113

سکھر کی تنگ نائے

سکھر شہر کے بیچوں بیچ ایک پہاڑی پر معصوم شاہ بکھری کا مینار کھڑا اور اس کے گرد بہت سی قبریں ہیں جو نشاندہی کرتی ہیں کہ پہلے اس شہر کی اہمیت آج کے دور سے کم نہیں رہی ہے ۔ یہ دریائے سندھ کے کنارے واقع اہم تجارتی اہمیت کا حامل شہر ہے اور یہ قدیم شہر اروڑ کا قائم مقام ہے ۔ اس شہر کے سامنے دریا کے درمیان بکھر کا قلعہ بند جزیرہ واقع ہے ۔ جو ہمیشہ حملہ آوروں اور حکمرانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ ایک دوسرا چھوٹا جزیرہ سادھو بیلہ سندھی ہندوؤں میں بہت تقدس رکھتا ہے اور اس شہر کے مقابل روہڑی کا شہر واقع ہے ۔ اس شہر کا دریا پر واقع بیراج بھی متاثر کن ہے اور اس میں سے سات نہریں نکلتی ہیں ۔ تین مغربی کنارے پر اور چار مشرقی کنارے سے 
ابتدائی تذکرہ سکھر کا نہیں بکھر کا ملتا ہے جب ناصرالدین منہاج نے اسے تیرویں صدی عیسویں میں ناصرالدین قباچہ کے دور میں بکھر کے مظبوط قلعے کا ذکر کیا تھا ۔ ایچ ٹی لیمبرگ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس زمانے میں دریائے سندھ کی کوئی شاخ پرانے سکھر سے گزرتی ہوگی ۔ مگر ایسی صورت میں دریا میں ایک اور جزیرہ ہوگا ۔ اگر ایسا کوئی جزیرہ ہوتا تو اس کا بھی تذکرہ ملنا چاہیے تھا ۔  
یہاں دریائے سندھ یہاں چونے کی چٹانوں سے بنی ہوئی ایک تنگ گھاٹی سے گزرتا ہے جس کی چوڑائی محض آدھا میل ہے ۔ ماضی میں دریائے سندھ یہاں کی پہاڑیوں کے ارد گرد مختلف راستوں پر ایک وقت میں مشرق کی سمت اور دوسرے وقت میں مغرب کی سمت بہتا رہا ہے اور اب بھی سیلاب کی صورت میں پانی دونوں سمتوں میں بہتا ہے ۔ ایک کہانی جو سندھ کے قدیم دارلحکومت اروڑ سے تعلق رکھتی ہے اس مطابق ایک تاجر نے جو کہ دسویں صدی میں دریائے سندھ میں کشتیوں پر سفر کرتا ہوا اڑورا آیا تھا ۔ اس نے دریا کا رخ بدل دیا تھا ۔ کیوں کہ یہاں کے حکمران نے اس سے ایک خوبصورت باندی کا مطالبہ کیا تھا ۔ تاجر نے تین دن کی مہلت مانگی اور اس دوران اس نے بہت سے آدمیوں جمع کرکے دریا کا رخ بدل دیا ۔ چوتھے دن اروڑ کے قریب کوئی دریا نہیں اور وہاں کیچر اور کیچڑ آلودہ پانی رہ گیا تھا ۔ یہ کام بالکل ممکن ہے لیکن رخ بدلنے کی امکانی وجہ زلزلہ وغیرہ معلوم ہوتی ہے ۔ 
دریائے سندھ کی تنگ گھاتی جو کہ چونے کی پہاڑیوں کے سلسلے کے درمیان میں واقع ہے اور یہ سلسلہ ایک یا دو میل شمال سے شروع ہوکر روہڑی سے آگے تک تقریبا چالیس میل جنوب کی سمت چلا جاتا ہے ۔ دریا اس پہاڑی سلسلے میں بہت تنگ مقام میں داخل ہوتا ہے اور اس شگاف کے دھانے پر ایک چٹانی جزیرہ بکھر اور سادھو بیلا ( سادھو کا جنگل) سے پہلے دریائے سندھ کی چورائی محض چھ سو فٹ رہ جاتی ہے ۔ جب کہ اس شگاف میں داخل ہونے پہلے دریا تقریباً بارہ میل کے علاقہ میں پھیلا ہوا ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صرف دو میل پہلے شمال میں دریائی مٹی کا میدان موجود ہے جو سطح کے اعتبار سے پہاڑی علاقہ سے پست ہے جہاں دریا کو زیادہ کشادہ راستہ مل سکتا ہے ۔ دوسری صورت میں شگاف سے پہلے بائیں سمت کا موڑ جسے دریا اسے کس قدر بڑھا کر وہ ڈھلوان سے ہوکر نارا سے گزر کر روہڑی کا مغربی راستہ اختیار کرسکتا تھا ۔ ان دونوں راستوں سے آج بھی سیلابی پانی گزرتا ہے ۔ تاہم سات سو سال سے یا اس سے پہلے سے دریائے سندھ نے بکھر کے چولک کے راستہ کو برقرار رکھا ہوا ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دریائے سندھ نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا ؟  
خیر پور کی پہاڑیوں کے اطراف کے میدانی علاقہ سے قدیم زمانے دریائے سندھ یہاں سے گزرتا رہا اور اس کو اس نے اسے بلند کردیا ۔ اس سے پہلے دریائے سندھ مشرق کی سمت سے بہتا تھا اور اس نے وہاں کی سطح بلند کرنے کے بعد وہ اس راستہ کو اختیار کیا تھا ۔ یہاں تک کہ دریا نے اس کی سطح بلند کر کے اسے خیر پور کی پہاڑیوں میں روہڑی کے مقام پر واقع تنگ نائے کی سطح کے برابر ہوگئی اور شمالی پشتہ کی سمت کی نسبت جنوبی سمت کافی پست ہوگئی ۔ اس لیے دریائے سندھ کے پانی کو پہاڑی ڈرار چولک سے گزرنے کا جیسے ہی موقع ملا اس نے یہاں مستقل بہاؤ اختیار کرلیا ۔ یعنی اس تنگ نائے کی تہہ کو اس نے مزید گہرا کر دیا ۔ اس تنگ نائے کو مقامی لوگ سندھی زبان میں چولک (چور دروازہ) کہتے ہیں ۔
دریائے سندھ نے بکھر کے پہاڑی تنگ نائے کو قدیم زمانے میں راستے کے طور پر اختیار نہیں کیا تھا ۔ اگرچہ شمال اور جنوب میں پہاڑیوں کے درمیان کئی اور مقامات موجود ہیں ۔ لیکن ان کی پتھریلی سطح اس تنگ نائے کی سطح سے بہت بلند ہے ۔ خود بکھر کی تنگ نائے کی گہرائی دریائے سندھ کے تیز رفتار پانی کے مسلسل گزرتے رہنے کی وجہ سے ہے ۔ یہاں کے میدانوں کی طبعی حالت کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے یہ میدان دریائی مٹی سے تعمیر شدہ ہیں اور یہاں سے بھی دریا گزرا کرتا تھا ۔ ان میدان کا مطالعہ سے پتہ چلتا کہ دریائے سندھ کے بہاؤ کہاں کہاں نہیں رہا ۔ 
سکندر کا بحری بیرہ جو کہ دریائے سندھ کے راستے سے گزرا تھا ۔ مگر کسی یونانی نے اس تنگ نائے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یقینا دریائے سندھ اس زمانے میں سکھر کی پہاڑیوں کے شمال میں سے یا روہڑی پہاڑی سلسلے کے مشرق میں سے بہتا تھا ۔ مگر یہ سکھر کی پہاڑیوں کے شمال یا زیادہ دور نہیں بہتا تھا ۔ جہاں سے اب سندھ ڈھورو اور سندھ واہ گزرتی ہیں ۔ یعنی لکھی کے نشیب سے شمال کی جانب ڈہر واہ اور یا رولنڈ سے ہوتے ہوئے رینی وادی کے شمال مغربی کنارے پر ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دریا کا راستہ ایسا ہو وہ ان دونوں مقامات گزرتا ہو ۔ اگر دریائے سندھ بالائی حصہ میں مشرقی راستہ پر بہتا رہا ہے تو یہ راستہ روہڑی کی پہاڑیوں سے مشرق میں نارا کی وادی سے گزرتا تھا ۔   

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں