66

سوریا

آریوں کی قدیم داستانوں میں سوریا کو اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ ہم جسے صبح کہتے ہیں قدیمی آریا سوریہ یا شفق کہا کرتے تھے ۔ ہم جب دوپہر ، شام اور رات ، بہار ، سردی ، سال ، وقت اور زندگی اور ابدیت کہتے ہیں ۔ قدیمی آریہ ان سب کو سوریہ کے نام سے تعبیر کرتے تھے ۔ سوریہ کے متعلق ایسی روایات ہندوستان کے علاوہ اٹلی اور یونان وغیرہ میں بھی ملتی ہیں ۔ رگ وید کی پراتھناؤں اور منتروں میں دیوتا مختلف صورتوں میں پاتے ہیں ۔ قدرت کا ہر ایک کرشمہ خواہ زمین پر ہو یا آسمان پر ان سے منسوب کیا جاتا تھا ۔ جب بجلی کڑکتی ہے تو اس مطلب ہے کہ اندر دیوتا گرجتا ہے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو پراجنیا دیوتا برسا رہا ہے ۔ جب شفق صبح ہوتی تو اوشاس ایک رقاص کی طرح اپنا شاہانہ جلوہ دیکھا رہی ہے ، جب اندھیرا ہو رہا ہے تو سوریا دیوتا اپنے گھوڑوں کو کھول کر ان کی زین اتارلی ہے ۔ رشیوں کے نذدیک تمام قدرتی نظارے جاندار تھے اور یہ دیوتاؤں کا مظہر تھے ۔ اس سے لوگوں کے اخلاق پر اثر پڑتا تھا اور لوگ دیوتاؤں کے رو برو پاپوں کرنے سے نہیں جھجکتے تھے ۔ 
سوریا جس مادے سے ماخوذ ہے اس کے معنی چمکنے والے کے ہیں ۔ سوریا رگ وید میں درخشاں سورج کو کہتے ہیں ۔ جسے دیوتاؤں یا کسی مخصوص دیوتا نے پیدا کیا تھا اور ان کے احکام کے پابند ہے ۔ مگر سوریا صرف سورج ہی نہیں بلکہ سوریا کا دیوتا بھی ہے جو طاقت ور اور خود مختیار ہے ، مگر عظیم انشان اَدتیاؤں کے قوانین کا پابند ہے جو خود ریت یعنی عالم کے اعلیٰ ترین قوانین پر عمل کرتے ہیں ۔ اسی امتیاز کی وجہ سے جو بالقصد نہیں ہے اور جو اکثر دیوتاؤں کے جسمانی اور اخلاقی خواص میں موجود ہے ۔ مختلف بھجنوں کے مضامین میں اختلاف ہے جو اس دیوتا سے منسوب ہیں ۔ ان بھجنوں میں اعلیٰ درجہ کے اشعار ہیں اور جو استعارے استعمال کیے گئے بالکل واضح ہیں ۔
سورج دیوتا کا خیال جو تمام قدیم اقوام رائج تھا یعنی وہ ہر چیز دیکھتا ہے ۔ روشنی کے دینے والے اور تاریکی کو دفع کرنے والے دیوتا کی ذات سے اس کا تخیل کا متعلق ہونا بالکل بدیہی ہے اس لیے یہ شبہ نہیں ہوسکتا ہے کہ کسی قوم نے دوسری قوم سے اس تخیل کو لیا ہو ۔ اس لیے سورج کی ستائش میں قدیم کلدانیوں اور آریاؤں کے بھجنوں میں نہ صرف یہی بلکہ دوسرے شاعرانہ تخیلات میں بھی مشابہت ہے ۔ سوریا جو دیاؤس (آسمان) کا بیٹا ہے ۔ مترا اور وارن کی آنکھ ہے ، مشرق کے محاورے میں بادشاہ کی آنکھیں اس کے جاسوس ہیں اس لیے لازم آتا ہے سورج انسان کے افعال دیکھتا رہے اور اَدِیتاؤں کو اطلاع کرے جو قانون اور حق کے محافظ ہیں ۔ اس محاورے میں جو معنی بیان کیے گئے اس کی صحت کی یہ دلیل ہے کہ سورج سے اکثر درخواست کی جاتی ہے کہ ’’اَدِیتاؤں کے حضور میں انسان کی بے گناہی کا اظہار کرے’’ ۔ اس طفلانہ درخواست سے مقصود صرف یہ تھا کہ وہ سزا اور ذلت سے بچ جائیں ۔ دَسِشتھا کے ایک بھجن میں سوریا کو ایک موقع پر اگنی کی آنکھ بیان کیا گیا ہے ۔ سوریا اور شفق صبح کی ساتوں گھوڑیوں کو ہارت (چمکدار) کہا جاتا ہے ۔ گھوڑیوں سے مراد کرنوں سے ہے ۔ دوسرے دیوتاؤں مثلاً اندر یا اگنی کی گھوڑیوں کو بھی ہارت کہا جاتا ہے ۔
’’اے سوریا ! اگر تو طلوع کے وقت ہماری بے گناہی کا اظہار وارن اور مترا پر کرے تو ہم دیوتاؤں کو گا کر خوش کریں گے ۔۔۔ اے وارن ، مترا سوریا دونوں عالموں کا چکر لگانے کے لیے طلوع ہو رہا ہے ۔ وہ محافظ ہے سب کا سفر یا حضر میں ہوں ۔ وہ انسان کی نیکی اور بدی کو دیکھتا ہے ۔ وہ اپنے ساتوں ہارتوں کی زین کھولتا ہے ۔۔۔ اور تمہارے تخت کے پاس حاضر ہوتا ہے ۔ وہ ہر چیز دیکھتا ہے جیسے کہ چرواہا اپنے گلے کو ۔۔۔ سوریا روشنی کے سمندر سے نکلتا ہے ۔ ادتیاؤں نے اس کی راہ مقرر کردی’’۔ (رگ وید ۷۔۶۰)
’’وہ سیاہ (پیراہن) کرتے (رات) کی دھجیاں الگ کر دیتا ہے ۔ اس کی کرنیں تاریکی دور کرتی ہیں ۔ چمڑے کی طرح اسے لپیٹ کر پانی میں ڈال دیتی ہیں’’ ۔
’’نہ وہ کسی چیز سے لٹکا ہوا ہے ، نہ بندھا ہوا ہے ، پھر اس بلندی سے گرتا کیوں نہیں ؟ کون اسے راہ دیکھاتا ہے ؟ کس نے اسے دیکھا ہے’’۔ (رگ وید ۴۔۱۳)    
نیچے دی ہوئی نظم میں اور بھی جوش کے ساتھ اسے مخاطب کیا گیا ہے ۔
’’مترا ، وارن اور اگنی کی آنکھ ہے ۔ سوریا آسمان زمین اور کرہ ہوائی میں سمایا ہوا ہے ۔ وہ جاندار ہے ہر حرکت کرنے والی اور کھڑی رہنے والی چیز ۔۔۔ اس کی چمکتی ہوئی اور خوبصورت گھوڑیاں (ہارت) خوشی کے گیتوں کو سن کر آسمان کی طرف چڑھتی ہیں اور ایک ہی دن میں آسمان اور زمین کی راہ طہ کرتی ہیں ۔۔۔ اور جب وہ اپنی گھوڑیوں کو کھول دیتا ہے تو تاریکی کی تمام چیزوں پر طاری ہوجاتی ہے’’۔ (رگ وید ۱۔۱۱۵)
سوریہ کو گھوڑا بھی کہا گیا ہے اور چڑیا بھی اور یہ دونوں استعارے اکثر استعمال کیے گئے ہیں ۔ وہ بھجنوں (رگ وید ۱۔۱۶۳ ، ۱۰۔ ۱۷۷) میں جن کے الفاظ واضح نہیں ہیں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ’’ایک چڑیا ہے جس کو اسور (وارُن) نے سنوارا ہے اور وہ گھوڑا ہے جو پیدا ہوتے ہی ہنہنانے لگا اور پانی (کہرے) سے نکلا’’۔ وہ ایک گھوڑا ہے جس کے شکرے کے پر ہیں اور غزال کے پاؤں’’۔ ایک جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اشاس (سپید صبح) ’’دیوتاؤں کی آنکھ کو لے آتی ہے اور نفرئی خوبصورت گھوڑے کی رہبری کرتی ہے’’۔ سوریا کی توصیف میں پورے بھجن بہت کم ہیں ۔ جن میں نیچے دیئے گئے بھجن اپنے محاسن شاعری اور اعلیٰ تخیل کی وجہ سے مشہور ہے ۔
’’وہ دیوتا جو تمام مخلوقات کو جانتا ہے بلند ہوتا ہے ۔ اس کی کرنیں اسے کھنچتی ہیں تاکہ وہ (سوریا) تمام چیزوں کو دیکھ سکے’’۔
’’اس چیز کو دیکھنے والے دیوتا کو دیکھتے ہی چمکتے ستاروں کی طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں’’۔

ٍ ’’اس کی کرنوں کو جو مشغلوں کی طرح چمکتی ہیں تمام انسان دیکھ سکتے ہیں’’۔
’’تو باوجود اپنی تیز گامی کے ہر جگہ نظر آتا ہے تو روشنی پیدا کرتا ہے ، تمام عالم کو منور کر دیتا ہے’’۔
’’تو دیوتاؤں اور انسانوں کے لیے طلوع ہوتا ہے تاکہ سب تیری روشنی دیکھ سکیں’’۔
’’اسی نگاہ سے جس سے وارن جو عالم کا منور کندہ ہے بنی نوع انسان کو دیکھتا ہے تو بھی اے سوریا ! آسمان اور وسیع فضا کو تلاش کرتا ہے’’۔
’’سات گھوڑیاں تیرے بوجھ کو سنبھالتی ہیں ۔ اے دوربین سوریا ! اے درخشاں زلفوں والے دیوتا’’۔
’’سوریا نے ساتوں ہارتوں کو جو رتھ کی بیٹیاں ہیں جوت دیا ہے’’۔
’’اندھیرے میں سے اونچی روشنی کی طرف دیکھتے دیکھتے ہم سوریا تک پہنچ گئے جو دیوتاؤں میں ایک دیوتا ہے’’۔
سوریا کو کبھی مونث بتایا گیا اور اس کی شادی سوما (چاند) سے ہوتی ہے ۔ مگر یہ مذکر ہونے کی صورت میں اوشاس کو اس بیوی اور محبوبہ بتایا گیا ہے ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں