71

شیخی

نعمت اللہ ہروی لکھتا ہے کہ خرشبون کے دوسرے بیٹے کا نام شیخا تھا وہ شیخا کے نام سے مشہور ہوا ۔ کیوں کہ وہ ہر بات میں مبالغہ آمیزی کرتا تھا ۔ اس لئے اس کو خرخشتی بھی کہتے تھے ۔ کیوں کہ افغانی زبان میں خرخشتہ مبالغہ اور جھگڑا کرنے والے کو کہتے ہیں ۔ معارف سلامیہ میں یہ کلمہ خاخے یا خاشے آیا ہے ۔
اس کلمہ کے مختلف تلفظ ہونے کا سبب یہ ہے کہ پشتو کی مشرقی بولی کا ’خ‘ مغربی بولی میں ’ش‘ سے بدل جاتا ہے ۔ تاہم اس کلمہ کی اصل خر خشتی ہے ۔ اس کلمہ کا ابتدائی حصہ خر افغانستان میں قدیم زمانے میں قوموں اور شخصتیوں کے ناموں میں عام استعمال ہوا ہے ۔ اس طرح یہ شمالی برصغیر کی قوموں کے ناموں میں بھی استعمال ہوا ہے ۔ خر جس کے معنی گدھے کے ہیں اور خشت کے معنی پتھر کے ہیں ۔ اس طرح اس کے معنی پتھر ڈھونے والے گدھے والے کے ہیں ۔ دوسرے تمام کلمات اس سے مشتق ہیں جن میں سے ’ر‘ خارج ہوگیا ہے ۔ کیوں کے اکژ زبانوں میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوجاتا ہے ۔ خر آریائی قوموں میں شخصیتوں اور قبیلوں کے ناموں میں قدیم زمانے میں عام استعمال ہوتا تھا اور یہ مختلف شکلوں میں پٹھانوں کے قبائیل کے ناموں میں بھی آیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں