81

عہد قدیم میں بینکاری

    
انسان نے جب سے کاروبار کرنا شروع کیا ہے اسی وقت سے ہی بینکاریbanking  کا آغازہوگیا تھا ۔ اگرچہ یہ آج کی طرح منظم نہیں تھا ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکاٍEncyclopadia Britannica میں بینک Bank کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہ بابل و مصر کے مندر صرف عبادت گاہیں ہی نہیں بلکہ بینک bank کا کام کرتے تھے ۔ 
بابل سے پہلے سمیریوں میں بھی تجارتی کمپنیوں Marchant Companies کا پتہ چلتا ہے ۔ جس کی ہیت ترکیبی کم و بیش موجودہ کاروباری اداروں جیسی تھی ۔ تجارت کے فروغ نے انہیں سکے کی ایجاد اور بینک Bank کے کاروبار کی طرف متوجہ کیا تھا ۔ چنانچہ انہوں نے پہلے پہل سونے کی انگوٹھیاں اور چھڑیاں بطور سکہ تبادلہ میں دینے کا سلسلہ جاری کیا ۔ پھر باضابطہ سکے چلائے اور لین دین میں ان کو استعمال کیا ۔ ان کے سکے عام طور پر چاندی کے ہوتے تھے ۔ جن کو وہ شیکل کہتے تھے ۔سمیری شہروں میں بڑے بڑے بینک قائم تھے ۔ جن کا کاروبار دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ کھدائی کے دوران ان کے بینکوںکے سینکڑوں تمسکات جو مٹی کی تختیوں پر کندہ تھے برآمد ہو ئے ۔ 
بابل کے آثار قدیمہ میں جوشن میں مٹی کی تختیاں ملی ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ زمیندار اپنی فصل کاٹنے سے پہلے اپنی زرعی ضروریات کے لیے مندروں سے قرض لیا کرتے تھے اور فصل کاٹنے کے بعد اصل مع سود کے ادا کیا کرتے تھے ۔ یہ ساہوکاری نظام دو ہزار سال قبل مسیح پایا جاتا تھا ۔ چھٹی قبل مسیح کے لگ بھگ بابل میں پرائیوٹ   بینک کام کررہے تھے ۔ ۵۷۵ قبل مسیح بابل میں ایک ایسے بینک کا پتہ چلتا ہے ، جو زمینداروں کو زرعی مقاصد کے لیے قرض دیتا تھا ۔ نیز لوگوں کی امانتوں پر سود بھی ادا کرتا تھا ۔ 
بابلی مندروں کے پجاری اپنے مذہبی تقدس اور سودی کاروبار کی وجہ سے ملک کا سب سے دولت مند طبقہ بن گیا تھا ۔ اس کے علاوہ بابل میں تجارت کے لیے بڑی بڑی کمپنیاں Trading Compnies بن گئیں تھیں جن میں بڑے بڑے ساہوکار سرمایا لگاتے تھے ۔ اس کے علاوہ انفرادی کاروبار کرنے والے ساہوکاروں اور مہاجنوں سے قرض لے سکتے تھے ۔ سامان تجارت اور نقد پر سود کی شرح بہت زیادہ تھی ۔ یہ بیس سے تیس فیصد تک زر نقد وصول کیا جاتا تھا ۔ ملک میں کوئی سرکاری بینک نہیں تھا ، بلکہ چند ذی حیثیت خاندان مہاجنی کا کاروبار کرتے تھے ۔ ان کے گھروں کو بینک کی حیثیت حاصل تھی ۔ جہاں رقم کی ادائیگی ہنڈیوں یا تحریری ڈرافٹ کے ذریعے بھی ہوتی تھی ۔ بابلی شہروںسے ساہوکاروں کی جو تحریری دستاویزات دستیاب ہوئیں ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خرید و فروخت ، ٹھیکہ اور شراکت داری کے کمیشن ، تبادلہ ، تجارتی مفادات اور ہنڈیوں کے متعلق ہیں ۔ 
حمورابی کے ضابطہ قانون میں بھی سود کے متعلق قوانین درج ہیں ۔ ضابطہ قانون میں سود کی شرح کی تفصیل پائی جاتی ہے ۔ سود کی ایک دفعہ میں ہے ’’اگر کسی ساہوکار نے غلہ یا چاندی قرض پر دیا ہو تو وہ فی گر (ایک من سات سیر) غلے  پر سو قاع (قاع:آدھاسیر) سود لے سکتا ہے ۔ اگر چاندی قرض پر دی ہو تو ایک شیکل چاندی پر آدھا شیکل (۵۹گرین) لے سکتا ہے ۔ سود کی زیادہ سے زیادہ شرح بیس فیصد تھی ، اگر ثابت ہوجاتا کہ قرض خواہ نے قرض دار سے بیس فیصد سے زیاہ سود وصو ل کیا ہے تو قرضے کی رقم سے ضبط ہو جاتا تھا ۔ اسی طرح سود در سود کی سخت ممانعت تھی ۔ مجرم ثابت ہونے پر مجرم سے دوگنی رقم وصول کی جاتی تھی ۔ مقروض اگر چاندی کے بدلے چاندی ادا کرنے سے قاصر ہو تو اس کے عوض رقم کی مالیت کے برابر اناج مع سود کے ادا کرنا ہوتا تھا ۔  
مزروغہ زمین رہن رکھی جاسکتی تھی اور اس کی فصل ملکیت ہوجاتی ہے ۔ ضابطہ قانون کے تحت زمین دار کا فرض تھا کہ اپنے حصہ کی فصل میں رہن کے قرض کی رقم معہ سود اور زراعت کے مصارف کے ادا کرے ۔ ہاں اگر کسی کاشتکار کی زمین میں سیلاب یا خشک سالی کی وجہ سے فصل نہیں پیدا ہوئی ہو تو کا شتکار سال بھر کے لیے قرض خواہ کو قرض ادا کرنے سے بری ہوجاتا تھا اور اس سال کا سود بھی واجب الادا نہیں ہوتا تھا ۔ 
اس طرح تجارت کے ضابطے موجود تھے ۔ مثلاً پھیری والا کسی سوداگر یا دوکاندار سے مال لے جاتا تو فروخت شدہ مال کی قیمت اور سود سوداگر کو ادا کرنا پڑتا تھا ۔ البتہ اس پر سود دنوں کے حساب سے لیا جاتا تھا ۔ پھیری والے کے مال کے نفع میں سوداگر کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا ۔ لیکن پھیری والا دیوتا کی قسم کھا کر کہتا کہ میرا مال دشمنوں نے لوٹ لیا ہے تو وہ رقم کی ادائیگی سے بری ہو جاتا تھا ۔ 
برصغیر پاک وہند میں آریاؤں کے دور میں تجارت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ۔ اس لیے سکے بھی رواج نہیں پا سکے ۔ لیکن پھر بھی کچھ مقامی قوموں کا تذکرہ ملتا ہے ، جو تجارت پیشہ تھیں ۔ بعد کے عہد میں یہاں بھی تجارت کو فروغ حاصل ہوا ۔ دارا اول نے اپنے سالار اکائی لاکس کو ہندوستان بھیجا جس نے یہاںکے بری اور بحری راستوں کا پتہ لگایا ۔ اس کے بعد مغربی حصہ ایرانی سلطنت میں ملالیا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آمد ورفت کی نئی راہ کھل گئی ۔             
سکندر کے حملہ کے بعد تجارت کی ایک نئی راہ کھل گئی اور ہندوستان کا تجارتی رابطہ ایران کے علاوہ عراق ، شام ، یونان اور مصر سے قائم ہوگیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوؤں میں بھی بینک اور تجارتی کمپنیاں کھلی ہوں گی ۔ کیوں کے اس زمانے میں منو سمرتی تصنیف ہوئی ۔ اس میں سود کے متعلق احکام درج ہیں کہ سود کی شرح سوا روپیہ فیصد ہونا چاہیے ۔ لیکن دو روپیہ لینا گناہ نہیں ہے ۔ اس شرح کے مطا بق برہمن سے دو روپیہ ، کشتری سے تین روپیہ ، ویش سے چار روپیہ اور شودر سے پانچ روپیہ ماہانہ لیا جاسکتا ہے ۔ ویش کا کام کھیتی باڑی کرنا ، تجارت کرنا ، چوپایوں کو پالنا اور سود لینا تھا ۔ 
ایتھنز Athins کا دور (۴۸۰ تا ۳۹۹ قبل مسیح) جوعہد زرین کہلاتا ہے ، اس وقت سے وہاں بینکاری کے اداروں کی داغ بیل پڑ گئی تھی ۔ وہاں کچھ لوگ ایسے تھے جو اشیاء کو رہن رکھ کر ۱۶ تا ۱۸ فیصد شرح سود پر قرض دیاکرتے تھے ۔ کچھ لوگ بغیر سود کے بھی قرضے دیا کرتے تھے ۔ وہاں معبد Tampal بھی بینکوں کا کام کرتے تھے ۔ لوگ وہاں اپنی امانتیں جمع کراتے اور قرض لیا کرتے تھے ۔ یہ معبد افراد اور حکومتوں کو متبدل شرائط پر قرض دیا کرتے تھے ۔ ڈلفی کا اپالو مندر Tampal cf Apolo in Dalfi جو ایک حد تک یونان کے لیے بین الاقوامی بینک کرتاتھا ۔ دوسرا مشہور معبدی بینک bank Tampal ڈیلاس Delos کا تھا ۔ یہ دونوں ادارے امانتیں رکھتے تھے اور ۱۰ سے ۳۰ فیصد سالانہ شرح سود پر قرض دیتے تھے ۔ 
صراف Trapeza Money Changer At Histable جو پہلے روپیہ کا مبادلہ اور کھرے کھوٹے کی پرکھ کرتے تھے ، پانچویں صدی قبل مسیح میں لوگوں کی امانتیں رکھنے لگے اور ۱۲ سے ۳۰ فیصد تک شرح سود پر قرض دیا کرتے تھے ۔ انہوں نے ہی مشرق ادنیٰ Asia Mioner سے سیکھ کر روم Rome کے حوالے کئے جہاں سے وہ یورپ پہنچے ۔ صرافوں کے ذریعہ روپیہ پہلے سے زیادہ آزادی اور تیزی سے گردش کرنے لگا ۔ 
یونانی تجارت ۴۸۰ تا ۴۳۰ قبل مسیح میںاپنے عروج پر پہنچ گئی ۔ ایتھنز میں آئی سولرٹیر اور تھیوسی ڈائڈز کے مطابق دنیا بھر کی مصنوعات یہاں باآسانی فراہم ہو سکتی تھی اور مہذب دنیا کا کوئی ایسا گوشہ نہیں تھا جہاں کا مال یہاں نہیں دستیاب نہ ہو ۔ چوتھی صدی قبل مسیح تک یہاں بینکار ی اب ہنڈیوں ، چیک نقد کے بجائے ادائیگی زر کے حکم ناموں کے ذریعہ ہونے لگی ۔ رقم کی منتقلی بینک bank کے بہی کھاتوں میںاندراج کے ذریعہ ہونے لگی ۔بعض شہروں مثلاً ڈیلاس Delos قسطنطنیہ Byzantium میں عوامی یا قومی بینک bank Bublic or Narinal قائم ہوئے ۔ جس میں حکومتی پیسہ رکھا جاتا تھا ۔ ان کی نگرانی حکومتی افسران کرتے تھے ۔ 
سکندراعظم کی فتوحات نے ایلام ، سمیریا ، فارس ، بابل ، آشوریہ ، شام ، قیقیا ، ایشائے کوچک اور فلسطین کو ایک لڑی میں پرو دیا ۔ سکندر کا جرنیل سلوکس نے سلیوسیا کو اپنا دار لسلطنت بنایا ۔ جو اس زمانے میں بین الاقوامی تجارت کا مرکز تھا ۔ 
قرطاجنہ اور روم کا محکوم اسپین ، ہملکار کا قرطاجنہ ، ہیرن ثانی کے عہد کا سائرا کار ، روم اور موریوں کا ہندوستان ، سلوکیوں کا ادنیٰ مشرق ، بطلیموسیوں کا مصر اور ہانوں کا چین یہ سب بین الا قوامی تجارت کے رشتہ میں بندھے ہوئے تھے ۔ چین کو جانے والے تجارتی راستے ترکستان ، فارس اور باختر سے گزرتے ہوئے یا بحرہ ارل ، کسیپن اور بحیرہ اسود ہوتے ہوئے گزرتے تھے یا عرب اور پطرا ہوتے ہوئے یروشلم اور دمشق کو اور بحر ہند سے ہوتے ہوئے عدن اور بحیرہ قلزم ہوتے ہوئے اور سوئیز اور پھر اسکندریہ جاتے تھے ۔ آخری الذکر راستے کے لیے سلوکسی اور بطلیموسی خاندان کے باہم اتنی جنگیں ہوئیں کہ سلوکسی کمزور ہوگئے اور انہیں رومیوں کا جوا اپنے سر پر رکھنا پڑا ۔ پہلی صدی عیسوی میں یہودی مصنف جوزیفس لکھتا ہے کہ اس زمانے کی عظیم تاجر قومیں فنیقی ، عرب اور یونانی تھے ۔ 
مصرجہاں بطلیموسی حکمران تھے ، وہاں بینکاری کو بھی بین الاقوامی تجارت کے ساتھ فروغ ملا ۔ وہاں کے بینک سود پر روپیہ دیتے تھے اور شاہی خزانے کے حسابات اور مطالبات ادا کیا کرتے تھے ۔ اسکندریہ کے مرکزی بینک کی شاخیں تمام ملک میں قائم تھیں ۔ 
دوسری صدی قبل مسیح میں اٹلی کے شہروں میں سرمایادار طبقہ بینکاری کا کام کرتا تھا ۔ یہاں ہر قسم کی بینکاری کا کام نہایت سرعت اور اطمینان سے انجام دیا جاتاتھا ۔سن عیسوی کی ابتدائی دو صدیوں میں بینکار ہر جگہ پائے جاتے تھے ۔ یہ صرافے کا کام کرتے تھے ، اما نتیں رکھتے تھے ، ان پر سود دیتے تھے ، سفری چیک اور ہنڈیاں جاری کرتے تھے ۔ زمین و جائداد کی خرید و فروخت کرتے تھے ، قرضے جمع کرتے اور افراد اور شراکتی کمپنیوں کو قرض دیتے تھے ۔ آگٹس اور ٹائی ببرس کے عہد رومی بینکوں کا ذکر ملتا ہے ۔ مگر تیسری صدی عیسوی کے بعد روما میں معاشی زوال آگیا ۔ قسطین اعظم نے ۳۰۳؁ء میں عیسائیت قبول کرلی اور ۳۳۰؁ء دارلحکومت قسطنطنیہ منتقل کردیا ۔     

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں