44

غز

 مسلمان جغرافیہ دانوں محمودکاشغری ، رشید الدین اور ابوزید البلخی ترک قبائل کا تفصیلی ذکر کیا ہے ۔ جو ترک قبائل بلاد اسلام کے قریبی ہمسائے تھے ۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا ۔ جسے اغوز بھی پکارا جاتا تھا اور اسی نسبت سے بلاد اسلام میں ترکی النسل قبائل کو اغوز کہا جاتا تھا ۔ اغوز یا غز ْقبیلے نے دوسرے ترک قبائل کے ساتھ غالباً چوتھی اور پانچویں صدی ہجری درمیان اسلام قبول کرلیا تھا ۔  
غز قبیلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلجوقی فرمانروا سلطان سنجر کے دور میں خراسان آئے تھے ۔ سلطان سنجر نے انہیں روکنے کی کوشش کی ۔ مگر جنگ میں اس کے لشکرکو شکست ہوگئی اور وہ خود بھی قید ہوگیا تھا ۔ غزوں نے خراسان کے بعد غزنہ اور کرمان پر بھی قبضہ کرلیا تھا ۔ یہ علاقے انہوں نے خسروشاہ غزنوی سے چھینے تھے ۔ 
مقامی حکمران ان سے مقابلے میں عاجز آگئے تھے ۔ سلطان جلال الدین خوارزم شاہ خطا سے لشکر لے کر آیا اور خوارزم ان سے خالی کریا ۔ سلطان سیف الدین غوری نے غزوں کو نکالنے کی کوشش کی مگر لشکر غوری نے شکست کھائی اور وہ مارا گیا ۔ بالاآخر سلطان غیاث الدین غوری نے غزوں سے غزنہ ، کابل اور زابلستان خالی کروائے ۔ 
مگر غز افغانستان کے علاقے میں پہلے سے رہائش پزیر تھے اور مقامی حکمرانوں کے لشکروں میں شامل تھے ۔ سلطان جہاں سوز کے لشکر میں بھی غز تھے اور سلطان سنجر سے مقابلے کے وقت دوسرے ترکی لشکر کے ساتھ غز بھی سلطان سنجر کے ساتھ جاملے ۔ شار اور سقران قبیلے کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی غز قبیلے تھے ۔ خاص کر شاروں سے غوریوں کے اچھے تعلقات تھے ۔ بعد کے دور میں بھی غز غوریوں کے لشکر میں شامل تھے ۔ سلطان جلال الدین علی کے لشکر میں بھی غز شامل تھے ۔ 
ہنوں کو افغانستان سے نکالنے میں ترکوں نے ساسانی فرمانروا کی مدد کی تھی ۔ مگر جلد ہی اس علاقے پر ان کا اقتدار قائم ہوگیا تھا ۔ برہمن شاہی یا ہندو شاہی سے پہلے جو خاندان حکمران تھا اس کو ترک بتایا جاتا ہے ۔ اس کی تصدیق اس طرح ہوتی ہے کہ ان کے ناموں میں کلمہ تگین شامل تھا ۔ اس خاندان کی یاد گار زابلستان میں تگین آباد شہر تھا ۔ جو انہوں نے آباد کیا تھا ۔ اس کے محل وقوع کا اب تعین نہیں کیا جاسکا ہے ۔ غزنی کا ابتدائی نام گنجہ یا غزنک بتایا جاتا ہے یہ بھی غالباً غز کا معرب ہے اس کو بھی غالباً غزوں نے بسا یا تھا ۔
برصغیر میں آباد گوجروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہنوں کے ہم نسل اور ان کے بعد آئے تھے ۔ غز جو غرز بھی کہلاتے تھے غالب امکان یہی ہے کہ یہ گجر یا گوجر بدل گیا ہے ۔ کیوں کے ہند آریائی میں ’غ‘ ’گ‘ میں بدل جاتا ہے ۔ (دیکھے گوجر)

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں