86

عبداللہ میمنون قدح

اکثر مورخین نے مہدی کو عبداللہ بن میمون قدح کی طرف منسوب کیا ہے ۔ میمون ایران کا باشندہ تھا اور مختلف ادیان و مذاہب کے اصول سے خوب واقف تھا ۔ اس نے زنادقہ کی تائید میں ’کتاب المیزان‘ لکھی ہے ۔ جس پڑھنے سے آدمی لامذہب ہوجاتا ہے ۔ یہ ظاہر میں اپنے مریدوں سے محمد بن اسمعیل کی بیت لیتا تھا ، لیکن حقیقت میں خود ملحد اور زندیق تھا ۔ اس کے بیٹا عبداللہ جس نے اپنے باپ سے اسرار دعوت اسماعیلیہ سیکھے ۔ اس کا پیشہ آنکھوں کا علاج تھا ۔ اس لیے وہ قداح کے نام سے مشہور تھا اس نے دعوت اسماعیلہ کے نو مدارج فری مسنری کی مانند مرتب کئے ۔ جن کو طے کرنے کے بعد اباحی بن جاتا ہے ۔ یعنی اعمال شریعت چھوڑ دیتا ہے اور محرمات کو مباح سمجھتا ہے ۔ یہ اپنے وطن ’قوس العباس‘ جو ہواز کا ایک موضع ہے سے عسکر مکرم پہنچا ۔ جہاں اس نے اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کیا ۔ اس طرح اس نے شہرت اور مال و دولت حاصل کی ۔ یہاں کے شیعہ باشندوں پر یہ راز کھل گیا تو وہ بصرہ سے ہوتا ہوا سلیمہ پہنچا اور مہدی کے ظاہر ہونے تک اس کے جانشین یہیں رہے اور عبداللہ کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے احمد نے اس کی جگہ لی ۔ 
طلبی ہونے کا دعویٰ
اس خاندان میں احمد پہلا شخص ہے جس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں عقیل بن طالب کی نسل سے ہیں ۔ کچھ دنوں کے بعد کہنے لگا ۔ میں حضرت علیٰ کی اولاد میں شامل ہوں ۔ اس نے دعوت اسمٰعیلہ کی اشاعت کی کوشش بہت کی اور مختلف شہروں میں کئی داعی بھیجے ۔ جن میں مشہور حسین اہوازی ہے جو عراق کی سمت روانہ کیا ۔ اس داعی کی ملاقات حمدان بن اشعت (قرمط) سے ہوئی ، جو قرامطہ کا بانی تھا ۔ 
عبداللہ المہدی
احمد کے انتقال کے بعد اس کے دو بیٹوں حسین اور ابو شلطع محمد مجیب سے حسین اس کا جانشین ہوا ۔ اس نے سلمیہ کی ایک یہودن سے نکاح کیا ۔ مگر قبل اس کے اس کا انتقال ہوگیا ۔ اس لیے اس نے یہودن کے اس لڑکے جو اس کے پہلے شوہر سے تھا متبنیٰ بنا کر اسے اپنا جانشین قرار دیا ْ لیکن اس کا بھائی چونکہ اس لڑکے کی عمر صرف دس سال تھی اس لیے اس نے اپنے بھائی ابو الشلطع کو اس کا ولی مقرر کیا ۔ اس لڑکے کا اصل نام ابو سعید الخیر تھا ۔ وہ ۳۷ سال کی عمر میں جب کہ مہدی کی حثیت پر رقاوہ میں ظاہر ہوا اور اس نے اپنا نام عبداللہ (عبید اللہ) رکھا ۔
ویصان
پرفیسر اولیری کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ کہتا ہے کہ میمنون ویصان ثنوی کا لڑکا ہے ان کا مقصد صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ فاطمین کو زنادقہ کی طرف منسوب کریں ۔ کیوں کہ تاریخ میں جو شخص ابن ویصان سے مشہور تھا ، وہ وہی ہے جو ثنویت کا قائل تھا اور جسے لوگ زندیق کہا کرتے تھے ۔ میمنون کو ویصان کا لڑکا قرار دینا بھاری تاریخی غلطی ہوگی ۔ کیوں کہ ابن ویصان ثنوی میمنون سے تقریباً چارسو سال بیشتر فوت ہوچکا تھا ۔     
اب ندیم الفہرست میں لکھتا ہے عبداللہ میمنون کا لڑکا ہے جو قداح کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ شخص قوزح العباس (کرج) کا رہنے والا تھا ، جو ہواز کے قریب ایک موضع ہے ۔ اس کے باپ کی طرف سے فرقہ میمونہ منسوب ہے ۔ یہ لڑکا ظاہر میں ابو الخطاب محمد بن ابو زینب کی جو علی بن ابی طالب کی الوہیت کا قائل تھا کی پیروی کرتا تھا ۔ میمنون اور اس کا لڑکا عبد اللہ دونوں ویصانی تھے ۔ عبداللہ ایک مدت تک نبوت کا دعویٰ کیا ، وہ بڑا شعبدہ باز تھا اور دور دراز ملکوں کی خبر دیتا تھا ۔ ابن ندیم کا پہلے میمنون کا مذہب بیان کرنا اور اس کے بعد کہنا کہ وہ اور اس کا لڑکا دونوں ویصانی تھے ۔ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ویصان کے لڑکے نہیں تھے ۔ بلکہ ویصان کی طرح وہ بھی ثنوی تھے ۔   
کفیل
اسمعیلی داعی ادریس کی روایت کے مطابق اسمعیل کے انتقال کے بعد جب محمد ان کے جانشین ہوئے تو ان کو جعفر صادق نے چھپا دیا اور عوام میں موسیٰ کاظم کو ان کا حجاب یا مستودع (یعنی ظاہری نائب) بنادیا ۔ چونکہ میمون دعوت باطنہ کا صدر تھا ، لہذا عام لوگوں نے سمجھ لیا کہ مہدی میمون کی اولاد میں سے ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ اس طرح دو سلسلے قائم ہوگئے ۔ ایک سلسلہ اماموں کا دوسرا کفیلوں کا ہے ۔ اسمعلیوں کی روایت کے مطابق امام اور کفیل کی ترتیب اس طرح ہے ۔       

امام ۔۔۔ محمد بن اسمعیل بن صادق ۔ عبداللہ ۔ احمد ۔ حسین ۔ المہدی
کفیل ۔۔۔۔ میمون القدع ۔ عبداللہ ۔ احمد ۔ حسین ۔ المہدی
دی غویہ کاتبصرہ
دی غویہ Doeje کا کہنا ہے کہ عرب اور اسلام سے بڑی نفرت کا ہی وہ سبب تھا جس نے تیسری صدی کے نصف میں ایک شخص عبداللہ میمنون کو جو پیشے سے قداح اور نسل کے اعتبار سے ایرانی تھا ایسی تجویز سمجھائی جو بڑی دلیری اور چالاکی سے سوچی گئی اور غیر معمولی یقین اور قوت سے عمل میں لائی گئی ۔
دی غویہ Doeje مزی لکھتا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسے ذریعہ فراہم کیے گئے جو بجا طور پر شیطانی کہے جاسکتے ہیں ۔ انسانی کمزوری کے ہر پہلو پر حملہ کیا گیا ، ایمان لانے والوں کو جانثاری سکھائی گئی ، بے پروا اشخاص کو صرف رخصت ہی نہیں بلکہ آزادی کی تعلیم دی گئی ، عقلمندوں کو فلسفہ سکھایا گیا ۔متعصبوں کو آخرت کی امیدیں دلائیں گئیں اور عام لوگوں کو معجزے دیکھائے گئے ۔ اسی طرح یہود کے سامنے ایک مسیح ، نصاری کے روبرو ایک فارقلیط ، مسلمانوں کے لیے ایک مہدی اور ایرانی اور شامی مشرکوں کے لیے ایک فلسفیانہ مذہبی نظام پیش کیا گیا ، جو ہمارے لیے حیرت انگیز ہے اور اگر ہم اس کے مقصد کو بھول سکیں تو ہماری تحسین کا مستحق ہے ۔
دوزی Dozy کا کہنا ہے کہ فاتح اور مفتوح کو ایک ہی جماعت میں مربوط کرنا اور آزاد خیال آدمیوں کو جو مذہب کو عام لوگوں کے لیے ایک لگام سمجھتے ہیں ایک ہی انجمن میں جس کی تعلیم کے مختلف مدارج ہوں شامل کرنا ، مومنوں کو کافروں کی حکومت قائم کرنے کے لیے ہتھیار بنانا ، غرض کہ ایک بڑی متحد اور اطاعت کیش پارٹی اپنے لیے بنانا جو وقت آنے پر تخت اگر خود اس کو نہیں کم از کم اس کو اولاد کو دے سکے ۔ یہ تھا عبداللہ میمنون کا زبردست خیال جو اگرچہ عجیب اور بے باک تھا ، لیکن عبداللہ نے اسے اپنی حیرت انگیز فراست ، بے مثل ہوشیاری اور ایک انسانی دل کی گہری معرفت سے اسے واقع بنا کر پیش کیا ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

xاکثر مورخین نے مہدی کو عبداللہ بن میمون قدح کی طرف منسوب کیا ہے ۔ میمون ایران کا باشندہ تھا اور مختلف ادیان و مذاہب کے اصول سے خوب واقف تھا ۔ اس نے زنادقہ کی تائید میں ’کتاب المیزان‘ لکھی ہے ۔ جس پڑھنے سے آدمی لامذہب ہوجاتا ہے ۔ یہ ظاہر میں اپنے مریدوں سے محمد بن اسمعیل کی بیت لیتا تھا ، لیکن حقیقت میں خود ملحد اور زندیق تھا ۔ اس کے بیٹا عبداللہ جس نے اپنے باپ سے اسرار دعوت اسماعیلیہ سیکھے ۔ اس کا پیشہ آنکھوں کا علاج تھا ۔ اس لیے وہ قداح کے نام سے مشہور تھا اس نے دعوت اسماعیلہ کے نو مدارج فری مسنری کی مانند مرتب کئے ۔ جن کو طے کرنے کے بعد اباحی بن جاتا ہے ۔ یعنی اعمال شریعت چھوڑ دیتا ہے اور محرمات کو مباح سمجھتا ہے ۔ یہ اپنے وطن ’قوس العباس‘ جو ہواز کا ایک موضع ہے سے عسکر مکرم پہنچا ۔ جہاں اس نے اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کیا ۔ اس طرح اس نے شہرت اور مال و دولت حاصل کی ۔ یہاں کے شیعہ باشندوں پر یہ راز کھل گیا تو وہ بصرہ سے ہوتا ہوا سلیمہ پہنچا اور مہدی کے ظاہر ہونے تک اس کے جانشین یہیں رہے اور عبداللہ کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے احمد نے اس کی جگہ لی ۔ 
طلبی ہونے کا دعویٰ
اس خاندان میں احمد پہلا شخص ہے جس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں عقیل بن طالب کی نسل سے ہیں ۔ کچھ دنوں کے بعد کہنے لگا ۔ میں حضرت علیٰ کی اولاد میں شامل ہوں ۔ اس نے دعوت اسمٰعیلہ کی اشاعت کی کوشش بہت کی اور مختلف شہروں میں کئی داعی بھیجے ۔ جن میں مشہور حسین اہوازی ہے جو عراق کی سمت روانہ کیا ۔ اس داعی کی ملاقات حمدان بن اشعت (قرمط) سے ہوئی ، جو قرامطہ کا بانی تھا ۔ 
عبداللہ المہدی
احمد کے انتقال کے بعد اس کے دو بیٹوں حسین اور ابو شلطع محمد مجیب سے حسین اس کا جانشین ہوا ۔ اس نے سلمیہ کی ایک یہودن سے نکاح کیا ۔ مگر قبل اس کے اس کا انتقال ہوگیا ۔ اس لیے اس نے یہودن کے اس لڑکے جو اس کے پہلے شوہر سے تھا متبنیٰ بنا کر اسے اپنا جانشین قرار دیا ْ لیکن اس کا بھائی چونکہ اس لڑکے کی عمر صرف دس سال تھی اس لیے اس نے اپنے بھائی ابو الشلطع کو اس کا ولی مقرر کیا ۔ اس لڑکے کا اصل نام ابو سعید الخیر تھا ۔ وہ ۳۷ سال کی عمر میں جب کہ مہدی کی حثیت پر رقاوہ میں ظاہر ہوا اور اس نے اپنا نام عبداللہ (عبید اللہ) رکھا ۔
ویصان
پرفیسر اولیری کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ کہتا ہے کہ میمنون ویصان ثنوی کا لڑکا ہے ان کا مقصد صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ فاطمین کو زنادقہ کی طرف منسوب کریں ۔ کیوں کہ تاریخ میں جو شخص ابن ویصان سے مشہور تھا ، وہ وہی ہے جو ثنویت کا قائل تھا اور جسے لوگ زندیق کہا کرتے تھے ۔ میمنون کو ویصان کا لڑکا قرار دینا بھاری تاریخی غلطی ہوگی ۔ کیوں کہ ابن ویصان ثنوی میمنون سے تقریباً چارسو سال بیشتر فوت ہوچکا تھا ۔     
اب ندیم الفہرست میں لکھتا ہے عبداللہ میمنون کا لڑکا ہے جو قداح کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ شخص قوزح العباس (کرج) کا رہنے والا تھا ، جو ہواز کے قریب ایک موضع ہے ۔ اس کے باپ کی طرف سے فرقہ میمونہ منسوب ہے ۔ یہ لڑکا ظاہر میں ابو الخطاب محمد بن ابو زینب کی جو علی بن ابی طالب کی الوہیت کا قائل تھا کی پیروی کرتا تھا ۔ میمنون اور اس کا لڑکا عبد اللہ دونوں ویصانی تھے ۔ عبداللہ ایک مدت تک نبوت کا دعویٰ کیا ، وہ بڑا شعبدہ باز تھا اور دور دراز ملکوں کی خبر دیتا تھا ۔ ابن ندیم کا پہلے میمنون کا مذہب بیان کرنا اور اس کے بعد کہنا کہ وہ اور اس کا لڑکا دونوں ویصانی تھے ۔ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ویصان کے لڑکے نہیں تھے ۔ بلکہ ویصان کی طرح وہ بھی ثنوی تھے ۔   
کفیل
اسمعیلی داعی ادریس کی روایت کے مطابق اسمعیل کے انتقال کے بعد جب محمد ان کے جانشین ہوئے تو ان کو جعفر صادق نے چھپا دیا اور عوام میں موسیٰ کاظم کو ان کا حجاب یا مستودع (یعنی ظاہری نائب) بنادیا ۔ چونکہ میمون دعوت باطنہ کا صدر تھا ، لہذا عام لوگوں نے سمجھ لیا کہ مہدی میمون کی اولاد میں سے ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ اس طرح دو سلسلے قائم ہوگئے ۔ ایک سلسلہ اماموں کا دوسرا کفیلوں کا ہے ۔ اسمعلیوں کی روایت کے مطابق امام اور کفیل کی ترتیب اس طرح ہے ۔       

امام ۔۔۔ محمد بن اسمعیل بن صادق ۔ عبداللہ ۔ احمد ۔ حسین ۔ المہدی
کفیل ۔۔۔۔ میمون القدع ۔ عبداللہ ۔ احمد ۔ حسین ۔ المہدی
دی غویہ کاتبصرہ
دی غویہ Doeje کا کہنا ہے کہ عرب اور اسلام سے بڑی نفرت کا ہی وہ سبب تھا جس نے تیسری صدی کے نصف میں ایک شخص عبداللہ میمنون کو جو پیشے سے قداح اور نسل کے اعتبار سے ایرانی تھا ایسی تجویز سمجھائی جو بڑی دلیری اور چالاکی سے سوچی گئی اور غیر معمولی یقین اور قوت سے عمل میں لائی گئی ۔
دی غویہ Doeje مزی لکھتا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسے ذریعہ فراہم کیے گئے جو بجا طور پر شیطانی کہے جاسکتے ہیں ۔ انسانی کمزوری کے ہر پہلو پر حملہ کیا گیا ، ایمان لانے والوں کو جانثاری سکھائی گئی ، بے پروا اشخاص کو صرف رخصت ہی نہیں بلکہ آزادی کی تعلیم دی گئی ، عقلمندوں کو فلسفہ سکھایا گیا ۔متعصبوں کو آخرت کی امیدیں دلائیں گئیں اور عام لوگوں کو معجزے دیکھائے گئے ۔ اسی طرح یہود کے سامنے ایک مسیح ، نصاری کے روبرو ایک فارقلیط ، مسلمانوں کے لیے ایک مہدی اور ایرانی اور شامی مشرکوں کے لیے ایک فلسفیانہ مذہبی نظام پیش کیا گیا ، جو ہمارے لیے حیرت انگیز ہے اور اگر ہم اس کے مقصد کو بھول سکیں تو ہماری تحسین کا مستحق ہے ۔
دوزی Dozy کا کہنا ہے کہ فاتح اور مفتوح کو ایک ہی جماعت میں مربوط کرنا اور آزاد خیال آدمیوں کو جو مذہب کو عام لوگوں کے لیے ایک لگام سمجھتے ہیں ایک ہی انجمن میں جس کی تعلیم کے مختلف مدارج ہوں شامل کرنا ، مومنوں کو کافروں کی حکومت قائم کرنے کے لیے ہتھیار بنانا ، غرض کہ ایک بڑی متحد اور اطاعت کیش پارٹی اپنے لیے بنانا جو وقت آنے پر تخت اگر خود اس کو نہیں کم از کم اس کو اولاد کو دے سکے ۔ یہ تھا عبداللہ میمنون کا زبردست خیال جو اگرچہ عجیب اور بے باک تھا ، لیکن عبداللہ نے اسے اپنی حیرت انگیز فراست ، بے مثل ہوشیاری اور ایک انسانی دل کی گہری معرفت سے اسے واقع بنا کر پیش کیا ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں