55

فلسفہ شر

تعلیمات زرتشتی دین کو مزدیسز بھی کہتے ہیں ۔ یہ اوستائی کلمہ ہے اور دو الفاظ مزدہ یعنی دانا اور یسنا یعنی حمد وستائش کے ہیں اور یہ کلمہ اوستا میں بار بار آیا ہے ۔ زرتشت کا فلسفہ شر ہے مگر حقیقتاً یہ فلسفہ اضداد ہے ۔ یہ بہت دقیق ہے زرتشت نے اہورا مزدہ کی صفات کے بعد یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اہورا کی ایجابی صفات اس کی سلبی صفات سے متصادم ہیں ۔ واضع الفاظ میں اس کی نورانیت تاریکی سے ، حقانیت کذب سے ، ملکیت عجر سے ، قدوسیت نجات سے ، سا لمیت شکتگی سے اور ابدیت عارفیت کے مدمقابل ہیں ۔ یہ کشمکش ایک ہی ذات کی ایجابی اور سلبی سفات کے اندر جاری ہے ۔ زرتشت نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ کشمکش بلا ارادہ یا اہورا کے ارادے کے مطابق ہے ۔ شاید کے نزدیک یہ تصادم بلا ارادہ ہے اور اسی کے اندر کائنات کے وجود انسان کی حیات و ممات اور خیر و شر کے اسرار پوشیدہ ہیں ۔ انسان کی دو متعضات کفیت و حالات کے اندر رکھ کر اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اہورا کی حفاظت کی طرف قدم بڑھائے ۔

بعد کے زمانے میں دنیا کے دو خالق کی تاویل کی جانے لگیں ۔ دبستان مذہب میں لکھا ہے کہ اہورا نے یہ سوچ کر کوئی میرا مخالف و دشمن بھی ہو چنانچہ اس نے اہرمن کو پیدا کیا ۔ پھر مقابل و مخالف بھی ایسا تخلیق کیا جو اس کے برابر کا مقابل ہے ۔ وہ دن ہے تو یہ رات ہے ، وہ انوار ہے یہ ظلمات ، وہ ہمہ نیکی تو یہ ہمہ بدی ، وہ اگر دن کی روشنی پیدا کرتا ہے تو یہ رات کا اندھیرا ، وہ جگاتا ہے تو یہ سلاتا ہے ، وہ جلاتا ہے تو یہ مارتا ہے اور اس پر کریلا پر نیم چڑھا یہ ایک دوسرے کا جزو اور الگ الگ بھی ہیں ۔ یک جان اور پھر جدا بھی ، دلی دوست بھی اور جانی دشمن بھی ۔ ایک کائنات کا سر اتارنے پر تیار تو دوسرا سر سہلانے پر آمادہ ۔ اس کا ذکر وندیداد کے پہلے باب میں ملتا ہے ۔یہ پہلی تصنیف ہے جس میں دونوں طاقتوں کو علحیدہ علحیدہ بیان کیا گیا ہے ۔ بلکہ یاسنا میں بھی آیا کہ شروش نے دو خالقوں کی عبادت کی  ۔ دوسری طرف وینداد کے پہلے باب میں سولہ زمینوں کی تخلیق میں اس نے برائیوں کو تخلیق کیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں