58

سوداوربچت

م بالا الذکر کر چکے ہیں کہ کینزKeynes نے کاروباری افراد کو شرح منافع شرح سود سے زیادہ رکھنے کا مشورہ دیا تھا ۔جس پرآج کی تمام کاروباری دنیا عمل کررہی ہے ۔ اس وجہ سے قرض لینے والے کو سودی نظام میں بڑی کشش نظر آتی ہے ۔ کیوں کی اس طرح قرض لینے والوں کو سود بار نہیں ہوتا ہے ۔ بلکہ اس کا بار ان پر پڑتا ہے جو ان کی اشیاء خریدتے ہیں یا اشیاء استعمال کرتے وہ اپنی خدمات یا اشی کی قدر بڑھا دیتے ہیں ۔ اس طرح قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے زر کی قدر میں گیسل Gesslکی تجویز کے مطابق مسلسل کمی ہوتی رہتی ہے ۔ اس طرح مقروض بھی فائدے میں رہتا ہے ۔ کیوں کہ وہ اصل اور سود کی ادائیگی اس رقم سے کرتا ہے جس کی قدر گرچکی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے تمام دنیا میں نہ صرف سرمایاکار کاروبار یا صنعت لگانے کے لیے بلکہ عام آدمی بھی مختلف ضرورتوں کے لیے قرض کو ترجیح دیتے ہیں چاہے انہیں اس کی ضرورت نہ ہو ۔ کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ مستقل میں جب وہ اصل اور سود کی ادائیگی کریں گے تو اس کی قدر گھٹ چکی ہو گی ۔ جب کہ ان کی سرمایاکاری کی قدر اس سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہوگی ۔ یہی وجہ ہے سود کے خلاف جو ظنی یا نفلی دلائل دیئے جاتے ہیں وہ جدید معاشی نظام میں سود پر صادق نہیں آتے ہیں ۔ کیوں کہ زر کی وقت کے ساتھ مسلسل گرتی قدر نے ان تمام دلائل کو باطل کردیئے ہیں اور اس طرح عام لوگ زر کی گرتی قدر کی وجہ سے اپنی بچتیں بغیر نفع کے بینکوں میں رکھوانا پسند نہیں کرتے ہیں ۔ وہ اسی صورت میں اپنا روپیہ بغیر نفع کے بینک میں رکھنے کے بجائے کارو بار یاصنعت میں لگانا زیادہ پسند کریں گے ۔ مگر ہر شخص کے لیے آسان نہیں ہے کہ وہ کوئی کاروبار کرے ، مگر عام آدمی ناتجربہ کار اور محدود سرمائے کا مالک ہوتا ہے ، اس لیے اس کے لیے آسان نہیں ہے کہ وہ نہ کوئی کاروبار یا صنعت لگائے ۔ دوسری طرف اس قلیل رقم سے نہ مضاربہ یا شراکت کی جا سکتی ہے ۔ اس لیے عام آدمی کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مضاربہ یاشراکت میں اپنے محدود سرمائے سے سرمایا کاری کرے ۔ اس طرح وہ زرکی گرتی قدرکی وجہ سے وہ اپنی محدود رقم سے اشیاء تعیش اور دوسرے سامان کی خریداری یا زیور اور جائیداد کی خریداری کو ترجیح دے گا ۔ گویا وہ اس طرح اپنی محدود رقم کا تحفظ کرے گا ۔  
غیر مصروف شدہ بچت کسی ملک کی معاشی راہ میں روڑے کے مترادف ہے ۔ یہ کینسی نظام Keynesian Sistym کا اصول ہے ، کہ ہر شخص زمانہ سابقہ کے مقابلے میں اپنی آمدنی سے زیادہ سے زیادہ بچانے کی کوشش کرے تو تمام مخلوق بہ حیثیت مجموعی زیادہ بچت نہیں کر سکے گی ۔ لارنس کے کلین Lqwrece K Kein اپنی کتاب ’کینسی انقلاب‘ The Keynesian Revolution میں لکھتا ہے کہ اس کا ’سبب یہ ہے کہ مجموعی قومی آمدنی (الیف) برابر ہے اس رقم کے جو ضرروریات کی چیزوں پر خرچ کیا جائے (ض) ۔ جمع اس رقم کے جو سرمایاکاری پر خرچ کیا جائے (ک) اور ان دونوں رقموں جتنی کمی بطور بچت کے کی جائے اتنی ہی قومی آمدنی میں کمی ہوجائے گی‘ ۔ سرمایاکاری سے مراد کسی ایسی شے کی پیدائش جس میں انسانی محنت صرف ہوتی ہو ۔ مثلاً مشینیں مکانات ، سڑکوں ، پل ، پانی کی نہروں اور بندوں کی تعمیروغیرہ ہیں ۔ اس نقطہ نظر سے زمین سونا خریدنا سرمایاکاری نہیں ہے ۔ اس طرح سونے کے زیورات کی خریداری بھی سرمایا کاری نہیں ہے ۔ کیوں کے یہ محفوظ حالت میں رہتی ہے اور سرمایا کی تشکیل میں کوئی حصہ نہیں لیتی ہے ۔ 
کسی ملک کی ٍقومی آمدنی میں اضافہ کا مطلب ہے کہ پیدا وار میں اضافہ ۔ اس کے لیے حکومتی سرمایاکاری ضروری ہے ۔ اس کے حصول کے لیے ملکی بچتوں میں اضافہ ضروری ہے ، تاکہ سرمایا کاری کے وسائل مہیا ہو سکیں ۔ جب کہ غیر مالیاتی بچتیں قدر زر میں تخفیف اور ٹیکس گریزی کا باعث بنتی ہیں ۔ بالخصوص جائیدادکی طرف بچتوں کی منتقلی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے ۔ تاکہ ملکی بچتوں سے ہی سرمایا کاری کے وسائل مہیا ہوسکیں ۔ اس سے نہ صرف افراط زر میں کمی ہوتی ہے بلکہ اس سے خود انحصاری میں مدد ملتی ہے اور ادائیگیوں کا توازن بھی درست ہوتا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں