94

غلزئی

نعمت اللہ ہرتی لکھتا ہے کہ شاہ حسین غوری جو شیخ بٹن کے پاس رہنے لگا تھا ، اس نے بٹن کی لڑکی سے جنسی تعلقات قائم کرلئے ۔ شیخ بٹن کو جب اس کی اطلاع ملی تو اس نے جب دیکھا لڑکا اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو اس نے متو کی شادی شاہ حسین سے کردی ۔ شادی کے تین یا چار ماہ کے بعد ہی ایک لڑکا پیدا ہوا ۔ شیخ بیت کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ یہ لڑکا چونکہ چوری کی کمائی ہے اور ماں باپ کی رضامندی کے بغیر پیدا ہوا ہے اس لئے مناسب ہے لڑکے کا نام غل زوئی رکھ دیا جائے ۔ افغانی زبان میں غل چوری کو کہتے ہیں اور لڑکے کو زوئی کہتے ہیں یعنی چوری کا لڑکا ۔ چنانچہ یہ لڑکا اسی نام سے مشہور ہوا ۔

یہ تاویلات بعد کی پیداوار ہیں ۔ یہ کلمہ دوحصوں غل+زئی پر مشتمل ہے ۔ غر پشتو میں پہاڑ کو کہتے ہیں اور ’ر‘ ’ل‘ میں بدل گیا ہے ۔ اس طرح غل غڑ سے مشتق ہے اور زئی کے معنی زات ، خاندان اور قبیلہ کے ہیں ۔ اس طرح اس کے معنی پہاڑی قبیلہ کے ہیں ۔ ہوسکتا یہ اس کی اصل ہو مگر قرین ترین قیاس میں اس کی اصل ترکی قبیلہ غز ہے جو قبل اسلام افغانستان کے علاقے میں آباد ہوگیا تھا ۔ یہ غز امتعداد زمانہ سے یہ غلزئی ہوگئے ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے اس کلمہ کی اصل غلج ہو جو کہ ترکی قبیلہ قبل اسلام سے افغانستان میں آباد تھا اور اس کی کسی شاخ نے غلزئی کا نام اختیار کرلیا ہو ۔ کیوں کہ پشتو کی مغربی بولی میں ’ج‘ ’ز‘ سے بدل جاتا ہے اور یہ غلج سے غلز اور لائقہ زئی کے ساتھ غلزئی ہوگیا ۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ترکی النسل ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ افغانوں کی پہلی قومی آزاد حکومت کی بنیاد غلزئیوں نے قندھار میں رکھی تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں