79

سود اور آج کی دنیا

ٔٔ معاشی مقاصد
قدیم زمانے میں ضرورتیں مختصر اور سادہ ہوا کرتی تھیں ، لیکن تہذیب و تمد ن کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ اور نیرنگی پیدا ہوتی گئی ۔ بنیادی طور پر ہمیں بھوک مٹانے کے لئے غذا ، ،تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لئے مکان درکار ہے ۔ لیکن اس کے علاوہ انسان کو بہت سی ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو آرام و آسائش بہم پہنچاتی ہیں اور تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں ۔ مثلاً صوفہ ، ریڈیو ، ٹیلی ویژ ن ، فریج ، ایر کنڈیشنز ، موٹر سائیکل اور کار وغیرہ ہیں ۔ چنانچہ ان حاجات کو پورا کرنے کے لئے انسان محنت کرتا ہے اور دولت کماتا ہے ۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کسان کھیتوںمیں ، مزدور کارخانوں میں ، کلرک دفتروں میں سرگرم عمل ہیں ۔ غرض ڈاکٹر ، پروفیسر ، وکیل ، دھوبی اور نائی ہر شخص اپنا کام کررہا ہے تاکہ روپیہ حاصل کرکے ضرورت کی اشیاء حاصل کرسکے ۔ انسان کی اس جدوجہد کا اور اس کی کوششوں کا تعلق معاشیات سے ہے ۔
دراصل انسان کی خواہشات بے شمار ہیں لیکن انہیں پورا کرنے کے زرائع تھوڑے ہیں ۔ لہذا اسے یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس قلیل ذرائع سے کیسے پورا کرے ۔ گویا اسے بے شمار خواہشات میں انتخاب اور ذرائع میں کفایت کرنی پڑتی ہے ۔ انسانی طرز عمل کے اس پہلو کے مطالعہ کا نام معاشیات ہے ۔
حاجات کی کثرت اور وسائل کی قلت کے باعث دنیا کی بیشتر آبادی مسائل سے دوچار ہے ۔ مثلا ٔٔغربت ، جہالت ، بیماری ، قحط ، بے روزگاری اور افراط زر وغیرہ ہیں ۔ چنانچہ معاشی ماہرین ان مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں اور انہیں حل کرنے کے لئے معاشی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور معاشی ترقی پر زور دیتے ہیں ، ایسی تجویزیں پیش کرتے ہیں جس سے ملک میں اشیاء کی پیداوار بڑھے ، روزگار ملے اور لوگوں میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو ، خوشحالی کا معیار بلند ہو اور ان کی ضرورتیں احسن طریقے سے پوری ہوں ۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشیات کے جدید اصولوں اور نظریات سے فائدہ اٹھا کر اقتصادی ترقی کے لئے کوشش کی جائے ۔ تاکہ اشیاء کی پیداوار بڑھے ، لوگوں کو روزگار ملے اور لوگوں کو ضرورت کی اشیاء ملیں اور معاشرہ خوشحالی کی طرف گامزن ہو ۔
انسان کے معاشی مسئلہ کے مختلف پہلوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا نظام بنایا جائے کہ کس طرح تمام انسانوں کو ان کی ضروریات زندگی بہم پہچانے کا انتظام ہو اور کس طرح معاشرے میں ہر فرد اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق ترقی کرکے اپنی شخصیت کو نشوو نمادینے اور اپنی لیاقت کو درجہ کمال پر پہنچانے کے مواقع حاصل کرے ۔
معاشی نظام کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو وہ بچہ ہو یا بوڑھا ، عورت ہو کہ مرد بلا امتیاز و فرق کے کم از کم اپنا سامان حیات ضرور میسر ہو ۔جس کے بغیر عام طورپر ایک انسان اطمینان کے ساتھ زندہ نہیں ر ہ سکتا اور نہ ہی اپنے فرائض و واجبات ٹھیک طرح سے ادا نہیں کرسکتا ہے ۔ جو مختلف حیثیت سے اس پر عائد ہوتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے ہر ایک فرد کے لئے کسی نہ کسی درجہ میں خوراک لباس اور مکان کے علاوہ علاج ، تعلیم اور روزگار کا مناسب انتظام ہو اور کوئی فرد ان بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے اور یہی ایک اسلامی معاشرے کا بھی مقصد ہے ۔
معاشی دنیا
قدیم ادوار میں سونے اور چاندی کے سکے ہوتے تھے ۔ جو دنیا میں محدود مقدار میں تھے ، اس لئے زر Currencyکی قدر میں استحکام تھا اور اس وجہ سے دنیا ہمیشہ تفریق زر Deflation کا شکار رہی تھی ۔ اس وقت جب کہ سود معاشرے میں عدم توازن پیدا کررہا تھا تو اسلام نے ایک طرف زکواۃ کو فرض کر کے اور دوسرے طرف رضاکارانہ طور پر دولت پھیلانے کی تلقین کرکے سودIntrest پر ضرب لگائی ۔ اس سے نہ صرف معاشرے میں دولت پھیل جاتی تھی بلکہ لوگوں کے پاس پیسہ آجانے سے تجارت و کاروبار میں ترقی ہوجاتی اور لوگوں کو روزگار مل جاتا تھا ، جواب بھی نہایت راست ا قدام ہے ۔
مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور تیز رفتار ترقی کی وجہ سے دنیا تفریق زر اور کسادبازاری کا شکار ہونے لگی ۔ کیوں کہ دنیا میں سونا محدود مقدار میں تھا ، جس کی مقدار مزید بڑھ نہیں سکتی تھی اور اس کے متبادل کے طور پر کاغذی زر تخلیق کیا گیا ۔ جو ابتدا میں سونے کے بدلے جاری کیا گیا تھا ، اس لیے اس کی قدر مستحکم تھی ۔ مگر جلد ہی اس کا تعلق سونے سے تورنا پڑا ، اب اس کی قدر وقت کے ساتھ گرتی رہتی ہے ۔
دنیا میں جہاں مختلف میدانوں میں ترقی ہوئی ہے اور مختلف ارتقائی مراحل گزر ی ہے ، وہاں آج کی معاشی دنیا بھی بدل چکی ہے ۔ آج کی معاشی دنیا پہلے کی طرح سادہ نہیں رہی ہے ۔ زماں اور مکاں اور عرف و عادۃ کی تبدیلوں کے ساتھ اس نے مختلف ارتقائی مرحلے طے کئے ہیں اور اب یہ عہد گزشتہ کی نسبت بہت زیادہ پیچیدہ اور تیز رفتار ہو گئی ہے ۔ اس لئے آج معاشی دنیا کل کی نسبت بہت کچھ بدل چکی ہے ۔ پہلے سود معاشرے میں عدم توازن پیدا کرتا تھا ۔ جب کہ آج کی جدید معشیت میں تیز رفتار ترقی اور وقت کے ساتھ گرتی قدر کی وجہ سے قرض لینے والا فائدے میں رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے لوگ عام طور پر بینکوں اور مالیاتی اداروں سے کاروبار اور دوسری ضرورتوں کے لیے قرض لینے سے گریز نہیں کرتے ہیں ۔ اس وجہ سے سودکے خلاف تمام ظنی دلائل بے کار ہوگئے ہیں ۔ اب ہمارے پاس اس کے خلاف ایک ہی طاقت ور دلیل رہ گئی ہے کہ اس کی حرمت قران و سنت سے نص ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوںکی اکثریت (خودہمارے ملک میں) جو بظاہر مذہب پرست ہیں مگر سود سے گریز نہیں کرتے ہیں اور زیادہ نفع کے لالچ میں ان سودی اسکیموںسے بھی گریز نہیں کرتے ہیں جن میں خطرات بھی پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ خود پاکستان میں ۹۰ کے اوائل میں انویسٹ منٹ کمپنیوں Investment Compnies میں زیادہ شرح سودIntrest Rate کے لالچ میںلوگوںنے اپنی بچتوں کے علاوہ اپنے زیورات اور جائیدادیں بیچ کر ان کمپنیوں میں لگا دیئے ۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا اتنا زیادہ نفع ناممکنات میں سے ہے ۔ اس کے باوجود لالچ نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ اس طرح یہ انویسٹمینٹ کمپنیاں عوام کے اربوں روپیہ لوٹ کر فرار ہوگئیں ۔ ان انویسٹ مینٹ کمپنیوں میں پیسہ لگانے والے لوگ ہر طبقے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان میں غریب بھی تھے امیر بھی اور آزاد خیال لوگوں کے علاوہ صوم و صلواۃ کے پابند بھی ۔ جنہیں پتہ تھا سود حرام ہے ۔ اس کے باوجود انہوں نے پیسہ لگایا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے محدود پیسے سے کوئی کاروبار نہیں کرسکتے تھے ، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی جمع شدہ پونچی اس طرح محفوظ کرلیں گے اور اس کے نفع (سود) سے گزارا یا عیش کریں گے ۔
آج کا معاشی نظام عہدوسطیٰ کے مقابلے میں بہت مختلف ہے ۔ پہلے صرف سونے کو زر کی حیثیت حاصل تھی ، مگر اب اس کی جگہ کاغذی زر نے لے لی ہے ، جس کی قدر وقت کے ساتھ گرتی رہتی ہے اور قیمتوں میں اضافے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے لوگ اپنا پیسہ جائیداد یا اس طرح کی خریداری میں لگاتے ہیں اور کاروبار کے لیے قرض کو ترجیح دیتے ہیں اور واپسی کے وقت اصل کے مقابلے میں زائد رقم خوشی خوشی ادا کرتے ہیں ، کیوں کہ قرض لیتے وقت جو زر کی قدر تھی وہ ادائیگی کے وقت گھٹ چکی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے سود کے خلاف جتنے دلائل دیئے جاتے تھے وہ جدید معاشی نظام پر صادق نہیں آتے ہیں ۔ کیوں کہ زر کی وقت کے ساتھ گرتی قدر نے سود کے خلاف تمام دلائل بیکار کردیئے ہیں اور سود پوری طرح معاشی معاشرے میں رائج ہوچکا ہے ۔ آج ہم سود کے بغیر معیشت کا سوچ ہی نہیں سکتے ہیں ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین اسلامی دستور اور اسلامی اقتصادیات کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ’’غیر سودی معیشت کی تلاش کا مطلب موجودہ زمانے کی اقتصادی زندگی کی تعمیری بنیادں پر اعتراض کے مترادف ہے ۔
اقدامات
پاکستان میں ابتدا سے ہی سودی نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور ہمارے فقہاء اور علماء یہ کہتے آئے ہیں کہ اسلام تمام معاشی مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب تک کوئی مکمل اور قابل عمل متبادل نظام پیش نہیں کیا جاسکا ۔ اگرچہ وقفاً وقفاًکچھ معاملات میں بعض تجویزیں پیش کی گئیں ، جو جزوئی معاملات میں کارآمد ہیں ، لیکن مکمل معاشی نظام کا احاطہ نہیں کرتی ہیں ۔
اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جو اقدامات کئے گئے ان کی مختصر سی تفصیل درج ذیل ہے ۔
٭ ۱۹۶۹؁ء میں اسلامی مشاورتی کونسل نے اپنے ڈھاکہ میں منعقدہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے استفسار پر ملک میں رائج بینکاری کے نظام کو سودی قرار دیا اور علماء اور ماہرین پر مشتمل ایک ایسی کمیٹی بنانے کی تجویز دی جو غیرسودی نظام معیشت کے قیام کے لئے سفارشات مرتب کرے ۔
٭ ۱۹۷۳؁ء کے دستور پاکستان کی دفعہ ۳۷ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی اقتصادیات کو سودی لین دین سے جلد از جلد پاک کیا جانا ریاست کی منصبی ذمہ داری ہے اور واضع کیا گیا ہے کہ ۹ سال کے عرصے میں ملک کے پورے قانونی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھال دیا جائے گا ۔
٭ سابق صدر مرحوم ضیاء الحق نے اسلامی نظریاتی کونسل کو ۱۹۷۷؁ء میں غیر سودی معیشت کے قیام کے لئے سفارشات مرتب کرنے کام سونپا ۔ کونسل نے نامور ماہرین اقتصادیات اور بینکاروں پر مشتمل پینل ترتب دیا ، جس نے اپنی رپوٹ صدر کو ۱۹۸۰؁ء پیش کردی ۔ لیکن سابق صدر مرحوم ضیاء الحق نے ان پرعمل درآمد نہیں کیا ۔
٭ ۱۹۸۱؁ء میں وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی تو اس پر پابندی لگادی گئی کہ دس سال تک معاشی معاملات اس کے دائرہ کار سے باہر رہیں گے ۔ ضیاء الحق مرحوم نے بینکاری نظام میں صرف چند معمولی اصلاحات کیں یا محض نام تبدیل کئے ۔ سود کے متبادل کے طور پربینکوں میں مارک اپ اور PLSکھاتوں کے نام سے نظام قائم کیا گیا ۔ جس کو علماء کرام نے سود ہی کی ایک شکل قرار دیا ۔
٭ صدر مرحوم ضیاء الحق نے ۱۹۸۸؁ء میں نفاذ شریعت آڈرنیس کے ذریعے اسلامی معیشت کمیشن قائم کیا اور اس کا سربراہ ڈاکٹر احسان رشید کوبنایا ۔جس نے ایک سال میں اپنی رپوٹ وزیر اعظم بے نظیر کے دور میں پیش کی ۔
٭ وزیراعظم نواز شریف نے ۱۹۹۱؁ء میںایک کمیٹی پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں غیر ملکی قرضوں اور خود انحصاری کے لئے قائم کی ، جس نے اپنی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کو پیش کی ۔
٭ ۱۹۹۱؁ء میں وزیراعظم نوازشریف نے ملکی معیشت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے ایک کمیٹی اسٹیٹ بینک کے گورنر کی سرکردگی میں قائم کی تھی ۔ مگر بے نظیر کے دوسرے دور میں یہ کمیشن التوا کا شکار ہوگیا ۔
٭ نواز شریف نے اپنے اس پہلے دور میں ایک کمیٹی مولانا عبدالستار نیازی کی قیادت میں بنائی اور اس کو غیر سودی معیشت کی سفارشات مرتب کرنے کا کام سونپا ۔ اس کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کیں ۔
٭ نومبر۱۹۹۱؁ء کو وفاقی شرعی عدالت نے جسٹس تنزیل الرحمٰن کی سربراہی میں طویل سماعت کے بعد سود ی نظام کے خلاف فیصلہ دیا اور حکومت کو چھ ماہ کی مہلت دی کہ وہ معیشت سے سود ختم کر دے ۔
٭ وزیراعظم نواز شریف حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ، جس کی سماعت آٹھ سال تک نہ ہو سکی ۔
٭ ۱۹۹۷ میں نواز شریف نے ایک کمیٹی راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں قائم کی تھی ۔
٭ سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بنچ نے حکومت کی دائر کردہ اپیل کی سماعت کی اور ۲۳ نومبر کو اپیل مسترد کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی توثیق کردی اور حکومت کو سود کے خاتمہ کے لئے جون ۲۰۰۱؁ء تک کی مہلت دی ۔ اس فیصلہ کے خلاف UBL نے اپیل کردی ۔ UBL کی اپیل پر سپریم کورٹ نے حکومت کو مزید ایک سال کی مہلت دے دی ۔
٭ مئی ۲۰۰۲؁ء میں ایڈوکیٹ جنرل آف پاکستان نے اس حکومتی موقف کا اظہار کیا کہ حکومت ایسے علماء کی آرا سے استفادہ کرے گی جو بینک کے نفع کو سود نہیں سمجھتے ہیں ۔
٭ جون میں UBLکی نظرثانی کی اپیل سے پہلے جسٹس تقی عثمانی کو بغیر کسی وجہ کے سبکدوش کردیا گیا اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا ۔
یہ وہ اقدامات تھے جو سود کے سلسلے میںاب تک حکومتی سطح پر اٹھائے گئے تھے ۔
سودکے سلسلے میں تحقیقات کی ابتدائی کوششیں ۱۹۳۰؁ء اور ۴۰ء کے عشروں میںکی گئی تھیں ۔ اس سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ مرحوم ، ڈاکٹر انور اقبال قریشی مرحوم اور الاستاد باقر الصدر شہید نے کام کیا تھا ۔ پھر اس سلسلے کو پرفیسر خورشید احمد ، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ، ڈاکٹر محمد عذیر ، ڈاکٹر محمود ابوسود اور دوسرے بہت سے لوگوں نے جاری رکھا ۔
سودکے سلسلے میں کام کرنے یہ بالاالذکر افراد معمولی نہیں تھے ، بلکہ نابالغہ روزگار افراد تھے ۔ جن پر نہ صرف پاکستان کو فخر ہے بلکہ عالم اسلام میں بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے ۔ مگر ان لوگوں نے موجودہ زماں اور مکاں کے معاشی حقائق کا مطالعہ کرنے اور سودی نظام کے متبادل پیش کرنے کے بجائے سود کے خلاف ظنی و نفلی دلائل اخذ کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کیں اور انہوں نے سود کی حرمت اور اس کے بغیر معاشی نظام کو چلانے پر زور دیا ۔
اب تک سودکے جو متبادل پیش کئے گئے ہیں وہ بیشتر جزوی ہیں یا بینکاری کے متعلق ہیں ، ان تجویزوں کے مطابق عام لوگوں کی بچتوںپر بنک کوئی نفع نہ دے اور اس پر جو نفع حاصل ہو وہ حکومت حاصل کرے ۔ البتہ بڑی رقمیں جو لمبی مدت کے لئے ہوں ان پر مشارکہ اور مضاربہ کی بنیاد پرنفع دیا جائے ۔ اس طرح بینک قرض دینے کے بجائے مشارکہ اور مضاربہ کی بنیاد پر کام کرے ۔ وہ اس سلسلے میں اسلامی ترقیاتی بینک اور ایرانی بینکوں اور اس طرح کے وہ کچھ اور اداروں کی مثالیں دیتے ہیں جو مضاربہ یا شراکت کی بنیادپر اپنا کاروبار کررہے ہیں ۔
اس حقیقت کے برعکس کہ سودی نظام صرف بینکاریBanking کے امور تک محدود نہیں ہے ۔ انہوں نے صرف بینکاری کے امور پر توجہ دی اور دوسرے معاشی اور مالیاتی Ecnomic & Manitry امور مثلاً زر کی تخلیقCapital Formation ، کاغذی زر ، ادائیگیوں کا توازنBalance of Payments ، قرضہ جات ، معاشی حکمت عملیوں کے مطابق زر کو بازار میں پھیلانے اور کھینچنے اور روزگار وغیرہ کو نظرانداز کردیا ہے ۔
موجودہ معاشی نظام کے بعض پہلو ایسے ہیں جن پر ہمارے علماء اور فقہا، غور و فکر نہیں کیا ہے ۔ مثلاً کرنسی نوٹ جاری کرنے کا موجودہ طریقہ کار ، بازار میں زر کو پھیلانے اور کھنچنے کاموجودہ طریقہ کار وغیرہ ۔ ظاہر ہے یہ تمام معاشی اور مالی معاملات ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور یہ تمام معاملات عام آدمی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کا ملک کی معاشی حالت پر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ اب تک سود کے جو بھی متبادل پیش کئے گئے ان دو بڑی خرابیاں ہیں ۔ اول وہ جزوی Micro ہیں اور وہ کلی Mecro نہیں ہیں ۔ لہذا وہ ملکی معیشت اور مالیات کے تمام معاملات پر اثر انداز نہیں ہوتے ہیں ۔ دوئم وہ موجودہ معاشی اور مالی حکمت عملیوں اور معاشی حقائق کو مد نظر رکھ کر ترتیب نہیں دیئے گئے ہیں ، اس لیے انہیں اپنانے کی کوئی بھی حکومت جرات نہیں کرسکتی ہے ۔
ان کے پیش کردہ متبادل کا ہم جائزہ لیں تو یہاں یہاں سوال اٹھتا ہے ، کہ جب کہ معیشت کا پورا نظام اس طرح مربوط ہے ، کہ زر کی تخلیق ، کاغذی زر ، ادائیگیوں کا توازن ، قرضہ جات ، بچت اور سرمایا کاری اس نظام سے وابسۃ ہیں ۔ ہم سرمایاکاری تو شراکت یا مضاربہ میں کرسکتے ہیں ، لیکن سرمایا کی فراہمی بچت سے ہوتی ہے ۔ جب زر کی قدر وقت کے ساتھ مسلسل گر رہی ہو تو ہم بچت کے لئے کس طرح ترغیب دیں گے ؟ اور ادائیگیوں کا توازن اور زر کی تخلیق کس طرح کریںگے ؟
حقیقت میں سودکے مکمل متبادل نظام کے متعلق ابھی تک کوئی قابل ذکر کام ہی نہیں ہوا ہے اور جو کچھ کام ہوا وہ سود کے خلاف ظنی دلائل ہی ہیں ، ان کی اب کوئی وقعت نہیں رہی ہے یا چند ایسے متبادل پیش کئے گئے جو قابل عمل نہیں ہیں ۔ اس لئے کوئی بھی حکومت انہیں عملی جامع پہنانے کی ہمت نہیں کرسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے سود کے معاشی نظام سے خاتمہ کی ہر حکومت نے مزاحمت کی ۔ جناب ایس ایم ظفر صاحب نے وفاقی شرعی عدالت میں سود کا دفاع کرتے ہوئے کہا ۔
’’چونکہ دنیا بھر میں اقتصادی نظام سود پر چل رہا ہے ، اس لئے اس سے انحراف معاشی بحران کے مترادف ہوگا‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’سود کے مسئلہ پر غور ملتوی کیا جائے ، کیوں کہ اس کا مجموعی نظام معیشت سے بڑا تعلق ہے ۔ پاکستان کا پورا مالیاتی نظام اس طرح مربوط ہے ، دیگر مسائل مثلاً افراط زر ، کاغذی زر ، کرنسی ، بینکاری کا تصور رضاکارانہ طور پر قرضے دینا کو اس سے وابسطہ کئے بغیر محض اس نظام کے متعلق فیصلہ کرنا بہت سی مشکلات اور بحران کا سبب بن سکتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں قوم کو فائدہ کے بجائے نقصان ہو گا ۔
یہی وجہ ہے جدید معاشیات کے ماہرین جن کا خیال ہے کہ ہم سود کے بغیر معیشت کو نہیں چلا سکتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ کا خیال ہے کہ قران و حدیث میں جس سود کی مخالفت کی گئی ہے وہ صرفی قرضے تھے ، جب کہ موجودہ بینکوں کے قرضے ربا نہیں ہیں ۔ اس طرح کچھ کا خیال ہے کہ بینکی قرضے اگرچہ ربا ہیں مگر انہیں اجتہاد کے ذریعے ربا سے خارج دیناچاہیے ۔
تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں