغیر میں پانی کے مربی کی حثیت سے مشہور ہے ۔ پچھلی صدی کی ابتدا تک پٹیالہ کے جاٹ خضر کے نام سے دریائے سندھ کی پوجا کرتے تھے اور اسے زندہ پیر کا نام بھی دیتے تھے ۔ انگریزوں نے اس بارے میں بہت کچھ لکھا ہے ۔ دریا کے دیوتا کا مندر جو کہ ٹنڈو آدم کے قریب واقع ہے اور اسے خٖضر یا زندہ پیر کی درگا بھی کہا جاتا ہے ۔ اس درگا کے ایک حصہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہے اور دوسرے پر ہندوؤں کا ۔ مسلمانوں کے حصہ کو خصر پیر کی درگا کہلاتی اور ہندوؤں کے حصہ پر یہ اڈیرو لال یعنی دریا کے دیوتا کی پوجا ہوتی ہے ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں