35

سوتیار

سوتیار دیوتا کا شمار چھوٹے دیوتاؤں میں نہیں ہوسکتا ہے جس سے گاتری منتر منسوب ہے ۔ جو رگ وید کا مقدس ترین حصہ ہے اور اب بھی لاکھوں ہندو اسے ہر روز پڑھتے ہیں ۔ مگر یہ بعد کے زمانہ کا خزانہ ہے جس کا ثبوت اس امر سے ہوتا ہے کہ اس کی بعض اشکال نہایت پیچیدہ اور مجرد ہیں ۔ بہرحال یہ یقینی ہے کہ وہ اس کا تعلق سوریا دیوتا سے ہے ۔ مگر اس کے متعلق ایک پریشان کن بھید یہ ہے کہ بعض اوقات اس کو سوریا کے ساتھ متحدہ بیان کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس سے علحیدہ بقول میور کے سوتیار سنہرا دیوتا ہے ۔ اس کی آنکھیں ، ہاتھ اور بازو سنہرے ہیں اور وہ ایک سنہری گاڑی پر بیٹھ کر قدیم اور بے گرد والی سڑکوں پر گشت کرتا ہے جو فضا میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ بنائے گئے ہیں ۔ بعض عبارتوں میں دونوں نام سوتیار اور سوریا بلا کسی تفریق یا امتیاز کے استعمال کیے گئے ہیں ۔ مثلا سوتیار دیوتا نے اپنا علم بلند کیا ہے ، تمام دنیا کو منور کرتا ہے ۔ سوریا نے آسمان زمین اور کرہ وسطیٰ کو اپنی کرنوں سے منور کر دیتا ہے’’۔ بعض اوقات دونوں میں امتیاز بھی کیا گیا ہے ۔ مثلاً سوریا سوتیار کی خوبصورت چڑیا ہے یا سوتیار سوریا کی کرنوں سے معمور کیا جاتا یا سوریا کو لاتا ہے ۔ ایسی صورت میں سوریا سے مراد آفتاب مادی سے ہے اور سوتیار ایک ہستی اعلیٰ و ارفع ہے جو اس کی حرکت کی نگرانی کرتی ہے اور اس کی روشنی کی تقسیم کا انتظام کرتی ہے ۔ 
سوتیار کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس سے مراد بظاہر نظر آنے والے روشن سوریا ہے ہوتی ہے غروب کے بعد جب کہ وہ اس پراسرار ان دیکھے ملک میں رہتا ہے ۔ جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہے ۔ یعنی اس کا تعلق نور سے بھی ہے اور تاریکی سے بھی ہے ۔ مگر یہ تاریکی ہے جو خواب استراحت اپنے ساتھ لاتی ہے ۔ سوریا کے حالات میں اس قسم کے اشارے موجود ہیں ۔ مثلاً ’’اس کی گھوڑیاں (ہارت) ہمیشہ چمکتی روشنی اور اندھیری روشنی کو کھنچتی رہتی ہے’’۔ (رگ وید اول ۱۱۵،۵) بیان کیا گیا ہے کہ اس کا ایک رات کا گھوڑا (اَوتیاش) ہے جو اس کے رخ کو پھیر دیتا ہے ۔ مگر اس کے رتھ کے رخ کو پھیر دیتا ہے ۔ مگر یہ اشارے معمولی اور مبہم ہیں اور اس کی عام خصوصیت ہے کہ اس کا رات اور دن دونوں سے تعلق ہے ۔ اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ تمام عالموں پر ضیا پاشی کرتے ہیں ۔ ستاروں کی حرکت کو ٹھیک کرتے اور صبح کو دو پایہ اور چوپایہ حیوانات کو جگا کر پھر انہیں شام کو استراحت بخشتے ہیں ۔ اس دیوتا کی توصیف میں جو بھجن ہیں بلحاظ شاعری نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں اور اس کے کریمانہ فریضہ کو شکر گزاری کے ساتھ یاد کیا گیا ہے ۔
’’یہ دیوتا جو سرعت کے ساتھ عاجلانہ تاریک فضا سے یہاں آتا ہے اور ہر فرد کو خواہ وہ فانی ہو یا غیر فانی راحت بخشتا ہے ۔۔۔ سوتیار ہے جو سنہرے رتھ پر ہر چیز کو دیکھتا ہے ہماری طرف آتا ہے’’۔ (رگ وید اول ۳۵،۲۱) 
’’سوریا اب کہاں ہے ـ؟ کون جانتا ہے کس آسمان کو اس کی کرنیں اس وقت منور کر رہی ہیں’’۔ (رگ وید اول ۳۵،۷) 
’’سنہرے ہاتھوں کے سوتیار دیوتا جلد جلد آتا ہے ۔ دونوں عالموں کے درمیان اپنے کام میں مشغول ، وہ ظلم کو دور کرتا ہے ، سوریا کو نکالتا ہے ۔ کرہ زہر محرہ کے تاریک علم سے وہ سرعت کے ساتھ آسمان کی طرف جاتا ہے’’۔
ان اشعار سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جب سوتیار شام کو آتا ہے تو اپنے ساتھ آفتاب کو لے جاتا ہے ۔ دونوں دیوتاؤں میں جو فرق ہے وہ اس طرح واقف ہوجاتا ہے ۔ یعنی سوریا کا ترجمہ ہم سورج کرسکتے ہیں لیکن سوتیار کا نہیں ۔ 
سوتیار کا شام کا بھجن اس مجموعہ میں بہترین ہے ۔ 
’’دیوتا اپنے زبردست ہاتھوں اور بازوؤں کو آسمان پر پھیلاتا ہے ۔ تمام مخلوقات اس کے فرماں بردار ہیں ۔ پانی بھی اس کا بندہ حکم ہے اور باد صرصر بھی اسے دیکھ کر رک جاتی ہے’’۔
’’اپنے گھوڑوں کو ہانکتے ہوئے وہ ان کے ساز کھول دیتا ہے اور مسافر کو آرام کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ وہ سانپ کو مارنے والی چڑیا کی پرواز کو روک دیتا ہے ، سوتیار کے حکم سے نیند آتی ہے’’۔ 
’’بننے والی اپنا سوت لپیٹ کر رکھ دیتی ہے اور مزدور اپنا کام چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ وقت کو تقسیم کرتا ہے۔ (یعنی دن کو رات سے جدا کرتا ہے) ۔ سوتیار نمودار ہوتا ہے اور کبھی آرام نہیں لیتا ہے’’۔
’’ہر مقام پر جہاں انسان کا مسکن ہے گھر کی آگ ہر چیز کو منور کرتی ہے ۔ ماں اپنے بیٹے کو اچھا اچھا کھانا کھلاتی ہے ۔ کیوں دیوتا نے اسے بھوک دی ہے’’۔
’’اب وہ بھی واپس ہوتا ہے جس نے نفع حاصل کرنے کی غرض سے سفر کیا تھا ۔ مسافر کا دل گھر میں لگا ہے ۔ ہر شخص کا قدم بغیر اپنا کام ختم کیے ہوئے گھر کی طرف مڑ رہے ہیں ۔ یہ اس آسمانی فوجدار کا حکم ہے’’۔ 
’’شام کے وقت بیچین مچھلی بھی پانی میں جائے پناہ تلاش کرتی ہے ۔ چڑیا اپنے گھونسلے کا رخ کرتی ہے ۔ مویشی اپنی پناہ گا کا ۔ دیوتا مخلوقات میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ پہنچا دیتا ہے’’۔
اس حد تک تو اس بھجن کا ممدوح نظر آنے والا سورج ہوسکتا ہے ۔’’جو ہر رنگ کے کپڑے زیب تن کرتا ہے’’۔ جب آسمان کی چڑھائیوں پر چڑھتا ہے اور اپنے کو بھورے اور سرخ لبادے میں لپیٹ لیتا ہے ۔ جب کہ وہاں سے اترتا ہے ۔ مگر سوتیار سے مراد نہ نظر آنے والا شبانہ سورج سے ہے ۔ جب کہ شاعر وضاحت کے ساتھ کہتا ہے کہ تو بوقت شب مغرب سے مشرق کی طرف سفر کرتا ہے ۔ مگر اس بدہی قدرتی توضیح سے اس دیوتا کی پیچیدہ اور نیم روحانی شخصیت واضح نہیں ہوتی ۔ اس کا ایک اعلیٰ اخلاقی پہلو بھی ہے ۔ کیوں کہ سوریا سے صرف یہی درخواست کی جاتی ہے کہ ادیتائیوں کے حضور میں انسان کی بے گناہی کا اظہار کرے مگر سوتیار کو توبہ کرنے والے گنہگار اسی عاجزانہ لہجے میں مخاطب کرتے ہیں ۔ جس میں وہ مہا ادیتیاؤں یعنی وارن کو مخاطب کرتے ہیں ۔ 
’’ہم نے جو گناہ دیوتاؤں کے احکام کے خلاف اپنی کم فہمی سے کیے ہوں یا انسان کی طرح دراز دستی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ خواہ دیوتاؤں کے خلاف یا آدمیوں کے باوجود اس کے اے سوتیار ہمیں ان گناہوں سے سبکدوش کردے’’۔ (رگ وید چہارم ۵۴،۳)
جملہ امور مذکورہ بالا اور اس کے نام کے لغوی معنی کا لحاظ کریں جو برانگیختہ کرنے والے یا زندگی بخشنے والے کے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ سوتیار سے مراد قدرت کے زندگی بخشنے والے اور پیدا کرنے والے عنصر سے ہے ۔ یہ خصائل بہ آسانی عالم روحانی کو منتقل ہوسکتے ہیں اور اس طرح سوتیار دل کو منور کرنے والا اور روح کو تازگی بخشنے والا ہوجاتا ہے ۔ چونکہ وہ تمام مخلوقات کو نیند سے جگا کر کام پر لگاتا ہے ۔ اس لیے وہ انسانوں کے قوائے عقلی و روحانی کوبھی برانگیختہ کرتا ہے ۔ اس قیاس کی تائید ان اعلیٰ القاب سے ہوتی ہے جس یہ دیوتا یاد کیا جاتا ہے ۔ یعنی پرجاپنی (مخلوقات کا سردار) اور وِش وَروپ (کئی شکلیں رکھنے والا یا بنانے والا) ۔ ظاہر ہے کہ یہ القاب ایک محض شمسی دیوتا کی طرف سے منسوب نہیں ہوسکتے ۔ چونکہ ویدک مذہب کی بنیاد آگ کی مرئی اور غیر مرئی اشکال کی پرستش پر ہے اور سوریا بھی اس کی شکل ہے ۔ اس لیے سوتیار کا مطابق اس سے ہوسکتا ہے بہ حثیت سوریا یا برق کی بہت سی عبارتوں سے اس پیچیدہ اور پراسرار عقیدے کی تائید ہوتی ہے اور اس امر سے بھی کہ اسے ایک مرتبہ سے زیادہ آپَم نپَاٹ (پانی کا بچہ) کے نام سے یاد کیا گیا ہے جو اگنی کا مخصوص لقب ہے ۔ سوما اور سوما کی قربانی سے جو تعلق ہے اس میں بھی کوئی شبہ نہیں اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسی نے دیوتاؤں کو غیر فانی بنایا ۔ چونکہ سوما آسمانی امرت ہے جس سے حیات ابدی حاصل ہوتی ہے ۔ اس سے زندگی بخشنے والے اور پیدا کرنے والے کی تصدیق ہوتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں