94

سومرا

    سندھ میں دو مقامی مسلمان قبائل نے حکومت کی ، ان میں ایک سومرا تھا ۔ انہوں نے غزنویوں کی حکومت کمزور ہونے کے بعد حکومت پر قبضہ کرلیا تھ ۔ اس قبیلے کے متعلق مورخین میں سخت اختلاف ہے کہ ان کا مذہب کیا تھا اور ان کی قومیت کیا تھی ۔
میر محمد معصوم نے تاریخ معصومی میں میں لکھا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کی وفات کے بعد سلطنت اس کی اولاد میں منتقل ہوئی اور سلطان عبدالرشید بن محمود (441 تا 444ھ) بادشاہ ہوا تو اس کی سلطنت اس کی عیاشی اور آرام طلبی میں پڑھ کر کمزور ہوگئی ۔ جس کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے لوگوں نے خود مختیاری حاصل کرلی ۔ اس زمانے میں سومرا قبیلے کے لوگوں نے تھری میں جمع ہوکر اپنے قبیلے ایک شخص سومرہ کو تخت پر بٹھا دیا اور خود مختیاری کا اعلان ۔ میر معصوم نے ان کے نام جو لکھے ہیں ان میں بعض عربی نام ہیں اور بعض ہندی میں ۔
سندھ مورخ میر طاہر محمد نیسانی نے تاریخ طاہری میں لکھا ہے کہ سومرا ہندی قبیلہ تھا اور ہندو مذہب رکھتا تھا 700ھ (1۔ 1300ء) سے 248ھ (04 ۔ 931ء) تک حکومت کی اور محمد طور ان کا دارلحکومت تھا ۔
سندھ کے اور مورخ سید قاسم خان نے بیگلار نامے میں لکھا ہے کہ سندھ کی فتح کے بعد ایک قبیلے تمیم نے حکومت کی اور عرصہ کے بعد سومرہ قبیلے کے لوگوں نے سندھ پر قبضہ کرلیا ۔ اس قبیلے نے سندھ پر پانچ سو سال حکومت کی اور اس کا دارلحکومت مہاتم طور تھا ۔ 
میر شیر علی خانع ٹھٹھوی نے تحفہ الکرام میں لکھا ہے کہ سومرہ قوم سامرا کے عربوں سے نکلی ہے ۔ یہ قوم آل تمیم قبیلے کے ساتھ دوسری ہجری میں سندھ میں آئی اور یہاں پر سکونت اختیار کی ۔ کافی مدت کے بعد اہل سامرہ سے ایک مستقل قوم سومرا وجود میں آگئی ۔ جب سلطان عبدالرشید بن سلطان محمود کی سلطنت کمزور ہوئی تو سندھ کے لوگوں نے اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 445ھ (1035ء) سومرہ قبیلے کے لوگوں نے تھری میں جمع سومرہ نامی ایک شخص کو بادشاہ بنا لیا ۔ 
مولانا سلمانؒ ندوی عرب و ہند کے تعلقات ‘ میں لکھتے ہیں کے سومرہ ابتدا میں اسمعیلی تھے ۔ اس سلسلے میں جو چیز سب سے اہم ہے وہ دروزیوں کی مقدس کتاب کا ایک ٹکڑا ہے ، یہ ایک خط ہے جو دروزیوں کے امام مصر کے اسمعیلی خلیفہ الحاکم بامراللہ (389 ۔ 411ھ) نے ملتان اور ہندستان کے موحدوں کے نام اور شیخ سومرہ راجہ پال کے نام خصوصاً لکھا تھا ۔ اس خط کے بعض فقرے یہ ہیں ۔ 
ملتان اور ہندوستان کے اہل توحید کے نام عموماً اور شیخ ابن سومرہ راجہ بل کے نام خصوصاً ۔
اے معزز راجہ اپنے خاندان کو اٹھا ، موحدین اور داؤد اصغر کو اپنے سچے دین میں واپس لا کہ مسعود نے جو اسے حال میں قید اور غلامی سے آزاد کیا ہے ۔ وہ اس وجہ سے کہ تو اس فرض کو انجام دے سکے ۔ جو تجھ کو اس کے بھانجے عبداللہ اور ملتان کے تمام باشندوں کے خلاف انجام دینے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ۔ تاکے تقدس اور توحید کے ماننے والے جہالت ضد ، سرکشی اور بغاوت والی جمات سے ممتاز ہوجائیں ۔ 
اس خط میں دروزیوں کے امام نے ملتان والوں اور ہندوستان کے ہم مذہب اسماعیلیوں اور سومرہ کو جوش دلا کر ابھارنے کی کوشش کی ہے ، تاکہ ملتان اور سندھ میں اسمعیلی حکومت دوبارہ قائم ہوجائے ۔ اس خط سے حسب ذیل نتائج نکلتے ہیں ۔  . 
اس خط میں مولانا سلیمان ندوی نے راجہ کے نام کے ساتھ شیخ کے سابقہ کی وجہ سے خیال کیا کہ سومرہ عرب تھے ۔ مگر فاطمیوں میں ہر معزز داعی کو شیخ کہا جاتا تھا اور سومرہ کے ساتھ راجہ کا سابقہ اس کی تصدیق کر رہا ہے ۔ اس خط سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سومرہ سندھ کے اصل باشندہ تھا ۔ اس کے بعد جو سومرہ خاندان کے بانی ہوئے وہ اسمعیلی مذہب کے پیرو تھے ۔     
مولانا عبدلحلیم شرر نے اپنی کتاب تاریخ سندھ میں لکھا ہے کہ یہ نومسلم یہودی تھے ۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے تاریخ طاہری توجیہات میں سومروں کے مذہب اور قومیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صاحب طاہری کا یہ بیان کہ ساتویں صدی سے آٹھویں صدی اور سنتالیس سال تک سومرہ جو ہندو مذہب کے تھے اور حاکم تھے ۔ حکمران سومرہ گان سندھ کے متعلق اس کی بعض روایات صدری اور غیر محققانہ جنہیں قصہ کہانیاں اور خرافات کہا جا سکتا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ سومرہ قبیلہ دوسرے قبیلوں کی طرح اصلاحً ہندو مذہب یا بدھ مذہب کے تھے ۔ اس علاقے کو 93ھ میں محمد قاسم نے فتح کرلیا تھا اور اس علاقہ کے شہروں میں اسلام پھیل گیا ۔ چنانچہ سمہ ، سہتہ اور لوہانہ وغیرہ نے عرب حکمرانوں کے زیر اثر چوتھی صدی تک بہ مشرف اسلام ہوگئے ۔ سومرہ قبیلے کے لوگوں نے بھی اپنی حکومت سے بہت پہلے اسلام سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا تھا اور انہوں نے اپنی حکومت کے زمانے میں شاہان اسلام کے لقب اختیار کئیے ۔ مثلاً عصام الدین بھونگر ، سنان الدین چنیسر ۔ لہذا صاحب طاہری کا یہ قول کہ سومرہ قبیلے کے لوگ پہلے ہندو تھے ، تاریخی روایات اور صدوری روایات کے اعتبار سے جو سندھ میں مشہور ہیں صحیح نہیں ہیں ۔
ڈاکٹر سے میں متفق ہوں کہ یہ ہندو سے مسلمان ہوئے تھے ۔ کیوں کہ جیمز ٹاد نے تاریخ راجستان میں چھتیس راج کلی (شاہی خاندان) کی فہرست دی ہے جو اس میں بھی سومروں کا نام شامل ہے اور انہیں پرمار یا پڑھیار کی شاخ بتایا ہے ۔ جس کے دو خاندانوں نے سندھ پر حکومت کی تھی ۔ ان میں سومروں کا دارالحکومت مہاتم تور اور امروں کا دارالحکومت امر کوٹ تھا جسے بعد میں معرب کر کے عمر کوٹ کردیا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ یہ مقامی خاندان ہیں اور ان نام راجپوتوں کے کرسی نامہ (شجرہ نسب) میں شامل ہے اور راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے قبل اسلام بھی ان کی ریاست قائم تھی جس کا درست محل وقوع کا معلوم نہیں لیکن ان کا نام راجپوتوںکے شاہی خاندانوں میں محفوظ ہے ۔ اس کے علاوہ ایپسن نے سومر سکھ بتاتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں