74

فقہ حنفی کا ارتقاء

امام ابو حنیفہ نے کوفہ میں ایک مدرسہ قائم کیا ۔ جس کا مقصد دین کی بنیادوں میں وسعت اور ایک واجب العمل مجموعہ قوانین مرتب تھا ۔ جو قران و سنت و آثار صحابہ پر مبنی ہوا ۔ امام ابو حنیفہ نے بہت سی حدیثوں کو مختلف دلائل کی بنا پر انہیں وضعی ثابت کرکے مسترد کردیا اور اپنے استدالال و دلائل کی بنیاد قران کریم پر رکھی ۔ نظائر و تماثل ، مطابقت اور مماثلت کی بنیاد پر نتاءج اخذ کرکے حتیٰ الامکان کوشش یہ کی کہ کتاب اللہ کو ہر امر کی سند گردانیں ۔ ان کے دو شاگردوں امام یوسف اور امام محمد نے انہیں مسائل کی بنیاد پر ترتیب دیا ۔ امام ابو حنیفہ کے متعلق مشہور تھا کہ انہوں نے صرف سترہ حدیثوں کو مانا ہے ۔ کیوں کہ اس زمانے میں وضعی حدیثوں کی اس قدر کثرت ہوگئی تھی ۔ اس لیے حنفی حدیثوں پر توجہ نہیں دیتے تھے اور امام ابوحنیفہ نے فقہ کا عظیم انشان مجموعہ صرف قران کی مدد سے ترتیب دیا ۔ جس میں عقل کو استعمال کیا گیا تھا اور اس لیے یورپی مشتسرین نے الزام لگایا کہ فقہ حنفی رومن لا کی نقل ہے ۔ جب کہ بقول ابن خلدون کے اس میں حضری تہذیب و تمدن کو مد نظر رکھا گیا ۔

وضعی حدیثوں کی کثرت کی وجہ سے حنفی حدیثوں سے دور رہتے تھے اور ابتدائی صدیوں میں یہ بات عجیب سمجھی جاتی تھی کہ کو حنفی ہو اور حدیث کا عالم بھی ہو ۔ حنفی میں بعض ایسی باتوں کو مانتے تھے جو دوسروں کے نذدیک حلال تھیں اور ان کے نذدیک کراہیت آمیز تھیں ۔ مثلاً حنفیوں پانی کے جانوروں میں صرف مچھلی حلال تھی ۔ لیکن شافعیوں میں پانی کا ہر جانور حلال ہے اور مالکیوں میں مزید اس میں اضافہ کرتے تھے اور ان کے نذدیک کیڑے مکوڑے بھی حلال تھے ۔ بقول ابن خلدون مالکی فقہ بدی زندگی کے عین مطابق ہے ۔ اس طرح شافعیوں میں ناجائز کی حرمت نہیں ہے ۔ اس کا مطلب ہے کسی شخص کی شادی اس کی ناجائز بیٹی یا بہن سے جائز ہے ۔ کیوں کہ شافعیوں ناجائز کی حرمت نہیں ہے ۔ جب کہ حنفی فقہ میں ناجائز کی بھی حرمت ہے اور ایسی شادی بھی حرام ہے ۔

تقریباً تیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں مصر میں ایک ایسا ہی واقع پیش آیا ۔ جب ایک عورت نے عدالت سے درخواست دی کہ اس کی شادی فسخ کی جائے ۔ اس کا کہنا تھا اب مجھے پتہ چلا ہے کہ میرے شوہر کا باپ میرا بھی باپ ہے اور میں اس کی ناجائز بیٹی ہوں یعنی میں اپنے شوہر کی بہن ہوں ۔ عدالت نے اس کے لیے جامع الذہر سے رجوع کیا ۔ وہاں کے علما نے اس بنا پر کہ یہ خاتون شافعی فقہ سے تعلق رکھتی ہیں اور شافعی فقہ میں ناجائز کی حرمت نہیں ہے ۔ اس پنا پر یہ شادی جائز ہے اور اس خاتون کی درخواست مسترد کردی ۔

یہی بنا پر مسلمانوں کی فکر و عقلی تحریک متعزلہ کے اراکین فقہ حنفی سے تعلق رکھتے تھے ۔ جب کہ ان کے مخالف شافعی تھی اور اشعریوں کا مذہب میں عقل کا استعمال حرام تھا ۔

حنفی فقہ سے پہلے امام مالک نے اپنا فقہ ترتیب دیا تھا ۔ انہوں نے رائے ، قیاس اور اجتہاد کو تسلیم کی اور ہر ایک امر میں پیغمبر کی مدینہ میں سنت اور حدیثوں پر عمل کیا اور حدیث کی کتاب موطا جو ان لکھی جو حدیث کی معتبر کتاب ہے ۔ مگر مسلہ یہ تھا لوگوں کی زندگیوں میں نئے نت مسلے پیش آرہے تھے اور ان کا حل حدیثوں میں نہیں مل رہا تھا ۔

فقہ حنفی کے بعد امام شافعی نے مختلف مسالک کے مجموعہ سے انتخاب کرکے اپنا فقہ ترتیب دیا تھا ۔ اس کو متوسط درجہ کے لوگوں نے قبول کیا تھا ۔ اس بارے میں اوپر درج کرچکا ہوں ۔

اس کے بعد امام حمبل بن احمد نے صرف حدیثوں اور قران کی بنیاد پر اپنے فقہ کی بنیاد رکھی ۔ جس میں قیاس اور رائے کو دخل نہ تھا ۔ یہ ابوحنیفہ کی آزاد خیالی ، مالکیوں تنگ نظری اور شافیعوں کی عامیانہ روش متنفر ہوئے ۔ یہ آیات کریمہ کے لفظی معنوں سے سرمو ادھر ادھر نہ ہوتے تھے ۔ ان کا فرقہ جو کبھی مقبول نہیں ہوا گو بعد کے دور میں حجاز میں سعودیوں نے امام احمد بن حمبل کے پیرو ہونے کا دعویٰ کیا اور حدیثوں پر اپنے فقہ کی بنیاد رکھی اور برصغیر کے اہل حدیث بنیادی طور پر سعودیوں کے عقیدے تعلق رکھتے ہیں ۔ البتہ سعودی امام احمد بن حمبل کے پیرو ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ جب کہ اہل حدیث کسی کی پیروی کو غلط سمجھے ہیں اور ہر شخص کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ خود اجتہاد کرے ۔

میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ امام حنبل اور معتزلہ میں سب سے بڑا اختلاف قران کو مخلوق کہنے پر تھا اور اس عقیدے کو معتزلہ اسے طاقت کے زور پر منوانہ چاہتے تھے اور اس معاملے عوام جن میں حنفیوں کی بڑی تعداد شامل تھی امام احمد بن حنبل کے ساتھ شامل ہوگئے تھے ۔ امام حنبل جو کسی چیز کو لکھنے کے قائل نہیں تھے اور مرنے سے پہلے اپنے لکھے ہوئے تمام مسودے کو جلادیئے تھے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر یہ درست ہے تو ان کی موت کے سو سال بعد ان کے نام سے حدیثوں کا دس جلدوں پر صخیم مسند کہاں سے آگیا ;238; اس مسند کو بہت سے لوگوں نے جعلی کہا ہے ۔ کیوں کہ اس مستند میں وہ حدیثیں بھی شامل ہیں جو امام حنبل کے مذہب کے خلاف تھیں ۔ اگر یہ حدیثیں مستند ہیں تو امام احمد بن حمبل ان حدیثوں کے برخلاف فتوے کیوں دیئے ;238; کیوں کہ امام احمد بن حنبل صرف ایک محدث نہیں تھے بلکہ وہ ایک فقیہ بھی تھے ۔ پھر اس صخیم کتاب کو سو سال تک صرف ایک ہی راوی نے روایت کیسے کیا ;238; ۔ اس طرح کے بہت سے سوال اٹھتے ہیں ۔ بہرحال رفتہ رفتہ حنبلی فقہ حنفیوں میں جذب ہوگیا اور حنفی مذہب کو ایک نئی شکل یعنی حدیثوں مستند سمجھاجانے لگا ۔ مختلف جواز اور دلیلوں کے جواز کے لیے قران سے استدلال کے بجائے حدیثوں کو پیش کیا جانے لگا ۔

حنفیوں میں پانچویں ہجری کے بعد فقی معاملات میں بھی حدیثوں استدلال کیا جانے لگا ۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی حنفیوں سمیت ہر فرقہ نے اپنے موقف اور عقائد کو درست ثابت کرنے کے لیے حدیثیں وضع کیں ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے حنفیوں نے امام ابو حنیفہ کے اوپر سے یہ داغ ہٹانے کے لیے کہ وہ حدیثوں کو نہیں مانتے نہیں ان کے نام سے ایک مسند ترتیب دے کر منسوب کردیا ۔

تہذیب و تحریر

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں