87

سوری

نعمت اللہ ہروی اس قبیلے کا شجرہ نسب لکھتا ہے کہ سور بن اسماعیل بن سیانی بن لودھی بن شاہ حسین غوری ۔ اس طرح یہ افغانوں کی متو شاخ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تاہم شاہ حسین کوئی تاریخی شخصیت نہیں ہے ۔ اس کا سب سے پہلے ذکر نعمت اللہ ہروی نے کیا ہے ۔ تاہم غوری ابتدا میں سوری کہلاتے تھے اور اس خاندان کے ابتدائی حکمران سوری کا لائقہ لگاتے تھے ۔ برصغیر میں سوری خاندان کی حکومت (۱۵۴۰ء تا ۱۵۵۵ء) تک رہی ہے ۔ فرشتہ لکھتا ہے کہ سوری اپنا شجرہ شنشبان غور سے ملاتے ہیں ۔ لیکن عام لوگ اس شجرہ کو فرضی خیال کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے یہ شجرہ شیرشاہ سوری کی خشنودی کے لئے بنایا ہو ۔ 

قوم سیتھا میں ایک شاخ سوریا کے نام سے معروف تھی ۔ برصغیر کے سورج بنسی راجپوت بھی سوریہ کہلاتے ہیں اور یہ پہلے سورج کی پوجا کرتے تھے ۔

بالاالذکر حوالوں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وسط ایشیا سے لے کر برصغیر میں قدیم زمانے میں ایک قوم آباد تھی جو سورج کی پوجا کرتی تھی اور سوریہ یا سوری کہلاتے تھے ۔ برصغیر کے سورج بنسی اور افغان قبیلہ ایک ہی نسل ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ سوریوں نے اسلام قبول کرلیا تھا ، جب کہ برصغیر کے سورج بنسی اپنے قدیم مذہب پر قائم رہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں