55

سوریا اور اُساش

باد و باراں کے افسانے کے علاوہ جو کہ فضاء میں ہوتا ہے اس کے علاہ اونچے آسمان پر اس کے کردار جنگ اور سختی کی ہستیاں نہیں ہیں بلکہ نہایت ترم مزاج اور حسین یعنی سورج جو روشنی اور زندگی کا بخشنے والا ہے اور اُساش جو آسمان کی سب سے حسین بیٹی ہے کے درمیان ہے ۔ اس ڈرامے یہ مرکزی کردار ہیں اس لیے انہیں سوریا اور اُساش کا افسانہ کہا گیا ہے اور اس میں عشق و جنگ دونوں شریک ہیں ۔ یہ آپس میں عشق یا تعلق رکھتے ہیں اور جنگ ایسی ہستیوں سے جو مخالف خواص کی یعنی تاریکی اور اس کی مختلف اشکال اور اندھیرا کرنے والے بادل اور کہر جو اندر اور ماروتوں کے بھی دشمن ہیں ۔ 
سوریا اور اُساش کے ڈرامے میں واقعات کی کثرت ہے ۔ کیوں کہ شاعرانہ تخیل میں ان دونوں کی ذات میں بہت سے امور موجود ہیں ۔ جن کو کیفیت کے لحاظ سے مختلف طرح بیان کیا گیا ہے اور ان کا آپس میں اور دوسری قوتوں کے ساتھ تعلقات کا اشارہ ملتا ہے ۔ مثلاً اگر اُساش تاریکی کی پیدائشی دشمن ہے اور اس کو دور کرنا اس کا فرض منصبی ہے تو وہ رات کی توام بہن بھی ہے ۔ کیوں کہ یہ دونوں آسمان (دیاؤس)کی بیٹیاں ہیں اور دونوں میں ہم آہنگی کے ساتھ یکے بعد دیگر اپنا فرض ادا کرتی ہیں اور ریت اور ادیتاؤں کے قوانین کی پابندی کرتی ہیں ۔ اُساش کی ایک بہن اور بھی شفق شام جو اس سے زیادہ درخشاں ہے مگر سن میں اس زیادہ اور پرغم جسے تاریکی کا وہی دیو کھا جایا کرتا ہے ۔ جس کو اس کی چھوٹی بہن کو صبح کو زیر کیا تھا ۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سپید صبح اور شفیق شام ایک ہی ہیں ۔ یہ دوشیزہ (اُساش) جس کا حسن آنکھوں کو خیزہ کر دیتا ہے ۔ زعفرانی اور گلابی پیراہن زیب تن کرکے اپنے سنہرے رتھ پر بیٹھ کر مشرق کے دروازوں سے نکلتی ہے اور اس کا عاشق زاد سورج اس کے تعاقب میں رہتا ہے جس کے اظہار عشق کو وہ محبت بھری آنکھوں سے دیکھتی ہے مگر اس کا ہوائی جسم آفتاب کی تمازت کو برداشت نہیں کرسکتا ہے اور وہ اپنے عاشق کو داغ ہجراں دے کر آسمان کی دوسری جانب غائب ہوجاتی ہے ۔ مگر سورج پر ریت کی پابندی ضروری ہے اور وہ اپنے مقررہ راہ پر چلے جاتا ہے ۔ دشمنوں یعنی بادل کے عفریتوں اور کہرے کے ساتھیوں سے مقابلہ کرتا ہے اور ان کو اپنے سنہرے نیزے سے ہلاک کر دیتا ہے ۔ عشق و محبت کے دوسرے واقعات میں خصوصاً دوشزگان آبی (اَبُساراَ) جو ہلکے بادلوں پر سوار ادھر ادھر پھرتی رہتی ہیں اور اس کو اپنے دام فریب میں لانا چاہتی ہیں مگر وہ راستہ سے مڑتا نہیں ۔ یہاں تک وہ تھک کر اور دُھندلا ہوکر غروب ہونے لگتا ہے ۔ کبھی دشمنوں پر اسے غلبہ ہوتا ہے ، کبھی وہ ان سے لڑتا ہوا نظر آتا ہے اور پھر ایک مرتے ہوئے سورما کی طرح اپنا پورا زور لگا کر انہیں پامال کر دیتا ہے ۔ غروب ہوتے ہوتے پھر اپنی معشوقہ سے دوچار ہوتا ہے ۔ مگر درخشاں اُساش نہیں بلکہ غمزدہ شفق شام ہے ۔ ایک لمحے کے لیے یوں معلوم ہوتا ے کہ دونوں عاشق و معشوق اپنی زندگی کے آخر لمحوں میں ایک دوسرے کی آغوش میں ہیں اور ان کے وصال کی خوشی سے مغرب میں روشنی نظر آنے لگتی ہے اور پھر اسی طرح ایک دوسرے کی آغوش میں آرام کرتے ہیں اور تاریکی جو ان کی جانی دشمن ہے انہیں گھیر لیتی ہے ۔ 
اگر ہر روز کے اس تماشے کا نتیجہ نکلا جائے تو دوسرے روز کا سوریا ان کا بچہ ہے ۔ مگر ہندوستان کے قدیم شعرا اس قسم کے نتائج نکالنے کے عادی نہیں بلکہ اس کے برخلاف ان کا خیال ہے کہ سوریا کسی طرح آزادی حاصل کرتا ہے اور پھر دوسرے روز صبح نکلتا ہے ۔ 
واضح رہے شاعرانہ تخیلات ایک ہی کرشمہ قدرت کی مختلف اشکال ہیں اور ہر ایک تخیل سے ایک نئی شکل بلکہ افسانہ بن سکتا ہے ۔ جن سے ہر ایک کم و بیش ایک تشبیہ یا استعارہ ہے ۔ لیکن اگر ان کو ایک باضابطہ نظام میں مضبط کرنے کی کوشش کی جائے تو بعض عجیب اور پریشان کن اشکال پیدا ہوں گی ۔ لیکن یہ پریشانی اس وقت تک رہے گی جب تک ہم افسانیات کے گر سے واقف نہ ہوں اور ایک ہی قول کی کے لفظی معنی لیں ۔ مثلاً سوریا تاریکی کا ہمیشہ سے دشمن ہے ۔ مگر چونکہ وہ تاریکی سے نکلتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس لیے ایک طرح سے ہم اسے تاریکی کا بچہ کہہ سکتے ہیں اور اس پر اپنے والد کو مار ڈالنا لازم آتا ہے ۔ جس طرح اگنی اپنے والدین کو کھا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ شاعر کے لیے یہ کہنا بیجا نہیں کہ سوریا اُساش کا بچہ یا بھائی ہے ۔ مگر اس کے ساتھ یہ کہنا کہ وہ اپنی ماں یا بہن پر عاشق ہوتا ہے اور اس کو مار ڈالتا ہے ۔ دیوتاؤں کے متعلق ایسے ناگوار واقعات بیان کرنا برا ہے ۔ مگر خوش اعتقاد پرستش کرنے والے اگنی کے پجاری کی طرح کہہ سکتے ہیں کہ انسان دیوتاؤں کے افعال پر نکتہ چینی نہیں کرسکتا ۔ بلکہ دیوتاؤں کے یہ افسانے رفتہ رفتہ انسانی سورماؤں سے متعلق ہوجاتے ہیں ۔ جن سے بعد کے شاعر سخت پریشان ہوتے ہیں اور وہ اس قسم کے رکیک اور معیوب افعال اپنے قدیم سورماؤں اور شاہی خاندانوں کے بانیوں کے ساتھ منسوب کرنے لگے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ ان قصوں کی اصلیت کیا ہے ۔ مگر خوش قسمتی سے رگ وید نہ تو کوئی ضابطہ یا نظام ہے اور نہ مختلف افسانوں میں ایک دوسرے سے تعلق پیدا کرنے کوشش کی گئی ہے ۔ اس لیے ہر ایک قصہ اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں