82

شیرانی

نعمت اللہ ہروی نے اس کا شجرہ نسب شیرانی بن شرف الدین (شرخبون) بن سربنی بن قیس عبدالرشید دیا ہے ۔ شیرانی اپنے کو میرانی کہلانا پسند کرتے ہیں ۔ یہ پہاڑوں پر رہائش پزیر ہیں اور غالباٍ اسی نسبت سے اپنے کو میرانی کہلانا پسند کرتے ہیں ۔

عرب جب افغانستان پر حملہ آور ہوئے تھے اس وقت بامیان ، غرجستان (سرپل اور بادغیس) کے درمیانی حصہ پر شار حکمران تھے ۔ جنہیں ہن یا یوچیوں کی باقیات بتایا جاتا ہے ۔ راوٹی انہیں غزوں کا قبیلہ بتاتا ہے غالباً یہی صحیح ہے عربوں نے ان کے حکمرانوں کو غرج شاہ اور ملک غرجہ لکھا ہے ۔ یہ شار کے علاوہ شیر بھی کہلاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے یعقوبی نے اس کا ترجمہ اسد کیا ہے جو غلط ہے ۔ کیوں کہ شار اور شیر شاہ کا معرب ہے ۔ شاروں نے غالباً صفاریوں کے دور میں اسلام قبول کیا تھا ۔ شاروں اور غوریوں کے مابین اچھے تعلقات تھے اور ان کے دارلریاست کا نام افشین تھا ۔ جی لی اسٹزیچ کا کہنا ہے کہ شاروں کا دارلحکومت شرمین یا نروخ تھا ۔ بست اور ورتل کے درمیان شروان کا شہر آباد تھا ۔ یہ اس علاقہ کے پرانے شہروں میں سے ایک تھا ۔ ابن حوقل لکھتا ہے کہ شیران وسعت میں غزنی کے برابر تھا لیکن آبادی میں اس سے بڑھا ہوا تھا ۔ شیر اسی شار کا معرب ہے ۔ اس کی تائید اس طرح ہوتی ہے کہ شاروں کے نام پر شروان نام پر شہر آباد ہوا تھا اور اس کے نام پر نسبتی کلمہ شرانی بن جاتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں