71

قدیم مخطوطے

پہلے کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ یہ کتابیں مخطوطے کہلاتی ہیں یعنی غیر چھپے ہوئے۔ پہلے یہ مخطوطے لوگوں کے گھر میں عام ملتے تھے، مگر اب صرف بڑی بڑی لائبریوں اور عجائب گھروں میں محفوظ ہیں۔ یہ مخطوطے چوں کہ بہت قیمتی ہوتے ہیں اس لیے انہیں سخت حفاظتی اقدامات کے تحت رکھا جاتاہے۔ مغرب کی لائیربریاں اور عجائب گھر ان مخطوں سے بھری ہوئی ہیں۔ مگر ان تک رسائی بہت مشکل ہے اور ہر کسی کی ان تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ چوں کہ یہ نایاب اس لیے صرف ماہرین ہی ان کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ 
چوں کہ مخطوطے نایاب ہونے کی وجہ سے یہ قیمتی ہوتے ہیں اس لیے ان میں بھی جعل سازی بھی ہوتی ہے۔ ماہرین ان کا مختلف طریقوں سے ان کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کے اصلی ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جال ساز کاغذ اور کھالوں کو جن پر یہ کتابیں لکھی جاتی تھیں مختلف طریقوں سے پرانا بنالیتے تھے۔ اب تو کاربن ٹیسٹنگ کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔ اب جعل ساز یہ کرنے لگے ہیں کیسی سستے مخطوطے کی تحریر مٹا کر اس پر نئی تحریر لکھ لیتے ہیں۔ اس لیے کاربن ٹیسٹنگ مدد تو کرتی ہے مگر اس سے مخطوطے کے اصلی ہونے کا یقینی نہیں ہوتا ہے۔ ان مخطوطوں کے اصلی ہونے کے لیے کئی طریقوں سے اس کا امتحان لیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کے بعد ان کے اصل ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے۔
 ان طریقوں میں ایک طریقہ حروفوں کی شکلوں کا بھی ہے۔ یہاں اس سے مراد رسم الخط نہیں ہے۔ بلکہ قدیم زمانے بہت سے حروف ایک جیسی شکل کے لکھے جاتے تھے۔ اگرچہ ان کی ادائیگی ضرورت کے مطابق ادا کی جاتی تھی۔ دور کیوں جائیں سو سال پہلے کی چھپی ہوئی کسی کتاب کو پڑھیں تو یہی مشکل پیش آئے گی۔ کیوں کہ پہلے کی کتابوں میں میں ’ن یا ں‘ کا فرق نہیں ہوگا۔ بلکہ ان دونوں کو ’ن‘ کی شکل میں لکھا جاتا تھا۔ اس طرح ’ہ‘ استعمال ہوتا تھا، مگر ’ھ‘ کی جگہ ’ہہ‘ یعنی دہرا ’ہ‘ استعمال ہوتا تھا۔ اس سے ہندی الفاظ جو ’ھ‘ ملا کر بنائے جاتے ہیں پڑھنے میں دقت پیش آتی تھی۔ قدیم مخطوطوں میں بھی اس طرح کی تفریق نہیں ہوتی تھی۔ مثلاً ’ب اور پ‘ کی تمیز نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح فارسی کے بہت سے الفاظوں کو ان کو دونوں حروف استعمال ہوئے۔ مثلاً ’دبیر، دپیر‘ یا ’اسب یا اسپ‘۔ اس طرح ’د، ڈ اور ذ‘ کو ’د‘ لکھتے تھے۔ اس طرح ’ز، ژ، ڑ‘ کو بھی ’ر‘ شکل میں لکھا جاتا تھا۔ ن اور ں کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اگرچہ ان کو پڑھا ان کی اصل آوازوں کے مطابق جاتا تھا مگر لکھنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا تھا۔ ماہرین قدیم مخطوطوں کا معائنہ کرتے ہیں تو یہ بھی دیکھتے ہے کہ یہ حروف مشترکہ شکل میں لکھے گئے ہیں یا ان کی شکل موجودہ شکل کے مطابق ہے اور ان سے بھی اس مخطوطہ کے اصل یا نقل ہونے کا اندازہ ہوتا ہے

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں