43

قدیم ایرانی مذاہب

    ایرانیوں کے قدیم مذہب کی تفصیل ان کے کتبوں یا کتابوں میں نہیں ملتی ہے ۔ پھر بھی کچھ ایسے ذرائع موجود ہیں جن سے ان کی مذہبی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ تاہم ان کے قدیم مذہب کی بنیاد عناصر اجسام فلکی اور قدرت کی طاقتوں کی پرستش پر تھی ۔ 

قدیم آریاؤ کی تین جماعتیں پار ، ماد اور پارت ایران کے تین حصوں میں آباد ہوئیں تھیں ۔ جس کی وجہ سے ان علاقوں کا نام پارس ، ماد و پارت یا پراسیا ، میدیا و پارتیا پڑا ۔ ایران کی قدیم تاریخ ان تین قبیلوں کی تاریخ ہے ۔ یہ تینوں قبیلے آریائی نسل سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس لیے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا ابتدائی مذہب ایشائے کوچک میں آباد ہونے والے متیائی Mistanians اور برصغیر میں بسنے والے آریائیوں سے مختلف نہیں ہوگا ۔ 

برصغیر میں آباد ہونے والے آریا مناظر فطرت یعنی آب و آتش ، خاک و باد اور مناظر قدرت آفتاب و ماہتاب و برق و رعد کی پرستش کرتے تھے اور ساتھ ہی برائیوں اور آلام کے دیوتاؤں کا تصور رکھتے تھے ۔ متانیوںکے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ یہی ہے کہ ان کے عقائد ہندی آریوں سے ملتے جلتے تھے ۔ ایسی حالت میں ایرانیوں کے بھی متعلق یہی رائے ہے کہ ان کا مذہب بھی اسی نوعیت کا تھا اور ساتھ ساتھ منشر طور پر ایسے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس کی تصدیق بھی ہو تی ہے ۔ ان کے اہم دیوتا درج ذیل ہیں ۔ 

گو ہندی آریائیوں نے وید برصغیر میں لکھا تھا اس لیے اس کے نشانات ایرانی آریائیوں میں نہیں ملتے ہیں ۔ مگر ویدی دیوتائوں کا نشان ملتا ہے ۔ یہاں ہم کچھ مشترک ایوتاؤں کا بیان کرتے ہیں ۔

اہورا ۔ اہورا Ahura ایرانیوں کا سب سے بڑا دیوتا تھا ۔ جس کے معنی مالک کے ہیں ۔ سنسکرت میں یہ لفظ آسورہ Asura جو بعد میں آسور یا ایشور بن گیا ۔ اہورا یا اسورا مالک کائنات کے تصور کو ظاہر کرتا ہے ۔ 

دیو دیوا Dawa بھی قدیم آریائی دیوتا ہے ۔ قدیم ویدی زبان میں یہ کلمہ دیاؤہ ہے جس کے معنی خدائی سمادات god  of Hevens کے ہیں آخری ویدی دور میں دیاوہ یا دیوا کو بہت طاقت ور مانا گیا ہے اور اسور پر اس کی برتری ظاہر کی گئی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے جدید ہندی دیوتا شیوا Shiva بن گیا جس کو مہا دیوا کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ ایران میں اس کے برعکس دیوا Dowa برائیوں کا دیوتا سمجھا گیا ہے اور اسے اہورا سے سرپیکار بتایا جاتا ہے ۔ یہ کلمہ فارسی میں دیو Dowa یعنی شیطان بن گیا ۔ اوستا میں اہرمن کے ساتھی دیوا کہلاتے ہیں ۔

ورنا ۔ ورانا جس کا لقب آسورہ تھا ، یہ مادی و اخلاقی قوانین یا ریت کا نگران یا محافظ ہے ۔ رگ وید میں اس کی مدح کی گئی ہے ۔ یہ ایرانیوں کا متھرا ہے ۔ یہ سورج دیوتا Sun god ہے جو بہت طاقت ور ہے اور اوستا میں مشرہ آیا ہے اور فارسی میں مہر بن گیا اور ایرانی اسے چشم فلک کہتے تھے ۔ یہ برتر مانا گیا اور آسورہ پر اس کی برتری دیکھائی گئی ہے ۔ یہ فارسی میں مہر بن گیا ۔ ایرانی اسے چشم فلک کہتے تھے ۔

دوسرے اہم دیوتاؤں میں ایرانیوں کا آرت Arta سنسکرت کا ورت Vartta یعنی خدائے گیتی ۔ آذروان Adervan یا آذر ، سنسکرت کا اوردان Attervan یعنی برق دیوتا ۔ ایرانیوں کا اترگنی Atragni اور سنسکرت کا اگنی Agni یعنی آگ کی دیوی ۔ ایرانیوںکا ایندراہ Andra سنسکرت کا اندر اAndra یعنی کڑک دیوتاgod of Thander  ہے ۔ یہ وہ دیوتا ہیں جن کی قدیم ایرانی پرستش کرتے تھے اور زرتشت نے کسی نہ کسی معنوں میں ان کی پرستش کو برقرار رکھا ۔

آریاؤں کی آمد کے وقت ان کا مذہب ابتدا میں ایک ہی تھا ۔ پھر زرتشت کا مشرقی ایران میں ظہور ہوا تو اس نے ایک نیا مذہب پیش کیا ۔ اگرچہ یہ نیا مذہب نہیں تھا اور کسی نہ کسی صورت میں اس میں مختلف تصاد کے ساتھ جو یہاں پہلے موجود تھے قدیم عقائد کو باقی رکھا گیا تھا ۔ تاہم زرتشت کی تعلیمات مذہب مقامی تھیں اور طویل عرصے تک اسے مقامی حثیت حاصل رہی ۔ آخر میں یہ مذہب اطراف ایران میں پھیل گیا اور ساسانی عہد میں ایران کا مذہب بن گیا اور ساسانیوں سے پہلے ہخامنشیوں اور پارتھی زرتشتی مذہب پر تھے اس کے شواہد نہیں ملتے ہیں ۔

قدیم ایرانی آفتاب (متھرا) کے معتقد تھے اور آفتاب (متھرا) کی پرستش پانچویں صدی قبل مسیح میں شروع ہوئی ۔ یہ آفتاب (متھرا) کی قسمیں کھاتے اور جنگ کے موقع پر اسے مدد مانگتے تھے ۔ اس زمانے یہ آگ ، آفتاب ، پانی ، ہوا اور روشنی کو بھی مقدس سمجھتے تھے ۔ یہاں تک انہیں بھی ایزدیت کا درجہ دیا گیا تھا اور ان کے نام پر جانوروں کی قربانیں دی جاتی تھیں ۔ جو کسی مغ یعنی آتش پرستوں کے روحانی پیشوا کی موجودگی میں دی جاتی تھی ۔ قربانیاں دینے کے لیے ضروری تھا کہ وہ پاک و صاف لباس پہنیں اور کسی پاک اور بلند جگہ پر جہاں کی ہوا پاک و صاف ہو قربانی دی جاتی تھی ۔ زمین ان کے نذدیک مقدس تھی اور اسے آلودہ کرنا ممنوع تھا ۔ اس لیے وہ اپنے مردوں کو موم میں لپیٹ کر زمین میں دفن کرتے تھے ۔ یہ موم گویا مردے اور زمین کے مابین حائل ہوجاتی تھی ۔ تاہم انہوں نے بعد میں زرتشیت اختیار کرلی تھی ۔ اس کا اندازہ مختلف علاقوں میں متعضاد عقیدوں سے لگایا جاسکتا ہے جو کہ ساسانی اوستا میں مرقوم ہیں ۔  

اشکانیوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ یہ آریاؤں کی طرح چاند ، سورج اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے ۔ آفتاب کو یہ مہر اور محاٖفظ تصور کرتے تھے ۔ طلوع ہوتے وقت اس کی پرستش کی جاتی تھی اور اس کے نام پر جانوروں کی قربانیاں کیں جاتی تھیں اور ایرانیوں کے اثر یہ ہرمز کی پرستش کرنے لگے تھے ۔ جو سب سے بڑا خدا اور باقی خدا اس کے نائب سمجھے جاتے تھے ۔ ان کا مذہب بہت سی باتوں میں زرتشیوں سے ملتا جلتا تھا ۔ لیکن وہ زرتشتیوں کے برعکس اپنے مردے جلاتے تھے ۔ آخر میں انہوں نے زرتشتی مذہب اختیار کرلیا تھا اور بلاش سوم سے اوستا کو جع کیا گیا ۔

زرتشت نے اپنے مذہب کی اشاعت کا کام آذر بائیجان سے شروع کیا ۔ مزد پرستی ان کا مذہب تھا اور ساتھ ساتھ سیاروں ، ستاروں اور قبیلے کے بزرگوں کو خدا سمجھتے کر ان کی پرستش کرتے تھے ۔ یہ اپنا قدیمی وطن چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے اور زرتشت نے مایوس ہوکر بلخ ہجرت کی ۔ زرتشت کا عقیدہ تھا آگ اور نور کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے ۔ اہورا کا بیٹا اتار ہے جس کی پرستش خود اہورا تک پہنچتی ہے ۔ ، آگ اور نور حرارت اور روشنی پیدا کرتی ہے اور سرگرداں خبیث روحیں جو اندھیرے میں پرورش پاتی ہیں فناکردیتی ہے ۔ آگ اور نور اہورا مزد کے مظاہر ہیں اور ظلمت اہرمن کا مظہر ہے ۔

اہورا مزد یعنی خالق خیر ہر جگہ موجود ہے ۔ کھیتوں ، دن کی روشنی میں آتش کدوں کی آگ میں ، محنت کرنے والوں کے جسم میں ، فتنہ و شر کے خلاف عمل پیرا ہونے والی روح میں ، ہوا میں ، پانی میں ، غرض فائدہ پہنچانے والی ہر چیز میں موجود ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں