68

سھتی Sethian

    پس منظر

سھتی یا ساکا آریوں یعنی پارتی ، ایرانیوں اور ہندیوں کے ہم نسل تھے اور عرصہ دراز سے دریائے جیحوں کے شمال میں آباد تھے ۔ یہ وہاں سے اپنے ہمسایوں پر حملے کرتے تھے ، خورس نے انہیں مغلوب کرنے کی کوشش کی ، مگر انہیں پوری طرح تابع نہ کرنہ سکا اور خود بھی ایک سیتھی قبیلے کی بغاوت سرد کرنے میںمارا گیا ۔ دارا نے ۵۱۴ تا ۵۱۲ ق م کے دوران انہیں مغلوب کرنے کے لئے بحیرہ اسود غبور کرکے دریائے ڈنیوب کی وادی میں اپنا تسلط قائم کرکے انہیں مغلوب کیا تھا ۔ دارا نے ان کی شورش کی بناء پر بہت سے سیھتی قبائل کو پاک وہند کی طرف جلاوطن کر دیا تھا ۔ اس کے بیٹے خشیارشا نے جو فوج یونان پر حملے کے لئے ترتیب دی تھی ، اس میں ہیروڈوٹس کے بیان کے مطابق سیھتی دستہ بھی شامل تھے ۔ خشیارشا نے اپنی مملکت کے صوبوں کے جو نام لکھے ، ان میں سیھتیوں کے علاقہ سغدیانہ بھی شامل تھا ۔ سیھتیوں کے دستے تقریباََ تمام ایرانی بادشاہوں کی افواج میں شامل رہے ہیں ۔ باوجود اس کے انہوں نے ایرانی بادشاہوں کو بہت تنگ کیا اور لوٹ مار ان کا خاصہ رہی ہے ۔ ہیروڈوٹس کا کہنا ہے یہ سب سیتھی نہیں تھے مگر ایرانوں کی عادت تھی وہ وسط ایشیا کے تمام قبیلوں کو سیتھی کہتے ہیں ۔
برصغیر میں آمد
تقریباََ ۱۶۰ ق م میں یوچی سیھتیوں کی سرزمین پر ٹوٹ پڑے اور کئی جنگوں کے بعد انہیں انہیں جنوب و مغرب کی طرف ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ چنانچہ سیھتی اپنا وطن چھور کر بلخ اور پارتھیا کی طرف بڑھے اور بلخ کی یونانی حکومت ختم کرکے اس پر قابض ہوگئے اور چند سال کے بعد سیستان فتح کرتے ہوئے وادی سندھ کی طرف بڑھ آئے اور یونانی حکومت ختم کر کے وہاں اپنی ریاستیں قائم کرلیں ۔ یہ وادی سندھ میں موقع پاکر آرکوشیہ اور درہ بولان کے راستہ دریائے سندھ کی جنوبی حصہ میں آباد ہوگئے تھے ۔ چنانچہ یہ علاقہ ان کے نام سے ہندو سیھتہ Hundusihta مشہور ہوا ۔
پارتھیوں کے زیر اثر
سیتھیوں نے یونانیوں کو شکست دے کر گندھارا پر قبضہ کرلیا اور رفتہ رفتہ ان کی سلطنت ۹۰ ق م تا ۲۵ء کے درمیان متھرا تک پھیل گئی ۔ ابھی ان کو حکومت کرتے ہوئے مشکل سے سو سال گزرے تھے کہ پارتھیوں نے ان کو زیر اثر کر لیا ۔
سیتھیوںکو پارتھیا میں خاطرخواہ کامیابی نہیںہوئی ۔ پہلی دو اہم جنگوں میں انہوں نے اشکانی بادشاہ فرہاددوم اور اردوان دوم کو شکست دے کر قتل کردیا ۔ مگر بعد میں سیھتیوںکا مقابلہ مہردادا دوم سے ہوا تو اشکانی مقابلے کی تاب مقارمت نہ لا سکے اور سخت ہزمیت اٹھانے کے بعد اشکانی بالادستی قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اس طرح بلخ ، افغانستان اور پنجاب میں سیھتی پارتھی حکومتیں قائم ہوگئیں اور یہ علاقہ مختلف ریاستوں میں بٹ گیا ، جس کی نوعیت سٹراپی کی رہی جو پارتھی حکومت کے زیر فرمان سنجھی جاتی تھیں اور یہ سیھتی پارتھی آپس میں مخلوط ہوگئے ۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان پر مخلوط نسل کے سیھتی اور پارتھی حکومت کرتے تھے ۔
مہا بھارت اور سیھتی
پروفیسر بدھ Prf Budha کا کہنا ہے کہ ساکا برصغیر میں پہلے پہل آٹھویں صدی قبل مسیح میں ہند پر حملہ آور ہوئے تھے ۔ ان کا دعویٰ کہ مہابھارت دراصل ساکاؤںیعنی سیھتیوں کے درمیان جنگ تھی ۔ ان کی تحقیق کے مطابق پانڈو سگے بھائی نہیں تھے اور نہ ہی کوروں سے ان کی کوئی قرابت تھی ، بلکہ بدھشتر ، ارجن ، بہیم ، نکل اور سہدیو ساکا قبیلے تھے ۔ جنہوں نے کوروں سے جنگ کی تھی اور لڑائی جتنے کے بعد ٹیکسلہ میں راج کرتے رہے ۔ پرفیسر بدھ پرکاش کے دعویٰ کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ کوروںکو ہرا کر بھی پانڈو اندر پرستھ یا سیتا پورکی گدی پر نہیں بیٹھے ، (حلانکہ کہانی کے مطابق وہ اس کا حق رکھتے تھے) اور واپس ٹیکسلہ آگئے۔
ساکاؤں کی دوسری یلغار پہلی صدی مسیح میں ہوئی تھی ۔ یہ لوگ تین قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ ان کے نام داہا ، سکاراؤکا ، اور مستاگزئی اور ان کے سردار کا نام موگا آیا ہے ۔ چنانچہ پنجاب میں آج بھی داہا اور موگا قبیلے کے لوگ آباد ہیں ۔ ساکاؤں نے یونانیوں کو شکست دے کر گندھارا پر قبضہ کرلیا تھا اور رفتہ رفتہ ان کی سلطنت پنجاب و سندھ سے متھرا تک پھیل گئی ۔ ابھی ان کو حکومت کرتے ہوئے مشکل سے سو سال گزرے ہوں گے کہ پارتھیوں نے انہیں اپنے زیر اثر کرلیا ۔
پنجابی معاشرہ اور سیھتی
پنجاب میں ان کے تین قبیلے آباد ہوئے ان داہاDaha ، ساؤکاSakarawka اور مستیا گزئیMastragzai تھے ۔ ااور ان کے سردار کا کا نام موگاMves تھا ۔ ساکا چونکہ باخترسے آئے تھے اس لئے آریا ان کو بال ہیکا کہتے تھے ۔ یہ بالہیکا کا تلفظ بدلتے بدلتے داہیکا ہو گیا ۔ اس لئے آریہ ورت کے رہنے والے وادی سندھ کو داہیکا دیس سے تعبیر کرتے تھے ۔ پنجابی میں آج بھی کھتی باڑی کرنے والے کو داہی کہا جاتا ہے ۔ آریہ ورت کے لوگ خاص کر اونچی ذات والے ساکاؤںکے طرز معاشرت کو حقارت سے دیکھتے تھے ۔ دھرم شاشتر میں داہیکا دیس کا سفر ممنوع تھا ۔ اگر سفر ناگریز ہوتا تو واپسی پر کفارہ ادا کرنا ہوتا تھا ۔
مہابھارت میں کوروں کا ہیرو کرن ساکاؤں طنز کرتے ہوئے کہتا ہے ، داہیکا دیس میں آدمی برہمن پیدا ہوتا ہے اور چھتری بن جاتا ہے اور دیش شودر بن جاتا ہے ، پھر نائی سے ترقی کرتے ہوئے برہمن بن جاتا ہے اور پھر برہمن کے بعد داس ۔ کرن کے اس اعتراض سے ثابت ہوتا ہے کہ وادی سندھ میں برہمن ، چھتری ، ویش اور شودر ذاتیں نہیں تھیں ۔ بلکہ پیشے تھے جن کو انسان جب چھاہے تبدیل کرسکتا تھا ۔
پنجاب میں سیھتیوں کی حکومت
ان سیھتی اور پارتھی خاندانوں میں دو حکمران مادیس Mves جسے ہندی کتبوں میں موگا Moga لکھا گیا ہے اور دنومیس Vonomas زیادہ مشہور ہیں ۔ اول الذکر ماویس پنجاب کا حکمران تھا ۔ اس نے گندھارا کو فتح کیا اور شہنشاہ کا لقب اختیار کیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود مختیار حکمران تھا ۔ ازیس اول Azes 1th اور ازیلیسس Azileses اور ازیس دوم Azes 2ed جو ماویس کے جانشین خیال کئے جاتے ہیں آزاد نہ تھے ، بلکہ اشکانی بادشاہ مہردادا دوم کے ماتحت سٹراپ کی حثیت سے حکومت کررہے تھے ۔ ازیس دوم کے بعد ایک اور حکمران گونڈو فر Gondophares کانام ملتا ہے ، جو شاید پارتھی خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس نے آرکوشیہ سیستان اور پنجاب پر قبضہ کرکے اپنی خود مختیار حکومت قائم کرلی تھی اور پارتھی سیادت کا جوا اتار پھنکا تھا ۔ اس حکمران کے متعلق ایک دلچسپ روایت ملتی ہے ، جس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے ایک حواری سنٹ ٹامس St Thamas گونڈو فر سے ملے تھے اور اسے اپنی رعایا کی کثیر تعداد کے ساتھ دین عیسوی قبول کرنے پر ائل کیا ، مگر یہ روایت تاریخی اعتبار سے مستند نہیں سمجھی جاتی ہے ۔
برصغیر میں ان کا پھیلاؤ
پہلی صدی قبل مسیح میں سنگ و کانو Sung & Kanu کے کمزور حکمران شمالی ہندوستان میں حکومت کررہے تھے اور ان دو ریاستوں میں کوئی اتنی طاقتور نہ تھی کہ بیرونی حملوں لا مقابلہ کرسکتی ۔ چنانچہ پہلے یونانیوں اور پھر سھتیوں نے پاکستان کے شمالی حصہ پر قبضہ کرلیا اور جب تک سھتیوں کا تصادم پارتھیوں سے ہوتا رہا ، وہ برصغیر کے اندرونی حصوں کی طرف اقدام نہیں کرسکے ۔ مگر جب پہلی صدی عیسوی میں اشکانی حکومت کمزور ہوگئی ، تو سیھتی شمالی ہند میں بنارس اور جنوب میں سندھ سے گزرکر راجپوتانہ ، گجرات کاٹھیاوار اور مالوہ تک پھیل گئے ۔ مہاشتر میں ایک سیھتی خاندان کشہرات Kasharta نے تسلط قائم کیا تھا ، جس کے ایک حکمران نہپان Naphana نے بڑی ناموری حاصل کی ۔ اس ریاست کا تصادم اندھیر سے ہوتا رہا اور اندھیر راجہ گوتمی پتر سات کرنی Gautamiputra Satakrniنے اس خاندان کو اکھاڑ پھنکا ۔ اس طرح مالوہ کا علاقہ کشہرات Kasharta خاندان کی دوسری شاخ چشتیان Chastana نے زیر تسلط کرلیا اور اس خاندان کا نامور راجہ ردرادمن Rudradamana گزرا ہے ۔ یہ چشتیان Chastana کا پوتا تھا ، جس نے130ء سے 150ء تک حکومت کی ہے اور اندھر یا سات واہنThe Satvahanes or the Andhras خاندان سے ازواجی تعلقات قائم کئے ۔ اس نے کوکن سے ماڑوار تک اپنی ڈھاک بیٹھائی ، ردرادمن Rudradamana کی موت کے بعد اس خاندان کا ذوال شروع ہوگیا ، پھر بھی یہ ریاست چوتھی صدی عیسوی تک قائم رہی ، یہاں تک گپتا Gupta خاندان نے اسے اکھاڑ پھنکا ۔
یہ کلمہ افغانستان میں ساکا کے علاوہ سکہا بھی ملتا ہے اور افغانستان میں دس قبیلے اب بھی سہاک کے نام سے موسوم ہیں ۔ یہ آریائی قبیلے تھے ۔ بقول ہیروت کے یہ قبیلے سیستان آگئے اور دریائے سندھ تک پھیل گئے اور یہ سرزمین ان کی نسبت سے سگستان کہلائی ۔ جس کا معرب سجستان ہے اور بعد میں سیستان کہلائی ۔ بقول عبدالحئی حبیبی کے سہاک ، سکہا اور ضحاک تقریباً ایک ہی ہیں اور بامیان کے نذدیک ایک شہر ضحاک موجود ہے ۔ ہم کہہ سکتے ہیں اس نام سے اشخاص ، قبیلے اور شیر مشہور ہیں ۔ درانیوں کا مشہور قبیلہ ساگزئی ہے ، پہلے سہاکزی کہلاتے تھے اور ان کا تعلق یقینا سہکا قبائل سے ہے اور امتداد زمانہ سے یہ اسحاق زئی مشہور ہوگئے ۔ لیکن مورخین نے ان کے باپ کا نام ضحاک بتایا ہے ۔
افغانستان اور پاک و ہند میں آباد بہت سی اقوام کا نسلی تعلق سیھتی یا ساکاؤں سے ہے ۔ افغانوں میں بہت سے قبیلے سہکا یا سکا نام سے بنے ہیں ۔ اس طرح بلوچوں میں ساکزئی یا ساکازئی ہے ۔ نیز جاٹوں کا نسلی تعلق بھی سھتھیوں سے ہے ۔ سیھتی بدھ مذہب پر کاربند تھے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے ، مگر وہ مذہبی رواداری کے قائل تھے اور دیگر مذاہب کے ساتھ ان کا برتاؤ رواداری اور نرمی کا تھا ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں