75

قانون سازی

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ ’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ زمانے کے حالات بدل چکے ہیں ۔ دنیا کے تمذنی اور معاشی احوال میں بہت بڑا انقلاب رونما ہواہے اور اس انقلاب نے مال اور تجارتی معاملات کی صورت کچھ سے کچھ کردی ہے ۔ ایسے حالات میں وہ اجتہادی قوانین جو اسلام کے ابتدئی دور میں حجاز ، عراق ، شام اور مصر کے معاشی حالات کو ملحوظ رکھ کر مدون کئے گئے تھے ، مسلمانوں کی موجودہ ضرورتوں کے لیے ناکافی نہیں ہیں ۔ فقہائے کرام نے اس دور میں احکام شریعت کی جو تعبیر کی تھی ، وہ معاملات کی ان صورتوں کے لیے تھی ، جو ان کے گرد و پیش کی دنیا میں پائی جاتی تھیں ۔ مگر اب ان میں سے بہت سی صورتیں باقی نہیں رہی ہیں اور بہت سی دوسری صورتیں ایسی پیدا ہوگئی ہیں جو اس وقت موجود نہ تھیں ۔ اس لیے بیع و شراکت اور مالیات کے متعلق جو قوانین ہماری فقہ کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں ان میں بہت کچھ اضافے کی یقینأٔ ضرورت ہے ۔ پس اختلاف اس امر میں نہیں ہے کہ معاشی اور مالی معاملات کے لیے قانون اسلامی کی تدوین جدیدہونے چاہیے یا نہیں ۔ بلکہ اس امر میں ہے کہ تدوین کس طرز پر ہو ؟ 
ڈاکٹر عبدالمالک عرفانی صاحب لکھتے ہیں کہ ’’فقہاء نے مضاربت کی بعض ایسی شرطوں کا ذکر کیا ہے جو قران و سنت میں نہیں ہیں ، بلکہ فقہاء کی اجتہادی آرا ہیں ، ان کی پابندی پر اصرار کرنا اور انہیں قران و سنت کا درجہ دینا ہے ۔ یہ شرائط فقہا ء نے اپنے زمانے (ایک ہزار سال قبل) اور اپنے علاقے (جو پاک و ہند کا علاقہ نہیں تھا) کے تجارتی اور معاشرتی عرف مطابق مقرر کیں ہیں ۔ یہ تجارتی اور معاشرتی عرف ۹۵ فیصد تبدیل ہو چکا ہے اور زمان اور مکاں کے اس قدر بڑے اختلاف کے ساتھ ساتھ کاروبار کی متعدد جدید اور پیچیدہ صورتیں ملکی سطح پر نمودار ہو چکیں ہیں ۔ انسان کی مصلحتیں ، ضرورتیں اور سہولتیں بدل چکی ہیں ۔ اس لیے ان شرائط کو ایسی صورت میں نافذ کرنا شرعی مصالح کا تقاضہ نہیں ہے ۔
مولانا محمد طاسین صاحب لکھتے ہیں کہ ــ’’اسلام کے اقتصادی مسائل اور معا شی امور و معاملات پر لکھنے والے حضرات علماء کرام نے عام طورپر قران و حدیث کی طرف رجوع کرنے اور ان سے ہدایت و رہنمائی لینے کے بجائے کتب فقہ کی طرف رجوع کیا اور اپنی پسند کے مطابق فقہاء عظام کے اقوال و آراء سے فائدہ اٹھایا ۔ بغیر یہ دیکھے اور غور و فکر کیئے کہ وہ جس فقہی قول و رائے کو اختیار کررہے ہیں قران وحدیث میں اس کی سند اور دلیل کیا ہے ۔
مولانا محمد طاسین مزید لکھتے ہیں کہ’موجودہ دور میں یہ علمی اور تحقیقی کام انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر کیا جانا چاہیے ۔ یعنی ایسے علماء کرام کی ایک جماعت اس اہم دینی اور عملی کام کو انجام دینے کی جہد وکوشش کرے ۔ جو قران و سنت کا وسیع و عمیق علم رکھتے ، اصول فقہ میں بیان کردہ استنباط و استخراج کے طریقوں کو جانے ، اختلافی مسائل کی حقیقت و ماہیت کو سمجھنے اور غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے آراستہ ہوں ۔ ان کے لیے ایک چیز یہ بھی ضروری ہے ایک حد تک علم المعیشت و الاقتصاد اور موجودہ معاشی نظاموں اور ان کے بنیادی اصول و افکار سے واقفیت وآگہی رکھتے ہوں ۔ کیوں کہ اس سے بھی معاشی مسائل کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری(

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں