114

سندھ کےقدیم شہر اور مقامات

یونانیوں نے سندھ کے بہت سے شہروں اور قلعوں کا ذکر کیا ہے ۔ مگر ان کا صحیح تعین کرنا مشکل ہے ۔ یہاں کچھ مقامات  اور شہروں کا ذکر کیا جارہا ہے ۔

سامبس یا سامبانگری

ہندو دیو مالا کے مطابق کرشن کی ایک رانی جامبوتی تھی اور اس کے لڑکے کا نام سامبب تھا سامبب نے دریائے سندھ کے ذیریں اور وسط علاقہ پر حکمرانی اور اسی سے جاریجا قوم نکلی ہے ۔ یقناً سامبا نگری (مینا نگر) جو یونانیوں کا سامبب ہے ۔ جس نے سکندر سے مقابلہ کیا تھا ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونانیوں سامبس یا سامبا نگر کا محل وقوع کس مقام پر بتایا تھا ؟ جہاں سکندر نے مقامی لوگوں سے لڑائی ہوئی تھی ؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سامبس یا مینانگر وسطہ سندھ کے علاقہ میں واقع تھا ۔ کیوں کے ملی اسھتان (ملتان) کے بعد سامبس (مینا نگر) کے بعد یونانیوں نے اس کا ذکر کیا ہے اور سامبس کے بعد سکندر پٹیالہ آیا تھا ۔

اگر ہم سامبس کے صوتی اثر پر نظر ڈالیں تو موجودہ سیوہن ہی اس پر پورا اترتا ہے ۔ اس کی قدامت کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور ہے ۔ خاص کر راجہ بھرتری کی کہانی بہت مشہور ہے ۔ یہ کہانیاں یقناً سیتھیوں کے دور کی ہیں ۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ سیتھی تھے جو سامبس کہلائے ۔ اس لیے یہ علاقہ سامبس مشہور ہوا اور یونانیوں نے یہ اس علاقہ کا نام سامبس بتلایا ۔ سیتھیوں کی نسبت سے یہ علاقہ سامبس ، سیستان ، سہوان اور سیوہن کہلایا ۔

یہ علاقہ سیتھیوں کی وجہ سے سیستان کہلایا ۔ جن کی نمائندگی اب جاٹ کرتے ہیں اور مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس علاقہ میں ہندو اور بدھ مذہب رائج تھے ۔ اگرچہ اس علاقہ پر آٹھویں صدی عیسویں میں مسلمانوں کا قبضہ ہوچکا تھا اور یہاں کے لوگ عربوں کے دور ہی میں اسلام قبول کرچکے تھے اور قدیم دور کی بہت سی کہانیاں اور روایتیں مشہور رہیں ۔ سولویں صدی عیسویں میں جب اس علاقہ پر بلوچ اور بروہیوں کا قبضہ ہوا تھا اور وہ بھی قدیم جاٹوں کی باقیات ہیں ۔ وہ روایات اور کہانیاں ان کی روایات ان کو یاد تھیں ۔ مگر انہوں نے چوں کہ بعد میں عرب سے آنے کا اور اس علاقہ کو ہندو راجاؤں سے چھینے کا دعویٰ کیا تاکہ ان کے عرب نژاد ہونے کو تقویت پہنچے ۔

پراسیا

میگاس تھینیز Magasthones جس نے سکندر کے حملہ کے بیس بائیس سال بعد ہندوستان کا سفر کیا تھا اور چندر گپت کے دربار میں طویل عرصہ تک رہا تھا ۔ اس کا واضح بیان ہے کہ دریائے سندھ نے ایک بہت بڑا جزیرہ بنالیا ہے ۔ جو پراسیاں Parsine کہلاتا تھا ۔ یہ نام پراسیا یعنی پارسی سے نکلا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے یہاں پر وسط ایشا سے آنے والے قبائل آباد تھے اور قدیم زمانے میں یہ حملہ آور پراسی کہلاتے تھے ۔

سکندر کے کچھ عرصہ بعد ہی میگاس تھینز نے پراسی جزیرہ کے بارے میں لکھا ہے ۔ مگر سکندر کے ساتھیوں نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہے میگاس تھینز نے دریائے سندھ کی اس شاخ کا ذکر کر رہا ہے جو کہ سیلابی پانی کو لے کر نارا یا ہاکڑ کے راستہ خارج کرتی تھی اور یہ ایک جزیرہ بناتی تھی ۔ سکندر کے بعد یہ علاقہ موریہ خاندان کے قبضے میں آگیا تھا ۔ موریہ خاندان کی حکومت ختم ہونے کے پراسی یا پراسیان پر موریہ حکمران رہے تھے ۔ ان کی باقیات آج بھی سندھ میں موریانی اور مورائی کے نام سے ملتی ہے ۔

پٹالہ

سکندر کو یہ قلعہ بند مقام بہت پسند آیا ۔ آریان کا کہنا ہے پٹالہ سے دریائے سندھ دو شاخوں میں تقسیم ہوکر ڈیلٹا بناتا ہے ۔ سکندر نے یہاں کی قلعہ بندی کو مستحکم کیا ۔ یہیں سکندر نے اپنے سپاہ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ کو براہ سمندر اور دوسرے کو براہ آرکوشیاہ (قندھار) کے راستے روانہ کیا ۔ پھر سکندر ساحلی علاقوں کا دورہ کرکے واپس پٹالہ آیا تھا ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے پٹالہ ساحل سمندر سے زیادہ دور نہیں تھا ۔ میگاس تھینیز ، کریٹکس ، پلانی اور ٹالمی وغیرہ نے پٹالہ کے بارے میں لکھا ہے اس کو دریائے سندھ کی شاخوں نے جزیرہ بنا دیا ہے ۔ یہ مقام یقناً موجودہ حیدرآباد یا اس کے قریب آباد ہوگا ۔ حیدرآباد سے زرا جنوب میں جسے سابقہ ڈیلٹائی علاقہ کہا جاسکتا ہے ۔ مشہور نہریں کلری ، بگھاڑ ، پنیاری اور ستو ماضی میں مختلف اوقات میں دریائے سندھ کی وہ شاخیں تھیں ۔ جس نے دریائے سندھ کا زائد پانی سمندر میں پہنچتا تھا ۔ مگر یونانیوں نے ایسا کوئی ذکر نہیں کیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے یہ مغربی کنارے پر واقع ہوگا اور وہاں ایک گاؤں پٹارو نام کا بھی واقع ہے ۔ شاید پٹالہ اس مقام پر آباد ہوگا ۔ 

اگڈی کانس یا اروڑ

یہ غالباً راجہ داہر کے دالحکومت اروڑ کا نام ہے اور اگڈی کانس یہ موجودہ سوگڈی قبیلہ ہے اور یہ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہیں ۔ یہ قبیلہ اب بھی سندھ میں آباد ہے اور اب مسلمان ہیں ۔ اوکے کانس اور سامبس جنہیں سکندر نے فتح کرلیا تھا ۔ کیوں کہ سکندر نے سامبس کو پہاڑی قبائل کا گورنر مقرر کیا تھا ۔ خیال کیا جاتا ہے یہ اروڑ تھا ۔ جو روہڑی کے قریب اور نارہ کے شاخ کنارے آباد تھا ۔ اس کے آثار میں یہاں ایک مسجد کی دیواریں باقی رہے گئی ہیں ۔ 

جزیرہ کلوٹا

اس زمانے میں مکلی کا پہاڑی سلسلہ ہے کو دریائی مٹی کی ایک تین میل لمبی پٹی چٹانی زمین سے جدا کرتی ہے جو کہ عام طور پر کراچی اور راس موئز کیپ تک چلی گئی ہے ۔ یہی وہ مغربی راستہ ہے جس سے دریائے سندھ گزر کر سمندر تک پہنچتا تھا ۔ مکلی کی پہاڑیاں یا پیر پٹھو پہاڑیاں اس کا جنوبی سرا ہیں ۔ کلوٹا یہاں شمال مشرق میں واقع ہوگا ۔اس وقت ڈیلٹا کی حدود مکلی کی پہاڑی اور پیر پٹھو سے آگے نہیں بڑھی تھی اور سمندری جزیرہ موجودہ ابھن شاہ کی پہاڑی تھی جس پر سکندر نے قیام کیا تھا اور یہی کلوٹا جزیرہ ہے ۔ سکندر کا بیڑا چلتا ہوا کھلے سمندر میں ایک جزیرہ کلوٹا پہنچا ۔ یہ وسیع جزیرہ تھا ، یہاں پانی بھی موجود تھا اور یہاں جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی جگہ تھی ۔ جہاں سکندر ٹہرا گیا تھا ۔

بندرگاہ سکندر

کڑیٹس Craetus کا بیان وہ پیتالیس میل کا فاصلہ طہ کرچکے تھے توکھلے سمندر میں ایک جزیرہ کلوٹا تھا ۔ اس جزیرے دو سو اسٹیڈ کا فاصلہ طہ کرکے ایک دوسرے جزیرے پر پہنچے جو کھلے سمندر میں واقع تھا ۔ اس مرحلہ میں ان کے بائیں ہاتھ پر ایک جزیرہ تھا ۔ جس کی سطح سمندر کے برابر تھی ۔ یہ جزیرہ ساحل کے ساتھ پھیلا ہوا تھا اس لیے ایک تنگ خلیج پیدا ہوگئی تھی ۔ جہاں جہاز لنگر انداز ہوسکتے تھے ۔ اس بندرگاہ کے سامنے دو اسٹیڈس کے فاصلہ پر ایک جزیرہ بیباکتا تھا ۔ بندرگاہ سکندر کو کراچی خیال کیا جاتا ہے ۔

جب کہ آرین لکھتا ہے کہ سمندر کے کنارے میں ان کے بائیں ہاتھ پر ایک جزیرہ تھا ۔ جس کی سطح سمندر کے برابر تھی ۔ یہ جزیرہ ساحل کے ساتھ پھیلا ہوا تھا اس لیے ایک تنگ خلیج پیدا ہوگئی تھی ۔ جہاں جہاز لنگر انداز ہوسکتے تھے ۔ نیرکس کو یہ بندرگا اتنی وسیع اور عمدہ معلوم ہوئی کہ اس نے اسے سکندر کا نام دیا ۔

مگر مقام یقناً گجو کے آس پاس کا علاقہ ہوگا ۔ شاید دریائے سندھ کی مغربی شاخ پر بہنے والا پانی ایک کھاڑی میں جمع ہوگا ۔ اس طرح درمیانی جگہ ایک وسیع اور محفوظ بندر گاہ بن گیا ہوگا ۔ یہ مقام بندرگاہ سکندر جائے وقوع تھی ۔ اس جگہ جو دریائی مٹی کا میدان ہے وہ برائے نام سمندر سے بلند ہے اور ہوسکتا ہے دو ہزار سال کی پیداوار ہو ۔ یہاں سے دس میل مغرب تک یعنی گھارو وہی میدان پھیلا ہوا ہے ۔ یہاں جگہ جگہ مٹی کے ٹیلے اور ریت کی پہاڑیاں ابھری ہوئی ہیں ۔ جس کی اوسط بلندی سمندر سے بیس فٹ سے زیادہ بلندی نہیں ہے ۔

بیباکتا Bibacta

بندرگاہ سکندر کے بالکل سامنے دو اسٹیڈس کے فاصلہ پر ایک جزیرہ بیباکتا Bibacta کہلاتا تھا ۔ جس کے دہانے پر بیباکتا تھا ۔ یہ جزیرہ چھوٹی سی چٹانی بلندی تھی ْ اس جزیرہ کو تھڑی گجو کہا جاسکتا ہے ۔

ڑاور

شمس العلما محمد عمر داؤد پوٹا کا کہنا ہے کہ ڑاور حیدرآباد کے مقام پر آباد تھا ۔ میں شمس العلما محمد عمر داؤد پوٹا سے متفق ہوں اور میرا بھی یہی خیال ہے ۔ کیوں کہ نیرون کوٹ کے بعد محمد بن قاسم نے اسی مقام پر دریا کو پار کیا تھا ۔

دیول

عربوں کی کلاسیکل تحریروں میں سندھ کے بارے میں پہلی دفعہ تفصلی معلومات ملتی ہیں ۔ مگر ان عربوں کی ابتدائی فتوحات کی تحریروں میں بہت ابہام ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کہ یہ تحریریں ڈیڑھ سو بعد لکھی گئیں ہیں ۔ محمد بن قاسم نے سب سے پہلے دیول کو فتح کیا تھا ۔ دیول مندر کو کہا جاتا ہے ۔ اس لیے اس شہر کو کچھ اور نام ہوگا مگر اس کا نام ہمیں نہیں معلوم ہوسکا ۔ اس کے محل وقوع کے بارے میں محکمہ آثار قدیمہ کی تصدیق کے بعد یہ یقینی ہے کہ اس کا محل وقوع موجودہ بھمبور کے مقام پر تھا ۔ جہاں کھدائیوں کے بعد عربوں آثار بھی دریافت ہوئے ہیں ۔ محمد بن قاسم دیبل کی فتح کے بعد نیرون کوٹ روانہ ہوا ۔

نیرون کوٹ

نیرون کوٹ کے بارے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حیدرآباد کے مقام پر تھا ۔ نیرون کوٹ حیدر آباد کے مقام پر آباد تھا اس تائید چچ نامہ سے نہیں ہوتی ہے ۔ کیوں کہ دیبل نیرون کوٹ سے پچیس فرسنگ تھا اور نیرون کوٹ موج (سن ندیّ) تیس فرسنگ تھی ۔ مگر موجودہ حیدرآباد سیوہن کا فاصلہ تیس فرسنگ ہے ۔ جب کہ سن ندی حیدرآباد سے ۱۵ فرسنگ ہے ۔ محمد بن قاسم نے ڑاور کی فتح سے پہلے دریائے سندھ کو پار ہی نہیں کیا تھا ۔ اس سے یہ نتیجہ بآسانی اخذ ہوتا ہے کہ نیرون کوٹ موجود حیدر آباد کے مقام پر آباد نہیں تھا ۔ سیوستان کی فتح کے بعد محمد بن قاسم کو حجاج کا خط ملا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ نیرون کوٹ لوٹ جائے اور دریائے سندھ غبور کرکے داہر سے مقابلہ کرے ۔ حجاج کے اس جملے کا مطلب یہی ہے کہ نیرون کوٹ دریا کے مغرب میں آباد تھا ۔ جو کہ دیبل سے پچیس فرسنگ یعنی پچتر میل کے فاصلے پر آباد تھا ۔ ہم دیبل (موجودہ بھمبور) سے انڈس ہائی وے پر سفر کریں تو مکلی اور ٹھٹھ کے بعد ہم قدیمی آثار سونڈا کے مقام پر ملتے ہیں ۔ یہاں پتھروں کی قدیم خوشنما قبریں ملیں گیں ۔ یہی وہ مقام ہے جو دیبل سے پچیس فرسنگ کے فاصلے پر ہے ۔ یہاں کے قدیم آثار پر تحقیق کی جائے اور کھدائی کروائی جائے تو یقناً اس کی مزید شہادت مہیا ہوسکتی ہے کہ یہاں قدیم نیرون کوٹ آباد تھا ۔ کیوں کہ یہ مقام بھی ایک ٹیلے پر واقع ہے ۔ یہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ایک اہم مقام ہے میر شیر علی قانع ٹھٹھوی لکھتا ہے یہاں ایک قلعہ ہوا کرتا تھا ۔ 

اور ہم اس مقام سے سیوستان کی جانب چلیں تو ہمیں سن ندی ملے گی ۔ جس کا فاصلہ یہاں سے تقریباً تیس فرسنگ یعنی 90 میل بنتا ہے ۔ اس کی تائید ہمیں محمد بن قاسم کی نیرون کوٹ سے راوڑ پر قبصہ کے لیے سرگرمی سے ہوتی ہے مزید اصطخری کا یہ کہنا ہے کہ منصورہ سے نیرون کوٹ سے چار دن مسافت پر تھا ۔ یہی وجہ ہے رواٹی نے اعتراض کیا کہ حیدرآبا دو دن کی مسافت پر ہے اور اسی بنا پر راوٹی نے حیدر آباد کو نیرون کوٹ کے خرابہ پر ّآباد ہونے پر اعتراض کیا ہے ۔`

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں