54

سوما (مشروب)

رگ وید کی پوری ایک کتاب یعنی نویں منڈل میں اس دیوتا کی ستائش و تعریف پر مشتمل ہے ۔ اگنی اور سوما میں تعلق ہے اور اگنی آگ ہے اور سوما پودا ہے ۔ اگنی سے کئی کام لیے جاتے تھے مگر سوما سے شراب تیار کی جاتی تھی اور اسے پرستش کرنے کے دوران پی جاتی تھی اور قربان گاہ کی آگ میں ڈالا جاتا تھا ۔ ان کا خیال تھا کہ جس شخص کے قبضے میں میں سوما ہو اور وہ اس کا رس نہ نکالے تو اس سے زیادہ کوئی بدبخت نہ ہوگا اور آریا سوما کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ وہ انسانوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے ۔ ایک جو سوما کا رس نکالتے ہیں اور دوسرے جو سوما کا رس نہیں نکالتے تھے اور نہ نکالنے والے دشمن ، منکر اور وحشی کے ہم معنی ہے ۔
آتش کی طرح سوما کی پرستش کا آغاز بھی مشترک ہندی ایرانی عہد میں ہوا تھا ۔ جب کہ اسے ہندی سوما اور ایرانی ہوما کہتے تھے ۔ اس کی قدیم ایرانیوں میں وہی قدر و منزلت تھی جو سوما کے لیے ہندوؤں میں تھی ۔ ایک محقق ونڈش مان کا کہنا ہے کہ اس پودے کی پرستش قدیم آریاؤں اس وقت سے چلی آرہی ہے جب کہ آریاؤں کی مختلف شاخوں میں علحیدیگی نہیں ہوئی تھیں ۔ یعنی ابتدائی عہد سے ہی آریاؤں میں قربانیوں ہوما (سوما) کا استعمال ہوتا تھا ۔ اوستا سے بھی تصدیق ہوتی ۔ رگ وید میں سوما فروخت کرنے والے تاجروں کو فروحت کرنے میں مول تول کرنے پر انہیں نفرت و حقارت سے دیکھا جاتا تھا اور ان کا شمار مجرموں ، سود خوروں اور نٹوں میں ہوتا تھا ۔ سوما کی فروخت ایک خاص رسم کے مطابق ہوتی تھی جو بظاہر لغو معلوم ہوتی ہے اور سوما کی ایک خاص مقدار کی قیمت ایک ہلکی یا سرخی مائل بھورے رنگ کی گائے جس کی آنکھیں بھوری ہوں ۔ گائے کے رنگ میں غالباً سوما کے سرخ یا سنہرے رنگ کی طرف اشارہ ہے ۔ 
اگرچہ قربانیوں کی اس شراب کا نام تمام آریا اقوام میں مشترک تھا اور مختلف علاقوں میں اسے آریا مختلف پودوں سے تیار کرتے تھے ۔ ایران کی طرح ہند میں بھی سوما پہاڑی پودا تھا ۔ محقیقن کا اتفاق ہے یہ دونوں الگ الگ پودے تھے ۔ برصغیر میں سوما کے پودے سے رس یا دودھ نکلتا ہے تھا ۔ رگ وید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ڈالیاں جھکی ہوئی ہوتی تھیں ، پتلی شاخوں پر پتے نہ تھے ، رنگ سرخ یا سنہرا تھا ، اس کی پوریں گھٹیلی اور باہر کا چھلکا گنے کی طرح ریشہ دار تھا ۔ اس پودے کو دبانے سے ترش اور کسیلا رس نکلتا تھا ۔ جس میں چند اجزا خمیر کے لیے شامل کیے جاتے تھے اور شراب تیار کی جاتی تھی ۔ اس شراب کے بنانے کا مقدس طریقہ رگ وید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور برہمنوں نے بظاہر اس کی تفصیل درج کرنے میں صفحے کے صفحے سیاہ کر دیئے ہیں ۔ مگر اس میں ابہام اور معمے بہت ہیں اور اس کی ترکیب معلوم کرنا نہایت دشوار تھا اور وضاحت نہیں ہوسکی ۔ رگ وید میں ہاون دستے کا بھی ذکر ہے مگر شاذ و نادر ۔ ایرانی بھی ہوما کے تیار کرنے لیے ہاون دستے کا استعمال کرتے تھے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسم ہندی اور ایرانی کی علحیدیگی سے پہلے کی ہے ۔ ونڈش مان نے ہوما کی تیاری طریقے کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے ۔ 
جس مقام پر سوما تیار کیا جاتا تھا اسے ویدی کہا جاتا تھا اور کش نام کی ایک خاص گھاس سے بنایا جاتا تھا اور خاص طور پر دیوتاؤں کے لیے تیار کیا جاتا تھا اور وہ سوما کے چڑھاوے کے انتظار میں آکر بیٹھ جاتے ہیں جہاں سوما کی ٹہنیاں اس پوتر شراب تیار کرنے کے لیے رکھی جاتیں تھیں ۔ 
پہاڑوں پر چاندنی راتوں میں سوما کو جڑ سمیت اکھاڑ کر ایک ایسی گاڑی پر رکھ دیا جاتا تھا جس میں دو بکریاں جتی ہوتی تھیں اور قربان گاہ لے آتے تھے جہاں گھانس اور ٹہنیاں بچھی رہتی تھیں ۔ اس گھاس کی ڈنٹھلوں پر پانی چھڑکا جاتا ، پھر پجاری اس کو دو پتھروں کے درمیان میں رکھ کر دباتے ۔ جس کے نیچے ایک برتن (یہ برتن پیپل کی مقدس لکڑی کے ہوتے تھے) میں رس نکل کر جمع ہوتا تھا ۔ جسے اون کے موٹے کپڑے میں ہاتھ سے دبا کر چھانتے جاتے تھے کہ اس کا عرق اچھی طرح نکل جائے ۔ اس عرق میں دودھ دہی اور گہیوں یا کسی اور اناج کا آٹا ڈال کر خمیر پیدا کیا جاتا تھا ۔ 
جب ہوما تیار ہوجاتا تھا تو دن میں تین بار دیوتاؤں پر چڑھایا جاتا تھا اور پجاری اور دوسرے لوگ جو اس رسم شریک ہوتے تھے وہ اسے پیتے تھے ۔ ہوما ہندی آریاؤں کا یہ سب سے بڑا اور مقدس چڑھاوا تھا اور دیوتا اس کی تیاری کے دوران اس کے گرد جمع ہوکر ہوما کی تیاری کا بڑی بیتابی سے انتظار کرتے تھے ۔ ہوما کو پینے سے ان میں طاقت آجاتی تھی اور نشہ پیدا ہوتا تھا اور اس آسمانی شراب سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے ، اس سے صحت اور حیات جاودانی حاصل ہوتی ، آسمان کا راستہ بناتا ہے اور دشمنوں کو تباہ کرتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ 
اس شراب آتشیں سے دل و دماغ پر جو لطیف کیفیت طاری ہوتی تھی ۔ اس کی تعریف میں وید کے شعرا طب اللسان ہیں ۔ مگر اس مقدس شراب کو پجاریوں کے علاوہ وہ لوگ بھی پی سکتے تھے جن کے پاس ان کا اور اہل خانہ کے استعمال کے لیے تین سال کے غلہ ہو ۔ 
ویدوں کے اشعار میں نشہ کی حالت کو بیان کیا ہے جس میں وہ اپنے کو دنیا و مافیہا سے بالاتر خیال کرتے تھے ۔ اس میں سے کچھ محض بکواس ہے مثلاً کچھ اشعار نیچے درج ہیں ۔ (رگ وید ۱۰۔۱۱۹)
’’میں سوچ رہا ہوں گائے خرید لوں ، گھوڑا خرید لوں ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’شراب تو مجھے ایسا بھگائے لیے جاتی ہے جیسے تند و ہوا ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’ہوا مجھے ایسا بھگائے لیے جاتی ہے جیسے تیز گھوڑے رتھ کو ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’بھجن میرے ذہن میں ایسا آیا ہے جیسے گائے اپنے پیارے بچھڑے کے پاس ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔ 
’’میں اپنے گیت اپنے من میں اس طرح بناتا ہوں جیسے کوئی کوئی بڑھی رتھ بناتا ہو ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’پانچوں قبائل مجھے بالکل ہیچ معلوم ہوتے ہیں ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’میرا ایک نصف ان دونوں عالموں سے بڑا ہے ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’میری عظمت آسمان اور زمین سے زیادہ ہے ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’کیا میں زمین کو اٹھا کر ادھر اُدھر لے جاؤں ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’کیا میں زمین کو چور چور کرکے ادھر اُدھر پھینکدوں ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’میرے جسم کا ایک حصہ آسمان پر ہے اور دوسرا تحت الثریٰ میں ہے ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
’’میں بہت بڑا میں بادلوں تک پہنچتا ہوں ، کہیں میں سوما تو نہیں پی رہا ہوں’’۔
ان اشعار کے بارے میں خیال تھا کہ اس بھجن کو جنگ کے دیوتا اندر نے قربانی کی شراب پینے کے بعد کہا ہے ۔ تاہم برگین نے ثابت کیا کہ یہ بکواس ایک مخمور انسان کی ۔ ایک دوسرا شاعر کہتا ہے ’’ہم نے سوما پی لیا ہے ہم غیر فانی ہوگئے ، ہم نور میں داخل ہوگئے ، ہم نے دیوتاؤں کو دیکھ لیا ، اب کوئی دشمن ہمارا کیا کرسکتا ہے اور کسی فانی انسان کا حسد ہمارا کیا بال بیکار کرسکتا ہے’’۔ 
اس کے نشے کے اثر کو ہمیشہ اسی مبالغے کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ ان اشعار میں نہ وہ مستی ہے نہ دل و دماغ کی وہ غیر معمولی کیفیت ان اشعار میں مگر اعتدال کے ساتھ شراب پینے سے جو سرور پیدا ہوتا ہے اس کو ظاہر کیا ہے ۔ مثلاً
’’وہ عقل والا میرے جسم میں داخل ہوگیا ہے ۔ حالانکہ میں محض سادہ لوح ہوں ۔ اے سوما میرے جسم میں وہ سوزش پیدا کردے جو آگ سے پیدا ہوتی ہے ۔ ہماری زندگی کو طور دے جیسے سوریا ہر صبح کو دن نکلتا ہے تو ہماری عقل کو تیز کرتا ہے ۔ تو ہمارے ہر رگ و ریشے میں سرایت کرگیا ہے اور ہماری زندگی کے دن بڑھ گئے’’۔ 
ان اشعار کے مطابق ہوما میں آسمانی قوت تھی جو پینے والے پر ایک عجیب کیفیت طاری کردیتی ہے ، دنیاوی سوما آسمانی سوما کی ہی شکل ہے اور سوما دیوتا کی نشانی ہے ۔ پرستش کرنے والا مقدس سوما کی ذرا سی مقدار قربان گاہ کی آگ میں ڈال کر بیان کرتا ہے کہ دیوتا خصوصاً اندر (لڑائی کا دیوتا) سوما کے گھڑے کے گھڑے پی کر بدی کی قوتوں کے مقابلے پر تیار ہوجاتا ہے ۔ ہوما (سوما) آسمانی شراب ہے جو دیوتاؤں کو یعنی قدرت کی قوتوں کو طاقت و حیات ابدی بخشتی ہے اور اس کے بغیر ان کی طاقت ، ان کا لازوال شباب اور ان کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ اس شراب کے بغیر دنیا کم از کم ان کی دنیا ویران اور تباہ ہوجائے گی ۔ یہ آسمانی شراب امرت ہے جس سے حیات جاودانی حاصل ہوتی ہے ۔ ان کی مراد بارش ، شبنم اور اس رطوبت سے ہے جو تمام عالم میں موجود ہے اور جس سے حیوانات اور نباتات کی زندگی قائم رہتی ہے ۔ پرستش کا یہ طریقہ اس سرچشمہ حیات یعنی امرت (سوما) کے جمع کرنے اور بہنے کی ایک بین مثال ہے ۔ جس چمڑے پر دبانے کے پتھر رکھے جاتے ہیں وہ بادل ہے ، پتھر بجلی ہیں ، چھلنی آسمان ہے ، شراب جو ٹپکتی ہے وہ بارش کے قطرے ہیں اور جس برتن یا دیگچے میں یہ قطرے گرتے ہیں وہ سمندر یعنی آسمانی سمندر ہے جس میں کرہ ہوائی کا پانی جمع رہتا ہے ۔ دونوں میں جو مشابہت ہے کہیں دور نہیں ہوتی ۔ خصوصاً اس شلوک میں تو بالکل صاف ہے ’’اے اندر آسمانی سوما کو پی کر تازگی حاصل کر’’۔ اس سوما کو پی کر تازگی حاصل کر جو انسان زمین پر بناتے ہیں ۔ سوما کو پانی اور نباتات سے تعلق ہے اس لیے اگنی سے اس کی مشابہت کا زبردست ثبوت ملتا ہے ۔ کیوں کہ آتش جوہر حیات نیاتات اور انسان کے جسم میں پانی کے ذریعے پہنچتا ہے اور اس بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ افسانے کی اس شکل میں سوما بھی اگنی کا ایک ظہور یعنی شراب آتشین ہے ۔ اس لیے دونوں کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے اور اکثر بھجنوں میں دونوں کو ساتھ ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں