81

شیو

ہندو میتھالوجی کے مطابق شیوجی یگیوں اور راگوں کے مالک ، درخشان ، تاباں ، فیاض ، انسانوں ، حیوانوں ، گھوڑوں اور گایوں کو تندرستی دینے والے پرورش کنندہ ، مرضوں کو دور کرنے والے اور گناہوں کو معافی دینے والے ہیں ۔ وجر ، کمان اور تیر رکھنے والے ، خوفناک اور مہلک شکل جنگلی جانور کی طرح ہیں ۔ اسے ایشان ، مہشیور اور مہادیو کہاجاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کی ابتدا انتہا اور انجام نہیں ہے ۔ متبرک اما کے خاوند مثل نیل کنٹھ تین آنکھو والے اور سب سے اعلی مالک ہے ۔ یہی برہما جی ، یہ ہی اندر ، یہی وشنوجی اور غیرفانی ہیں ۔

رامائین میں شیوجی کو عظیم دیوتا کہا گیا ۔ شوجی کی وشنوجی سے لڑائی ہوئی تاہم برہما اور وشنو جی نے ان کی پوجا بھی کی تھی ۔ مہابھارت میں وشنو جی اور سری کرشن جی کو بڑا کہا گیا ہے ۔ لیکن بعض جگہ شوجی کو سب اعلیٰ اور مالک لکھا ہے ۔ جس کی وشنو جی اور سری کرشن جی نے پرستش کی ہے ۔ شیو جیمہادیو ہیں اور اندر ، وشنو جی اور برہما کو اس نے ہی پیدا کیا ہے ۔ پورانوں کے مطابق وشنو اور شیو ایک ہستی ہیں ۔

حلیہ

شوجی کے پانچ منہ اور شکل نہایت خوبصورت ہے ۔ اس کے آنکھوں اوپر پیشانی پر تیسری آنکھ ہے ۔ جس کے گرد چاند کا حلقہ ہے ۔ بالوں کا گچھا سیکھ پر کنڈل کی طرح ہے ۔ اپنی جٹاؤں میں گنگا کا پانی جب سورگ سے گرا تو جٹاؤں میں لے لیا کہ اس کا زور توٹ جائے ۔ گلے میں منڈ مالا ، ناگ کنڈل ، نیل کنٹھ یعنی گلے میں ترسول یا پناک ، پوشاک ہرن ، شیر اور ہاتھی کے چمرہ کی ۔ اس لیے اس کا نام کرتی واس پڑا ۔ بعض اوقات شیر کے کھال کا لباس اور ہاتھ میں ایک ہرن کی کھال ہے ۔ نندی بیل اکثر اس کے ساتھ رہتا ہے اور اجگر ، کمان ڈور ، کھٹوانگ اور پاش ہاتھ میں لیے ہوئے ۔ اس کے محافظ اور دربان بھوت راکش وغیرہ ہیں ۔ شیو جی کی تیسری آنکھ بڑی خطرناک ہے ۔ اس آنکھ سے شیو جی نے کام دیو کو جلا کر خاکستر کردیا تھا ۔ برہما جی نے شیوجی کے لیے سخت الفاظ کہے تھے تو شوجی نے برہماجی کا پانچواں سر کاٹ ڈالا تھا اور اب برہما جی کے چار منہ ہیں ۔ مختلف جگہوں پر شیوجی کی بڑی پوجا ہوتی ہے اور ان کا نام وشویشور بھی ہے ۔

شیو جی کے کھالوں کے لباس کے بارے میں کتھا ہے کہ     ایک دفعہ شیو جی ایک خوبصورت برہمن کی شکل بنا کر کسی جنگل میں گئے ۔ وہاں رشیوں کی عورتیں ان پر شکل دیکھ فریقہ ہوگئیں ۔ رشیوں برا لگا اور شیوجی کو سزا دینے کے لیے ایک گڑھا زمین میں کھود کر اس میں ایک جادو کا چیتا بیٹھایا جائے کہ شیوجی قریب آئیں تو حملہ کرے ۔ مگر شیوجی نے اس چیتے کو مار ڈالا اور اس کی کھال کو پہن لیا ۔ پھر رشیوں نے ایک ہرن تیار کیا ۔ مگر شیو جی نے اسے بھی مار ڈالا اس کی کھال ہاتھ رہیتی ہے ۔ پھر انہوں نے ایک گرم لوہا جادو سے بنایا ۔ اسے بھی شیو جی پکڑلیا اور اس کا تشول استعمال کرنے لگے ۔ 

ہاتھی کی کھال کی کھتا یوں ہے کہ ایک اسر گیہ نے اس قدر طاقت حاصل کرلی کہ اس نے دیوتاؤں کو اپنے قابو میں کرلیا ۔ پھر منو کو قابو کرنے کے لیے ہاتھی کی شکل میں حملہ کیا ۔ منو بھاگ کر کاشی کے شیوجی کے مندر میں جاگھسے ۔ شیوجی نے گیہ کو ماڑ ڈالا اور اس کے چمڑہ کو چمڑہ کو استعمال کرنے لگے ۔

ٍ نام اور خصوصیات
براہمن میں لکھا ہے کہ جب رودر برہماجی کی پیشانی سے پیدا ہوئے تو رونا شروع کیا ۔ اس کے باپ پرجاپت نے رونے کا سبب پوچھا تو میرا کوئی نام نہیں ہے اور پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے ۔ اس کے باپ نے رونے کی وجہ سے رودر نام رکھ دیا اور بعض جگہ یہ لکھا ہے کہ متواتر آٹھ دفعہ اس نے اپنا نام پوچھا تو اس کے آٹھ نام بہو ، سترو پشوپتی ، اگردیو ، مہادیو ، ایشان ، اشنی ، شیو رکھے گئے ۔ یہ نام اس کی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں ۔ چنانچہ رودر اور مہاکال نہایت غارت اور تباہ کرنے والی طاقت ۔ شیو اور شنکر دوبارہ پیداہ کرنے والی طاقت ۔ یعنی ایک دفعہ تباہ کرکے دوبارہ بحال کرنا ۔ اس لیے ان کا نام ایشور یعنی سب کا مالک اور مہادیو یعنی سب سے بڑا ہے ۔ اس کا نشان لنگ یونی کے ساتھ یعنی وہ شکتی جو اس کے ساتھ ہے ۔ شیو مہایوگی اور ریاضت درود اور جپ تپ ، دہیان اور مراقبہ میں اسے کمال حاصل ہے ۔ یہ معجزاوں اور کرامتوں کی کھدان ہے ۔ یہ برہنہ زاہد اور جٹی یعنی بالوں کا گچھہ سر پر اور تمام بدل پر راکھ ملی ہوئی ہو تو اس حالت کو بھیرو یعنی خوفناک اور تباہ کرنے والا ہے اور اسے بربادی پر خوشی ہوتی ہے ۔ اس کا ایک نام بھورتیشور یعنی بھوتوں کا آقا اور بھورتیشور کی آمد اور پوجا قبرستانوں اور مسانوں میں ہوتی ہے ۔ یہ گلے میں سانپ اور انسانی کھوپڑیوں کی مالا گلے میں ہے ۔ اس کے ساتھ بھوتوں کی فوج رہتی ہے ۔ جس کا کام باغی راکشوں کو تباہ و قتل کرنا ہے ۔ بعض اوقات اپنی بیوی پاربتی جی کے ہمرا تانڈویہ ناچ بڑی تیزی سے ناچتا ہے اور اس کے ساتھ بھوتوں کی فوج دیوانہ وار اس کے گرد ناچتی ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی نام ہیں ۔
شیو کے نام
شیو جی کے کچھ ناموں میں ترلوچن ۔ یعنی تین آنکھ والا ، نیل کنٹھ ۔ نیلے گلے والا ، اگہور ۔ خوفناک ، بھگوت ۔ دیوتا ، چندر شنکھر ۔ چاند کے تاج والا ، گنگا دھر ۔ گنگا کا مالک ، گریش ۔ پہاڑ کا مالک ، ہر ۔ گرفتار کرنے والا ، ایشان ۔ حاکم ، جٹا دہر ۔ بالوں کے گچھ والا ، جل مورتی ۔ پانی کی صورت والا ، کال ۔ وقت ، کالنجر ، کپال ، مالن ، منڈ مالا پہنے والا ، مہا کال ۔ بڑے وقت والا ، مہیش ۔ بڑا مالک ۔ رت ین جے ۔ موت کو تباہ کرنے والا ۔ پشو پتی ۔ مویشیوں کا آقا ، شنکر ، شر ، سواشو ، شمبو ، متبرک ، مشتھانو ۔ مظبوط ، تری مبک تین آنکھوں والا ، اگر ۔ درد پاکش ، دشوناتھ ۔ سب کا مالک وغیرہ ہیں ۔
رودر
شویتا شویتر اپنشد کے مطابق ایک عہد کے خاتمے پر دنیا کو تحلیل کیا جاتا ہے تو صرف رودر ہی متاثر نہیں ہوتا ہے ۔ بلاخر رودر کی اپنی علیحدہ شناخت ختم ہوئی اور یہ مکمل طور پر شیو میں ضم ہو کر رہے گیا ۔ یہ ملاپ دراصل غیر آریائی عقائد کے ویدوں میں سرایت کا نتیجہ تھا ۔ دور جدید میں ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مہادیو اور شیو ویدوں کا رودر ہے ۔ جب کہ شیو کی نسبت بیان گیا ہے کہ یہ کیلاش کے پہاڑ پر رہتا ہے جو یکشوں میں گھرا ہوا ہے ۔ گنیش جس کے منہ پر ہاتھی کا سر ہے وہ رودر کا متبنی ہے ۔ شیو یعنی رودر مہاکال (عظیم موت ) جو ہر چیز ناش کرتا ہے ۔ اس کے ہاتھ میں ترسول گلے میں رنڈ مال یعنی انسانی کھوپڑی کی مالا ہے ۔ وہ بھوتوں پشاجوں اور مسان کا رہبر ہے ۔ وہ بھیرو ہے اور دیوانوں اور احمقوں کا خدا ہے ۔ جس کا لباس ہاتھی کے چمڑہ کا ہے ۔ جس پر خون کے دھبے ہیں اور جنگلی ناچ ناچتا ہے ۔ جس کو تانڈو کہتے ہیں ۔ مالتی مادھوا شیو کی شکتی ہے نام بھی ایسے ہی خوفناک ہیں جیسے خوفناک رعدر یعنی شیو کے اوصاف ہیں ۔ یعنی درگا ، پاربتی ، کالی ، چنڈی ، چامونڈی اور بھیروں وغیرہ ۔ ان کی مورتیں نہایت خوفناک اور ڈراونی بنائی جاتی ہیں ۔
پنچاتن مورتیاں
شیو نام وید کے آخر میں ملتا ہے جو بہت غیر اہم دیوتا تھا ۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ ویدوں میں رودر شیو جی کا نام ہے ۔ مگر ایسی پنچانتن مورتیاں ملی ہیں جس میں شیور کے ساتھ رودر کو بھی دیکھا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے شیو اور رودر الگ الگ دیوتا اور یہ کہنا کہ ویدک کا عہد دیوتا رودر شیو نہیں تھا ۔ مگر موجودہ دور میں اسے شیو مانا جاتا ہے ۔ پنچاتن وہ مورتیاں ہیں جس میں وشنو ، شیو ، رودر ، دیوی اور سورج کی مورتیاں ایک جگہ بنائی جاتی تھیں اور ان پوجا بھی پنچانتن کہلاتی تھی ۔ کیوں کہ ابتدا میں پرتما کے دیوتاؤں کی الگ الگ پوجا نہیں ہوتی تھی اور ان کی پوجا کے لیے پنچانتن مورتیاں بنائی جاتی تھیں اور بہت عرصہ تک پنچانتن پوجا کا رواج رہا ہے اور انہیں ایک ہی ذات کے مختلف روپ مانا جاتا تھا ۔ موجودہ دور میں تری مورتی اس کی ایک شکل ہے اور فلسفہ وحدت الود کے تحت یہ تینوں روپ ایک خالق کے بتایا جارہا ہے ۔
شیو میں ویک دیوتاؤں کی خصیات
بقول لی بان کہ یہ برباد کرنے والا یا اقلاً حاکم بدلنے والا الواقع موت اور زندگی کا دیوتا ہے ۔ اس کی نشانی لنگم ہے اور اسی کے نام سے جانور کاٹے جاتے ہیں ۔ ۔ یہی ہے خدا اس جوہر کا جس سے کائنات پیدا ہوئی ہے اور یہی خاد ہے اس موت کا جو کائنات کو تلف کرتی ہے ۔ حقیقت میں یہ شیو ہند کا سچا خدا اور ہندوؤں کے نظریہ اخلاق کا نتیجہ ہے ، یہ جدید برہمنی مذہب کے دیوتاؤں میں سب سے پرانا ہے ۔ یہ رگ وید کے رودر یعنی ہوا اور پانی کے دیوتا سے مشابہ ہے ۔ آخر میں چل کر یہ اگنی سے مشابہ کردیا گیا ۔ قدیم آریاؤں میں آگ جس کی بڑے اہتمام سے پرستش کرتے تھے مادہ زندگی مانا جاتا تھا اور وہ ہر مخلوق میں سائر اور اس کو زندہ رکھنے ولا تھا ۔ اگنی ہی برباد کرنے والا دیوتا بھی ہے ۔ کیوںکہ کہ جو چیز اس پرچڑھائی جاتی تھی اسے وہ جلا دیتا تھا ۔
جدید برہمن میں شیو نے اگنی کی جگہ لے لی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مگستھنز کے زمانے میں شیو کی پرستش عام ہوچکی تھی اور اس کا نام اور خصائص متعن ہوچکے تھے ، کیوں کہ مگستھنز اسے یونانیوں کے ڈایونیسیس سے تشبیہ دیتا ہے ۔ مگر میرا خیال ہے یہ شیو یا کرشن نہیں بلکہ اندر تھا اور اندر جنگ کا خدا تھا اور مگستھنز نے جو خصوصیات بتائی ہیں وہ اندر کی ہیں ۔ جب کہ شیو کی نشانی لنگم سنہ عیسوی کی ابتدا میں قرار دے دی گئی تھی ۔ گیارویں صدی عیسویں میں محمود آیا تو بارہ ایسے مندر تھے جو شیو کہ نام سے تعمیر ہوئے تھے اور اس دیوتا کی پرستش ہوتی تھی ۔
شیو مذہب کا ارتقاء
شیو کی پوجا کا سب سے پہلا ثبوت پہلی صدی عیسوی میں کشان فرمانروا کڈفسس کے سکوں پر پہلی صدی میں شیو کی مورتی سے ملتا ہے ۔ وادی سندھ کی مہروں سے ایک دیوتا تصویریری مہریں ملی ہیں جس کی خصوصیات شیو کی طرح ہیں ۔ یہ تین سروں والا مویشی کے ساتھ دیکھایا گیا ہے ۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیو وادی سندھ کا دیوتا تھا جسے بعد میں ہندوؤں نے پوجنا شروع کیا ۔
لیکن رفتہ رفتہ صرف شیو کی پوجا کا رواج ہوتا گیا اور شیو کی مختلف شکلوں میں مورتیاں بناکر پوجی جانے لگیں ۔ یہ مورتیاں عموماً ایک چھوتے گول ستون کی صورت کی ہوتی تھیں یا اوپر کے حصہ گول کر کے چاروں طرف چار منہ بنا دیئے جاتے تھے ۔ اوپر کے گول حصے برہمانڈ (کائناتٌ) اور چاروں منہ میں پورپ والے سورج ، پچھم والے سے وشنو ، اتر والے سے برہما اور دکھن والے سے رودر مراد ہوتا تھا ۔ کچھ مورتیں ایسی ملی ہیں جن کے چاروں طرف منہ ہیں اور چاروں دیوتاؤں کی مورتیاں ہی بنی ہیں ۔ ان چاروں کو دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا بنانے والوں کے نذیک کائنات کا خالق شیو ہے اور چاروں طرف دیوتا اس کی صفات کی مختلف صورتیں ہیں اور شیو اور رودر کو ایک ساتھ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ابتدا میں رودر اور شیو ایک نہیں سمجھے جاتے تھے اور یہ الگ الگ دیوتا تھے ۔
بعد کے دور میں شیو کی عظیم الجثہ تری مورتی (تثلیث) بنائی گئیں جو کہیں کہیں پائی گئی ہیں ۔ اس کے چھ ہاتھ تین منہ بڑی بڑی چٹاؤں سے مزیں تین چہرے ہوتے ہیں ۔ ان میں ایک روتا ہوا چہرہ تھا جو شیو کو رودر کہلانے کی دلیل تھا ۔ اس واضح ہوگیا کہ لوگ رفتہ رفتہ رودر اور شیو کو ایک ہی سمجھنے لگے تھے ۔ اس کے وسط کے دو ہاتھوں میں ایک میں بجورا اور دوسرے میں مالا ہے ۔ داہنی طرف کے دو ہاتھوں میں ایک میں سانپ اور دوسرے میں پیالہ ۔ بائیں طرف کے دو ہاتھوں میں ایک میں پتلی چھڑی اور دوسرے میں ڈھال یا آئینہ کی شکل کی کوئی گول چیز ہوتی ہے ۔ تثلیث مورتی جپوترے کے اوپر اس میں صرف جسم کا بالائی دیوار سے ملا ہوتا ہے ۔ اس کے سامنے زمین پر اکثر شیو لنگ ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت تک شیو لنگ کی پوجا نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ چھوٹا سا گول ستون چار بالاالزکر دیوتائوں کی نمائندگی کرتا تھا ۔ اگرچہ اس پر سے دیوتاؤں کے چہرے غائب ہوگئے تھے ۔ لیکن لنگ کی پوجا نہیں کرنے کا ثبوت پھر بھی نہیں ملا ہے ۔ اس کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ان مندروں میں شیو کی مورتی تو ہوتی تھی مگر لنگ لازمی نہیں ہوتا تھا اور لنگ ہر جگہ نہیں ملا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا کہ رفتہ رفتہ دوسرے دیوتاؤں کی اہمیت کم ہوگئی تھی ۔ ایسی تری مورتیان بمبئی سے چھ میل دور ایلنٹٹا ، چتور کے قلعے ، سررہی راج وغیرہ کئی مقامات پر دیکھنے میں آئی ہیں ۔ جن میں سب سے پرانی ایلفنٹا والی ہے ۔ شیو کی رقص کرتی مورتیاں دھات یا پتھر کی بھی کئی سے جگہ ملی ہیں ۔
شوی مت
حقیقت میں تقریباً ۷۵۰ء؁ سے شوی مت شروع ہوا جب کمارل بھٹ نے اعلان کیا کہ لوگ وید کی تعلیم سے بے خبر ہیں اور وید میں شیو کو رودر کے نام سے پکارا گیا ہے جو تمام صفات سے معرا ہے اس کی پرستش تنہاہی میں خاموشی کے ساتھ کرنا چاہیے ۔ صرف دھیان کرنے سے ہر شخص شیو ہوسکتا ہے ۔ عورتوں کو اپنے شوہر کی پرستش کرنی چاہیے ۔ میں خبردار کرتا ہوں کہ تمام جہاں کا پیدا کرنے صرف ایک ہے ۔
شنکر اچاریہ اس کا چیلے نے شیو کی پرستش ترقی دی ۔ اس نے ہمالیہ پہاڑ پر بجیہ ناتھہ ، کاٹھیاوار میں دوارکا ، اوڑیسہ میں جگناتھپوری تین مٹھ بنائیں ۔ وید ، اتنا اور میماسہ کو مرضی کے مطابق ترتیب دے کر قومی دہرم بنایا ۔ انہوں نے جینوں اور بدھوں کے خلاف تحریک چلائی اور ان کے مندروں و بہاروں پر قبضہ کیا اور انہیں شیو مندروں میں تبدیل کیا ۔ اس نے ہر طبقہ کے لوگوں کو شیوی مت میں داخل کیا کہ شیو ذاتوں کا مرکب ہے ۔ اس کی سواری نندی بیل ، اس کے گلے میں ناگ اور اس کی بیوی پاربتی کو کالی کا روپ قراردیا گیا ۔ اس کا بیٹا گنیش کو قرار دیا گیا ۔ برصغیر کی قدیم اقوم ان کی چونکہ پوجا کرتی تھيں لہذا اس کے نتیجے میں شیوی مت آریہ قوم سے نکل کر قدیم اقوام میں پھیلنے لگا ۔ کچھ زمانہ کے بعد شیو کا نام بھیم اور مہادیو بتایا گیا اور یہ ظاہر کیا گیا کہ اس میں موجود اور معدوم کرنے کی دونوں طاقیتں موجود ہیں ۔ برہمنوں نے اپنے شاستروں میں شیو کو پسوپتی یعنی جانوروں کا پیدا کرنے والا گائے کا محافظ ہے ۔ اس کے سرپر گنگا بہتی ہے اور بیل ہمیشہ اس کے پاس رہتا ہے ، اس کی شکل و صورت خوبصورت مرد کی مانند ہے اور اس کی استری گوری پاربتی نہایت حسین ہے ۔ قدیم اقوام نے معدوم کرنے کی طاقت کی وجہ سے اس کا نام اگھوڑا رکھ دیا گیا اور اس کی مورتی کی شکل نہایت خوفناک اور مہیب ایسی بنائی گئی کہ پانچ چہرے اور چار بازوں ہیں ۔ ہاتھ میں انسانی سر اور تمام جسم میں سانپ لپٹے ہوئے ہیں ۔ جس کی بدشکل اور خونخوار استری کالی دیوی ہے ۔ برہنوں نے شیو اور پاربتی کی خوبصورت شکل میں پوجنا شروع کیا ۔ جب کہ اگھوڑیوں نے اسے بدشکل مرد اور عورت کی مورت کا پوجنا شروع کیا ۔ اب اس کی پوجا مورتی کے بجائے لنگ جو کہ یونی میں رکھا ہوا پوجا جاتا ہے ۔
لنگ پوجا
وادی سندھ کی تہذیب میں لنگ کے آثار ضرور ملے ہیں ۔ لیکن ان کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ لنگ پوجا وادی سندھ میں کی جاتی تھی کہ نہیں ۔ اس کے علاوہ لنگ پوجا میسور دکن کی ڈراویڈی قوموں میں بھی ملتی ہے مگر اس وقت یہاں شیو پوجا نہیں ہوتی تھی ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت تک شیو کے لنگ کی پوجا نہیں ہوتی تھی اور اس دھرم میں لنگ پوجا کب شروع ہوئی ۔ اس کے لیے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ شیو کا پہلا فرقہ لنگایت نہیں بلکہ لکویش فرقہ تھا ۔ جس آگے زکر آئے گا ۔
ستوپے
مشرقی ہند میں قبریں گول ہوتی تھیں اور استوپ کہلاتی تھیں ۔ گوتم بدھ سے پہلے ان قبروں کے نشان کی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔ استوپ کو گوتم کے مدفن کی علامت دی جائے اور گوتم اور دوسرے بدھ متی بزرگوں کے آثار کے لیے استوپ بنانے کا رواج پڑ گیا ۔ استوپ نیم دائرے کی شکل کا ٹھوس گنبد نما ہوتا تھا اس کے بیچ وہ آثار رکھے جاتے تھے جن کی پرستش مقصود ہوتی تھی ۔ چنانچہ اسٹوپوں کو بدھ کی قبر بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بدھ کے پیروکاروں اور بزرگ کو بھی دفن کیا جاتا تھا اور بدھ کے تبرکات پر بھی اسٹوپے تعمیر کیئے گئے اور ان اسٹوپوں پر بدھ کی زندگی کے واقعات کندہ ہوتے تھے ۔ اس طرح شکرانے کے طور پر امیر آدمی بھی اسٹوپے تعمیر کراتے تھے ۔ ٹیکسلہ کا دھرم راجیکا ان میں سب سے بڑا تھا ۔ مگر اس کے علاوہ چھوٹے اسٹوپ بھی بنائے جاتے تھے ۔ ایسے بے شمار اسٹوپ برصغیر میں بنائے گئے اور چھوٹے اسٹوپ کا چینی سیاح ہیونگ سیانگ نے بھی ذکر کیا ہے ۔ یہ چھوٹے اسٹوپ جنوبی ہند میں بدھ مندر کے ساتھ اکثر اور کثرت سے بنائے جاتے تھے ۔ ان چھوٹے اسٹوپوں پر بدھ کی پنج مکھی ، چہار مکھی شکلیں بنی ہوتی تھیں ۔ جب بدھ مت کا ذوال اور شروع ہوا تو اور شیو کی پوجا شروع ہوئی تو ان بدھ مندوروں کو شیو مندر میں تبدیل کردیا گیا اور ان اسٹوپوں پر جسے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ پہلے دوسرے دیوتاؤں کی مورتیاں بنائی گئیں اور رفتہ رفتہ یہ مورتیاں غائب ہوگئیں اور لنگایت فرقہ کے عروج کے ساتھ یہ اسٹوپ شیو لنگ کہلانے لگے ۔ شیو پوجا میں لنگ ہمیشہ یونی پر استادہ ہوتا تھا ۔ مگر ان قدیم اسٹوپوں میں یونی نہیں ہے اور یہ چھوٹے اسٹوپے ہیں ۔
شیو پران میں ہے کہ برہما اور وشنو دونوں دنیا پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے مگر دونوں لڑائی میں مصروف ہوگئے ۔ چنانچہ شیو نے ان کے درمیان ایک لنگ مرد کا عضو تناسل پیدا کیا اور وہ نمودار ہوکر اس قدر بڑھا کہ آسمان سے اوپر نکل گیا ۔ برہما اور وشنو لنگ کی درازی دیکھ متحیر ہوئے اور لڑائی موقوف ہوگئی اور اس کی پوجا کو دنیا میں رائج کیا ۔
شیو کے مندروں میں شیو کی مورتی کی پوجا نہیں بلکہ اس کے لنگ (عضوتناصل) کی پوجا کی جاتی ہے اور شیو کے بارہ جیوتی لنگ مشہور ہیں ۔ یہ لنگ پاربتی کی یونی میں استادہ ہوتا ہے ۔ اس کے متعلق جو شیو پران اور اسکند پران میں کئی کھتائیں (کہانیاں) ملتی ہیں ۔ یہ ساری کھتائیں فحش ہیں اور ان میں سے ایک کھتا سنا دیتے ہیں جس سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ شیو لنگ کیا ۔
پاربتی اپنے باپ کے گھر گئیں جہاں ان یگیہ(قربانی) ہو رہا تھا ۔ اس یگیہ میں انہیں اور مہادیو کو اور نہیں بلایا تھا ۔ وہاں پاپ سے اس بات پر جھگڑا ہوا پاربتی غصہ میں آکر اسی ہون (الاؤ) میں کود کر جل مری ۔ (اس کے بعد کا قصہ طویل ہے اور لنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ہم اسے چھوڑ کر آگے چلتے ہیں) اس کے بعد شیو پریشانی میں پہاڑوں پر برہنہ گھوم رہے تھے ۔ پہاڑوں پر رشی اور منی عبادت کرنے کے لیے رہ رہے تھے ۔ شیو کو برہنہ دیکھ کر ان کی عورتیں انہیں دیکھ کر شہوت سے مغلوب ہوکر مہادیو سے لپٹ گئیں ۔ یہ دیکھ کر رشی اور منی سخت ناراض ہوئے اور شیو کو باتیں سنائیں جاہل ، جہنمی ، بے ایمان اور عاصی یہ کیا کرتا ہے ۔ تو نے وید کے طریقہ کو ترک کرکے ہمارا دھرم بھی بھنگ کیا ہے ۔ انہیں نے شیو کو شراپ دیا کہ تمارا لنگ کٹ کر پاتال میں چلا جائے ۔
یہ کہتے ہی مہادیو کا لنگ کٹ کر گرا اور پاتال میں چلا گیا ۔ مہادیو کے لنگ کے کٹنے سے ان کی شکل خوفناک ہوگئی اور تینوں لوک یعنی پرتھوی ، پاتال اور سورگ میں آفتیں آنا شروع ہوگئیں ۔ پہاڑ جلنے لگے ، دن میں ستارے گرنے لگے اور سارا نظام برہم ہوگیا ۔ منی ، رشی بھی ہریشان ہوگئے کہ ہم نے یہ کیسا شراپ دے دیا ۔ رشی و منی اور دوسرے دیوتا وشنو کو لے کر مہادیو کی خدمت میں آئے اور عرض کیا ہم سے غلطی ہوگئی ہے ہمیں معاف کردو ہم اپنا شراپ واپس لیتے ہیں اور لنگ کو پھر سے اپنے بدن سے پیوست کرو ۔ مہادیو نے کہا بغیر عورت کے ہم کو لنگ کی کیا ضرورت ہے ۔ دیوتاؤں نے عرض کیا ستی (پاربتی) جی نے پھر ہماچل کے یہاں جنم لیا ہے ۔ وہ پھر سے تمہاری بیوی بنے گی ۔ مہادیو نے سن کر کہا اگر تم سب ہمارے لنگ کی پوجا کرو تو پھر ہم لنگ کو لگائیں گے ۔ وشنو اور دوسرے دیوتاؤں نے کہا ہاں ہم سب تمہارے لنگ کی پوجا کریں گے ۔
سب دیوتا پاتال میں گئے اور لنگ کی پوجا کی ۔ اس سے مہادیو خوش ہوکر ان کے پاس آئے اور کہا ہم اس پرستش سے خوش ہیں اور موکش (نجات) کے قائل ہیں ۔ اس فرقہ میں پرستش کے چھ ارکان ہیں ۔ ہنسنا ، گانا ، ناچنا اور بیل کی طرح آوازیں نکالنا ، زمین دوز ہوکر نمسکار کرنا اور جپ کرنا ۔ اس طرح کی مختلف رسمیں یہ ادا کرتے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے کرموں کا پھل ملتا ہے ۔ جیو قدیم ہے ، جب وہ مایا کے پھندے سے جھوٹ جاتا ہے تو وہ بھی شیو ہوجاتا ہے ۔ پر وہ مہادیو کی طرح مختار کل نہیں ہوتا ہے ۔ یہ لوگ جپ اور یوگ سادھن وغیرہ کو بہت اہم سمجھتے ہیں ۔
لکویش فرقہ
شویوں کو پاشوپت کہلاتے تھے اور بعد میں ایک اور فرقہ لکولیش کا اضافہ ہوا ۔ جس کے سب سے پرانے آثار 971ء کے ایک کتبہ سے جو بھروچ سے ملا ہے ۔ اس کتبہ میں لکھا کہ وشنو نے بھریگو منی کو شاپ دیا ۔ بھریگیو منی نے شیو کی پرستش کرکے اسے خوش کردیا تو شیو ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہاتھ میں لیے نمودار ہوا ۔ لکت ڈنڈے کو کہتے ہیں اس لیے شیو لکوئش یا نکولیش بھی کہلاتا اور یہ جگہ بروڈا میں ہے اور کلیا وتار کہلاتا ہے ۔ یہ مقام لکولیش فرقہ کا متبرک مقام بن گیا ۔ لکولیش کی مورتیں راجپوتانہ ، گجرات ، کاٹھیاواڑ ، دکن میں مسیور تک ، بنگال میں اور اوڑیسہ میں ملی ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فرقہ کتنا مقبول ہوا ۔ اس مورتی کے سر پر اکثر جین مورتیوں کی طرح لمبے بال ہیں ۔ ہاتھ دو اور دائیں ہاتھ میں بیجورا اور بائیں ہاتھ میں دنڈا ہوتا تھا اور اس کی نشت پدماسن ہوتی ہے ۔ لکولیش کے چار شاگردوں کوشک ، گرگ ، متر اور کورش کے نام لنگ پران میں ملتے ہیں ۔ جن کے نام سے شیویوں کے چار ضمنی فرقہ بنے ۔ لیکن اب لکولیش فرقہ کے پیروؤں کا نشان بھی نہیں ملتا ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ لکولیش کا نام بھی نہیں جانتے ہیں ۔ لنگ پوجا کی مقبولیت کے ساتھ لکولیش فرقہ غائب ہوگیا ۔
کارپاک اور کالا مکھ فرقے
شیو کے دو دیگر فرقوں کے نام کاپالک اور کالا مکھہ ہیں ۔ یہ شیو کے بھیرو اور وردر روپ کی پوجا کرتے تھے ۔ ان کے چھ نشانات تھے مالا ، زیور ، کنڈل ، رتن ، راکھ اور جنیو ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان سادھاؤں کے ذریعہ انسان موکش حاصل کرتا ہے ۔ یہ لوگ انسان کی کھوپڑی میں کھاتے تھے ۔ شمشان کی راکھ جسم پر ملتے ہیں اور اسے کھاتے بھی ہیں ۔ ایک ڈنڈا اور ایک شراب پیالہ اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ ان باتوں کو یہ دنیا اور مکتی کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ شنر دگ بجے میں مادھو نے ایک کاپالک سادھو سے ملنے کا ذکر کیا ہے ۔ بان نے ہرش چرت میں بھی ایک خوفناک کاپالک سادھو کا حال لکھا ہے ۔ بھوبھوتی نے اپنے ناٹک مالتی مادھو میں ایک کپال کنڈلا نام کی عورت کا ذکر کیا ہے جو کھوپڑیوں کی مالا پہنے ہوئے تھے ۔ ان دونوں فرقوں کے سادھوں کی زندگی قابل نفرت اور خوفناک ہوتی تھی اور اس فرقہ میں صرف سادھو ہوتے تھے ۔
جنوب ہند میں عروج
تامل علاقے میں شیو فرقہ کو عروج حاصل ہوا ۔ یہ لوگ جینیوں اور بدھوں کے سخت دشمن تھے ۔ ان کی مذہبی تصانیف کے گیارہ مجموعہ ہیں ، جو کہ مختلف اوقات میں لکھی گئیں ہیں ۔ ان میں سب سے مشہور مصنف تیرونان سمبندھ تھا جس کی مورتی کی تامل علاقہ میں شیو مندروں میں پوجا جاتا ہے ۔ تامل شعر اور مصنفین اس کے نام سے اپنی تصانیف کا آغاز کرتے ہیں ۔ کیوں کہ اس بہت پہلے اس علاقہ میں شیو دھرم پھیل چکا تھا ۔ کانجی پورہ کے مندر کا کتبہ چھٹی صدی عیسوی میں شو دھرم کے دکن میں رائج ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ پلو خاندان کے راجہ راج سنگھ نے جو غالباً 550 عیسوی کے آس پاس ہوا ہے اس نے راج سنگھیشور کا مندر بنوایا تھا ۔ اس نے اس کتبہ میں اپنے راج سنگھ کے شیو دھرم کے اصولوں میں ماہر ہونے دعویٰ کیا ہے ۔ لیکن وہ اصول کیا تھے معلوم نہیں ہوسکا ۔
کشمیر میں شیو فرقہ
کشمیر میں بھی شیو دھرم کا بھی اثر ملتا ہے ۔ وسو گپت نے ایک کتاب اسپند شاستر جس کی تفسیر جس کا نام اسپندر کارکا ہے اس کے ایک پیروکار کلٹ نے کی ہے جو کہ اونتی ورما (۸۵۴ء) کا معاصر تھا ۔ اس میں ہے کہ پرماتما انسانی کرم کا محتاج نہیں ہے ، بلکہ اپنی مرضی سے بغیر مادے سے دنیا پیدا کرتا ہے ۔ کشمیر میں ہی سومانند نے دسویں صدی میں شیو فرقہ کا ایک اور فرقہ قائم کیا ۔ اس نے ’شیو درشتیـ’ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی ۔ مگر اس میں اور شیو دھرم میں معمولی فرق تھا ۔
لنگویت
جس زمانے میں ویشنو دھرم اہنسا کا پرچار کرتا ہوا نئی صورت میں اندھرا اور تامل میں شیو فرقہ کی مخالفت میں پھیل رہا تھا ۔ اس زمانے میں ایک نئے شیو فرقہ کا ظہور ہوا ۔ کناری بھاشا کے بسوپران سے پتہ چلتا ہے کہ کنچوری راجوڑی راجہ بجل کے زمانے میں (بارھویں عیسویں) بسو نام کے ایک برہمن نے جین دھرم کے مقابلے میں لنکایت مت کا پرچار کیا اور جنگموں (لنکایتوں کے دھرم اپدیشکوں) پر کثیر رقمیں خرچ کرنے لگا ۔ اسے راجہ بجل نے اپنا مشیر بنالیا تھا ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ شیو نے اپنی روح کو دو حصوں لنگ اور جسم میں تقسیم کردیا ہے ۔ اس لیے یہ لنگ کو چاندنی کی ڈبیا میں بند کرکے اپنے گلے میں پہنتے تھے ۔ یہ اہنسا (جیو یا جینے دو) کو اہمیت اور ہندو معاشرے کے خاص رکن برنوں (ذات پات) کی تفریق کو نہیں مانتے تھے اور نہ ہی تپ اور سنیاس کو اہمیت دیتے تھے ۔ بسو کا کہنا تھا کہ ہر شخص چاہے وہ سادھو ہی ہو اسے محنت کرکے اپنا روزگار پیدا کرنا چاہیے اور بھیگ مانگنا اس نے معیوب قرار دیا ۔ اس نے بدھوں اور جینیوں کی طرح اپنے پیروں کی اخلاقیات پر بھی توجہ دی بھگتی اس فرقہ کی نمایاں بات تھی اور اس نے لنگ کو اپنا نشان قرار دیا تھا ۔ ان میں جینو سنسکار کی جگہ وہاں دیکشاسنسار ہوتا تھا ۔ گایتری منتر کی جگہ یہ اوم نمتہ شیوایۃ کہتے اور جنیو کی جگہ گلے میں شیو لنگ لٹکاتے ہیں ۔ ہنسا کے پرچار کے باوجود یہ لوگ جینوں کے دشمن تھے اور ان کی مورتیوں کو توڑوا کر پھیکوادیا کرتے تھے ۔ اس فرقہ نے لنگم کی پوجا کرنا شروع کی اور یہ فرقہ لنگم یا لنگ کی نسبت سے لنگایت کہلاتا تھا ۔ اس طرح لنگ پوجا کو مقبولیت حاصل ہوئی اور رفتہ رفتہ شیو کے مندروں میں شیو کی مورتی کے بجائے لنگم کی پوجانے لگی ۔ جو اب تک جاری ہے
اگھوڑی
یہ شیو مت کیا ہندوٓں میں غلیظ ترین فرقہ ہے ۔ ان کی قطع و وضع مجدوبانہ و مجنونانہ ہیں ۔ یہ لوگ ہر طرح کا گوشت حتیٰ کہ مرد انسان کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں ۔ یہ پیشاب و پخانہ اپنے بدن پر ملتے ہیں ۔ یہ بھیک مانگتے ہیں اور اگر انہیں انکار کردیا جائے تو یہ پیشاب و پخانہ کرکے غلاظت کرکے پھیلاتے ہیں ۔ پیسہ زیادہ تر مے نوشی میں خرچ کرتے ہیں اور شمشان گھاٹ میں رہتے ہیں اور طرح کی ریاضتیں کرتے ہیں ۔
اوجین کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی پر اگھوڑی رہتے تھے ۔ جب ہندو اپنے مردوں کو جلانے مرگھٹ لے جاتے اور چتا کو آگ دیتے تھے تو یہ اگھوڑی فوراً پہنچ جاتے اور جلتی ہوئی نعش کو چتا سے نکال کر کھاتے ۔ مردوں کے ورثہ اس خیال سے کہ اگھوڑی شیو کے پجاری ہیں اگر ان سے مزاحمت کی گئی تو شیو جی ناراض ہوں گے اور مردے کو سخت عذاب میں مبتلا کریں گے اور کوئی شخص اس خوف سے اگھوڑیوں کو روکتا نہیں تھا ۔ بعض لوگوں نے اس قبیح رسم کو دیکھ کر مہاراجہ سندھیا سے سے شکایت کی ۔ ۱۸۸۶ء میں مہاراجہ سندھیا نے اگھوڑیوں کے لیے عمدہ خوراک بہم پہچانے کا بندوست کیا ۔ جس کے بعد اگھوڑیوں ننے مردار و نجس چیزیں کھانا ترک کیں ۔
اگہوری تمام نجس و ناپاک چیزین جو جسم سے خارج ہوں دوبارا اپنے جسم میں داخل کرنا ، یعنی بلغم ، خون و پیشاب پینا اور بزار کھانا ۔ رات دن ننگے مادرزاد رہنا ، خواہ کیسی سخت سردی پڑے کپڑوں کا استعمال نہ کرنا ۔
شیو کی پوجا
شیو کی پرستش دو طرح ہوتی ہے ۔ ایک دکشنا کار اور دوسری باما کار ۔ دکشنا کار والے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور کالی کو چنڈی مانتے ہیں اور باما کار مارگی کہلاتے ہیں ۔ وہ پوشیدہ طور پر پوجا کرتے ہیں ۔ وہ برہنہ عورت کی شرم گاہ کو پوجتے ہیں ۔ شراب پیتے ہیں اور گوشت کھاتے ہیں ۔ زناکاری کرتے ہیں ۔ شیو کے اوپاسک اکثر لامذہب ، وحشی ، عیبی اور نشہ باز دیکھے گئے ہیں ۔
موجودہ دور میں بہت سے ہندو یہ کہنے لگے ہیں لنگ سے مراد عضو تناسل نہیں بلکہ نشان ہے اور شیو لنگ سے مراد شیو کا نشان ہے ۔ شیو کا لنگ اس کا عضو تناسل ہے اس بارے میں بہت سی کتھائیں ملتی ہیں ۔ مگر لنگ سے مراد شیو کا چن (نشان) ہے اس کا کوئی حوالہ یا کتھا نہیں ملتی ہے ۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہے عورتوں کو لنگ پوجا نہیں کرنی چاہے خاص کر کنواری عورتوں کو ۔ اگر انہیں شیو کی پوجا کرنی ہے تو وہ یا تو شیو کی مورتی کی پوجا کریں یا پورے پروار کی پوجا کریں ۔ یعنی شیو ، پاربتی ، گنیش اور کارٹیکا یا اسکند کی ایک ساتھ پوجا کریں ۔ کیوں کہ عورتوں خاص کر کنواری کنیا کی پوجا سے پاربتی ناراض ہوجاتی ہے اور مہادیو تپیسا میں مصروف ہوتے ہیں اور لڑکیوں کے کا مہادیوں کے انگ (عضو) پر ہاتھ لگانے ان کی پتیسا بھنگ ہوسکتی ہے ۔ بعض کا کہنا ہے کہ شادی شدہ عورتیں پوجا کرسکتی ہیں مگر لنگ کو ہاتھ نہ لگائیں ۔ مگر زیادہ تر کنواری کنیائیں لنگ پوجا کرتی ہے ۔ ان کا خیال ہے اس طرح ان کی شادی جلد ہوجائے گی ۔ غرض اس طرح کی کتھائیں بہت پھیلی ہوئی ہیں ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں