58

قدیم معاشی نظام

         
قدیم ادوار میں مالیاتی نظام حکومت کی ذمہ داریوں کی طرح سیدھا سادہ ہوتا تھا۔ عام طور پر حکومت کی ذمہ داریاں محدود ہوتی تھیں۔ اس لیے محصولات میں کوئی پیچیدگیاں نہیں ہوتی تھیں۔ محصولات کا بڑا حصہ زمین کی لگان اور اس کے محصول پر مشتمل ہوتا تھا۔ جب کہ ذرخیز علاقوں پر عام طور زیادہ محصول ہوتا تھا یا ان پر کچھ خصوصی محصول کسی خاص مد میں لگائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جزیہ، تجارت اور وراثت پر بھی محصول لگائے جاتے تھے۔ جو کہ کم و بیش روم، ایران و مصر اور دوسرے علاقوں میں قبل اسلام یہی محصولات مختلف شکلوں میں عائد کیے جاتے تھے۔ 
جب مدینہ میں پہلی اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی تو باقاعدہ سرکاری خزانہ کی تشکیل نہیں ہوئی تھی۔ جو مال آتا اسی وقت تقسیم ہوجاتا تھا۔ مگر حضور محمدصلی اللہ علیہ وصلم نے محصولات کا تعین فرمادیا تھا۔ جس کی تفصیلات مختلف کتابوں میں ملتی ہے۔ جس میں زکواۃ، عشرہ، خمس، فے، جزیہ، وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں زکواۃ کا خاص پر قران الحکیم میں ذکر آیا ہے اور اس کے مصارف کا قران الحکیم میں تعین کردیا گیا ہے۔ جیسا حضورمحمدصلی اللہ علیہ وصلم نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا تو اور ہدایات کے ساتھ فرمایا جب یہ ایمان لے آئیں اور نماز پڑھنے لگیں تو ان کو بتاؤ کہ ان پر اللہ تعالی نے صدقہ (زکواۃ) فرض کیا ہے۔ جو ان کے مال داروں سے لے کر ان کے محتاجوں پر خرچ کیا جائے گا یا رفہ عامہ کے کاموں پر خرچ کیا جائے گا۔ 
مختصر یہ کہ زکواۃ فرض ہے۔ جو کہ اسلامی معاشرے میں محتاجوں پر خرچ کی جاتی ہے یا رفہ عامہ کے کاموں پر خرچ کی جا تی ہے۔ اسے حکومتی امور پر خرچ نہیں کیا جاتا ہے۔
اگر آپ جنگ تبوک کے موقع پر مال کی درخواست نہیں کرتے اور یہ درخواست اگرچہ رضاکارانہ بنیاد پر تھی۔ کیوں کہ اگرآپ  نے حکم دیتے تو یہ ہمیشہ کے لیے قانون بن جاتا۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتاہے کہ حکومت اگرچاہے تو ایسا کرسکتی ہے۔ جیسا کہ حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں بعض محصول لگائے تھے۔   
خلافت راشدہ میں حضرت ابوبکرصدیق کے دور میں کم و بیش طریقہ کار وہی رہا جو کہ حضور وصلم کے زمانے میں تھا۔ جو مال آتا تھا اسی وقت تقسیم ہوجاتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں تمام مسلمانوں کو چاہے غلام ہو کہ حر برابر کے عطیے دیئے جاتے تھے۔ لیکن حضرت عمر فاروق نے اس طریقے کو بدل کر مختلف لوگوں کے مراتب کے لحاظ تنخوائیں مقرر کیں۔ مدینہ اور صوبوں میں بیت المال کا قیام عمل میں لایاگیا اور ان کی آمدنیوں اور مصارف کا باقاعدہ حساب رکھا جانے لگا۔ آپ نے صحابہ کے مشورے سے محصولات میں بعض ترامیم کیں۔ مثلأئ بنو تغلب پر جزیہ کے بجائے دو گنا زکواۃ عائد کی۔ عراق کی فتوحات کے بعد وہاں کی زمین ریاست کی ملکیت قرار دی گئی اور ان پر خراج نافذ کیا اور خراج کی شرحیں مقررکیں۔ حضو وصلم کے زمانے میں گھوڑوں پر زکواۃ نہیں تھی مگر آپ نے ان پر بھی زکواۃ عائد کی۔ عشور یعنی کسٹم یا چنگی بیرونی تجارت پر محصول عائد کیا۔               
تمام اصلاحات آپ نے صحابہ کے مشورے سے کی تھیں اور ان پر خلافت راشدہ اور اموی دور میں عمل درآمد جاری رہا۔ اگرچہ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اس میں کچھ اصلاحات کیں۔ تاہم دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اموی دور میں خلافت میں بڑے ظالمانہ ٹیکس عائد کئے گئے تھے۔ جنہیں حضرت عمرؒ بن عبد العزیز نے ختم کیا۔ مولانا مودودی کا بھی یہی کہنا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کا کوئی حوالہ یا ان ٹیکسوں کی تفصیل نہیں دی ہے اور تاریخ میں بھی ان کا حوالہ ملتا ہے۔ 
ابتدائی عباسی خلفاٗ کے دور میں ان میں کوئی خاص ترامیم نہیں ہوئیں، صرف مہدی کے دور میں ان پر کچھ اضافہ ہوا۔ لیکن جب ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس نے اس سلسلے میں قاضی القضاء امام ابوالیوسف سے رائے طلب کی، تو امام ابوالیوسف نے ایک کتاب ’الخراج‘ کے نام سے تصنیف فرمائی۔ جو کہ مالیات یا معاشیات پر دنیا میں پہلی باقاعدہ کتاب تھی۔ اس کتاب میں آپ نے محصولات کی شرح میں کچھ ترمیم کی سفارش کی تھی۔ یہی معاشی نظام برصغیر سلطنت عثمانیہ اور دوسرے اسلامی علاقوں میں رائج رہا۔ اگرچہ اس میں وقت کے ساتھ کچھ ترامیم ہوتی رہیں ہیں۔  
فاطمین مصر چونکہ شیعہ تھے، اس لیے وہاں محصولات دوسرے اسلامی علاقوں سے مختلف تھے۔ وہاں کے محصولوں میں زکواۃ، خمس، فطرہ، نجوی، جزیہ، خراجی اور ہلالی وغیرہ محصولات تھے۔ زکواۃ، خمس اور فطرۃ تو مشہور ہیں۔ جب کہ بخوی اسماعیلی دعوت میں شریک ہوتے وقت یا امام سے ملاقات کے وقت لیا جاتا تھا اور خراجی زمینوں کا اور ہلالی پیداوار کا محصول تھا۔ اس کے علاوہ قاہرہ شہر بھی خلیفہ کی ملکیت میں داخل تھا اور اس کاکرایہ حکومت لیتی تھی اور یہ بھی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھا۔

؎تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں