64

شیو

ہندو میتھالوجی کے مطابق شیوجی یگیوں اور راگوں کے مالک ، درخشان ، تاباں ، فیاض ، انسانوں ، حیوانوں ، گھوڑوں اور گایوں کو تندرستی دینے والے پرورش کنندہ ، مرضوں کو دور کرنے والے اور گناہوں کو معافی دینے والا ہے ۔ وجر ، کمان اور تیر رکھنے والے ، خوفناک اور مہلک شکل جنگلی جانور کی طرح ہے ۔ اسے ایشان ، مہشیور اور مہادیو کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کی ابتدا ، انتہا اور انجام نہیں ہے ۔ متبرک اما کے خاوند مثل نیل کنٹھ تین آنکھو والا اور سب سے اعلی مالک ہے ۔ یہی برہما جی ، یہ ہی اندر ، یہی وشنوجی اور غیرفانی ہے ۔ 
رامائین میں شیوجی کو عظیم دیوتا کہا گیا ۔ شوجی کی وشنوجی سے لڑائی ہوئی تاہم برہما اور وشنو جی نے اس کی پوجا بھی کی تھی ۔ مہابھارت میں وشنو جی اور سری کرشن جی کو بڑا کہا گیا ہے ۔ لیکن بعض جگہ شوجی کو سب اعلیٰ اور مالک لکھا ہے ۔ جس کی وشنو جی اور سری کرشن جی نے پرستش کی ہے ۔ پرانوں کے مطابق شیو جی مہادیو ہے اور اندر ، وشنو جی اور برہما کو اس نے ہی پیدا کیا ہے اور وشنو اور شیو ایک ہستی ہے ۔ 
حلیہ
شوجی کے پانچ منہ اور اس کی آنکھوں اوپر پیشانی پر تیسری آنکھ ہے ۔ جس کے گرد چاند کا حلقہ ہے ۔ بالوں کا گچھا سیکھ پر کنڈل کی طرح ہے ۔ اپنی جٹاؤں میں گنگا کا پانی جب سورگ سے گرا تو جٹاؤں میں لے لیا کہ اس کا زور توٹ جائے ۔ گلے میں منڈ مالا ، ناگ کنڈل ، نیل کنٹھ یعنی گلے میں ترسول یا پناک ، پوشاک ہرن ، شیر اور ہاتھی کے چمرہ کی ۔ اس لیے اس کا نام کرتی واس پڑا ۔ بعض اوقات شیر کے کھال کا لباس اور ہاتھ میں ایک ہرن کی کھال ہے ۔ نندی بیل اکثر اس کے ساتھ رہتا ہے اور اجگر ، کمان ڈور ، کھٹوانگ اور پاش ہاتھ میں لیے ہوئے ۔ اس کے محافظ اور دربان بھوت راکش وغیرہ ہوتے ہیں ۔ شیو جی کی تیسری آنکھ بڑی خطرناک ہے ۔ اس آنکھ سے شیو جی نے کام دیو کو جلا کر خاکستر کردیا تھا ۔ برہما جی نے شیوجی کے لیے سخت الفاظ کہے تھے تو شوجی نے برہماجی کا پانچواں سر کاٹ ڈالا تھا اور اب برہما جی کے چار منہ ہیں ۔ مختلف جگہوں پر شیوجی کی بڑی پوجا ہوتی ہے اور ان کا نام وشویشور بھی ہے ۔ 
شیو جی کے کھالوں کے لباس کے بارے میں کتھا ہے کہ     ایک دفعہ شیو جی ایک خوبصورت برہمن کی شکل بنا کر کسی جنگل میں گئے ۔ وہاں رشیوں کی عورتیں ان پر شکل دیکھ فریقہ ہوگئیں ۔ رشیوں برا لگا اور شیوجی کو سزا دینے کے لیے ایک گڑھا زمین میں کھود کر اس میں ایک جادو کا چیتا بیٹھایا کہ شیوجی قریب آئیں تو حملہ کرے ۔ مگر شیوجی نے اس چیتے کو مار ڈالا اور اس کی کھال کو پہن لیا ۔ پھر رشیوں نے ایک ہرن تیار کیا ۔ مگر شیو جی نے اسے بھی مار ڈالا اس کی کھال ہاتھ رہیتی ہے ۔ پھر انہوں نے ایک گرم لوہا جادو سے بنایا ۔ اسے بھی شیو جی پکڑلیا اور اس کا تشول استعمال کرنے لگے ۔  
ہاتھی کی کھال کی کھتا یوں ہے کہ ایک اسر گیہ نے اس قدر طاقت حاصل کرلی کہ اس نے دیوتاؤں کو اپنے قابو میں کرلیا ۔ پھر منو کو قابو کرنے کے لیے ہاتھی کی شکل میں حملہ کیا ۔ منو بھاگ کر کاشی کے شیوجی کے مندر میں جاگھسے ۔ شیوجی نے گیہ کو ماڑ ڈالا اور اس کے کھال کو استعمال کرنے لگے ۔ 

ٍ نام اور خصوصیات
براہمن میں لکھا ہے کہ جب رودر برہماجی کی پیشانی سے پیدا ہوئے تو رونا شروع کیا ۔ اس کے باپ پرجاپت نے رونے کا سبب پوچھا تو میرا کوئی نام نہیں ہے اور پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے ۔ اس کے باپ نے رونے کی وجہ سے رودر نام رکھ دیا اور بعض جگہ یہ لکھا ہے کہ متواتر آٹھ دفعہ اس نے اپنا نام پوچھا تو اس کے آٹھ نام بہو ، سترو پشوپتی ، اگردیو ، مہادیو ، ایشان ، اشنی ، شیو رکھے گئے ۔ یہ نام اس کی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں ۔ چنانچہ رودر اور مہاکال نہایت غارت اور تباہ کرنے والی طاقت ۔ شیو اور شنکر دوبارہ پیداہ کرنے والی طاقت ۔ یعنی ایک دفعہ تباہ کرکے دوبارہ بحال کرنا ۔ اس لیے ان کا نام ایشور یعنی سب کا مالک اور مہادیو یعنی سب سے بڑا ہے ۔ اس کا نشان لنگ یونی کے ساتھ یعنی وہ شکتی جو اس کے ساتھ ہے ۔ شیو مہایوگی اور ریاضت درود اور جپ تپ ، دہیان اور مراقبہ میں اسے کمال حاصل ہے ۔ یہ معجزاوں اور کرامتوں کی کھدان ہے ۔ یہ برہنہ زاہد اور جٹی یعنی بالوں کا گچھہ سر پر اور تمام بدل پر راکھ ملی ہوئی ہو تو اس حالت کو بھیرو یعنی خوفناک اور تباہ کرنے والا ہے اور اسے بربادی پر خوشی ہوتی ہے ۔ اس کا ایک نام بھورتیشور یعنی بھوتوں کا آقا اور بھورتیشور کی آمد اور پوجا قبرستانوں اور مسانوں میں ہوتی ہے ۔ یہ گلے میں سانپ اور انسانی کھوپڑیوں کی مالا گلے میں ہے ۔ اس کے ساتھ بھوتوں کی فوج رہتی ہے ۔ جس کا کام باغی راکشوں کو تباہ و قتل کرنا ہے ۔ بعض اوقات اپنی بیوی پاربتی جی کے ہمرا تانڈویہ ناچ بڑی تیزی سے ناچتا ہے اور اس کے ساتھ بھوتوں کی فوج دیوانہ وار اس کے گرد ناچتی ہے ۔ اس کے بہت سے نام ہیں ۔ جو اس کی خصوصیات کے مطابق رکھے گئے
شیو کے نام
شیو جی کے کچھ ناموں میں ترلوچن ۔ یعنی تین آنکھ والا ، نیل کنٹھ ۔ نیلے گلے والا ، اگہور ۔ خوفناک ، بھگوت ۔ دیوتا ، چندر شنکھر ۔ چاند کے تاج والا ، گنگا دھر ۔ گنگا کا مالک ، گریش ۔ پہاڑ کا مالک ، ہر ۔ گرفتار کرنے والا ، ایشان ۔ حاکم ، جٹا دہر ۔ بالوں کے گچھ والا ، جل مورتی ۔ پانی کی صورت والا ، کال ۔ وقت ، کالنجر ، کپال ، مالن ، منڈ مالا پہنے والا ، مہا کال ۔ بڑے وقت والا ، مہیش ۔ بڑا مالک ۔ رت ین جے ۔ موت کو تباہ کرنے والا ۔ پشو پتی ۔ مویشیوں کا آقا ، شنکر ، شر ، سواشو ، شمبو ، متبرک ، مشتھانو ۔ مظبوط ، تری مبک تین آنکھوں والا ، اگر ۔ درد پاکش ، دشوناتھ ۔ سب کا مالک وغیرہ ہیں ۔
رودر
شویتا شویتر اپنشد کے مطابق ایک عہد کے خاتمے پر دنیا کو تحلیل کیا جاتا ہے تو صرف رودر ہی متاثر نہیں ہوتا ہے ۔ بلاخر رودر کی اپنی علیحدہ شناخت ختم ہوئی اور یہ مکمل طور پر شیو میں ضم ہو کر رہے گیا ۔ یہ ملاپ دراصل غیر آریائی عقائد کے ویدوں میں سرایت کا نتیجہ تھا ۔ دور جدید میں ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مہادیو اور شیو ویدوں کا رودر ہے ۔ جب کہ شیو کی نسبت بیان گیا ہے کہ یہ کیلاش کے پہاڑ پر رہتا ہے جو یکشوں میں گھرا ہوا ہے ۔ گنیش جس کے منہ پر ہاتھی کا سر ہے وہ رودر کا متبنی ہے ۔ شیو یعنی رودر مہاکال (عظیم موت) جو ہر چیز ناش کرتا ہے ۔ اس کے ہاتھ میں ترسول گلے میں رنڈ مال یعنی انسانی کھوپڑی کی مالا ہے ۔ وہ بھوتوں پشاجوں اور مسان کا رہبر ہے ۔ وہ بھیرو ہے اور دیوانوں اور احمقوں کا خدا ہے ۔ جس کا لباس ہاتھی کے چمڑہ کا ہے ۔ جس پر خون کے دھبے ہیں اور جنگلی ناچ ناچتا ہے ۔ جس کو تانڈو کہتے ہیں ۔ مالتی مادھوا شیو کی شکتی ہے نام بھی ایسے ہی خوفناک ہیں جیسے خوفناک رعدر یعنی شیو کے اوصاف ہیں ۔ یعنی درگا ، پاربتی ، کالی ، چنڈی ، چامونڈی اور بھیروں وغیرہ ۔ ان کی مورتیں نہایت خوفناک اور ڈراونی بنائی جاتی ہیں ۔
شیو میں ویدی دیوتاؤں کی خصوصیات
بقول لی بان کہ یہ برباد کرنے والا یا اقلاً حاکم بدلنے والا الواقع موت اور زندگی کا دیوتا ہے ۔ اس کی نشانی لنگم ہے اور اسی کے نام سے جانور کاٹے جاتے ہیں ۔ ۔ یہی ہے دیوتا جس کے جوہر سے کائنات پیدا ہوئی ہے اور یہی دیوتا موت کا جو کائنات کو تلف کرتی ہے ۔ حقیقت میں یہ شیو ہند کا سچا دیوتا اور ہندوؤں کے اخلاقی خیالات کا نتیجہ ہے ، یہ جدید برہمنی مذہب کے دیوتاؤں میں سب سے پرانا ہے ۔ یہ رگ وید کے رودر یعنی ہوا اور پانی کے دیوتا سے مشابہ ہے ۔ آخر میں چل کر یہ اگنی سے مشابہ کردیا گیا ۔ قدیم آریاؤں میں آگ جس کی بڑے اہتمام سے پرستش کرتے تھے مادہ زندگی مانا جاتا تھا اور وہ ہر مخلوق میں سائر اور اس کو زندہ رکھنے ولا تھا ۔ اگنی بھی برباد کرنے والا دیوتا بھی ہے ۔ کیوںکہ کہ جو چیز اس پرچڑھائی جاتی تھی اسے وہ جلا دیتا تھا ۔
کہا جاتا ہے جدید برہمنی مذہب میں شیو نے اگنی کی جگہ لے لی ہے اور کہ مگھنیز کے زمانے میں شیو کی پرستش عام ہوچکی تھی اور اس کا نام اور خصائص متعن ہوچکے تھے ، کیوں کہ مگھنیز اسے یونانیوں کے ڈایونیسیس سے تشبیہ دیتا ہے اور شیو کی نشانی لنگم سنہ عیسوی کی ابتدا میں قرار دے دی گئی ہے ۔ شیو کی پوجا کا سب سے پہلا ثبوت پہلی صدی عیسوی میں کشان فرمانروا کڈفسس کے سکوں پر پہلی صدی میں شیو کی مورتی سے ملتا ہے ۔ وادی سندھ کی مہروں سے ایک دیوتا تصویریری مہریں ملی ہیں جس کی خصوصیات شیو کی طرح ہیں ۔ یہ تین سروں والا مویشی کے ساتھ دیکھایا گیا ہے اور شیو وادی سندھ کا دیوتا تھا جسے بعد میں ہندوؤں نے پوجنا شروع کیا ۔
داہنی طرف کے دو ہاتھوں میں ایک میں سانپ اور دوسرے میں پیالہ ۔ بائیں طرف کے دو ہاتھوں میں ایک میں پتلی چھڑی اور دوسرے میں ڈھال یا آئینہ کی شکل کی کوئی گول چیز ہوتی ہے ۔ تثلیث مورتی جپوترے کے اوپر اس میں صرف جسم کا بالائی دیوار سے ملا ہوتا ہے ۔ اس کے سامنے زمین پر اکثر شیو لنگ ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت تک شیو لنگ کی پوجا نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ چھوٹا سا گول ستون چار بالاالزکر دیوتائوں کی نمائندگی کرتا تھا ۔ اگرچہ اس پر سے دیوتاؤں کے چہرے غائب ہوگئے تھے ۔ لیکن لنگ کی پوجا نہیں کرنے کا ثبوت پھر بھی نہیں ملا ہے ۔ اس کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ان مندروں میں شیو کی مورتی تو ہوتی تھی مگر لنگ لازمی نہیں ہوتا تھا اور لنگ ہر جگہ نہیں ملا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا کہ رفتہ رفتہ دوسرے دیوتاؤں کی اہمیت کم ہوگئی تھی ۔ ایسی تری مورتیان بمبئی سے چھ میل دور ایلنٹٹا ، چتور کے قلعے ، سررہی راج وغیرہ کئی مقامات پر دیکھنے میں آئی ہیں ۔ جن میں سب سے پرانی ایلفنٹا والی ہے ۔ شیو کی رقص کرتی مورتیاں دھات یا پتھر کی بھی کئی سے جگہ ملی ہیں ۔ رفتہ رفتہ شیو کی مورتی پوجا متروک ہوگئی اور لنگ کی پوجا کی جانے لگی اور شیو کی مورتی پوجا تنہا نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان کی پوجا کی جانے لگی ۔
قدیمی عقائد
شیو فرقہ کے لوگ مہادیو کو عالم خالق ، رزاق اور ہلاک کرنے والا سمجھتے ہیں ۔ یوگ ابھیاس اور راکھ ملنے کو یہ لوگ ضروری سمجھتے ہیں اور موکش (نجات) کے قائل ہیں ۔ اس فرقہ میں پرستش کے چھ ارکان ہیں ۔ ہنسنا ، گانا ، ناچنا اور بیل کی طرح آوازیں نکالنا ، زمین دوز ہوکر نمسکار کرنا اور جپ کرنا ۔ اس طرح کی مختلف رسمیں یہ ادا کرتے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے کرموں کا پھل ملتا ہے ۔ جیو قدیم ہے ، جب وہ مایا کے پھندے سے جھوٹ جاتا ہے تو وہ بھی شیو ہوجاتا ہے ۔ پر وہ مہادیو کی طرح مختار کل نہیں ہوتا ہے ۔ یہ لوگ جپ اور یوگ سادھن وغیرہ کو بہت اہم سمجھتے ہیں ۔
لکویش فرقہ
شویوں کو پاشوپت کہلاتے تھے اور بعد میں ایک اور فرقہ لکولیش کا اضافہ ہوا ۔ جس کے سب سے پرانے آثار 971ء کے ایک کتبہ سے جو بھروچ سے ملا ہے ۔ اس کتبہ میں لکھا کہ وشنو نے بھریگو منی کو شاپ دیا ۔ بھریگیو منی نے شیو کی پرستش کرکے اسے خوش کردیا تو شیو ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہاتھ میں لیے نمودار ہوا ۔ لکت ڈنڈے کو کہتے ہیں اس لیے شیو لکوئش یا نکولیش بھی کہلاتا اور یہ جگہ بروڈا میں ہے اور کلیا وتار کہلاتا ہے ۔ یہ مقام لکولیش فرقہ کا متبرک مقام بن گیا ۔ لکولیش کی مورتیں راجپوتانہ ، گجرات ، کاٹھیاواڑ ، دکن میں مسیور تک ، بنگال میں اور اوڑیسہ میں ملی ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فرقہ کتنا مقبول ہوا ۔ اس مورتی کے سر پر اکثر جین مورتیوں کی طرح لمبے بال ہیں ۔ ہاتھ دو اور دائیں ہاتھ میں بیجورا اور بائیں ہاتھ میں دنڈا ہوتا تھا اور اس کی نشت پدماسن ہوتی ہے ۔ لکولیش کے چار شاگردوں کوشک ، گرگ ، متر اور کورش کے نام لنگ پران میں ملتے ہیں ۔ جن کے نام سے شیویوں کے چار ضمنی فرقہ بنے ۔ لیکن اب لکولیش فرقہ کے پیروؤں کا نشان بھی نہیں ملتا ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ لکولیش کا نام بھی نہیں جانتے ہیں ۔
کارپاک اور کالا مکھ فرقے
شیو کے دو دیگر فرقوں کے نام کاپالک اور کالا مکھہ ہیں ۔ یہ شیو کے بھیرو اور وردر روپ کی پوجا کرتے تھے ۔ ان کے چھ نشانات تھے مالا ، زیور ، کنڈل ، رتن ، راکھ اور جنیو ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان سادھاؤں کے ذریعہ انسان موکش حاصل کرتا ہے ۔ یہ لوگ انسان کی کھوپڑی میں کھاتے تھے ۔ شمشان کی راکھ جسم پر ملتے ہیں اور اسے کھاتے بھی ہیں ۔ ایک ڈنڈا اور ایک شراب پیالہ اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ ان باتوں کو یہ دنیا اور مکتی کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ شنردگ بجے میں مادھو نے ایک کاپالک سادھو سے ملنے کا ذکر کیا ہے ۔ بان نے ہرش چرت میں بھی ایک خوفناک کاپالک سادھو کا حال لکھا ہے ۔ بھوبھوتی نے اپنے ناٹک مالتی مادھو میں ایک کپال کنڈلا نام کی عورت کا ذکر کیا ہے جو کھوپڑیوں کی مالا پہنے ہوئے تھے ۔ ان دونوں فرقوں کے سادھوں کی زندگی قابل نفرت اور خوفناک ہوتی تھی اور اس فرقہ میں صرف سادھو ہوتے تھے ۔
جنوب ہند میں عروج
تامل علاقے میں شیو فرقہ کو عروج حاصل ہوا ۔ یہ لوگ جینیوں اور بدھوں کے سخت دشمن تھے ۔ ان کی مذہبی تصانیف کے گیارہ مجموعہ ہیں ، جو کہ مختلف اوقات میں لکھی گئیں ہیں ۔ ان میں سب سے مشہور مصنف تیرونان سمبندھ تھا جس کی مورتی کی تامل علاقہ میں شیو مندروں میں پوجا جاتا ہے ۔ تامل شعر اور مصنفین اس کے نام سے اپنی تصانیف کا آغاز کرتے ہیں ۔ کیوں کہ اس بہت پہلے اس علاقہ میں شیو دھرم پھیل چکا تھا ۔ کانجی پورہ کے مندر کا کتبہ چھٹی صدی عیسوی میں شو دھرم کے دکن میں رائج ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ پلو خاندان کے راجہ راج سنگھ نے جو غالباً 550 عیسوی کے آس پاس ہوا ہے اس نے راج سنگھیشور کا مندر بنوایا تھا ۔ اس نے اس کتبہ میں اپنے راج سنگھ کے شیو دھرم کے اصولوں میں ماہر ہونے دعویٰ کیا ہے ۔ لیکن وہ اصول کیا تھے معلوم نہیں ہوسکا ۔
کشمیر میں شیو فرقہ
کشمیر میں بھی شیو دھرم کا بھی اثر ملتا ہے ۔ وسو گپت نے ایک کتاب اسپند شاستر جس کی تفسیر جس کا نام اسپندر کارکا ہے اس کی ابتدا ایک پیروکار کلٹ نے کی ہے جو کہ اونتی ورما (۸۵۴ء) کا معاصر تھا ۔ اس میں ہے کہ پرماتما انسانی کرم کا محتاج نہیں ہے ، بلکہ اپنی مرضی سے بغیر مادے سے دنیا پیدا کرتا ہے ۔ کشمیر میں ہی سومانند نے دسویں صدی میں شیو فرقہ کا ایک اور فرقہ قائم کیا ۔ اس نے ’شیو درشتیـ’ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی ۔ مگر اس میں اور شیو دھرم میں معمولی فرق تھا ۔

لنگویت
جس زمانے میں ویشنو دھرم اہنسا کا پرچار کرتا ہوا نئی صورت میں اندھرا اور تامل میں شیو فرقہ کی مخالفت میں پھیل رہا تھا ۔ اس زمانے میں ایک نئے شیو فرقہ کا ظہور ہوا ۔ کناری بھاشا کے بسوپران سے پتہ چلتا ہے کہ کنچوری راجوڑی راجہ بجل کے زمانے میں (بارھویں عیسویں) بسو نام کے ایک برہمن نے جین دھرم کے مقابلے میں لنکایت مت کا پرچار کیا اور جنگموں (لنکایتوں کے دھرم اپدیشکوں) پر کثیر رقمیں خرچ کرنے لگا ۔ اسے راجہ بجل نے اپنا مشیر بنالیا تھا ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ شیو نے اپنی روح کو دو حصوں لنگ اور جسم میں تقسیم کردیا ہے ۔ اس لیے یہ لنگ کو چاندنی کی ڈبیا میں بند کرکے اپنے گلے میں پہنتے تھے ۔ یہ اہنسا (جیو یا جینے دو) کو اہمیت اور ہندو معاشرے کے خاص رکن برنوں (ذات پات) کی تفریق کو نہیں مانتے تھے اور نہ ہی تپ اور سنیاس کو اہمیت دیتے تھے ۔ بسو کا کہنا تھا کہ ہر شخص چاہے وہ سادھو ہی ہو اسے محنت کرکے اپنا روزگار پیدا کرنا چاہیے اور بھیگ مانگنا اس نے معیوب قرار دیا ۔ اس نے بدھوں اور جینیوں کی طرح اپنے پیروں کی اخلاقیات پر بھی توجہ دی بھگتی اس فرقہ کی نمایاں بات تھی اور اس نے لنگ کو اپنا نشان قرار دیا تھا ۔ ان میں جینو سنسکار کی جگہ وہاں دیکشاسنسار ہوتا تھا ۔ گایتری منتر کی جگہ یہ اوم نمتہ شیوایۃ کہتے اور جنیو کی جگہ گلے میں شیو لنگ لٹکاتے ہیں ۔ ہنسا کے پرچار کے باوجود یہ لوگ جینوں کے دشمن تھے اور ان کی مورتیوں کو توڑوا کر پھیکوادیا کرتے تھے ۔ اس فرقہ نے لنگم کی پوجا کرنا شروع کی اور یہ فرقہ لنگم یا لنگ کی نسبت سے لنگایت کہلاتا تھا ۔ اس طرح لنگ پوجا کو مقبولیت حاصل ہوئی اور رفتہ رفتہ شیو کے مندروں میں شیو کی مورتی کے بجائے لنگم کی پوجانے لگی ۔ جو اب تک جاری ہے  
شیو پوجا
شیو برباد کرنے والا موت اور زندگی کا دیوتا ہے ۔ اس کی نشانی لنگم ہے اور اسی کے نام سے جانور کاٹے جاتے ہیں ۔ یہی ہے خدا اس جوہر کا جس سے کائنات پیدا ہوئی ہے اور یہی خاد ہے اس موت کا جو کائنات کو تلف کرتی ہے ۔ حقیقت میں یہ شیو ہند کا سچا خدا اور ہندوؤں کی قور اخلاق کا نتیجہ ہے ، یہ جدید برہمنی مذہب کے دیوتاؤں میں سب سے پرانا ہے ۔ یہ رگ وید کے رودر یعنی ہوا اور پانی کے دیوتا سے مشابہ ہے ۔ آخر میں چل کر یہ اگنی سے مشابہ کردیا گیا ۔ قدیم آریاؤں میں آگ جس کی بڑے اہتمام سے پرستش کرتے تھے مادہ زندگی مانا جاتا تھا اور وہ ہر مخلوق میں سائر اور اس کو زندہ رکھنے ولا تھا ۔ اگنی ہی برباد کرنے والا دیوتا بھی ہے ۔ کیوںکہ کہ جو چیز اس پرچڑھائی جاتی تھی اسے وہ جلا دیتا تھا ۔ جدید برہمنی مذہب میں شیو نے اگنی کی جگہ لے لی ہے ۔ گیارویں صدی عیسویں میں محمود آیا تو بارہ ایسے مندر تھے جو شیو کہ نام سے تعمیر ہوئے تھے اور اس دیوتا کی پرستش ہوتی تھی ۔ 
تموگن کی پوجا کرنے والے رودر کی پوجا کرتے ہیں ۔ جس کو مہادیو اور شیو بھی کہتے ہیں ۔ رودر کے معنی رولا دینے والے کے ہیں ۔ شیو کی نسبت بیان گیا ہے کہ یہ کیلاش کے پہاڑ پر رہتا ہے جو یکشوں میں گھرا ہوا ہے ۔ گنیش جس کے منہ پر ہاتھی کا سر ہے وہ رودر کا متبنی ہے ۔ شیو یعنی رودر مہاکال (ظیم موت) جو ہر چیز ناش کرتا ہے ۔ اس کے ہاتھ میں ترسول گلے میں رنڈ مال یعنی انسانی کھوپڑی کی مالا ہے ۔ وہ بھوتوں پشاجوں اور مسانوں (مرگھٹ) کا سربراہ ہے ۔ وہ بھیرو ہے ۔ دیوانوں اور احمقوں کا خدا ہے ۔ اس کا لباس ہاتھی کے چمڑہ کا ہے ۔ جس پر خون کے دھبے ہیں اور جنگلی ناچ ناچتا ہے ۔ جس کو تانڈو کہتے ہیں ۔ مالتی مادھوا شیو کی شکتی ہے نام بھی ایسے ہی خوفناک ہیں جیسے خوفناک رعدر یعنی شیو کے اوصاف ہیں ۔ یعنی درگا ، پاربتی ، کالی ، چنڈی ، چامونڈی اور بھیروں وغیرہ ۔ ان کی مورتیں نہایت خوفناک اور ڈراونی بنائی جاتی ہیں ۔
شیو کی پرستش دو طرح ہوتی ہے ۔ ایک دکشنا کار اور دوسری باما کار ۔ دکشنا کار والے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور کالی کو چنڈی مانتے ہیں اور باما کار مارگی کہلاتے ہیں ۔ وہ پوشیدہ طور پر پوجا کرتے ہیں ۔ وہ برہنہ عورت کی شرم گاہ کو پوجتے ہیں ۔ شراب پیتے ہیں اور گوشت کھاتے ہیں ۔ زناکاری کرتے ہیں ۔ شیو کے اوپاسک اکثر لامذہب ، وحشی ، عیبی اور نشہ باز دیکھے گئے ہیں ۔

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں