84

سندھ کی ارضی تشکیل

ارضی تحیقات کے مطابق تیسرے عہد میں زمانے نیں دریائے سندھ کا ڈیلتا پنجد کے        جہاں آج شمالی مغربی ہندوستان کے میدان اور گنگا کی وادی واقع ہے وہاں پہلے سمندر تھا ۔ علم ارضیات کی رو سے یہ کوئی قدیم زمانے کی بات نہیں ہے ۔ تخلیق ارضی کے تیسرے دور میں جب یہاں پہاڑ نمودار ہوئے تو نئے دریا بھی پرانے دریاؤں کے ساتھ مل کر پیچھے ہٹے ہوئے سمندر سے نئی زمینیں حاصل کرنی شروع کیں ۔ چنانچہ مذکورہ سمندری علاقہ دریائی مٹی کے ایک عظیم ذخیرہ سے پر ہوکر میدان کی شکل اختیار کرتا چلا گیا ۔ یہ مٹی جو کہ خالصاً دریائی مٹی ہے کئی ہزار فٹ کی تہہ کی شکل میں اسی میدان میں موجود ہے ۔ دریا جو تنگ شگافوں سے نکلتے ہیں اور تیز رفتار قوت کے ساتھ بہتے ہیں ۔ چنانچہ جب وہ نیم پہاڑی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو خاصہ گہرا راستہ اپنا لیتے ہیں ۔ یہ میدان دراصل ان دریاؤں کے کناروں کی مٹی کے جمع ہونے سے بنتا ہے ۔ اس کی سطح اونچی ہوجاتی ہے اور میلوں تک یہ دریا ان میدانوں کی پست دادی میں بہتے ہیں ۔ یہ دریائی بہاؤ کا دوسرا مرحلہ کہلاتا ہے ۔ اس مرحلہ میں بھی زمینی ڈھال کافی ہوتا ہے اور ہر موسم میں پانی کے بہاؤ کی رفتار تیز رہتی ہے ۔ زمین کاٹتے کاٹتے وہ اپنا راستہ بنالیتے ہیں ۔ جسے کھادر کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ یہ کئی میل چوڑا علاقہ ہوتا ہے ۔ جس میں دریا مسلسل کڑوٹیں لیتے ہوئے بہتے رہتے ہیں ۔ جب دو دریاؤں کے درمیان کی زمین ایک لمبی زبان کی شکل میں ابھر جاتی ہے تو اسے بھنگر یا بر کہتے ہیں ہیں ۔ شمال مشرقی پنجاب کا نصف حصہ اسی قسم کی زمین پر مشتل ہے ۔ تیز بہاؤ سے دونوں طرف کی زمین کٹ کر پانی میں شامل ہوتی رہتی ہے ۔ جس سے دریا کی رفتار سست اور تہہ کی زمین بلند ہوتی رہتی ہے اور زمین کے کٹاؤ کی قوت ماند پڑ جاتی ہے ۔ یہ دریائی بہاؤ کا تیسرا مرحلہ ہوتا ہے ۔ جیسا کہ سندھ میں وہ آس پاس کے علاقہ کی سطح سے تھوڑی پستی میں بہتا ہے بشرطیکہ موسم صاف اور ظغیانی نہ ہو ۔

 مقام تھا ۔ سندھ سمیت شمالی ہندوستان کا بشتر علاقہ ٹیتھیا سمندر Tethys Sea کے نیچے تھا ۔ جس کی لہریں اس کوہ ہمالیہ سے لے کر کوہ وندھیا تک کے ساحل سے ٹکراتی تھیں ۔ کسی زمانے میں کوہ ہمالیہ میں خوفناک زلزلے برپا ہونے سے زمین اوپر آگئی اور سمندر پیچھے ہٹ کر بہت دور چلا گیا ۔ اس طرح یہاں زمین نمودار ہوئی ۔ تیز ہوائیں اور طوفانوں کی بدولت یہاں ریت پھیل گئی ۔ برساتوں یہ زمین جمتی گئی اور گرمی کی وجہ سے زمین پختہ ہوگئی ۔ ایک طرف برسات اور دوسری دریاؤں کی لائی ہوئی مٹی کی وجہ سے زمین کاشت کے قابل ہوگئی ۔ اس علاقہ کو دریائے سندھ نے رونق بخشی ہے ۔ اس دریا نے اسی زمین کو پال پوس کر بڑا کیا ۔ آج بھی زندگیوں کا مدار اس دریا پر ہے ۔ جس کہ بغیر یہ علاقہ صحرا بن جاتا ۔

رن کچھ اور تھر سمندر کے نیچے تھے ، کراچی اور حیدرآباد کے بشتر نشبی علاقے سمندر تلے اور کچھ  علاقوں میں دریا بہتا تھا ۔ ان میں شاہ بندر ، سجاول ، جھرک علاقہ تو حال ہی میں پانی سے نمودار ہوا ہے ۔ شاہ بندر ، ٹھٹھہ اور جھرک کی پہاڑیاں ، کوٹڑی کی طرف سورجانو ، حیدرآباد کی گنجو ٹکر اور رنی کوٹ کی پہاڑیاں بھی نہیں تھیں ۔ اگر ان میں کچھ ابھر آئیں تھیں تو یہ سمندر میں ایک جزیرے کی مانند تھیں جن کے چاروں طرف پانی تھا ۔ اس لیے سندھ کا مغربی پہاڑی علاقہ پہلے آباد ہوا تھا ۔ یہ قدیم حجری عہد یا پرانا پتھر والا زمانہ تھا اور اس وقت بشتر علاقوں میں برف جمی ہوئی تھی ۔ جہاں کہیں برف نہیں تھی وہاں لوگوں کی آبادی تھی ۔ یہ قدیم لوگ جنہیں گھر بنانا نہیں آتا تھا اکثر غاروں میں رہتے تھے ۔ یہ لوگ کھیتی باڑی بھی نہیں جانتے تھے ۔ یہ لوگ جنگلی اناج ، پھل اور جڑی بوٹیاں کھاتے تھے یا شکار پر ان کا گزارہ تھا ۔ 

سرجان مارشل کا کہنا ہے کہ نئے حجری زمانے کے آثار سندھ میں لکی کی پہاڑیاں ، کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ اور روہڑی کے پہاڑی علاقہ میں ملے ہیں ۔ لگتا ہے ٹھٹھہ سے سمندر پیچھے ہٹ جانے کی یہ میدان ظاہر ہوئے ہیں ۔ اس وجہ سے نئے حجری زمانے میں لوگ یہاں رہنے لگے ۔ اس زمانے میں نہ صرف سیوہن کا علاقہ آباد تھا بلکہ سندھ کے مشرق میں موجود پہاڑیاں یعنی ٹھٹہ ، جھرک کی بودھی پہاڑیاں اور انٹر پور سے روہڑی تک کی پہاڑیاں آباد تھیں ۔   

قدیم زمانے میں ٹھٹھہ سجاول کا بشتر حصہ میں سمندر ٹھا ٹھائیں مار رہا تھا ۔ ان دنوں دریائے سندھ نصر پور کے پاس سے گزرتا تھا ۔ 1758ء میں دریا نے اپنا راستہ تبدیل کرکے موجودہ راستہ اختیار کیا اور اس سے پھلیلی نہر میں پانی بہنا بند ہوگیا ۔ لیکن جب دریانے یہاں رخ تبدیل کیا تو یہ میدان نمودار ہوا ۔

بعد کے زمانے سے تعلق رکھنے والی یہ پہاڑیاں چند مقامات پر دریائے سندھ یا اس کے میدانوں میں نظر آتی ہیں ۔ ان میں سب سے بڑا سلسلہ سکھر کے شمال مغرب سے روہڑی کے جنوب میں چالیس میل تک چلا گیا ہے ۔ اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی پندرہ میل ہے ۔ ان میں چونے کا پتھر سمندری حشرات کے پتھرائے ہوئے اجسام سے بنا ہے اور افعی سمت میں پھیلا ہوا ہے ۔ مغربی سمت یہ پتھر گس کر گول ہوگئے ہیں ۔ میدان سے اس کی بلندی صرف دوسو فٹ ہے ۔ ان پہاڑیوں کے شمالی سرے کے قریب دریائے سندھ گزرتا ہے اور اس نے بکھر اور دوسرے دو چٹانی جزیروں کو اپنے اندر لے لیا ہے ۔ جس پہاڑی پر قدیم سکھر آباد ہے وہاں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں دریا یہاں سے گزرتا تھا ۔ بعد میں جب دریا نے اپنا رخ بدلا تو یہ راستہ مٹی بھر جانے سے بند ہوگیا ہے ۔ پرانی سکھر کنال اسی راستہ سے نکالی گئی تھی ۔ اس سے بھی واضح اروڑ کا نشیب ہے جو روہڑی سے چار میل جنوب میں ہے اور اس کے متعلق مشہور ہے دسویں صدی کے اوسط تک یہ دریائے سندھ کی آبی گزرگاہ تھا ۔ اگرچہ یہ مشکوک ہے کہ دریائے سندھ اس تنگ راستے سے گزرتا ہوگا ۔ بیراج کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک نہر نکلتی تھی ۔ اس وقت ایک نارا کی ایک شاخ یہاں آتی ہے ۔

سکھر اور روہڑی کے علاقے میں چونے کے پتھروں کی بلائی تہہ میں چقماق کے بڑے بڑے ذخیرے ہیں ۔ کچھ مقامات پر ان کے اوپر کی مٹی رفتہ رفتہ ہٹ گئی اور یہ اوپر نکل اور چقماق حاصل کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔ ان کے ریزے اور پتلے ٹکرے کئی مقامات پر پڑے ملتے ہیں ۔

وہ پہاڑی جس پر حیدرآباد آباد ہے اور اس کے جنوب میں گنجو ٹکر دونوں ہی سکھر و روہڑی پہاڑیوں سے کسی حد تک ملتی جلتی ہیں ۔ ان دونوں کی چوٹیاں سطح اور کنارے گول ہیں ۔ خاص طور پر جنوبی سمت کا حصہ جہاں گنجو ٹکر میدان سے دو سو فٹ بلند ہے ۔ سفید چونے کے پتھر کی سب سے اوپر کی تہہ کے نیچے ایک تہہ ایسی مٹی کی ہے جس میں المونیم قسم کی کچی دھات ملتی ہے ۔ اس کے کناروں پر کٹاؤ کے واضح نشانات ہیں ۔ جو تیز ہواؤں سے اڑنے والے ریت کے نوکیلے یہ کٹاؤ پیدا کیئے ہیں اور ان کا رخ مشرق 25 ڈگری شمال ہے ۔

ٹھٹھہ کے قریب مکلی کی پہاڑیوں ایسی بلند زمینیں ہیں جو چاروں طرف سے دریائی میدان سے گھڑی ہوئی ہیں ۔ ان کی جسامت وہی ہے جو کہ حیدرآباد کے پہاڑیوں کی ہے اور تقریباًً ایک جیسا نقشہ پیش کرتی ہیں ۔ ان کی بناوٹ البتہ قدرے مختلف اور بلندی کم ہے ۔ مکلی کے جنوب میں پیر پٹھو نام ایک الگ پہاڑی ہے ۔ بگھاڑ نہر ان دونوں کے درمیان سے گزرتی ہے ۔

پیر پٹھو سے جنوب مشرق میں ڈیڑھ میل لمبے اور آدھا میل چوڑے ٹکرے میں پہاڑیوں کا ایک مجموعہ ہے ۔ ان میں اونچی پہاڑی جو ابن شاہ کے نام سے مشہور ہے صرف پچتر فٹ بلند ہے ۔ یہ سندھ کے جنوب کی یہ آخری چٹان ہے اور اس میں کھڑدرے ریت کے پتھر موجود ہیں ۔ سو سال سے کچھ زیادہ عرصہ گزرا ہے کہ دریائے سندھ پیر پٹھو اور ابن شاہ پہاڑیوں کے درمیان سے بہہ رہا تھا اور اس کا ڈیلٹا ابن شاہ سے چند میل کے فاصلے پر شروع ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے دریائے سندھ کے بیچ دھارے میں چٹانیں موجود ہیں جو ان پہاڑیوں کے فاصلے کی نصف پر واقع ہیں ۔ ایسی ہی ایک مثال جھرک سے اوپر دو میل ملتی ہے ۔ جہاں دریا کے اندر چٹانیں موجود ہیں ۔ یہاں بھی ایک اکیلی پہاڑی بدھ جی ٹکر کے نام سے ہے جسے سندھ مغرب کی چٹانوں سے الگ کرتا ہے ۔

دریائے سندھ کے مغرب میں پہاڑیوں کا ایک سلسلہ لکی کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کی زمین کٹی پھٹی اور دیکھنے میں بے کیف ہے ۔ لیکن دلچسپی کے سامان موجود ہے ۔ لکی پہاڑ کی بلند ترین چوٹی دو ہزار تین سو فٹ بلند ہے اور سلسلے کے شمالی سرے پر واقعہ ہے ۔ بییچ بیچ میں جنوب کی کئی اور چوٹیاں ملتی ہیں جو دو ہزار فٹ سے بلند ہیں ۔ اس کے آگے سے دریائے سندھ بہتا ہے اور درمیان میں ایک دریائی مٹی سے بٹی پٹی ہے ۔ زمین کے اطرافی حرکت نے نہ صرف اس قوسی ابھار کو توڑ دیا بلکہ مشرقی سمت میں دکھیل کر سیدھا کردیا ہے اور کہیں کہیں اس میں نشیب و گڑھے پیدا کر دیئے ہیں ۔ اس ارضی حرکت کی بدولت مغربی حصہ اونچا ہوگیا ہے اور دونوں حصوں کے درمیان چٹانیں ابھر آئیں ہیں ۔ یہ چٹانیں اسی مواد کی پیداوار ہیں جو کھیر تھر کے نیچے موجود ہے ۔ ان میں قدیم ترین چٹانیں ارضی تشکیل کے اس عہد سے تعلق رکھتی ہیں جب کہ چاک مٹی کی چٹانیں وجود میں آئیں تھیں ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں پگھلی ہوئی چٹانوں بھی موجود ہیں اور انہیں دکن ٹریپ کہا جاتا ہے ۔ یہ لاوا اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے جس میں رنی کوٹ کی نچلی تہہ میں دریائی مٹی نے زمین تشکیل دی تھی ۔ کوٹری کے شمال مغرب میں لیلان کے آس پا س کی زمین مین ایسی تہہ کے بڑے بڑے ٹکرے موجود ہیں ۔ لیان کے مقام پر بھورے کوئلے کے ذخیر ڈیڑھ صدی بشتر دریافت ہوئے تھے اور یہ ایسے ہی زخیرے کچھ جنوب میں ملے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں