56

قراقرم کے تجارتی درے

شمال میں قراقرم کی جانب سے دریائے سندھ وسط ایشیا سے جدا ہوجاتا ہے ۔ اس کو جدا کرنے والے ایسے پہاڑ ہیں جہاں قافلوں کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا ۔ لیکن اس کے باوجود یہاں سے کستوری ، ریشم اور دوسری تجارتی اشیاء آتی تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان تجارتی اشیاء کو رسیوں سے باندھ کر مختلف آلات کے ذریعے کھنچ کر پہاڑوں پر چھڑہایا جاتا تھا اور انہی آلات کی مدد سے انہیں دوسری طرف اتارا جاتا تھا ۔ ان میں کوئی ایسا درہ نہیں ہے اور جو کم دشوار راستے ہیں وہ سال کے اکثر حصوں میں مختلف جنگوں اور دشمنیوں کی وجہ سے بند رہتے تھے ۔ اس لیے اکثر قافلوں کو زیادہ دشوار راستے استعمال کرنے پڑتے تھے ۔ اس کے علاوہ کئی ایسے راستے بھی ہیں جو کہ استعمال ہوتے رہے مگر وہ پچھلے دو سو سال میں گلشیر کی زرد میں آکر ناقابل استعمال ہوگئے ہیں ۔

شمال کی جانب جانے والا سب سے اہم راستہ قراقرم روٹ لداخ سے بل کھاتا ہوا پہاڑوں کے سلسلے پر چڑھ جاتا ہے اور پھر نیچے آکر دریائے شیوک کے ایک خم کو پار کرنے کے لیے خطرناک ڈھالان کی صورت میں نیچے اترتا ہے اور پھر ایک دوسرے پہاڑی سلسلے پر چڑھ جاتا اور پھر نیچے آکر دریائے شیوک کی ایک معاون ندی کو پار کرتا ہوا وسط ایشیا میں داخل ہوتا ہے ۔ اگر مڑ کر پیچھے نظر ڈالیں تو لہہ کے جنوب میں پہاڑوں کا ایک شاندار سلسلہ نظر آتا ہے ۔ جس میں جابجا چوٹیاں سر نکالے ہوئے ہوئی ہیں ۔ جس میں برف واضح اور صاف نظر آتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے ارغونی رنگ کی دیوار اپنے آرائشی سفید کنکروں کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے ۔ یہ منظر یقناً دلکش ہے مگر دیکھنے والوں کو اس کی قیمت اپنی طاقت اور آخری برادشت سے ادا کرنی پڑتی تھی ۔

یہاں گیارہ درے ہیں جو اٹھارہ ہزار فٹ تک بلند ہیں ۔ برصغیر اور چین کے درمیان درہ قراقرم انیس ہزار فٹ بلند ہے اور اسے صرف گرمیوں میں پار کیا جاسکتا ۔ یہاں چند ماہ کے لیے برف پگھلتی ہے اور نیچے سے کالی ریت اور کنکروں کا ایک ریگستان نکل آتا ہے ۔ یہ بہت بے رحم راستہ ہے ۔ اس راستہ پر کسی قسم کی نباتات نہیں اگتی ہے ۔ اس لیے مسافروں اور زائرین کو اپنی اور جانوروں کی خوراک لے جانی پڑتی ہے ۔ چارہ نہ ملنے پر اس درے میں تجارتی اشیاہ سے لدے جانور لاکھوں کی تعداد میں مرچکے ہیں ۔ یہاں قافلے واپسی کے سفر کے لیے مختلف جگہوں پر غلہ دبا دیتے تھے ۔ پھر بھی ان پوشیدہ ذخیروں کو لوٹا کھسوٹا جاتا تھا ۔ اگر یہ ذخیرے کسی وجہ سے نہیں ملیں تو قافلے کے قافلے موت کے گھاٹ اتر جاتے تھے اور کوئی نہ کوئی قافلہ موت کا لقمہ بنتا رہتا تھا ۔ اگر کسی کو راستہ کے بارے میں شک ہوجائے تو ہڈیوں اور مردہ جسم کی مسلسل موجودگی راستے تعین میں دہشت ناک علامت کے طور پر مدد دیتی تھی ۔ ایک سیاح نے لکھا جب تک ہم میدانی علاقہ میں نہیں پہنچے ڈھانچے ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے تھے ۔ سیون ہیڈ نے بھی اسے ایک بے رحم راستہ قرار دیا ۔ جس پر چلتے ہوئے کسی قسم کی جذبات نہیں آتے ہیں اور تھکے ماندے لدے جانوروں کو ہانکنے والے مزدور بڑے صبر کے ساتھ موت کی آغوش میں چلے جاتے تھے ۔

قراقرم میں اور بھی بہت سے کٹاؤ موجود ہیں ۔ اگرچہ زیادہ نہیں ہیں اور بہت سے دریافت بھی نہیں کئے گئے ہوں گے ۔ جنوب کی جانب میں پہاڑ درہ مستگ بناتے ہوئے نیچے کو آتا ہے جو کہ درہ قراقرم سے زیادہ ڈھلوان اور دشوار ہے ۔ مشرق کی سمت جہاں دریائے شیوک ابتدئی مرحلے میں ہوتا ہے پہاڑ یہاں بھی نیچے اترتے ہیں ۔ یہاں انگریزوں نے وادی جانگ چن مو کو استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرا شمالی راستہ بنانے کی کوشش کی تھی اور یہاں بہت سی سہولتیں مہیا کیں تھیں ۔ مگر اس کو شاذ ہی کسی نے استعمال کیا ہوگا ۔ حقیقت میں یہاں چار بلند درے ہیں ، مگر ان کے ذریعہ جو فاصلہ طہ کرنا ہوتا ہے وہ قراقرام کے راستہ سے زیادہ ہے اور لوگ لمبے عرصے تک اتنی بلندی پر رہنا اور نیچے جانے کی نسبت زیادہ ٹھکا دینے والا ہے ۔ قافلے تنہا اور اجاڑ راستوں کو پار کرنے کی نسبت انہی راستوں کو ترجیع دیتے تھے جو ان کے باپ دادا کے دیکھے اور پرکھے ہوئے ہوئے تھے ۔ لہذا بالائی سندھ کی وادی سے شمال کو جانے کے لیے قراقرم روٹ ہمیشہ اہم راستہ رہا تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں