36

عہد قدیم میں ایرانی تورانی چبقلش

عہد قدیم سے توران اور ایرانیوں کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہی ہیں ۔ یہ وسط ایشیا کے قبائیل نسلی اعتبار سے ایرانیوں کے ہم نسل تھے ۔ اس لیے ان قبائیل کو تورانیوں سے تعبیر کیا گیا ہے اور انہیں بھی افریدون کی اولاد بتایا گیا ہے ۔ ایرانیوں کو ان قبائیل کے حملوں نے عاجز کر رکھا تھا ۔ کسی بھی فرمانروا کے لئے ان قبائیل کے حملے کی روک تھام بہت بڑا مسلہ بنی رہتی تھی ۔ ان قبائیل سے جنگوں میں کتنے ایرانی بادشاہ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ۔ داستانوں میں ان سب کو تورانی کہا گیا ہے اور خورس بھی ان قبائل سے لڑتا ہوا مارا گیا تھا ۔

ایرانی روایات کے مطابق ایران اور توران میں ایرج و تور کے وقت سے ایک دوسرے کے لیے رقابت تھی اور ان کے درمیان قدیم زمانے سے جنگیں ہوتی رہیں ہیں اور اوستا میں ان جنگوں کا ذکر ملتا ہے ۔ آٹھ لڑائیاں ایسی ہیں جن کے لیے گشتاسب اور اس کا بھائی اور وزیر جاماسپ نے فتح کے لیے دعائیں مانگی تھیں ۔ ان کے حریفوں کے نام بھی اوستا میں محفوظ ہیں اور انہیں کافر ، کاذب ، بدین اور لامذہب کے نام سے پکارہ گیا ہے ۔ اوستا کے جس نسک میں ان لڑائیوں کی تفصیل درج تھی وہ بظاہر تلف ہوچکا ہے اور یہ تلف ہونے کی روایت خود مشکوک ہے ۔ جس پر ہم اوستا میں بحث کریں گے اور ان لڑائیوں کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ تورانیوں اور ایرانیوں کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہیں اور انہیں مذہب سے جوڑ دیا گیا ہے ۔

 شاہنامہ کے مطابق بھی توران اور ایران کی قدیم زمانے سے لڑائیاں ہوتی رہیں ہیں اور گشتاسپ کی شاہ توران ارجاسب سے بھی لڑائیاں ہوتی رہی ہیں اور زرتشتی روایات میں بتایا گیا ہے کہ توران کے بادشاہ ارجاسپ نے یہ لڑائیاں ایران کے زرتشتی مذہب کو قبول کرنے کی وجہ سے جنگیں ہوئیں اور پہلوی مصنفین نے انہیں مذہبی جنگ بتایا ہے ۔ پہلوی ، فارسی اور عربی محقیقن نے اپنی تصانیف میں ان لڑائیوں کی تفصیل بیان کی ہے ۔ بقول مولانا آزاد کے تور و ایرج کا جیحوں میں زہر گھول دینا تھا کہ جس نے ایران و توران کے نام پر مٹ جانے پر بھی آبائی عداوت نہ جانے دی ۔

زرتشتی روایات کے مطابق گشتاسپ کے دشمن ارجاسپ شاہ توران سے محض مذہب کی وجہ سے جو اہم لڑائیاں ہوئیں وہ دو تھیں ۔ ان جنگوں کو پہلوی ، فارسی اور عربی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اوستا کے ایک گمشدہ نسک ساستونس میں تفصیل سے بیان کیا گیا تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں