99

غوری

ٍٍ عربوں کے حملے کے وقت علاقہ غور میں جہان پہلوان کی حکمرانی تھی ۔ بعد کے دور میں یہاں غوری حکمران ہوئے ۔ غالباً یہ جہان پہلوان کے اخلاف تھے علاقے کی نسبت سے غوری مشہور ہوئے ۔
شہان غور اپنا مورث اعلیٰ ضحاک بتاتے ہیں ۔ منہاج سراج نے غوریوں کا جو شجرہ نسب بتایا ہے اس میں سنسب جو غوریوں کا جد امجد ضحاک کی نسل سے تھا ۔ سنسب کے بارے میں منہاج سراج لکھتا ہے کہ غالباً اس نے حضرت علیؓ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا اور ان سے جھنڈا اور فرمان حکمرانی حاصل کیا ۔ خاندان میں جو بھی تخت نشین ہوتا اسے وہ جھنڈا اور فرمان حکمران دے دیا جاتا تھا ۔
نعمت اللہ ہروی غوریوں کو ضحاک نسل بتاتا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ عربی نژاد تھا اور اس نے بہرام غوری کو غوریوں کا جد امجد بتایا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ سلطان بہرام غوری امیر المومنین حضرت علیؓ کی خلافت کے زمانے میں کوفہ حاضر ہوا اور حضرت علیؓ نے ایک خاص فرمان اپنے دستخط سے تحریر فرما کر اسے عطا کیا ۔ جس کی رو سے غور ستان کی حکومت اسے عطا کی گئی ۔
نعمت اللہ ہروی کے مطابق افغانوں کو بخت نصر نے شام سے نکالا تو وہ کوہستان غور اور اس کے آس پاس آباد ہوگئے ۔ شیر محمد گنڈاپور کا کہنا ہے کہ افغان غور میں رہنے کی وجہ سے قوم ضحاک سے تعلقات بڑھنے لگے اور یہاں تک وہ آپس میں شادی بیاہ کرنے لگے اور پوری طرح گھل مل گئے اور سوائے ناموں کے کوئی امتیاز باقی نہ رہا ۔ بنی اسرائیلی افغان کہلاتے تھے اور ضحاکی غوریوں کے نام سے موسوم رہے ۔ سوائے اس کے کہ ان میں سے اس سے قبل جو ضحاک کی نسل میں سے تھے وہ دو خاندانوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ ایک خاندان جو سوریوں کا مخالف تھا جو کہ اپنے کو افغان کہتا تھا اور وہ سوریوںمیں محسوب تھا ۔ لیکن تمام افغانوں کی بادشاہت خاندان سوری کے پاس تھی اور دوسرے تمام خانوادے سوریوں کی ریاست کے ماتحت تھے ۔ علاقہ غور کے باشندے جن میں افغان اور ضحاک نسل غوری شامل تھے قیس کے ہاتھوں اسلام قبول کرلیا تھا ۔
نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ بہرام کا پوتا یعنی شاہ حسین بن شاہ معزالدین محمد بن جمال الدین حسن بن سلطان بہرام غوری پٹھانوں کے متو طبقے کا مورث اعلیٰ ہے ۔ جس نے بٹن کی لڑکی متو سے شادی کی تھی ۔ جس بطن سے پٹھانوں کے شجرہ نسب میں بہت سے قبیلے بتائے گئے ہیں ۔ واضح رہے بہرام غوری کے بارے میں نعمت اللہ ہروی نے لکھا ہے کہ اس نے حضرت علیؓ کی خدمت میں ان کی دور خلافت (۳۵ھ تا۴۰ھ) میں کوفہ میں حاضری دی تھی اور حضرت علیؓ نے اسے اپنے دستخط خاص سے ایک فرمان دیا تھا ۔ جس کی رو سے غور کی حکومت اس کے سپرد کی گئی تھی اور شاہ حسین کے بارے میں لکھتا ہے کہ ظہور اسلام کے بعد خلیفہ ولید کے عہد (۶۱ھ تا ۹۶ھ) میں حجاج کی فوجوں نے غور پر چڑھائی کی تو شاہ حسین بٹن کے پاس آگیا تھا ۔ جب کہ حضرت علیؓ کی خلافت کی ابتدا (۳۵ھ) سے اور ولید کی خلافت کے آخر (۹۶ھ) کا درمیانی عرصہ قمری اعتبار سے ۶۱ سال بنتا ہے ۔ اس عرصہ میں بہرام غوری کی چار پشتیں بتائیں گئیں ہیں ۔ یہ ممکنات میںسے نہیں ہے کیوں کہ ہم بہرام غوری کی حضرت علیؓسے ملاقات کے وقت اس کی ادھیڑ عمری بھی لگالیں تو بھی اس کی چوتھی پشت اس قابل نہیں ہوگی کہ وہ شادی کر سکے ۔ جب کہ اس کو حضور ﷺ کا ہم عصر بتایا گیا ہے اور اس کی پوتی متو کی شادی شاہ حسین سے ہوئی تھی ۔ واضح رہے کہ یہ عرصہ سو سال سے کچھ کم بنتا ہے ، اس عرصہ میں متو بٹن کی بیٹی کی بوڑھی نہیں ہوئی ہوگی تو تب بھی اڈھیر عمری ہوگی ۔ یعنی شادی کی عمر سے گزر چکی ہوگی اور اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوگی ۔ اس بحث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تمام روایات موضع ہیں جنہیں حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ جب کہ تاریخی حقائق کے مطابق اس علاقہ میں اسلام چوتھی صدی ہجری میں آیا تھا ۔ جیسا کہ بالاالذکر لکھا جاچکا ہے اور درج ذیل بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور تمام من بیانات گھڑت ہیں ۔
واضح رہے یہ تمام روایات موضوع ہیں اور وضع کی گئیں ہیں ۔ چوتھی صدی ہجری تک اس علاقہ میں مسلمانوں اور مقامی باشندوں میں لڑائیاں ہورہی تھیں ۔ اس وقت زابل ، کابل ، بست ، جروم اور دوسرے علاقوں کے مقامی حکمران غیر مسلم تھے اور ان کی حکومتیں قائم تھیں ۔ ابن کثیر لکھتا ہے کہ افغانستان کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا مگر خود افغان ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کافر سمجھے جاتے تھے ۔ یہ علاقہ صفاریوں کے دور میں مسلمانوں کے قبضہ میں آئے تھے اور افغانستان کے اکثر قبائل محمود غزنوی کے دور میں مسلمان ہونا شروع ہوئے تھے ۔ ابن حوقل چوتھی میں غور کے علاقے میں آیا تھا ۔ وہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ مسلمان پائے جاتے ہیں باقی کافر ہیں ۔ محمود غزنوی نے غور پر حملہ کیا اور محمد بن سوری کو گرفتار کر کے لے جارہا تھا کہ اس نے راستے میں وفات پائی ۔ العتبی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ اپنے نام کے باوجود مسلمان نہیں تھا ۔ حدود العالم میں ہے کہ یہ ہندو تھا ۔ محمود غزنوی نے اس کے بیٹے ابو علی کو حکمران بنا دیا جو کہ مسلمان تھا ۔ صاحب حدود العالم قندھار شہر کو برہمنوں اور بتوں کی جگہ ، لمغان کو بت خانوں کا مرکز ، بنیہار کو بت پرستوں کا مقام خیال کرتا ہے ۔ اس وقت بست ، رخج اسلامی شہر تھے اور کابل کی نصف آبادی مسلمانوں کی اور نصف ہندوں کی تھی ۔ الاصطخری غور کو دارلکفر قرار دیتا ہے جہاں مسلمان بھی رہتے ہیں ۔ غوری قبائل چوتھی صدی ہجری تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔محمود غزنوی کے دور سے پہلے تک اس اطراف میں نہ اسلامی درسگاہیں تھیں اور نہ ہی اسلامی تعلیم کا رواج تھا اور نہ ہی مسلمان علماء یہاں پھیلے تھے ۔
منہاج سراج لکھتا ہے کہ امیر سوری کے عہد میں بعض علاقے مثلاً ولشان بالا و زیر ابی شرف اسلام نہیں ہوئے تھے اور ان میں باہم جھگڑے ہونے لگے ۔ صفاریوں نے نیمروز سے بست و زمند کا قصد کیا ۔ یعقوب لیث نے تگین آباد (رخج) کے امیر لک لک ( لویک ) پر حملہ کردیا ۔ غوریوں کے مختلف گروہ سنگان کی سرحد پر پہنچ گئے ۔ (غالباً حملے کی وجہ سے) اور وہاں سلامت رہے ۔ لیکن ان کی لڑائی جھگڑے جاری رہے اور یہ لڑائی اہل اسلام اور اہل شرک کے درمیان تھے ۔ چنانچہ گاؤں گاؤں میں جنگ جاری تھی ۔ چونکہ غور کے پہاڑ بہت اونچے تھے اس لئے کسی غیر کو ان پر تسلط پانے کا شرف نہیں ملا ۔
ان بیانات سے بخوبی واضح ہوتاہے کہ پہلی صدی ہجری میں افغانستان میں اسلام پھیلنا تو درکنار آیا تک نہیں تھا اور غوری پہلے ہندو مذہب تھے اور وہ چوتھی صدی ہجری میں مسلمان ہوئے ۔ اس سے پہلے اسلام صرف بڑے شہروں میں آیا تھا ۔ لہذا غوریوں کی پہلی صدی ہجری میں اسلام لانے کی روایت موضع ہے ۔
بار تولید کا کہنا ہے کہ کلمات غور ، غرچہ ، غرج اور غلج سب ایک ہی سلسلے کے نام ہیں اور وسط ایشیا میں بہت سے قبیلے اور نام ان لفضوں سے بنے ہیں ۔ غوری ابتدا میں سوری لائقہ لگاتے تھے ۔ منہاج سراج نے ابتدائی حکمرانوں میں صرف فولاد غوری کے ساتھ غوری کا لائقہ لگایا ہے اور باقی دوسرے حکمرانوں کے ناموں کے ساتھ سوری کا لائقہ لگا ہوا ہے ۔ سوری سب سے پہلے امیر سوری کے نام میں ملتا ہے ۔ بعد کے حکمرانوں کے ساتھ غوری کا لائقہ لگا ہوا ہے ۔ برصغیر میں سورج بنسی راجپوت سوریا کہلاتے تھے اور سوریا ہند آیائی لہجہ ہے ۔ غالباً یہ برصغیر کے سورج بنسی یا سوریا کے ہم نسل ہیں اور انہوں نے غور کی نسبت سے غوری کا لائقہ استعمال کیا ہے ۔
راجپوتانے میں ایک سورج بنسی قبیلہ گور آباد ہے اور اس قبیلے نے بنگال پر بھی حکومت کی ہے ۔ بنگال انہی کی نسبت سے گور کہلاتا تھا ۔ یہ گور غالباً غوریوں کے ہم نسل ہیں اور برصغیر میں آکر گور کہلائے ۔ کیوں کے ہند آریائی میں ’غ‘ ’گ‘ سے بدل جاتا ہے اور جیمز ٹاڈ بھی اسی کا قائل ہے ۔ جو رجپوتانہ کے گور مسلمان ہوئے وہ اپنے کو غوری کہتے ہیں ۔ مگر ان کی عادت و اطوار اور رسومات سے بخوبی اندازہ ہوتا کے یہ ہندو سے مسلمان ہوئے ہیں ۔
شیر محمد گنڈا کا کہنا ہے اب غوری نام کا کوئی قبیلہ افغانوں میں نہیں پایا جاتا ہے اور افغان قبائل کا ایک گروہ غور النسل ہے لیکن انہوں نے اپنا لائقہ غوری کو ترک کردیا ہے ۔ افغان روایتوں میں آیا ہے کہ تمام افغان قبائل غور سے ہجرت کرکے مختلف علاقوں میں پھیلے ہیں ۔
گو اب غوری قبیلہ افغانوں میں نہیں پایا جاتا ہے ۔ لیکن بہت سے گروہ اپنے کو غوری کہتے ہیں اور متو طبقہ کے علاوہ اور پٹھانوں کے شجرہ نسب میں بہت سے قبائل کلمہ غور سے بنے ہیں ۔ دوسرے بہت سے قبائل کے بارے میں کہے سکتے ہیں کہ وہ غوری النسل ہیں ۔ مثلاً غرہ خیل جس میں متعدد قبائل شامل ہیں اور اس کلمہ کی اصل غور ہے ۔
غوری جو غزنویوں کے بعد افغانستان کی بڑی طاقت بن گئے تھے اور انہوں نے برصغیر میں باقیدہ مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ مگر غوری سلطان غیاث الدین محمود بن سلطان محمد نے سوائے غور کے علاقہ کے سوا تمام سلطنت سلطان محمد غوری کے غلاموں کو پروانہ آزادی کے ساتھ حکمرانی بخش دی تھی ۔ مگر جلد ہی پہلے خوازم شاہی اور پھر منگولوں نے ایک ایک کرکے ان کے تمام علاقے فتح کرلئے ۔ اس طرح غوریوں کی سلطنت کا سورج ۶۰۵ھ/۱۳۱۳ء میں ڈوب گیا ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں