52

سود کے نظریات

سود کی تائید میں بہت سے غیر مالی نظریات Non Monetry theoryes پیش کئے گئے ہیں ۔ جن میں سود کو صلہ بچت ، منافع ، نفع اور فیاضی فطرت کا انعام کہا گیا ہے ۔
سودIntrest  کے بارے میں سب سے پہلے نظریہ نساؤ سنیر Nasau Senirنے پیش کیا تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ سود یعنی سرمایے کے معاوضہ کا انحصار رسد و طلب Demand & Supply کی قوتوں پر ہے ۔ اس کے نظریہ کے مطابق اشیائے اصل Capitl Goodsکی پیدا وار Output اس پر منحصر ہے کہ صارفین حال صرف onsumption سے اجتناب کریں ۔ تاکہ وسائل کو اشیائے اصل کی پیدا وار میں استعمال کیا جاسکے ۔ اس کے خیال کے مطابق اصل کی طلب اس کی پیدا وار پر منحصر ہے ۔ دوسرے عاملین پیدائش کی طرح کہ اصل سلسلے میں بھی آجروں کا یہ فیصلہ کہ اصل سے کتنی پیداوار کی جاسکتی ہے سامان طلب اصل کا تعین کرتا ہے ۔  
سینر Sinerکے نظریہ کو قبول عام نہیں حاصل ہو سکا ۔ خاص کر کارل مارکس نے اس پر اعتراض کیا کہ امراء کو کس قسم کا اجتناب کرنا پڑے گا ؟ چنانچہ مارشل Marshll نے اپنے نظریے میں ’اجتناب‘ کو ایک بے رنگ اصطلاع ’انتظار‘سے بدل دیا ۔ اس سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اشیائے صرف کی پیداوار ایک طویل مرحلہ ہے جس کے لئے وقت درکار ہے ۔       
قرضہ جات کا نظریہ Lianable Funds Preference TheorY : اسے مارشل نے اپنی کتاب اقتصادیات کے اصول Principles of Ecnomics میں پیش کیا تھا ۔ اس کا کہنا ہے کہ ہر شخص بخوبی واقف ہے کہ دولت کی افزائش اس وجہ سے رک گئی ہے اور شرح سود اس لیے نہیں گری ہے کہ بنی نوح انسان اپنی ضروریات بجائے بعد میں پورا کرنے کے موجودہ وقت میں پورا کررہے ہیں یا دوسرے الفاظ میں انتظار کرنا گوارہ نہیں کرتے ہیں ۔ مارشل نے یہ اس لیے کہا انسان پس انداز یا بچت نہیں کرتے ہیں اور نہ ان میں تخلیق سرمایا Capital Formation کا جذبہ ہے اور نہ کافی زر Crruncy کی فراہمی ہے کہ سرمایاکاری Investment کے لیے قرضے حاصل کئے جائیں ۔ اس لیے سرمایا کاری Investment کے لیے جو سرمایاCapital ہے وہ بہت قلیل ہے ۔ 
ترجیح سیال کا نظریہ Liquidity Preferencs Theory : ۱۹۳۳؁میں جان مینارڈ کینز John Maynard Keynesنے اپنی کتاب ’روزگار سود اور زر کا عام نظریہ‘ Genral Theory of Employment Interest and Money میں پیش کیا ۔ اس سے پہلے اس کے پیش رو مارشل کا ’قرضہ جاتی ذخائر‘ کا نظریہ Loanable Fends Theory مروج تھا ۔ کینزKeynes لکھتا ہے کہ کسادبازاری Market Decline کے زمانے میں قیمتوں کے گرنے کا دور ہوتا ہے اور متوقع شرح منافع (جس کو وہ مختتم کارکردگی اصل Marginal Efficiency of Capital کا نام دیتا ہے) بہت گرجاتی ہے ۔ اس لیے متوقع شرح منافع شرح سودسے زیادہ ہونی چاہیے ۔ تاکہ سرمایاکار سرمایا کاری کے لیے قرض کی طرف مائل ہوں ۔ فرض کیجئے مروجہ شرح سود ۳ فیصد سالانہ ہے تو مختتم کارکردگی یا اصل متوقع شرح منافع ۳ فیصد سالانہ سے زیادہ ہونی چاہیے ۔ تاکہ سرمایا کار سرمایاکاری میں سرمایا لگانے پر راغب ہوں ۔ کیوں کے سرمایا لگانے کے عمل میں ہمیشہ نقصان کا اندیشہ رہتا ہے ۔ فرض کیجئے سرمایا کاکو اس شرط پر سرمایا لگانے میں مائل کیا جاسکتا ہے کہ ، متوقع شرح منافع (یا مختتم کارکردگی Marginal Efficency of Capital)  ۵ فیصد ہو تو ہم دیکھتے ہیں کہ (۲ فیصد ۵ منفی ۳ فیصد) وہ اندازہ ہے جو سرمایا کار ’’خطرہ نقصان زر‘‘ کی مد میں رکھے گا اور جس کے مد نظر وہ اپنا سرمایہ Invest سرمایا کاری Investment میں لگانے پر راضی ہوگا ۔ فرض کیجئے کہ کساد بازاری Market Decline کے زمانے میں مختتم کارکردگی اصلMarginal Efficiency of Capital یامتوقع شرح منافع ۳ فیصد سالانہ تک گر جاتی ہے اور دو فیصد سالانہ جیسا کہ ہم نے بتایا ہے سرمایا کار Invesrer کا اندازہ خطرہ زر ہے ۔ اس لحاظ سے شرح سود ایک فیصد سالانہ تک (جو ۳ فیصد سالانہ مختتم کارکرگی Maginal Efficiency of Capital ، اصل اور ۲فیصد سالانہ ، اندازہ خطرہ فرق) گرجانی چاہیے ، تاکہ سرمایا کار Invester اپنا قرض لیا ہوا سرمایا Invest سرمایا کاری Investement میں لگا سکے ۔ اب فرض کیجئے متوقع شرح منافع یا مختتم کارکردگی اصلMaginal Efficiency of Capital ایک فیصد تک گرجاتی ہے ۔ اندازاً خطرہ زر حسب سابق ۲ فیصد ہے تو شرح سود منفی ایک فیصد سالانہ تک گر جانی چاہیے ۔ (یعنی مختتم کارکردگی اصلMarginal Efficiency of Capital ایک فیصد اور اندازہ خطرہ زر ۲ فیصد کے فرق تک) تاکہ سرمایا کار Invester اپنا سرمایاCapital سرمایاکاری Investment میں لگا سکے ۔ لیکن منفی شرح سود ہونا غیر ممکن ہے ۔ کسی کو کیا ضرورت ہے کہ روپیہ قرض دے کر سود حاصل کرنے کے بجائے الٹا سود دینا برداشت کرے ۔ ان حالات میں تووہ اپنا روپیہ بصورت سیال نقد اپنے پاس رہنے دے گا ۔ یہی ترجیح سیالLiquidity preference  (ترجیح نقد) ہے اور اس پر جس نظریہ کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ نظریہ ترجیح سیال  LIquidity preference  ہے ۔ 
جب قیمتیں بڑھتیں ہیں تو روپیہ کی قدر میں تخفیف ہو تی ہے ۔ قرض خواہ کی نظر میں قدر اصل کا افادہ جو اسے تجارتی سامان کی شکل میں ملتا ہے ، جو گھٹ جاتا ہے لیکن مقروض ایک طرح سے فائدے رہتا ہے ۔ کیوں کہ وہ اصل اور سود کی ادائیگی اس روپیہ سے کرتا ہے جس کی قدر گھٹ چکی ہوتی ہے ۔    
انسان کسادبازاری Market Decline کے زمانے میں زر نقد رکھنے کو ترجیح دیتا ہے ۔ اس کا ایک اور سبب بھی ہے ۔ کسادبازاری Market Decline کے زمانے میں قیمتیں گرتیں ہیں ، آج جو روپیہ چار سیر گندم کی قوت خریدرکھتا ہے کل وہی روپیہ ایک سال کے بعد پانچ سیر گندم خرید سکے گا ۔ اس لیے کوئی شخص اپنا روپیہ زر نقد کی صورت میں محفوظ رکھتا ہے تو اس کو اس حساب سے ۲۵ فیصد منافع ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب کسی شخص کے روپیہ کی قدر تجوری میںرکھے رہنے سے بڑھ رہی ہے تو وہ خواہ مخواہ کاروبار میں کیوں روپیہ کیوں پھنسائے گا ۔ یہی وجہ ہے کینز Keynes نے گیسل کی Gessl تجویز ’’زرمسکوک‘‘ Stemped Mony کی سفارش کی تھی ، جس میں روپیہ کی قدر ایک معینہ مدت کے بعد گھٹ جاتی ہے ۔ تاکہ لوگ اپنا روپیہ ’’زر نقد‘‘ Liquid Capital کی شکل میں رکھنے کے بجائے کاروبار میں لگانے پر مجبور ہوں ۔ 
کینز kenyes اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ’’زر مسکوک Stemped Mony‘‘ کے پس پردہ بہت اچھا خیال پوشیدہ ہے ۔ حقیقت میں یہ ہو سکتا ہے کہ معتدل پیمانے پر اس تجویز کو عملی جامع پہنانے کا طریقہ معلوم ہوجائے ۔ لیکن اس راہ میں بہت سی مشکلات ہیں جس کا اندازہ گیسل Gessl نے نہیں کیا ۔ خصوصیت سے اس نے یہ نظر انداز کردیا کہ صرف روپیہ ایسی شے نہیں جو سیالی خصوصیت یا کیفیت کا حامل ہے اور دوسری اشیاء کی نسبت اس کے درجہ میں فرق ہے ۔ نقد روپیہ کی اہمیت یہی ہے کہ یہ دوسری اشیاء کی نسبت زیادہ سیالی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس لیے کرنسی کے نوٹوں کو مسکوک کر کے ان کی سیالی خصوصیت ختم کر دی جائے تو بینک میں جمع شدہ روپیہ ، عندالطلب قرضے ، غیر ملکی روپیہ ، جواہرات ، قیمتی دھاتیں اور اسی نوح کی دیگر چیزیں روپیہ کے نعم البدل کے طور پر وجود میں آجائیں گی ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں