58

شاید اسے عشق کہتے ہیں

آج سے چار سال پہلے آج ہی کے دن بتیس سال کی رفاقتوں کے بعد میری رفیق حیات غزالہ مجھے چھوڑ کر اس دنیا فانی رخصت ہو گئی ، وہ مجھ سے جدا ہونے کا سوچ بھی سکتی تھی مگر مجھے تنہا چھوڑ گئی ، اس کو اس بات کا شدید احساس تھاکہ میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ہوں اور اس کے باوجود مجھے چھوڑ گئی ، وہ میرے سے ایک لمحہ دور رہنا پسند کرتی تھی لیکن مجھے چھوڑ گئی ، گھر پر صرف گھریلو کاموں کے وقت یا کوئی آجاتا تو مجھ سے دور ہوتی تھی ۔ وہ باہر بھی میرے بغیر بھی نہیں نکلتی تھی ۔ مگر وہ مجھے آج تنہا چھوڑ گئی ، ہم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے اور ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے تھے ۔ ہمیں ایک دوسرے کی قربیتں پسند تھی اور اس کو بھی اس کا احساس تھا کہ میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ہوں اس کے باوجود وہ مجھے تنہا چھوڑ گئی ۔ 
کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب میں میرے چھوٹے بھائی نے کہا تھا کہ امی کی تمام بہوں میں خوبصورت ، خوش گفتار ، لباس پہنے کا سلیقہ اور دوسری خوبیاں صرف بڑی بھابھی میں ہیں ۔ یہ حقیقت تھی اس کی شکل و صورت اور بات چیت کا انداز لوگوں کا اپنا اسیر کرلیتا تھا ۔ انسان تو انسان وہ جانوروں اور پرندوں کو بھی اپنی گریدہ کرلیتی تھی ۔ پالتو پرندے اور دوسرے جانوروں کا روئیہ اور وہ کیا چاہتے ہیں فوراً سمجھ جاتی تھی ، وہ بھی اس کی ایک بات سمجھ لیتے تھے اور اس کے کہنے پر عمل کرتے تھے ۔ وہ ان سے انسانوں کی طرح باتیں کرتی تھی ۔ جو پرندہ آیا کھبی پنجرے میں قید نہیں رہا ۔ وہ ان کے نخرے اٹھاتی تھی اور وہ اور اس کے کہنے پر وہ بھی عمل کرتے تھے ۔ میں نے اکوریم مچھلیوں کو اشارے پر عمل کرتے دیکھا ۔
اس کے بہن بھائی اور اس دیور اور نندیں سب اس کے گردیدہ تھے ۔ اس نے اپنے اخلاق اور رویے سے سب کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا ۔ محلے والے اور جاننے والے بھی اس کے اسیر تھے ۔ حتیٰ اسپتال جہاں وہ جاتی تھی وہاں کا عملہ اور ڈاکٹر بھی اس کے گردیدہ ہوگئے ۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اکثر لوگ اس کے پاس اپنے مسلے لے کر آتے تھے جن کو وہ سن کر وہ مناسب مشورہ دیتی تھی ۔ خاص کر نوجوان جوڑے اپنے جھگڑے اور مسلے اس کے پاس لے کر آتے تھے ۔   
اس نے ہر اچھے برے وقت میں میرا ساتھ دیا اور زندگی کے ہر معاملہ و مسلہ پر میری مدگار رہی ۔ اس کو سیکڑوں اشعار یاد تھے ۔ اشعار تو مجھے بھی یاد ہیں ، مگر میں انہیں پڑھنے میں غلطی کر دیتا ہوں ، مگر وہ اسے درست کر دیتی تھی ۔ اس نے میرا فیس بکس کا اکاونٹ بنایا اور نیٹ بھی اسی نے سکھایا ۔ وہ میری لکھنے پڑھنے میں مدگار رہی ہے ۔ ہم دونوں کبھی کسی لائیبریری میں جاتے اور وہاں میں بہت ساری کتابیں لے آتا اور میں ان میں سے اپنے مطلب کی عبارتوں پر نشان لگاتا اور اس کے حوالے کر دیتا ۔ اگر عبارت مختصر ہوتی تو وہ اس کو لکھ لیتی اور طویل ہونے کی صورت میں فوٹو کاپی کروالیتا ۔ حقیقت میں میرے لکھنے میں وہ ہمیشہ میری مدگار رہی اور اس کے مدد سے میں بہت کچھ لکھا 
حیرت کی بات ہے ہم دونوں کی طبعیتوں میں بہت تضاد تھا ۔ وہ طور طریقہ سے جلنے والی ، سلیقہ مند ، اس کی ہر ایک چیز رکھی ہوتی تھی کہ آنکھ بند کر کے وہاں سے مل جائے ، مگر میں اس کے برعکس لاپرواہ لابالی مجھے تو کپڑے پہنے کا سلیقہ تک نہیں آیا اور اکثر الٹے کپڑے اور دو رنگ کی چپلیں پہن کر نکل جاتا تھا ، ہر ایک چیز رکھ کر بھول جاتا تھا ، وہی میرے کپڑے اور دوسری چیزوں کا خیال رکھتی تھی ۔ حتیٰ وہ میرا پرس چیک کرتی تھی کہ پیسے ہیں کہ نہیں ۔ میں اپنا پرس ، رومال ، چشمہ ، موبائل اکثر گرا دیتا ہوں ۔ وہی میرا خیال رکھتی تھی ۔ مگر اس کے باوجود ہم نے اپنی زندگی نہایت خوشگوار گزاری اور ایسی زندگی جس پر دوسرے لوگ رشک اور نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ یہ نہیں کہ ہمیں مالی پریشانی نہیں تھی یا دوسرے گھریلو مسائل نہیں تھے ۔ لیکن اس کے باوجود ہماری زندگی خوشگوار گزری ، کیوں کہ ہمارے درمیان اعتماد کا رشتہ تھا ۔ ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے پر اعتماد کیا ، کبھی بھی کسی معاملے پر ایک دوسرے سے ہی تصدیق کی اور کسی بھی دوسرے کی دی ہوئی اطلاع پر بھروسہ نہیں کیا اور کبھی بھی ایک دوسرے سے غلط بیانی نہیں کی ۔ کیوں کہ میرا خیال ہے اگر تم درست ہو اور اپنے نظریات کو درست سمجھتے ہو تو اس کا اظہار تمہارے قول و قرار سے جھلکنا چاہیے اور تمہاری زندگی میں قول اور قرار میں کا فرق نہیں ہونا چاہیے اور تمہاری زندگی اس سے عبارت ہونا چاہیے ۔ اور کوئی ایسا فعل نہیں کرو جس سے تمہاری زندگی دو رخی ہوجائے اور تم اس کسی معاملے میں دوسروں کے سامنے شرمندگی محسوس کرو ۔ یہی چیز میری بیگم میں تھی ۔ 
ہم نے ایک ساتھ بتیس سال گزارے ان بتیس سالوں ہمارے ایک دفعہ بھی لڑائی یا جھگڑا نہیں ہوا ہماری اندگی اتنی آئیڈیل تھی کہ لوگ ہماری مثالیں دیتے تھے اور ان کوشش ہوتی تھی کہ وہ ہماری تقلید کریں ۔ اس میں کچھ میرا قصور تھا اور اس کی فطرت ایسی تھی ۔ جب وہ کینسر کے سبب جدا ہورہی تھی اس وقت بھی وہ مجھے اتنی ہی عزیز تھی جتنی روز اول کو اس طرح جب وہ کومے تھی تو جب میں نے اس سے بات کرنے کی کی کوشش کی تو وہ سخت بے چین ہوگئی اور اس کے بعد میری ہمت نہیں پڑی کے اس کو مخاطب کرسکوں ، مجھے اچھی طرح معلوم تھا اس کی جان میرے میں اٹکی ہوئی ہے ۔ اس لیے پھر میری ہمت نہیں ہوئی کہ اس کو مخاطب کروں یا اس کے پاس کچھ دیر بیٹھوں ، میں بس اس پر ایک نظر ڈال کر آجاتا تھا اور باہر بیٹھا رہتا تھا ۔ اس سے پہلے صبح مجھے میں نے بوسے لیے ، اس جان کنی کے عالم میں بھی وہ جان گئی کہ میں ہوئی اور بے چین ہوگئی میں گھبرا کر باہر آیا ۔ اس کے پورے بدن میں کینسر پھیل چکا تھا اور ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا اس لیے اسے گھر لے آئے تھے ۔ مگر اس کی تکلف بڑھ گئی اور کومہ میں جانے لگی تو اسے اسپتال لے آئے کہ وہ سکون سے تو مر سکے ۔ جہاں چار دن تک جان کنی اور کومہ کی حالت میں رہی ۔ میں گھر ایک آدھ گھنے کے لیے گھر جاتا اور اسپتال میں کمرے کے باہر بیٹھ جاتا ، مگر اس کے پاس جانے اور اس کے پاس بیٹھنے کی اہمت نہیں تھی ۔ کیوں کہ اس کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی اور میں رک نہیں پاتا تھا ۔ وہ سخت تکلف میں تھی ۔ وہ جو انجیکشن لگوانے گھبراتی تھی اس کے ہاتھ انجیکشن اور ڈرپ کی وجہ سے چھنی ہو رہے تھے ۔ جو میرے لیے تکلیف دہ تھے اور مجھ سے کیا کسی کی بھی اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جارہی اور سب کی خواہش ہے وہ جلد سے جلد اس عذاب سے نجات حاصل کرے ۔ اس میں اس کی بہنیں اور ماں بھی تھیں ۔ عجیب بات ہم جن سے محبت کرتے ہیں اور زندگی میں ایسے مرحلے آجاتے ہیں کہ ان کی موت کی دعائیں مانگتے ہیں ۔ 
میں اسپتال میں کمرے کے باہر بیٹھا تھا کہ اچانک مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی ۔ چند منٹ گزرے ہوں کہ اس کی بہن کی آواز آئی ، معین بھائی معین بھائی اپی کا انتقال ہوگیا ۔ میں نے آنکھیں کھولیں اور اس کی طرف دیکھا مگر میرے منہ سے کوئی آواز نہیں نکل سکی البتہ میرے آنسوں کی لڑی بہہ نکلی ۔ آج بتیس سال کی رفاقتوں کا ساتھ چھوٹ گیا تھا ۔

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں