92

فلسفہ وحت الوجود

وحت الوجود ایک صوفیانہ اصطلاع ہے جو کہ مسلمانوں کے عہد ذوال میں بہت مقبول ہوئی ۔ وحت الوجود کے بارے میں سب سے پہلے رسالہ قشریہ میں ملتا ہے اور اس کو باقاعدہ ایک فلسفہ کی شکل میں شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے پیش کیا ۔ اس فلسفہ کو صوفیا میں اتنی مقبولیت ہوئی کہ ابن عربی شیخ اکبر کہلانے لگے ۔ ابن عربی جو کہ حاتم طائی کے خاندان سے تھے اور اندلس میں ۵۶۰ھ میں پیدا ہوئے تھے اور بعد میں اپنے وطن کو چھوڑ کر مشرق میں چلے آئے ۔ مختلف جگہوں کی سیاحت کی اور آخر میں دمشق چلے آئے جہاں انہوں نے ۶۳۸ھ میں وفات پائی ۔

وحدت الوجود کا مطلب ہے کہ اصل وجود صرف خدا کا ہے اور اس کے سوا کوئی اور وجود نہیں ۔ یہ کائنات صرف خدا کی ذات کا عین ہے ۔ یعنی خدا اور کائنات ایک ہی ہے اور یہ کائنات خدا کی ذات کا ظہور ہے ۔ یہ خدا سے پیدا ہوئی ہے اسی کی طرف لوٹ جائے گی ۔ اس نظریہ کے تحت کائنات اور خدا ایک ہیں ۔ خدا سے الگ کائنات کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ خدا سے کائنات کا معنی کا تعلق دونوں کو ایک دوسرے کا حصہ اور ایک دوسرے کا لازمی جزو بنا دیتے ہیں ۔ ابن عربی کے ایک شارح اور مرید مولانا جامی کے نذیک عالم ظہور سے پہلے آئین حق تھا اور ظہور کے بعد حق عین عالم ہے ۔ لوائح جامی تحت عارف کی نظر میں کائنات کا ہر ذرہ اپنی وحدت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی وحت کی گواہی دیتا ہے ۔ عالم کی سیکڑوں اشیاء میں ایک بھی ایسی نہیں جو اپنی شکل و صورت پر ذات و حق کی غمناز نہ ہو ۔

شیخ محی الدین ابن عربی کے بعد مولانا رومی اور دوسرے صوفی شعرا نے اس نظریہ کو اپنے کلام میں پیش کیا ۔ ان کے نذدیک ایک طرف تو یہ معنی لیے جاتے ہیں کہ عشق حقیقی میں خود کو اتنا گم کردو کہ تمہاری ہستی فنا ہوجائے اور یہ صوفیا کی معراج رہی ہے ۔ اس نظریہ کے مطابق توحید یہ نہیں ہے خدا واحد ہے بلکہ توحید یہ ہے کہ اس کے سوا کائنات میں کوئی دوسرا وجود نہیں اور تمام مخلوق اسی کی ذات کا حصہ ہیں اور مخلوق کو اس کی ذات سے علحیدہ کرکے مت دیکھو ۔

وحدت وجود کا تصور افلاطونی تصور ہے ۔ جس میں تصور مطلق سے دنیا امثال وجود میں آئی ہے اور وہ اپنی تکمیل کے لیے پھر اسی طرف چل دے گی اور خدا کی طرف لوٹ کر دراصل باللہ ہونے میں اس کی تکمیل ہے ۔ کیوں کہ وحدت الوجود میں ہم خدا کے جزو کی حثیت سے معروف ہیں اور اسی کی ذات میں جذب ہوجائیں گے ۔ وحدت الوجود کے فلسفہ کا ابن عربی سے بہت پہلے بابلی ، مصری ، فنیقی ، رومی ، یونانی ، زرتشیوں اور عیسائیوں میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے ۔ ان مذاہب میں تمام دیوتا ایک ہی ہستی کا مختلف روپ ہیں اور یہی افلاطون کا نظریہ ہے ۔ اس طرح عیسائیوں کا تثلث کا عقیدہ بھی ایک وجود کی مختلف شکلیں ہیں ۔ لیکن جس مذہب نے سب سے زیادہ اس کو اپنایا وہ ہندو مذہب یا ہند میں پیدا ہونے والے دوسرے مذہب ہیں ۔ ان سب کا ایک ہی مقصد ، یعنی مکتی حاصل کرنا ، یعنی پیدا کرنے والے کی ذات میں جذب ہوجانا ہے ۔ عہد وسطیٰ میں ہندو مت میں مختلف تحریکوں نے جنم لیا ۔ جو کہ کسی ایک دیوتا کو خالق حقیق مان کر اسی کی پوجا کرتے تھے ۔ گویا یہ بھی توحید کی ایک ناقص شکل عبادت ہے اور اس کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ان پر مسلمانوں کی توحید کا اثر ہوا ہے ۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور یہ فلسفہ ویدانیت کہلاتا ہے اور اس کے ابتدائی نقوش ویدوں میں ملتے ہیں اور مسلمانوں سے بہت پہلے اسے ترقی دی گئی تھی ۔ جب سے ویدک مذہب ہندمت میں تبدیل ہوا برصغیر میں بہت سے مذاہب جن میں جین اور بدھ مت اور دوسرے بہت سے مذہبی فرقوں میں جنم لیا اور ان تمام پنتھ (فرقوں) کا مقصد ہی مکتی حاصل کرنا اور آواگون سے نجات حاصل کرنا یعنی بار بار جنم سے چھٹکارہ اور مکتی یعنی نجات حاصل کرنا ہے ۔ اس عقیدے کے مطابق ہمیں جس ہستی نے پیدا کیا ہے ہم اسی کی ذات کا حصہ ہیں اور اسی میں جذب ہونا ہی مکتی ہے اور یہی فلسفہ ابن عربی کا نظریہ وحدت الوجود ہے ۔ اس نظریہ نے تمام دیوتاؤں کو ایک ہستی کے مختلف روپ و اوتار کی شکل میں جنم لیا اور تری مورتی یعنی شیو ، وشنو اور برہما کی ایک ہی ہستی کے روپ کا نظریہ سامنے آیا ۔ یہاں تک اس فلسفہ نے اتنی وسعت اختیار کرلی کہ اوتاروں اور دور قدیم کے تمام دیوتاؤں کو بھی ان دیوتاؤں کے روپ بتایا گیا اور یہی ہندوؤں کا فلسفہ ممیاسہ ہے ۔

ہندو مذہب میں فلسفہ ممیاسہ کے مطابق روح اور مادہ اور کل کائنات اسی کی ذات کا پرتو ہیں اور تمام چیزوں کا اسی سے جنم ہوا ہے اور آخر کار اسی میں فنا ہوجائیں گیں ۔ جس طرح سمندر کا پانی بادل کی شکل میں ہوا میں اڑتا ہے اور زمین پر برس کر دریا میں شامل ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح دنیا کی ہر چیز برہم (خدا) سے ظہور ہوئی ہے اور اسی میں غائب ہوجائے گی اور کوئی چیز باقی نہ رہ گی ۔ جس طرح چنگاری آگ کا جزو ہے ۔ اسی طرح روح بھی پیدا کرنے والے کا جزو ہے ۔ جو ایک جسم سے نکل کر دوسرے جسم داخل ہوجاتی ہے ۔ یہ آہستہ آہستہ علم و نیکی کی طرح ترقی کرتی ہے ۔ جب اس کا علم اور علمل درجہ کمال کو پہنچ جاتا ہے تو پیدا کرنے والے کی مقرب ہوجاتی ہے ۔ روح اور مادہ پیدا کرنے والے کی دو مختلف شکلیں سنہ عیسوی سے قبل پنتجلی نے پیش کیا تھا کہ جس چیز سے کل کائنات کا ظہور ہوا اور اس کا نام برہم ہے ۔ وہ اسباب فراہم کرتا ہے ۔ روح محض اس عبادت کرنے پر مادہ سے نجات پاتی ہے اسی میں فنا ہوجاتی ہے ۔

تنقید

وحدت الوجود اور وحدت الشہود جو اسی قسم ہے مختلف ہائے نظرہیں ۔ کچھ اسے عین اسلام قرار دیتے ہیں اور کچھ اسے غیر اسلامی تصور کرتے ہیں ۔ ابن عربی کے مطابق وجود مدرک تو خدا اور کائنات معنی کہہ کر کائنات اور خدا کی ہستی کے درمیان ایک رشتہ قائم کیا ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کی ہستی اور وجود اصل ہے ۔ یعنی دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ۔ کیوں کہ جب وجود مدرک نہ ہو تو معنی کا تصور بھی کہاں کیا جاسکتا ہے ، دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ۔ کیوں کہ جب وجود مدرک نہ ہو تو معنی کا بھی تصور کہاں کیا جاسکتا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ۔ خدا قابل ادراک نہیں ہے ہم خدا کو اتنا ہی جان سکے ہیں کہ جتنا اس نے اپنے صحیفوں ، پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعہ ہم پر ظاہر کیا ہے ۔ حضرت مجدو الف ثانی نے ابن عربی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خدا اور عہد ایک نہیں ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کائنات کو وجود بنانے کے بجائے ظل ، سایہ اور مشہود بنادیا ۔ مگر یہ بھی تو وحدت الوجود ہی ہے ۔ کیوں کہ وہ اس میں کائنات کو وجود مدرک کہتے ہیں اور ابن عربی بھی اسے وجود مدرک کہتے ہیں ۔ مولانا رومی کے اس نظریہ کے بارے میں پروفیسر نکلسن کا کہنا ہے کہ وہ کائنات کو خدا کی عین کہتے ہوئے دونوں عینوں کو الگ الگ وحدتیں بیان کرتے ہیں ۔ اس طرح یہ نظریہ یونانیوں کے وحدت الوجود سے ذرا الگ ہوجاتا ہے اور اسی کو شوپن ہار مہذب الحاد کہتا ہے ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فضائے وجود ایک تو ہی ہے تو حق کدھر ہے ۔ اگر چشم شہود میں ہر طرف وہی ایک وجود جلوہ گر ہے تو میری اور تیری ہستی کی حقیقت کیا ہے ؟ ابن عربی نے اسے اس طرح پیش کیا ہے کہ اس کے کئی معنی جنم لیتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے خیالات کو پیش کرنے میں جان بوجھ کر الچھنیں پیش کیں ہیں ۔ وہ ایک طرف تو ختم بنوت کے قائل ہیں اور دوسری طرف تسلسل نبوت کے بھی ۔ جواز یہ دیتے ہیں کہ ولایت نبوت سے فائق ہے اور نبوت کے ولایت سے کئی درجہ کے موید ہیں ۔ گویا اس میں سے اپنی پسند کا تصور برآمد کیا جاسکتا ہے اور ان کی تحریریں کوئی واضع حتمی اور قطعی تصور پیش نہیں کرتی ہیں ۔

اس نظریہ کے مطابق عالم میں ذات حق ہے ۔ کیوں کہ وجود ان میں حقیقی ایک ہی ۔ اس لیے کسی بھی موجود مثلاً چاند ، سورج اور بتوں کی پرستش کو غلط نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ یہ چاند ، سورج یا بتوں کی پرستش نہیں اس حق کی پرستش ہے جو ان موجودات کے پردے میں عین بن کر موجود ہے ۔ ویدانتوں کا بھی یہی مسلک ہے اور اس طرح زرتشیت میں بہت سے خدا ہیں اور وہ سب اہورا کی ذات کا حصہ ہیں اور ان خدائوں کی پرستش کرنے سے اہورا کو طاقت حاصل ہوتی اور اہورا کی پرستش کی ضرورت نہیں رہتی ہے ۔ ہندوؤں کی اکثریت اسی پر پیرا ہے ۔ اس نظریہ کو مان کر کفر اور اسلام کی تفریق ختم ہوجاتی ہے ۔ ابن عربی کا کہنا ہے کہ ‘‘عارفین جو حقیقت نفس الامری سے واقف ہیں ان صور کی عبادت انکار ظاہر کریں گے ۔ کیوں کہ ان کے مرتبہ علم و معرفت کا تقاضہ ہے کہ حکم رسول کی تابعداری کریں ۔ وہ رسول پر ایمان لائے ہیں اسی وجہ سے انہیں مومنین کہا گیا ہے ۔ اس کے باوجود وہ خود سمجھتے ہیں کہ ان نادانوں نے دراصل صور و عیان کی پوجا نہیں بلکہ اللہ کی عبادت کی ہے ۔ ان بتوں کے ضمن میں اور یہ سلطان تجلی کا تقاضہ ہے ۔ عرفان تجلیات کو اصنام کے اندر دیکھتے ہیں اور نادان جس کو تجلی کا علم نہیں انکار کرتا ہے ۔ بنی و رسول اور ان کے وارث حال جو عارف ہیں نادانوں سے اس حقیقت کو چھپاتے ہیں‘‘ ۔ گویا ابن عربی نے باطنیت کی تعلم دی ہے ۔

دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ‘‘ ہارون علیہ السلام نے ہر چند گوسالہ پرستوں کو زبان سے منع فرمایا مگر قہر و غلبہ فعل سے اس لیے منع نہ کرسکے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کیا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا ایک تماشہ تھا ۔ جو وجود خارجی میں ظاہر ہوا کہ گوسالہ زائل و باطل ہونے والی عبادت ہو رہی تھی اور پوجنے والے نادانی ہی سے سہی مگر معبود سمجھ کر پوج رہے تھے ۔ آخر باقی باقی رہے گا اور فانی فنا ہوکر رہے گا ۔ موسیٰ علیہ السلام بہ نسبت ہارون علیہ السلام کے حقیقت الامری سے زیادہ واقف تھے ۔ موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ گوسالہ پرستش حقیقت میں کسی اور کی پرستش ہے ۔ وہ جانتے تھے اس کا حکم ازلی ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی عبادت نہ کرو ۔ خدا جس شے کا حکم دیتا ہے وہ کرکے رہتا ہے ۔ صورتوں کو بقا و دوام کب ہے ۔ موسی علیہ السلام نے جلا دینے میں جلدی کی ورنہ گو سالہ کی صورت تو جانے والی تھی ۔ موسیٰ علیہ اسلام پر غیرت نے غلبہ پایا اس لیے اسے جلا دیا ۔ پھر اس کی راکھ دریا میں بہادی اور سامری سے فرمایا ’انظر اٹھک’ اپنے معبود کو دیکھ کر یہ بھی متنبہ کرنے کے لیے فرمایا ، حلانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ جلوہ گاہ الوہیت میں سے ایک ہے جلوہ گا‘۔

ابن عربی نے ایک دوسری جگہ کہا ہے کہ ’آدمی دوسروں کے اعتقادی معبود کی مذمت کرتا ہے ۔ اگر مصنف مزاج ہوتا تو مذمت نہ کرتا مگر معبود خاص کا عابد ہمیشہ جاہل رہتا ہے ۔ وہ دوسروں پر اعتراض کرتا ہے اپنے عقیدے کے خلاف ہونے سے ۔ اگر وہ جنید بغدادی کے اس قول کو سمجھنا ’لون الماء لون اناھہ‘ پانی کا رنگ برتن کے رنگ کے مطابق ہوتا ہے تو معتقد کے معبود خیالی کو تسلیم کرلینا اور ہر صورت حق جاننا‘ ۔ مگر جس مذہب نے اسے پوری طرح اپنایا ہو پارسی یا زرتشتیت ہے اور اس مذہب میں بہت سے خدا ہیں جو اہورا مزا کے پیدا کیے ہیں اور وہ سب خدا اہورا کی ذات کا حصہ ہیں اور ان کی پرستش کی صورت میں اہورا کی پرستش کی ضرورت نہیں رہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے اس مذہب میں اہورا کی نہیں بلکہ کئی خدائوں جن میں متھرا ، اناہیتا اور اتار(آگ) کی پرستش کی جاتی تھی ۔ گو اب ان کی پرستش ختم کرکے صرف اتار (آگ یا آتش بہرام) کی پرستش کی جاتی ہے اور اسے اہورا کا مظہر قرار دیا گیا ہے ۔      

ابن عربی نے اسرائیل کی گوسالہ کی جو توجیہ پیش کی وہ کفر اور زندقہ کے علاوہ کیا ہے ۔ جس کی بنا پر بنی اسرائیل پر اعذاب نازل ہوا ۔ اس کا مطلب ہے بت برستی کی جو مذمت کی گئی ہے وہ صرف دیکھاوے کی ہے ۔ ابن عربی کے اس خیالات نے صوفیہ کا بڑا طبقے میں کعبہ و بت خانہ کی عدم تفریق کا رجحان مقبول رہا ہے ۔ اس لیے حضرت مجد الف ثانی نے کہا کہ ہمیں قران کی آیات یقین کے لیے چاہیے نہ کہ محض فصوص کے لیے نہیں ۔ ان کے علاوہ ابن تمییہ نے بھی ابن عربی کے تصورات کو مسترد کردیا ہے ۔ اقبال نے ایک طرف تو وحدت الوجود کو کفر اور ذلالت اور زندقہ کہا ہے اور اقبال نے حضرت مجدو الف ثانی کی پیروی میں اپنے تصور خودی میں اس کا شعور اور ابلاغ پایا جاتا ہے ۔ مگر انہوں نے وحدت الشہود کے نظریہ میں خدا کو اصل روکاٹ اور کائنات کو اس کی تخلق کے بجائے شہود یا محل یا سایہ بنا دیا تو وہ پھر افلاطونی ظلمت کی دلدل میں پھنس گئے ۔ جو ابن عربی کے تصور کی ہی بازگشت ہے کہ خدا وجود مدرک ہے اور کائنات معنی ۔ ابن تمییہ نے اپنی کتاب العبودیت میں ابن عربی کو کو ملحدین میں شمار کیا ہے ۔ حمید الدین فراہی نے بھی ابن عربی کو حقیقت دین سے بے خبر بتایا ہے ۔

ابن عربی نے وحدت الوجود کے حق میں جہاں عقلی و نقلی دلائل دیے ہیں وہاں باطنی کشف کو بھی پیش کیا ہے ۔ مگر اس بارے میں حضرت مجدو الف ثانی کا کہنا ہے کہ وحدت الوجود کا نظریہ وجودی صوفیہ کا سکر ہے اور مشاہد حق کا ادنیٰ سا مقام ہے اور اگر سالک اس مقام سے آگے نہیں بڑھا تو وہ فریب دید کا شکار ہوجاتا ہے ۔ یہ مقام دراصل سالک کی غیر معمولی محویت اور استغراق کا پیدا کردہ ہوتا ہے ۔ اس سے بھی آگے مقامات سلوک ہیں جن سے گزرے بغیر سالک کی حقیقت الحقائق اور موجودات عالم کے درمیان ربط کی نوعیت صحیح طور پر معلوم نہیں ہوسکتی ہے ۔ تصوف کی روح تصور فنا ہے اور اسی کا نام مشاہدہ حق ہے ۔ اس کے مختلف درجات ہیں ۔ اس مشاہدے کا تعلق تمام تر انسان کے باطن سے ہے اور اس میں قلب کو مرکزی حثیت حاصل ہے اور ان کے مشاہدے میں انسانی حواس اور عقل کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔

صوفیہ کے مشاہدہ حق کی تائید قران کریم سے نہیں ہوتی ہے ۔ قران میں تو کثرت سے عقل و غور فکر کی بات کرتا ہے ۔ اس طرح قران باطنی مشاہدہ کی بات نہیں بلکہ تخلیق انسان میں اللہ تعالی کی قدرت اور حکمت کے آثار کے مشاہدے کی بات کرتا ہے ۔ صوفیہ کہتے ہیں عقل و فکر کے ذریعہ معرفت ممکن نہیں ہے اس لیے عقل حادث و مخلوق ہے ۔ اس لیے عقل مخلوق کی رہنما نہیں بن سکتی ہے ، یعنی صوفیہ کی دلیل قران کی کسی آیت پر نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ اصول پر ہے ۔ قران میں تو عقل و فکر کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے معرفت کی نشانیاں ہیں جو عقل و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ قران میں تو ان کو صاحب عقل کہا گیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں ۔ حقیقت میں صوفیہ کا باطنی غور و فکر کا تعلق حقیقت سے نہیں بلکہ عالم حیرت سے ہے جہاں عقل کی رسائی نہیں ہے ۔ یہ باطنی مشاہدہ ترک دنیا کے لیے مثال تو ہوسکتا ہے لیکن عملی طور پر یہ انسان کو عقل و فکر سے دور کرتا ہے اور وہ عملی دنیا میں ناکام رہتا ہے ۔ حضرت مجدو الف ثانی نے اس لیے صوفیہ کے اقوال کو حجت کے طور پر پیش کرنے میں سخت تنقید کی ہے ۔ مختصر یہ کہ نظریہ وحدت الوجود قران کی روح کے منافی ہے ۔

وحدت الوجود کے مطابق کائنات کی ہر شے میں حق کا ظہور ہوتا ہے لیکن کچھ خاص انسانوں میں بھی اس کا ظہور ہوتا ہے ۔ ہندوؤں میں اوتاروں کا عقیدہ اسی خیال کا مظہر ہے ۔ ابن عربی لکھتے ہیں ’تجلی اعظیم الشان الوہیت ہے جس کے مظاہر ہائے جزوی ہیں ۔ انسان ہائے جزوی میں بھی بعض مظہر ناقص ہیں ، ہر زمانے میں صرف ایک ہی مظہر نام ہوتا ہے ۔ جس کو غوث یا قطب الزمان کہتے ہیں’۔ حاجی سید وارث کا قول ہے کہ ’ہم میں تم چھپ کر اس نے سب کو دھوکہ میں ڈال دیا ہے’ ۔ اس کی وضاحت ان کے مرید خاص شیخ فضل حسین وارثی نے کی ہے کہ ’یہ امر مسلم ہے کہ انسان کی ذات میں جیسا ظہور خدا وندی ہے ایسا کسی شے میں نہیں ہے ۔ اس وجہ سے وہ اشرف المخلوقات ہے’ ۔ حضرت ابوالحسن خرقانی نے کہا جب خدا کو عالم میں اپنی صفات کا مظاہر کرنا مقصود ہوا تو عالم ظہور میں لایا اور جب اپنا ظہور مقصود ہوا تو آدم کی تخلیق کی’ ۔ بعض شعرا نے کھل کر اپنے اشعار میں اس عقیدے کا اظہار کیا ۔

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر   اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہوکر

منظور تھا ظہور سے حضرت کے   بندے بھی تو دیکھ لیں خدا کی صورت

یہ نظریہ انسان کو کفر و زندقہ کی طرف لے جاتا ہے اور کیا کیا نازیبا کلمات کہلواتا ہے ۔ بعض صوفیہ کے نذدیک شریعت کی پابندی اہل سلوک کے لیے ضروری ہے لیکن جب وہ منزل پر پہنچ جائیںتو ایک غیر ضروری چیز ہے ۔ یہ وہی عقیدہ ہے جو کہ قرامطہ اور باطنیوں کا ہے ۔ ابو سعید اپنے مریدوں کو حج سے منع کرتے تھے کہ وہ محض ایک پتھر کا گھر ہے ۔ ایک دفعہ ان کے مرید وجد اور رقص میں مصروف تھے کہ اذان کی آواز آئی مگر انہوں نے درویشوں کو رقص جاری رکھنے کے لیے کہا کہ یہی تمہاری نماز ہے ۔

اس نظریہ کے مطابق جب کائنات کی ہر شے اس کی ذات کا حصہ ہے تو ہر شے معبود کی حثیت اختیار کرلیتی ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں میں شرک عام ہوگیا ہے ، خواہ شرک اولیا پرستی یعنی مزار و مقابر کی صورت میں ہو یا کسی دوسری شکل میں ۔ یہی صورت ہندوؤں کے اوتاروں ، مسلمانوں کے پیروں اور سیدوں کی ہے جس کی وجہ سے انہیں تقدس ملا ہے اور جب یہ حد سے بڑ جائے تو لاثانی سرکار جیسی شخصیتیں وجود میں آتی ہیں جو اپنی پوجا کرواتی ہیں اور قدیم مذہب عرفان کی بازگشت ہے ۔

اثرات

وحدت الود کے فلسفہ کے مطابق ہر شے جس میں انسان بھی شامل ہے حق کا ظہور ہوتا ہے اور کچھ انسانوں میں یہ ظہور کامل ہوتا ہے ۔ اس نظریہ کے مطابق کسی بھی چیز کی عبادت و پوجا شرک نہ رہی اور اسی کی بدولت قبر پرستی وجود میں آگئی ۔ ہندوؤں میں اوتاروں کا عقیدہ بھی اسی خیال پر مبنی ہے اور بہت سے انسان الوہی تقدس حاصل کرکے مظہر خداوندی بن جاتے ہیں ۔ اس طرح مختلف دیوتاؤں کی پوجا ایک ہی ذات کا مظہر جان کر کی جاتی ہے ۔ جس سے اس غلط خیال نے جنم لیا کہ ہندوؤں کا رجحان توحید کی طرف ہے ۔ مسلمان صوفیا نے بھی وحت الوجود کی بدولت ہی ان کی بت پرستی کو مود الزام ٹہرانے کے بجائے ان کی تحسین کی ۔ جیسا کہ خواجہ نظام الدین اولیا نے ہندوؤں کو بت پرستی کے مطلق فرمایا کہ ’ہر قوم راست سینے و قبلہ گا ہے’ ۔ یہاں تک مرزا مظہر جاناں نے بت پرستی اور تصور شیخ کو مماثل بتایا ۔

مسلم تصوف نے ہندی ویدانیت کے بہت اصول اخذ کئے ۔ ان میں حبس دم ، تصور شیخ اور خانقاہی نظام وغیرہ ۔ تصور شیخ بدھ مت سے آیا ہے ، تسبیح ہندو یا بدھ مت سے آئی ہے ۔ کیوں کہ یہ دونوں ہی استعمال کرتے تھے ۔ گیروے رنگ کا لباس جو صوفیا استعمال کرتے ہیں یہ یوگیوں کا لباس ہے ۔ اسلام سے پہلے بدھ دھاروں کی شیخ شہاب الدین سہرودی نے متاثر ہو کر خانقاہی نظام ترتیب اور اس کے قواعد و ضوابط مرتب کیے اور ان کی مشابہت اہل صفہ سے پیش کرنے کی کوشش کی ۔ جس کے نتجے میں اسلامی دنیا کے طول و عرض میں صوفیا کی بے شمار خانقاہیں وجود میں آگئیں ۔ برصغیر کی خانقاہوں کی مجالس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی شریک ہونے لگے اور ایسے فرقے وجود میں آگئے جن کے پیروؤں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے ۔

اس فلسفہ کی بدولت اسلام ایک تبلیغی مذہب نہ رہا ۔ کیوں کہ اس فلسفہ کے مطابق ہر شخص کا پرتو ہے اور اسی کی ذات کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابل احترام ہوگیا ۔ اس طرح ہر مذہب میں عبادت اسی خالق حقیقی کی ہوتی ہے ۔ تذکرہ غوثیہ میں ہے غوث علی شاہ قلندر کے والد نے انہیں مختلف لوگوں سے بیت کرائی ۔ جن میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے ۔ دارلشکوہ نے کتاب مجمع البحرین میں تصوف اور یوگ کے خیلات و افکار میں مطابق تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ ہم اس تفصیل میں نہیں جاتے لیکن اس کا فلسفہ بھی وحدت الوجود تھا ۔ جس کے مطابق تمام چیزیں اسی کے مظہر ہیں ۔ ازلی اور ابدی اسی کی ذات ہے اور وہی ہر شے میں جلوہ گر ہے ۔ مرزا قتیل کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کا مذہب چونکہ تصوف کے تابع ہے ۔ اس لیے وہ کہ وہ ہر صورت کو خدا کا مظہر سمجھتے ہیں ۔ وہ ذات جو تمام قیود سے آزاد ہے ، بے شبہ وہی نمونہ ہے اور انسانی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ ہندوستان میں سولویں صدی میں تصوف کے سولہ سلسلے تھے اور ان کا ذکر ابوالفضل نے کیا ہے ۔ ان میں سے آٹھ سلسلے ایسے تھے جو کہ یہودیوں ، عیسائیوں اور ہندوؤں کو بھی داخل تھے ۔ ان میں شطاری سلسلہ نے اپنی عبادات اور ریاضات میں نفس کشی کو داخل کیا ۔ اس کے پیرو جوگیوں کی طرح جنگل اور غاروں میں رہتے تھے اور جنگلی پھل کھایا کرتے تھے اور ریاضت کرتے تھے ۔

برصغیر اسلام کے پھیلنے کے بارے میں غلط خیال پایا جاتا ہے کہ اسے صوفیہ نے پھیلایا ہے ۔ حالانکہ برصغیر میں صوفیہ کی آمد تیرویں صدی میں ہوئی ہے اور اس سے پہلے اسلام موجودہ پاکستان کے علاقہ میں پھیل چکا تھا ۔ اس طرح کشمیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں اسلام شاہ ہمدانی نے پھیلایا ہے ۔ حالانکہ اسلام اس سے پہلے وہاں تاجروں ، حملہ آوروں اور ریجن شاہ کی کوششوں سے اسلام پھیلا ہے ۔ یہاں تک کہ بعد میں جو بھی حکمران ہوئے وہ سب مقامی تھے اور انہوں نے اسلام اپنی خوشی سے قبول کیا تھا ۔ بنگال میں بھی مسلم حملہ آوروں کی کوششوں سے صوفیا کی آمد سے بہت پہلے اسلام پھیل چکا تھا ۔ انڈونیشا اور ملائشا میں اسلام پھیلا ہے ، مگر صوفیہ تو نہیں گئے تھے ۔ وہاں اسلام کو پھیلانے والے عام مسلمان تاجر تھے ۔ حقیقت میں صوفیت کے عروج کے بعد اسلام میں کوئی ترقی ہوئی ۔ اسلامی دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح برصغیر میں بعد کے دور میں بڑی بڑی خانقاہیں وجود میں آگئیں اور ان کو مصارف کے نام سے بڑی بڑی جائیدادیں دی گئیں ۔ اس طرح صوفیہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ۔ مگر اسلام میں جو کہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے وہ صوفیہ کے اثر رسوخ کی وجہ سے اس کی ترقی رک گئی ۔ کیوں کہ صوفیا نے تبلغ اسلام کے بجائے ہندوؤں کے بتوں میں خدا ڈھوندنے لگے ۔ وہ محنت کے بجائے توکل کی تعلیم دینے لگے ۔ شریعت کو چھوڑ کر عشق حقیقی اور فنا ذات کی بات کرنے لگے ۔ عبادات کو بھی پش پست ڈال دیا اور عرسوں اور طرح طرح کی محفلیں سجانے لگے ۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ہندوؤں کی پیروی میں پیدائش سے موت تک مختلف رسمیں ایجاد کرلیں ۔ جن کا تعلق اسلام سے نہیں تھا مگر اسلام سے جوڑا گیا ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے خیالات میں فرق صرف یہ رہا کہ مسلمان آرواگون یا تناسخ کو نہیں مانتے تھے ۔ مگر اسی ذات میں جذب ہونا معراج سمجھتے تھے ۔ انسانوں اور مزاروں سے مانگے کی بدعت شروع ہوگئی ۔ مندروں کی طرح قبر پرستی عام ہوگئی ۔ ہندو مختلف مندروں اور مقدس مقامات کی یاترا پر جایا کرتے تھے ۔ مسلمانوں میں بھی اس کا رواج ہوگیا ۔ اس رسم کو لاٹھی اٹھانا کہتے تھے اور مختلف مزاروں عرسوں میں شریک ہونے کے لیے قافلے جایا کرتے تھے ۔ دہلی میں میں بھی اس کا رواج تھا ۔ کسی کے عرس میں شریک ہونے والے افراد اپنی لاٹھیاں شہر کے مخصوس مقامات پر جہاں ان بزرگ جانے والے پہلے اپنی لاٹھی یا نیزے لا کر جع کردیتے تھے اور مقرہ دن اپنی لاٹھی اٹھاکر قافلے کی صورت میں روانہ ہوجاتے تھے ۔ کیوں کہ تمام کائنات اسی کی ذات کا حصہ ہیں اس لیے یہ ان کے نذدیک مخلوق غیر نہیں رہی ۔ شریعت کے بجائے باطن اور عشق کو اہمیت دی جانے لگی ۔ یہ خیال پھیل گیا کہ عشق کے ہوتے ہوئے شریعت پر عمل کی ضرورت نہیں ہے ۔ مولانا رومی نے اسی طرف اشارہ کیا اور کہا

جملہ معشوق است عاشق پردہ        زندہ معشوق است عاشق مردہ

یعنی جس اصل معشوق (خالق) اور (عاشق) تو ایک پردہ (جس میں اس کے نور کا ظہور ہے اور جس وجہ سے کائنات کا وجود ہے) عاشق (کائنات) تو مردہ ہے زندہ صرف (خالق) ہے ۔ (مراد یہ ہے کائنات نور خداوندی کے ظہور کی وجہ سے ہے ورنہ مردہ ہے ۔)

وحت الوجود کے خیالات پھیل جانے کے نتیجے میں دنیا اسلام ذوال سے دوچار ہوئی عقل اور عمل کی جگہ دعاؤں اور مانوق الفطرت فسانوں کا پرچار ہونے لگا ۔ جہد اور سہی کی جگہ مسلمان قسمت اور تقدیر پر شاکر ہوگئے اور خود کو توکل پر چھور دیا اور شکست و رسوائی پر اسے خدا کی منظوری اور رضا سمجھا گیا ۔ تصوف کی اصلاحات اور ظاہر و باطن کی تفریق کی گئی ۔ جس کے مطابق باطن سے آگا ہونے کے ظاہر کی اہمیت نہیں رہی ۔ تصوف کے چودہ سلسلوں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سلسلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں اور باطن کی تعلیم آپ نے دی ہے ۔

قران اور اسلام کی اصل تعلیم توحید ہے اور اس کے مطابق ہر شے خدا سے منزہ ہے ، وہ صمد ہے ، نہ اسے کسی نے جم دیا ہے اور نہ اسے سے کسی نے جنم لیا ہے اور اس کی برابری کرنے والا کوئی نہیں ہے ہے ۔ وہ یکتا اور یگانہ ہے ، بے مثل ہے ، رب ہے اور رحمن ہے ، ہر شے سے ورا الورہ ہے ۔ کائنات ، زمان و مکاں ہر چیز اسی کی پیدا کردی ہے ، یہ اسلام اور قران کا مقصود و مطلوب ہے ۔ وحدت الوجود شرک کی ایک قسم ہے ، جس کی معافی نہیں باقی سب گناہ معاف ہوسکتے ہیں ۔ حقیقت میں مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم توحید سے ان کا فکر و عملی انحراف ہے اور مسلمانوں میں ذات و غلامی اس کی بڑی وجہ ہے ۔ اس راہ کا پہلا اور نہایت اہم قدم وحدت الوجود کے غیر اسلامی نظریہ کی تنقید و تنسیخ ہے ۔ جس نے مسلمانوں میں مقابر اور اولیا پرستی کے بیج بوئے ۔

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں