82

قندھار

صوبہ قندھارجہاں درانی قبائل کی سب سے بڑی آبادی ہے ۔ ہخامنشیوں کے ہَرن َوَتی Haranwati ، قدیم زمانے کے ارکوشیا Arachsia اور ازمنہ وسطیٰ کے زمین داور اور زابل کا مترادف بتایا جاتاہے ۔ اس میں دریائے ہلمند ، ترنک ، اغنداب اور ارغان کی وادیاں شامل ہیں ۔ قندھار اس صوبے کے نام پر موجودہ شہر قندھار کا نام رکھا گیا ہے ۔ جس نے گرشک ، بست اور الرخج کے قدیم شہروں کی جگہ لے لی ہے ۔
ہخامنشی خاندان سے یہ علاقہ سکندرنے چھینا ، پھر سلوکی اس کے وارث ہوگئے ۔ مگر جلد ہی ان کو سھتیوںنے مار بھگایا ۔ جب پارتھیوں نے سھتیوں کو زیر دست کیا تو یہ علاقہ بھی ان کا باج گزار ہو گیا ۔ مگر جلد ہی اس علاقے پر کشان خاندان کا قبضہ ہوگیا ۔ کشان حکومت سے یہ علاقہ اردشیر اول نے حاصل کیا اور یہ ساسانیوں کے قبضہ میں آگیا ۔ مگر اس علاقے پر چوتھی صدی عیسوی تک ہنوںکا قبضہ ہوچکا تھا اور یہاں ہنوںکی زابلی شاخ حکمران تھی ۔ ہنوںسے حکومت ترکوں نے چھین لی اوریہاں ترک چھاگئے ۔  
عربوں کی یلغار کے وقت یہاں برہمن شاہی حکمران تھے اور ان کا صدر مقام بست تھا ۔ اسلامی لشکر کا پہلا ٹکراؤ (24ھ/ 644ء) میں وادی ارغنداب میں ہوا جس میں رتنبل مارا گیا اور اس کے بعد کی دوصدیوں تک عرب اس علاقے پر مستقل حملے کرتے رہے ، گو انہوں نے اس علاقے پر قبضہ نہیں کیا ۔ (258ھ/ 871ء) میں یعقوب بن لیث نے اس علاقے پر قبضہ کرلیا اور اس علاقے کو اسلامی مملکت کا جزو بنادیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں