78

سکھر

سکھر شہر جو کہ ضلع کا صدر مقام ہے دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر بیراج کی اوپری سمت آباد ہے ۔ اس کی ہلکی بھورے رنگ کی عمارتوں میں جگہ جگہ پینسل کی طرح باریک مینار نظر آتے ہیں ۔ یہاں بانسوں والی کشتیاں اور بار بردار بیٹرے اس کے گھاٹوں پر کھڑے رہتے تھے ۔ یہاں پر دریا پر نیچے کی جانب ایک بہت بڑا پردہ آر پار ڈال کر جھیل کی شکل دے دی گئی ہے ۔ سکھر کے بالمقابل روہڑی واقع ہے ۔ جو کہ ایک چھوٹھا سا شہر تھا مگر اب پھیل کر کافی وسیع ہوچکا ہے ۔ یہاں دریا کے درمیان بکھر کا قلعہ بند جزیرہ ہے ۔ جو کہ یکے بعد دیگر آنے والے حکمرانوں اور حملہ آورں کے نگاہ میں بہت زیادہ عسکری اہمیت رکھتا تھا ۔ ایک دوسرا جزیرہ جو کہ ہندوؤں کے مندر کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے سادھو بیلہ ہے ۔ سکھر کے مقام سے دریائے سندھ میں سے سات نہریں نکلتی ہیں ۔ تین مغربی کنارے پر اور چار مشرقی کنارے سے ۔ بیراج کے نیچے سوائے سیلابی موسم کے دریا بہت نیچے اپنی ہی گاد کے خشک کناروں کے اندر بہہ رہا ہوتا ہے ۔ جو کہ اوپر واقع جھیل اور دونوں اطراف میں جھلکتے ہوئے کناروں کے ساتھ بہتی ہوئی نہروں کے مقابل ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے ۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک پہاڑی پر معصوم شاہ بکھری کا مینار کھڑا ہے ۔ جس کے اردو گرد بہت سے لوگوں کی قبریں ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کبھی اس شہر کی اہمیت آج کے دور سے کم نہیں رہی ہے ۔ آج بھی یہ شہر تجارتی اہمیت کا حامل اور سیاسی مرکز بھی ہے ۔ یہ شہر قدیم شہر اروڑ کا قائم مقام ہے ۔ جو کہ روہڑی سے چند میل کے فاصلے پر آباد تھا ۔ انگریزوں کی خواہش تھی کہ یہ وسط ایشیا کی تجارت کا مرکز بن جائے ۔ مگر حالات ایسے رہے کہ یہ خواب شرمندہ تکمیل نہ ہوا ۔

بکھر کاتذکرہ تیرویں صدی عیسوی سے پہلے نہیں ملتا ہے ۔ سلطان محمد غوری نے ۱۱۷۳ء میں جب اچ کے راستہ گجرات اور دیبل پر حملہ کیا تھا اس کے دور میں بکھر کا تذکرہ نہیں ملتا ہے ۔ اس کا تذکرہ سب سے پہلے تیرویں صدی عیسویں میں ناصرالدین قباچہ کے دور میں بکھر ایک مظبوط قلعے کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ جونی نے اپنی کتاب ‘جہاں کشا‘ میں لکھتا ہے کہ ناصر الدین قباچہ بکھر اور سکھر میں پناہ لی تھی یہ دو قلعے ایک جزیرے پر واقع تھے ۔ اس کی تصدیق رشیدالدین کی کتاب جامع التوایخ بھی کرتی ہے ۔ لیکن ناصرالدین منہاج صرف بکھر کا ذکر کرتا ہے ۔ چنانچہ ممکن ہے کہ اس زمانے میں دریائے سندھ کی کوئی شاخ پرانے سکھر سے گزرتی ہوگی ۔ 

تقسیم کے بعد دوسرے بیراج بھی تعمیر کئے گئے لیکن سکھر پر واقعی یہ بیراج سب سے زیادہ متاثر کن ہے ۔ میدانوں کے درمیان گھری ہوئی یہ جگہ خود ایک منفرد حثیت رکھتی ہے ۔ یہاں دریائے سندھ ریتوں میں ادھر ادھر پیچ و خم کھاتے ہوئے بہنے کے بجائے چونے کی چٹانوں سے بنی ہوئی ایک تنگ گھاٹی سے گزرتا ہے جس کی چوڑائی محض آدھا میل ہے ۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ماضی میں دریائے سندھ ان پہاڑیوں کے ارد گرد مختلف راستوں پر ایک وقت میں مشرق کی سمت اور دوسرے وقت میں مغرب کی سمت بہتا رہا ہے اور اب بھی سیلاب کا پانی دونوں سمتوں میں بہتا ہے ۔ سندھ کا قدیم دارلحکومت اروڑ موجودہ دریا کے مشرق میں واقع ہے ۔ ایک کہانی بیان کی جاتی ہے کہ ایک تاجر جو کہ دسویں صدی میں دریائے سندھ میں کشتیوں پر سفر کرتا ہوا یہاں پہنچا وہ اس کا رخ بدلنے کا باعث بنا ۔ مقامی حکمران نے اس پر سخت تجارتی شرائط عائد کریں اور ایک خوبصورت باندی کا مطالبہ کیا ۔ تاجر نے اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ، اس دوران اس نے اروڑ سے دور دریا کا نیا راستہ کھودنے کے لیے بہت سے آدمی بھرتی کرکے اور یہاں سے کھودی ہوئی مٹی سے دریا پر بند باندنے اور اس کا رخ بدلنے کے لیے استعمال کیا ۔ چوتھے دن اروڑ کے لوگوں نے دیکھا کہ اس مقام پر کوئی دریا نہیں تھا ۔ صرف کیچر اور کیچڑ آلودہ پانی تھا ۔ یہ کام بالکل ممکن ہے لیکن رخ بدلنے کی امکانی وجہ زلزلہ وغیرہ معلوم ہوتی ہے ۔

دریائے سندھ کے بہاؤ کی خاص بات اس کی گزر گاہ ہے ۔ جو چونے کی پہاڑیوں کے سلسلے کے درمیان میں واقع ہے ۔ یہ سلسلہ ایک یا دو میل شمال سے شروع ہوکر روہڑی سے آگے تک تقریبا چالیس میل جنوب کی سمت چلا جاتا ہے ۔ دریا اس پہاڑی سلسلے میں بہت تنگ مقام میں داخل ہوتا ہے اور اس شگاف کے دھانے پر ایک چٹانی جزیرہ بکھر واقع ہے ۔ بکھر کے آگے ایک اور چھوٹا جزیرہ سے پہلے سادھو بیلا ( سادھو کا جنگل) سے پہلے دریائے سندھ کی چورائی محض ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چھ سو فٹ رہ جاتی ہے ۔ اس شگاف میں داخلہ سے قبل بالائی میدان میں دریا زیادہ سے زیادہ چوڑا ہوگیا اور تقریباً بارہ میل کے علاقہ میں پھیلا ہوا ہے ۔ اس بارے میں ہم گمان نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ دریا اس تنگ کو راستہ اختیار کرے گا ۔ حالانکہ صرف دو میل شمال میں دریائی مٹی کا میدان موجود ہے جو سطح کے اعتبار سے پہاڑی علاقہ سے پست ہے ۔ جہاں دریا کو کشادہ راستہ مل سکتا ہے اور آگے بہاؤ کے مطابق بہہ سکتا ہے ۔ دوسری صورت میں شگاف سے پہلے بائیں سمت کا موڑ ہے ۔ دریا اسے کس قدر بڑھا کر وہ ڈھلوان سے ہوکر نارا سے گزر کر روہڑی کا مغربی راستہ اختیار کرسکتا تھا ۔ یہ دونوں راستوں سے آج بھی سیلابی پانی گزرتا ہے ۔ تاہم مصدقہ شہادت کے مطابق سات سو سال سے یا اس سے بھی طویل زمانہ سے دریائے سندھ نے بکھر کے چولک کے راستہ کو برقرار رکھا ہوا ہے ۔ 

وہ وقت جب دریائے سندھ نے بکھر کے پہاڑی تنگ نائے کو مستقل طور پر راستے کے طور پر اختیار کیا ۔ تاریخی اصطلاع میں بھی قدیم زمانہ نہیں ہے ۔ اس تنگ راستہ کی گہرائی وجہ یہ ہے کہ دریا نے اسے مستقل راستے کے طور پر اختیار کرنا ہے ۔ اگرچہ شمال اور جنوب میں پہاڑیوں کے درمیان کئی اور مقامات موجود ہیں ۔ْ لیکن ان کی پتھریلی سطح اس تنگ نائے کی سطح سے بہت بلند ہے ۔ خود بکھر کی تنگ نائے کی گہرائی دریائے سندھ کے تیز رفتار پانی کے مسلسل گزرتے رہنے کی وجہ سے ہے ۔ دریائی مٹی سے تعمیر شدہ میدانوں کی طبعی حالت کا مطالعہ کرنے سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دریائے سندھ کا اس تنگ راستہ کو اختیار کرنے کا واقعہ زیادہ قدیم نہیں ہے ۔ میدان کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دریائے سندھ کے بہاؤ کا راستہ اب تک کہاں کہاں رہا ہے اور کہاں کہاں نہیں رہا ۔

سکندر کا بحری بیرہ جو کہ دریائے سندھ کے راستے سے گزرا تھا ۔ اگر وہ اس تنگ نائے سے گزرتا تو اس کا ذکر کوئی نہ کوئی ضرور کرتا ۔ مگر ہمیں سلسلے میں کوئی زکر نہیں ملتا ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا کہ دریائے سندھ اس زمانے میں سکھر کی پہاڑیوں کے شمال میں سے یا روہڑی پہاڑی سلسلے کے مشرق میں سے بہتا تھا ۔ مگر یہ سکھر کی پہاڑیوں کے شمال میں اس جگہ سے کچھ بہت زیادہ مغرب میں نہیں بہتا تھا ۔

قدیم وادی سندھ کے شہر موہنجودڑو ، لوہم جودڑو ، جانہوں جودڑو ، کوٹ آسور اور ڈجی جی ٹکری کا وجود ثابت کرتا ہے کہ وادی سندھ کی ان بستیوں کے زمانے میں دریائے سندھ کا بڑا چشمہ ضروری نہیں ایک ہی دھارے کی شکل میں بہتا ہو ۔ کسی جگہ اپنی موجودہ وادی میں روہڑی کی پہاڑیوں اور سلسلہ کھیر تھر کے درمیان بہتا ہوگا ۔ لیکن اپنے بہاؤ کے اس حصہ میں داخل ہونے کے لیے لازماً بکھر کی تنگ نائے میں سے گزرتا ہوگا ۔ لیکن اس مقام سے پہلے دریا کا مرکزی دھارا بائیں طرف گیا ہوگا تو اس لازمی نتیجہ ہوگا کہ دریا روہڑی کی پہاڑیوں کے مشرق میں چلا جائے گا اور اپنے راستہ میں اس وقت تک اختیار نہیں کرے گا جب تک چانہوں جودڑو سے نچلی سطح پر نہ پہنچ جائے ۔ اس صورت میں وادی ڈیڑھ سو میل وادی سندھ اپنے پانی سے محروم رہے گی ۔

لہذا یہ مفروضہ کہ تاریخی زمانہ کے ابتدائی ایام میں ایک دریا تقریباً اسی راستہ پر بہتا تھا جو نارا کا راستہ ہے اور یہ کہ جمڑاؤ ہیڈ سے ایک شاخ اس دریا سے نکل کر جنوب اور جنوب مغرب کے رخ ہالا کی سمت بہتی تھی وہ علاقہ کی طبعی سطح کی بناوٹ سے غلط ثابت ہوجاتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو لازماً اتنے وسیع علاقے کے ڈھال کی طرف اس شاخ کو عمودی حثیت میں بہنا چاہیے تھا اور اسی صورت میں زمین سندھ کی تعمیر کے کسی قدیم دور سے تعلق رکھتی ہوگی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں