91

شرح سود

شرح سودکی مقولیت کے بارے میں اگرچہ اختلاف رہا ہے ، لیکن یہ حقیقت ہے شرح سود بازار سے روپیہ کھینچنے اور روپیہ پھیلانے کا معقول طریقہ ہے ۔ لہذا ملکی مالیاتی پایسی میں اس کی شرح بہت اہم ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے جن ملکوں میں معاشی استحکام ہوتا ہے وہاں اس کی شرح کم ہوتی اور جن ملکوں میں معاشی عدم استحکام ہوتا ہے ، یعنی َوہاں افراط زر ، بے روزگاری ، صنعت و حرفت میں کمی اور ملک عدم توازن کا شکار ہو تو وہاں شرح سود زیادہ ہوتی ہے ، تاکہ لوگوں میں بچت کا رجحان بڑھے ۔ مگر اتنی زیادہ بھی نہیں کہ صنعت و حرفت اور تجارت کے لئے نقصان دہ ہو ۔ یعنی بچت و سرمایاکاری میں توازن رکھنا ضروری ہے اور معیشت میں اس کی شرح معاشی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے ۔ یعنی معاشی صورت حال اس کے برعکس ہو تو یہ ملکی معیشت کو نقصان پہچاتی ہے ۔ جب کہ مناسب شرح سود نہ صرف افراط زر کم کرتی ہے ، بلکہ بچت اور سرمایاکاری میں توازن قائم رکھتی ہے اور معاشی استحکام کاباعث ہوتی ہے ۔ اس طرح ملک ترقی اور کامل روزگار کے زینہ پر قدم رکھ دیتا ہے ۔ لہذا ملک کی مالیاتی پالیسی کا تقاضہ ہے کہ شرح سود کے بارے میں صحیح وقت پر درست فیصلے کیئے جائیں ۔
سود کا رویہ معقول نہیں ہوتا ہے ، کیوں کے اس میں لچک نہ ہونے کے باعث مالیاتی پالیسی بنانے والوں کو اس کی شرح کا فیصلہ اپنے فہم و فراست سے کرنا ہوتا ہے اور ان کے بظاہر درست فیصلے ملکی معیشت پر غلط اثر انداز ہوتے ہیں اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ جیسا کہ1945 میں بینک آف انگلینڈ کے شرح سود کم کرنے کے فیصلے سے ہوا تھا ۔ اس طرح یہ فیصلے جلد اور فوری طور پر کئے جانے چاہیے ۔ بعض اوقات درست فیصلہ بھی تاخیرکے بعض نقصان کا باعث بنتا ہے ، جیسا کے بینک آف انگلینڈ نے مزکور بالا فیصلہ ایک سال کے بعد واپس لیا تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں