69

قدیم معاشی نظام

محصولات
جس طرح عام افراد کو زندگی بسر کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہو تی ہے اس طرح حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوراکرنے کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس کے حصول کے لیے وہ عوام پر مختلف محصولات عائد کرتی ہے ۔

محصول جسے عربی میں ضربیۃ، مکس اور خراج کہتے ہیں کی مختلف لوگوں نے مختلف اصطلاحی تعریفیں کیں ہیں ۔ انسائیکلوپیدیا سوشل سائنسز Encyclopaedia of Socil Sciences میں ہے کہ ’محصول سے مراد وہ قیمتی چیزیں ہیں جو حکومت مختلف افراد اور جماعتوں سے بذریعہ قانون حاصل کرتی ہے ۔
انسائیکلوپیدیا برٹینکا Encyckopadia brtanica میں ہے محصول حکومت کی ذمہ داروں کو پورا کرنے کے لیے ایک لازمی لگان ہے ۔ جس میں انکم ٹیکس ، آبکاری ٹیکس ، کسٹم وغیرہ اور بہت سے ٹیکس شامل ہیں ۔ ان میں حکومت کے قرضے ، تحفے یا خاص سرکاری خدمات (مثلاً ڈاک، تار ، ٹیلی فون) کے معاوضے شامل ہیں ۔
ایک اور ماہر مالیات پروفیسر ڈالٹن Prf Daltan کا کہنا ہے کہ محصول وہ لازمی معاوضہ ہے جو حکومت کی طرف سے رعیت پر کیا جاتا ہے ۔
قدیم ادوار میں مالیاتی نظام حکومت کی ذمہ داریوں کی طرح سیدھا سادہ ہوتا تھا ۔ عام طور پر حکومت کی ذمہ داریاں محدود ہوتی تھیں ۔ اس لیے محصولات میں کوئی پیچیدگیاں نہیں ہوتی تھیں ۔ محصولات کا بڑا حصہ زمین کی لگان اور اس کے محصول پر مشتمل ہوتا تھا ۔ جب کہ ذرخیز علاقوں پر عام طور زیادہ محصول ہوتا تھا یا ان پر کچھ خصوصی محصول کسی خاص مد میں لگائے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ جزیہ ، تجارت اور وراثت پر بھی محصول لگائے جاتے تھے ۔ جو کہ کم و بیش روم ، ایران و مصر اور دوسرے علاقوں میں قبل اسلام یہی محصولات مختلف شکلوں میں عائد کیے جاتے تھے ۔
جب مدینہ میں پہلی اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی تو باقاعدہ سرکاری خزانہ کی تشکیل نہیں ہوئی تھی ۔ جو مال آتا اسی وقت تقسیم ہوجاتا تھا ۔ مگر حضور ﷺ نے محصولات کا تعین فرمادیا تھا ۔ جس کی تفصیلات مختلف کتابوں میں ملتی ہے ۔ جس میں زکواۃ، عشرہ ، خمس ، فے ، جزیہ ، وغیرہ شامل ہیں ۔ ان میں زکواۃ کا خاص پر قران الحکیم میں ذکر آیا ہے اور اس کے مصارف کا قران الحکیم میں تعین کردیا گیا ہے ۔ جیسا حضور ﷺ نے حضرت معاذؓ کو یمن بھیجا تو اور ہدایات کے ساتھ فرمایا جب یہ ایمان لے آئیں اور نماز پڑھنے لگیں تو ان کو بتاؤ کہ ان پر اللہ تعالی نے صدقہ (زکواۃ) فرض کیا ہے ۔ جو ان کے مال داروں سے لے کر ان کے محتاجوں پر خرچ کیا جائے گا یا رفہ عامہ کے کاموں پر خرچ کیا جائے گا ۔
مختصر یہ کہ زکواۃ فرض ہے ۔ جو کہ اسلامی معاشرے میں محتاجوں پر خرچ کی جاتی ہے یا رفہ عامہ کے کاموں پر خرچ کی جا تی ہے ۔ اسے حکومتی امور پر خرچ نہیں کیا جاتا ہے ، جیسا کہ پروفیسر رفیع اللہ شہاب صاحب کا کہنا ہے کہ مال پر زکواۃ کے علاوہ کوئی محصول نہیں ہے ۔
اگر آپ ﷺ جنگ تبوک کے موقع پر مال کی درخواست نہیں کرتے ۔ یہ درخواست اگرچہ رضاکارانہ بنیاد پر تھی ، کیوں کہ اگرآپﷺحکم دیتے تو یہ ہمیشہ کے لیے قانون بن جاتا ۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتاہے کہ حکومت اگرچاہے تو ایسا کرسکتی ہے ۔ جیسا کہ حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں بعض محصول لگائے تھے ، جس کا پروفیسر رفیع اللہ شہاب صاحب نے ذکر کیا ہے ۔
خلافت راشدہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں کم و بیش طریقہ کار وہی رہا جو کہ حضور ﷺ کے زمانے میں تھا ۔ جو مال آتا تھا اسی وقت تقسیم ہوجاتا تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں تمام مسلمانوں کو چاہے غلام ہو کہ حر ، برابر کے عطیے دیئے جاتے تھے ۔ لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے اس طریقے کو بدل کر مختلف لوگوں کے مراتب کے لحاظ تنخوائیں مقرر کیں ۔ مدینہ اور صوبوں میں بیت المال کا قیام عمل میں لایاگیا اور ان کی آمدنیوں اور مصارف کا باقاعدہ حساب رکھا جانے لگا ۔ آپؓ نے صحابہ کے مشورے سے محصولات میں بعض ترامیم کیں ۔ مثلاً بنو تغلب پر جزیہ کے بجائے دو گنا زکواۃ عائد کی ۔ عراق کی فتوحات کے بعد وہاں کی زمین ریاست کی ملکیت قرار دی گئی اور ان پر خراج نافذ کیا اور خراج کی شرحیں مقررکیں ۔ حضور ﷺ کے زمانے میں گھوڑوں پر زکواۃ نہیں تھی ، مگر آپؓ نے ان پر بھی زکواۃ عائد کی ۔ عشور یعنی کسٹم یا چنگی بیرونی تجارت پر محصول عائد کیا ۔
تمام اصلاحات آپؓ نے صحابہ کے مشورے سے کی تھیں اور ان پر خلافت راشدہ اور اموی دور میں عمل درآمد جاری رہا ۔ اگرچہ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اس میں کچھ اصلاحات کیں ۔ اس طرح یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اموی دور میں خلافت میں بڑے ظالمانہ ٹیکس عائد کئے گئے تھے ۔ جنہیں حضرت عمرؒ بن عبد العزیز نے ختم کیا ۔ مولانا مودودی ؒ کا بھی یہی کہنا ہے ، لیکن اس کا کوئی تاریخی حوالہ یا ان محصولوں کی تفصیل یا حوالہ نہیں دیتے ہیں ۔
ابتدائی عباسی خلفاٗ کے دور میںان میں کوئی خاص ترامیم نہیں ہوئیں ، صرف مہدی کے دور میں ان پر کچھ اضافہ ہوا ۔ لیکن جب ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس نے اس سلسلے میں قاضی القضاء امام ابوالیوسفؒ سے رائے طلب کی ، تو امام ابوالیوسفؓ نے ایک کتاب ’الخراج‘ کے نام سے تصنیف فرمائی ، جو کہ مالیات یا معاشیات پر دنیا میں پہلی باقاعدہ کتاب تھی ۔ اس کتاب میں آپ نے محصولات کی شرح میں کچھ ترمیم کی سفارش کی تھی ۔ یہی معاشی نظام برصغیر سلطنت عثمانیہ اور دوسرے اسلامی علاقوں میں رائج رہا ۔ اگرچہ اس میں وقت کے ساتھ کچھ ترامیم ہوتی رہیں ہیں ۔
فاطمین مصر چونکہ شیعہ تھے ، اس لیے وہاں محصولات دوسرے اسلامی علاقوں سے مختلف تھے ۔ وہاں کے محصولوں میں زکواۃ ، خمس ، فطرہ ، نجوی ، جزیہ ، خراجی اور ہلالی وغیرہ محصولات تھے ۔ زکواۃ ، خمس اور فطرۃ تو مشہور ہیں ۔ جب کہ بخوی اسماعیلی دعوت میں شریک ہوتے وقت یا امام سے ملاقات کے وقت لیا جاتا تھا اور خراجی زمینوں کا اور ہلالی پیداوار کا محصول تھا ۔ اس کے علاوہ قاہرہ شہر بھی خلیفہ کی ملکیت میں داخل تھا اور اس کا کرایہ حکومت لیتی تھی اور یہ بھی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھا ۔
تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں