54

سوما (چاند)

آسمانی سوما یعنی امرت جس سے سرشار ہوکر دیوتا طاقت ، شباب دوامی اور حیات جاویدانی حاصل کرتے تھے عقلاً سوما دیوتا نہیں ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ رطوبت کو شخصیت خیال کرنا ممکن نہیں ہے ۔ دیوتا وہ ہوسکتا ہے جو کسی چیز کو پیدا کرے ، اس کی حفاظت کرے اور پھر اس کو تقسیم کرے ۔ اگنی اور سوما میں مطابقت بہت ہے اور اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر اگنی سورج ہے تو سوما یقینا چاند ہے اور ویدوں کے بعد کے زمانہ جو رزمیہ نظموں کا عہد کہلاتا ہے ۔ اس دور سے اب تک چاند کو ہی سوما کہا جاتا ہے ۔ 
برہمنوں کے ذریعے چاند کے بارے میں عجیب و غریب خیالات رائج ہوئے اور ان سب کی بنیاد اسی خیال پر تھی کہ چاند امرت کا خزانہ ہے ، اسے دیوتا پیتے رہتے ہیں اور ان کے پینے سے چاند بڑھتا ہے اور جب چاند نظر نہیں آتا ہے تو اس میں سے پتری (مردوں کی روحیں) پیتے ہیں ۔ جن کے پینے سے چاند رفتہ رفتہ گھٹنے لگتا ہے ۔ یہ بھی خیال تھا کہ چاند کی کرنیں پانی کے ٹھنڈے ذروں سے نباتات میں سرایت کرجاتی ہیں اور ان کو تازگی بخشتی ہیں ۔ ایک دوسرے مقام پر بیان کیا گیا ہے کہ دیوتا چاند کے قریب اس وقت جاتے ہیں جب وہ پورا ہوجاتا ہے اور مردے چاند رات کو ۔ اُپ نے شد جو پرانوں سے قدیم ہیں بیان کیا گیا ہے کہ ’چاند راجہ سوما ہے اور دیوتاؤں کی غذا ہے’ ۔ ست پتھ برہمن اس کو زیادہ وضاحت سے لکھا ہے کہ راجہ سوما دیوتاؤں کی غذا چاند ہے ۔ جب وہ گھٹنے لگتا ہے تو دیوتا اسے کھاتے ہیں ۔ موسم راجہ سوما کے اس طرح بھائی ہیں جیسے کہ آدمیوں کے بھائی ہوتے ہیں’ ۔ موسم سوائے راجہ سوما دیوتا کے اور کس کے بھائی ہوسکتے ہیں ؟
آریائی مذہب میں چاند کی پرستش ایک نمایاں حثیت رکھتی تھی اور رگ وید کی نویں منڈل (جلد) اسی کے بارے میں مخصوص ہے ۔ چاند کی پرستش کے طریقے سام وید میں بھی بیان کیے گئے ہیں اور ان بھجنوں میں جو سوما کی ستائیش میں جو رگ وید میں کثرت سے تلمیحات ایسی ہیں جن کی توضیح کی ضرورت نہیں ۔ بشرطیکہ یہ خیال رہے کہ یہ دیوتا چاند ہے ورنہ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ سوما دیوتا سے مراد آریاؤں کی پرستش سے شراب یا ہوا کی رطوبت ہے تو ان بھجنوں سے کوئی مطلب نکالنا دشوار ہوگا ۔ اگر خیالات اور استعماروں کی قدامت کو ہم ملحوظ خاطر رکھیں ۔ بعض تشبیہات میں نازک خیالی بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ مثلاً بیان کیا گیا ہے کہ سوما آسمان کا ایک چاہ شیریں ہے ، آب طلائی کا ایک قطرہ ہے جو آسمان پر آویزاں ہے ، امرت کا پیالہ ہے ، دیوتاؤں کی شراب کا سمندر ہے ، سوما ایک ذی فہم دیوتا ہے ، کیوں کہ وہی موسم اور مہینے لاتا ہے ، رسوم ، پوجا اور قربانیوں کے لیے دن مقرر کرتا ہے ۔ سوما لڑنے والا دیوتا بھی ہے ، طاقتور اور پوری طرح مسلح ہے ۔ ان بھوتوں اور دیوزادوں سے لڑنے کے لیے تیار ہے جو اندھیرے جنگل میں رہتے ہیں اور جن کو وہ منتشر کردیتا ہے ۔ وہ حیات مقدس کے مقدس چشمے کی حفاظت کرتا ہے جس کا وہ محافظ ہے اور جس کو دیوتاؤں کے دشمن یعنی اسور چرانے کی فکر میں رہتے ہیں ۔ ان اشعار کا اطلاق چاند پر بھی ہوسکتا ہے جو آسمانی سوریا کی طرح تمام عالموں سے بالاتر ہے ۔ اس نے چاند کی درخشانی کو اپنا جامہ بنالیا ہے اور ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ سوما کی شادی دیوی سوریا سے ہوئی تھی ۔ جس بھجن میں اس واقع کو تفصیل سے بیان کیا ہے اس کے ابتدائی اشعار سے تصدیق ہوتی ہے حسب ذیل ہیں ۔ 
’’قانون ریت کی برکت سے زمین قائم ہے اور آسمان اور سوریا ۔ قانون ہی کے سبب سے ادِتیا قائم ہیں اور سوما آسمان میں سوما ستاروں کے درمیان ہے’’۔
’’جب لوگ پودے سے رس نکالتے ہیں تو پینے والے سمجھتے ہیں کہ یہ سوما ہے ۔ مگر جسے پجاری سوما کہتے ہیں اسے کوئی نہیں پیتا’’۔ 
’’تو اے سوما ! اِدیانے والے پتھروں کی آواز سنتا ہے ۔ مگر کوئی انسان تیرا ذائقہ نہیں جانتا ہے ۔ اے دیوتا جب تجھے دیوتا پیتے ہیں تو تو بڑھتا ہے’’۔
سوما کے پوجا کے اصل راز کو اس سے زیادہ سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔ مگر ایسی عبارتیں بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دیوتا پودوں میں داخل ہوتا ہے اور اپنے جسم اور اعضا کو دیوتاؤں اور انسانوں کی نفع کی غرض سے رس نکالنے میں توڑ ڈالتا ہے اور اس طرح دیوتا اور اس کے پوجنے والے میں ایک پرسرار تعلق پیدا ہوجاتا ہے ۔ کیوں کہ اس نے اس پاک شراب کو پیا ہے جس میں جوہر الہی موجود ہے ۔ رگ وید میں صوفیانہ خیال شروع سے آخر تک موجود ہے ۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ ہم نے سوما پیا ہے اور دیوتا ہم میں داخل ہوگیا ۔ ہم بھی دیوتاؤں کی طرح ہوگئے ۔ حیات جاودانی ہمیں بھی حاصل ہوگئی ۔ نیچے دیے گئے بھجن میں شاعری کے اعلیٰ محاسن موجود ہیں اور سوما کی پرستش کی بہترین شکل دیکھائی گئی ۔ (رگ وید ۹۔۱۱۳)  
ـ’’جہاں نور ازلی ہے ، جہاں عالم میں آفتاب رکھا گیا ہے ، اسی لازوال غیر فانی عالم میں مجھے بھی لے جا اے سوما’’۔
’’جہاں دِوَسوت کا بیٹا شاہانہ حکومت کرتا ہے جہاں بہشت کا مقام پوشیدہ ہے ، جہاں زبردست دریا ہیں ، وہاں (لے جاکر) مجھے غیر فانی بنادے’’۔
’’جہاں کی زندگی کی آزادانہ ہے تیسرے آسمان پر ، جہاں عالم درخشاں ہے ، وہیں (لے جاکر) مجھ غیر فانی بنادے’’۔
’’جہاں آرزوئیں اور امیدیں ہیں ، جہاں سوما کا چمکتا ہوا پیالہ ہے ، جہاں عمدہ کھانا اور خوشیاں ہیں وہاں (لے جاکر) مجھے غیر فانی بنادے’’۔  
’’جہاں مسرت و ابنساط شادی و نشاط کا مسکن ہے ، جہاں اعلیٰ سے سے اعلیٰ آرزوئیں پوری ہوتی ہیں ، وہاں (لے جاکر) مجھے غیر فانی بنادے’’۔ 
عام طور پر مشہور ہے کہ ویدوں میں کئی یگوں (قربانیوں) کا ذکر آتا ہے ۔ جو زیاد ترچاند کے حساب سے کیے جاتے ہیں ۔ رگ وید کے ایک منتر میں سورج اور چاند اپنی شکتی سے ایک دو سرے کے پیچھے مشرق سے مغرب کی طرف چلتے ہیں اور بچوں کی طرح وہ یگ (قربانی) کے گرد گھومتے ہیں ۔ ان میں سے ایک جو تمام دنیا پر نظر ڈالتا ہے ۔ دوسرا موسموں کو تبدیل کرنے کے لیے بار بار جنم لیتا ہے ۔ جب وہ پیدا ہوتا ہے تو تونٹا (ہلال) بنتا ہے ۔ دنوں کے قاصد کی طرح وہ صبح شفق کے آگے چلتا ہے ۔ وہ دیوتاؤں کا بھاگ (حصہ) مقرر کرتا ہے ۔ چاند کی زندگی مختصر ہوتی ہے اس طرح چاند موسموں کو مقرر کرتا ہے ۔ چاند تمام دیوتاؤں کے لیے یگ (قربانی) میں ان کا بھاگ مقرر کرتا ہے ۔ زمانہ قدیم کے ہندوؤں کا خیال میں رتوج (موسم میں قربانی کرانے والا) پکارتا تھے ۔ سوائے ان پنچ مہایگوں کے جو آمریوں کے روزانہ زمانے کرنے ضروری ہیں اور پراتہ کال و سائنگ کال کے اگنی ہوتر کے علاوہ ویدک زمانہ میں ضروری یگ کیے جاتے تھے ۔ 
(۱) ورس پورن مان ۔ یعنی ہلال اور بدر کے دن یگ کرنا ۔ 
(۱) کترماس (موسم کے یگ) ہر ایک موسم چار ماہ کی سمجھی جاتی ہیں اور ششماہی یگ دو دفعہ کیے جاتے تھے ۔ 
اور بھی یگوں کا ذکر آتا ہے ۔ موسم خزاں اور گرمی میں ، موسم ، سرما اور بہار میں جب چاول اور جوار پکتے تھے ۔ ستائیس مقامات سے جو آسمان میں چاند کی روزانہ رفتار سے معلوم کیے گئے تھے اندازہ کرلیتے تھے بہ نسبت سورج کے ۔ چاند کا راستہ معلوم کرنا بہت آسان تھا ۔ ستارے سورج طلوع اور غروب ہوتے وقت مشکل سے دیکھائی دیتے ہیں ۔ اس لیے سورج کے ملاپ کا خیال ستاروں سے مشاہدہ کرنے والے کے لیے معلوم کرنا بہت مشکل تھا ۔ جب کہ چاند ایک رات سے دوسری رات کو بڑھتا ہے اور اس دوران کچھ ستاروں کے قریب آجاتا ہے ۔ اس طرح وہ گھڑی کی سوئی کا کام دے سکتا ہے جو ایک دائرے میں حرکت کر رہی ہو اور نئے چاند سے دوسرے نئے چاند کا تعلق ۲۷ آسمانی منزلوں سے تھا ۔ جو کہ پتھر کے سلوں کی طرح تھیں کہ دوسرے سیاروں کا راستہ و رفتار معلوم کرسکیں ۔ جو کہ دنوں سالوں اور موسموں و دیگر علامات کے معلوم کرنے کے لیے بہت دلچسپ ہے اور یہ زمانہ قدیم کی ویدک رسد گاہ بن جائے گی ۔ اس سے دو ستونوں کے درمیان مشاہدہ کرنے والا ہمیشہ ہر دن اسی مرکزی مقام پر قائم رہتا ہے ۔ اگر ہم دنوں ، موسموں اور شمار کرنے میں سب سے ابتدائی حالات کو سمجھنا چاہیں تو ہمارے ہیئت کے خیالات بہت بھدے یا ناممکن ہیں ۔ جس قدر کہ آج کل ایک چرواہا سورج ، چاند ، ستاروں اور موسموں کا حال جاننا ہے ۔ ہم قدیم زمانہ میں آریاؤں سے اس سے زیادہ امید نہیں کرسکتے ہیں ۔ آریاؤں کو ۲۷ حصوں میں قدرتی تقسیم کرکے ہر ایک حصہ کو ستاروں سے نشان کیا ہے ۔ اگر ہم مانتے ہیں کہ ہندوستان کے یگوں اور سنسکاروں کی ترقی اور افزائش سوائے چاند کے دنوں اور موسم کے نہیں ہوسکتی تو ویدوں کے زمانے کے پجاری یا چرواہے معلومات دریائے سندھ کے کنارے پر حاصل کرسکتا تھا ۔   

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں