102

قوموں کے ذوال پزیر ہونے کا ایک سبب

انسان نے جب سے ترقی کے زینہ پر قدیم رکھا ہے تو اس نے بہت سی تہذیب کو جنم دیا ہے ۔ ان میں سے بہت سی تہذیبوں نے عروج حاصل کیا اور بہت سی تہذیبیں عروج حاصل کئے بغیر مٹ گئیں ۔ یہاں ہمارا موضوع بحث وہ تہذیبیں جنہوں نے عروج حاصل کیا اور پھر ذوال پزیر ہوئیں ۔ کسی بھی تہذیب کا عروج ہی اس کے ذوال کا اعلان ہے ۔ کیوں کے کسی تہذیب کو عروج حاصل ہونے کے بعد وہاں دولت کی فراہمی ہوجاتی ہے اور وہاں کے لوگ سہل پسند ہوجاتے ہیں اور تہذیب بہت تیزی سے ذوال پزیر ہونے لگتی ہے ۔ 
تہذیبوں کے ذوال پزیر ہونے کے بہت سے اسباب ہیں ۔ جن پر ابن خلدون اور ٹائین بی سے لے کر بہت سے دور جدید کے مفکرین نے اس اہم موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے اور بہت سے اسباب کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ تاہم میں ایک اہم نکتہ کی طرف لوگوں کی کم توجہ دی گئی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی اور نقل مکانی حملہ کی ایک شکل ہے اور کے نتیجے میں معاشی ، ثقافتی اور مذہبی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ۔
ابن خلدون نے کسی بھی تہذیب کی اوسط عمر ایک سو بیس سال بتائی ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حتمی عمر نہیں ہے اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے اور دنیا کی بہت سی تہذبیں صدیوں تک زندہ رہی ہیں ۔ حقیقت میں اپنی کمزوریوں اور کوہتاہیوں کا احتساب مسلسل کیا جائے تو قومیں زندہ رہتی ہیں ۔ اس طرح مستحکم تہذیب ذوال پزیر ہونے کے بعد بھی فنا نہیں ہوتی ہیں بلکہ صدیوں میں جاکر فنا ہوتی ہیں مثلاً رومن تہذیب یا عباسی دور ۔ لہذا اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ 
جب کوئی تہذیب عروج حاصل کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ترقی یافتہ ہوگئی ۔ لہذا وہاں معاشرے میں مال و دولت کی فراوانی ہوجاتی ہے ۔ لوگوں کا رجحان اشیاء ضرورت سے بڑھ کر اشیاء تعیش کی طرف رجحان ہو جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے لیے ان کے پاس سرمایا ہوتا ہے اور وہ ذیادہ سے زیادہ اشیاء تعش حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اپنے کاموں کو خود کرنے کے بجائے غلاموں اور ملازموں سے کرانے لگتے ہیں ۔ اس سے معاشرے میں بیرونی باشندوں کی طلب بڑھ جاتی ہے ۔ کیوں کہ غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ لوگ دور دراز سے لوگ روزگار کے لیے آنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح مملکت کے سارے کاروبار غلاموں یا ملازموں کے ہاتھ میں آجاتا ہے ۔ 
کسی تہذیب کو عروج حاصل کرنے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو مال و دولت سے حاصل ہوتا ہے ۔ اس کے لیے جو قومیں طاقت ور ہوتی تھیں اور دوسرے ممالک پر حملہ کرکے وہاں کے لوگوں کو غلام بناکر ان کے مال و دولت کو قبضہ میں کرلیا کرتی تھیں ۔ اس سے ان کے پاس دولت کی فراوانی اور لونڈیاں اور غلام آنا شروع ہوجاتے تھے ۔ لیکن ان حملہ آور قوموں کے لیے یہ عروج زیادہ عرصہ نہیں ہوتا تھا ۔ خاص کر اس وقت جب اس نے کسی تہذیب اور ترقی یافتہ ملک پر حملہ کیا ہو ۔ کیوں کہ ایک طرف حملہ آور تعیش اور آرام پسند اور غلاموں کی وجہ سے کاہل اور سہل پسند ہوجاتے تھے اور ان کی وہ اولاد ان لونڈیوں سے پیدا ہوتی تھی وہ نسلی اختلاط کی وجہ سے اپنی ماؤں کی ثقافت اور زبان کو پسند کرتی تھی اور دوسری طرح حملہ آور خود بھی وہاں کی ثقافت اور زبان کو پسند کرنے لگتے تھے ۔ یہاں تک حملہ آور قوم تعیش میں پڑھ کر مزید فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنے کے قابل نہیں رہتی تھی اور یا تو وہ غلاموں کے ہاتھوں کٹ پتلی بن جاتے اور وہ اپنی مال دولت کی وجہ سے ان میں جہد اور سختی برداشت کرنے کا مادہ ختم ہو کر وہ بلکل ناکارہ ہو جاتے تھے ۔ ہمارے سامنے منگولوں کی مثال ہے ۔ جو کہ ایرانیوں اور چینوں کو زیر دست کرنے کے باوجود ان کی ثقافت و مذہب کے آگے سرنگوں ہوگئے ۔
پہلے کسی طاقت ور قوم کے کامیاب حملوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں غلام کی آمد ہوتی تھی تو اس مملکت کے ڈھانچہ کو متاثر کرتی تھی ۔ کیوں کہ ان غلاموں کی تعداد مقامی لوگوں سے بڑھ جاتی ہے ۔ اس بہت بڑی مثال مدینہ کی ہے ۔ حضرت عثمانؓ کے وقت مدینہ آبادی صرف سینتس ہزار تھی ۔ مگر وہاں غلاموں کی تعداد دو لاکھ تھی ۔ لہذا حضرت عثمانؓ کے خلاف جو بغاوت ہوئی غیر متوقہ نہیں تھی ۔ اس بغاوت کے بہت سی اور وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ لیکن یہ حقیقت ہے ان کے بیس سالہ دور میں کسی صحابہ نے ان پر اعتراض نہیں کیا تھا ۔ جب کہ بیرونی لوگوں اور خاص کر غلاموں کی ایک بڑی تعداد اتنی بڑی ہو تو خود بخود بغاوت کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں اور جب کہ حضرت علیؓ خود بھی خلافت کے خواہشمند تھے ۔ اس لیے باغیوں کو ایک مہرہ مل گیا تھا اور بغاوت کے اسباب پیدا کیے گئے اور باغیوں کو اپنی عدوی برتری حاصل ہونے کی وجہ سے بغاوت کامیاب رہی ۔ حضرت عثمانؓ شہید اور حضرت علیؓ نئے خلیفہ بن گئے ۔
حضرت علیؓ جو خود بھی باغیوں کی زیر اثر تھے ۔ لہذا بغاوت کے مخالفین سے مقابلہ و مجاولہ ہونا لازمی تھا اور ہوا بھی یہی ۔ یہی وجہ ہے حضرت علیؓ کا دور خانہ جنگی کا دور تھا ۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف سیاسی اختلافات نے جنم لیا اور یہ اختلافات بڑھ کر مذہبی اختلافات میں ڈھل گئے ۔ کیوں کہ باغیوں کی اکثریت ایرانی نسل تھی انہوں نے اپنے عقیدے اسلام میں کھپائے ، جس کے نتیجے اسلام میں بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا اور بہت سے فرقوں نے جنم لیا ۔  
پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ جب کوئی قوم ترقی یافتہ ہوتی ہے اور وہاں مال دولت کی فراوانی ہوجاتی ہے اور وہاں لوگ روزگار کی تلاش میں دور دراز کے علاقوں سے آتے ہیں ۔ جب آپ مغلوں کے دور کی تاریخیں پڑھیں گے تو یورپینوں کا ذکر عام ملے گا جو کہ روزگار کی تلاش میں برصغیر آئے اور یہاں مختلف ملازمتیں کررہے تھے ۔ کسی ملک میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل و مکانی چاہے وہ کسی بھی سلسلے میں ہو حملہ کی ایک ہی صورت ہوتی ہے ۔ 
اب کسی ملک پر حملہ کرکے اس پر قبضہ نہیں کیا جاتا ہے بلکہ اس ملک کی اقتصادیات پر قبضہ کیا جاتا ہے اور یہ طریقہ طاقت ور ملکوں کی طرف ترقی پزیر ملکوں کے لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہے کسی حملہ سے زیادہ موثر اور دور رس ہوتا ہے ۔ ہمارے سامنے آریائوں کی نقل مکانی اور یورپیوں کی امریکہ میں نقل مکانی کی مثالیں ہے ۔ جو دورپا اور مستحکم تھیں ۔ نقل مکانی کسی ملک پر حملہ سے زیادہ موثر اور اس ملک کی اقتصادیات پر قبضہ کرنے کا باعث ہوتا ہے ۔ کیوں کہ حملہ کی صورت میں حملہ آور کو آخر کار واپس جانا پڑتا ہے ۔ جس طرح برطانیہ کو برصغیر خالی کرنا پڑا ۔ لیکن نقل مکانی کی صورت میں اور وہاں کی شہریت حاصل کروانے والوں کو ملک سے نہیں نکلا جاسکتا ہے ۔ برصغیر میں آنے والے یورپیوں نے روزگار اور تجارت کے لیے آئے اور ملک پر سخت خون خرابے کے بعد قبضہ کیا تھا ۔ لیکن روزگار کے لیے دوسرے ملکوں میں جانے والے وہاں شہری بن جاتے ہیں اور اس میں کوئی خون و خرابہ نہیں ہوتا ہے ۔
موجودہ ترقی یافتہ ملکوں کا المیہ یہ ہے کہ وہاں ترقی اور دولت کی فراوانی کے باوجود شرح پیدائش مسلسل گرتی جارہی ہے ۔ حالانکہ وہاں مسلسل ترغیبات اور سہولتیں دے کر بچے پیدا کرنے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔ مگر وہاں لوگ اس پر توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں ۔ 
یہی وجہ ہے وہاں افرادی قوت کی شدید کمی ہوتی جارہی ہے اور وہ مختلف کاموں کے لیے ایشیائی ملکوں سے لوگوں کو آنے کی اجازت دینے پر مجبور ہیں ۔ وہاں مقامی لوگوں کی اکثریت بڑے عمر کے لوگوں کی ہے اور بچوں کی تعداد نہایت خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے ۔ خاص کر جاپان کی صورت حال بہت خراب ہے ۔ وہاں کی آبادی میں بچوں اور نوجوانوں کی تعداد کم اور 65 سے زیادہ عمر بوڑھے زیادہ ہوگئے ہیں ۔ اس لیے وہاں کام کرنے والوں کی شدید کمی ہے ۔ مگر جاپان تارکین وطن کو آنے کی اجازت نہیں دے رہا ۔
یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے مغرب میں کام کرنے والوں کی شدید کمی ہے اور وہ مجبور ہوکر تارکین وطن اجازت دے رہا ہے تو وہاں ویزوں پر اتنی سخت پابندیاں کیوں ہیں ؟ 
اس کی وجہ یہ تیسری دنیا کے ملکوں کی معاشی اور امن و امان کے حالات بہت خراب ہیں ۔ عرب ملکوں ، افغانستان ، ایران اور چین میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے اور برصغیر کے لوگ بہتر مستقل کی تلاش میں مغربی ممالک جانے کا رجحان بہت بڑ چکا ہے ۔ وہاں روزگار اور شہریت حاصل کرنے خواہشمندوں کی تعداد میں روز بروز مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور قانونی راستوں کے علاوہ غیر قانونی طریقے سے جانے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ۔ خدشہ ہے اگر ان سب کو اجازت دے دی گئی تو مقامی باشندے اقلیت میں ہو جائیں گے ۔ یہی وجہ مغربی ملکوں میں تارکین وطن پر سخت پابندیاں لگائی ہوئی ہیں ۔ وہاں کے ویزا کے خواہشمندوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایک بڑی تعداد ان شرائط کو پورا کرلیتی ہے ۔ اس طرح امریکہ بھی وقفاً وقفاً غیر قانونی اور قانونی تارکین وطن کے لیے ایسے پیکیج کا اعلان کرتا رہا ہے اور انہیں امریکہ میں رہنے کی اجازت دیتا رہتا ہے ۔ کیوں کہ وہاں بھی کام کرنے والوں کی شدید کمی ہے ۔ اس لیے مغرب میں ایشیائی تارکن وطن کی تعداد بہت بڑھ چکی اور ان ملکوں میں ایسے بہت سے علاقے وجود میں آچکے ہیں جہاں صرف کسی خاص قومیت کے ایشائی باشندے رہتے ہیں ۔ وہاں جا کر ایسا نہیں لکتا ہے کہ ہم کسی دوسرے ملک میں ہیں ۔ ان میں چین ، پاکستان اور بھارت کے تارکین وطن کی برادریاں قابل ذکر ہیں ۔ 
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نقل مکانی کے آئندہ مستقبل میں کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ یہ بہت اہم سوال ہے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔
مغرب میں بچوں کی پیدائش کی کمی کے رجحان پر پہلے بات ہوچکی ہے ۔ وہاں لوگوں میں بچوں کو پیدا کرنے کا رجحان خطرناک حد تک کم ہوگیا ہے اور یہ شرح پیدا 1.2 ہوگئی ۔ ماہرین کا کہنا اس شرح پیدائش پر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا ہے اور ایشائی لوگوں میں بچے زیادہ پیدا کرنے کا رجحان ہے ۔ اس بھی ان تعداد میں مسلسل اضافہ اور ساتھ ہی ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان ملکوں میں بہت سے تارکین وطن وہاں کی پالیمنٹ ممبر بن رہے ہیں ۔ ان تارکین وطن کا پالیمنٹ کا میمبر ہونا برطانیہ میں عام بات ہوگئی ہے ۔ برطانیہ میں ایک نہ ایک تارکین وطن وزیر کابینہ میں ضرور ہوتا ہے ۔ یعنی اب وہاں کی حکومتیں ان ایشیائیوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتی ہیں ۔ اب ملکی پالیسیوں کو مرتب کرنے میں ان کا عمل دخل ہونے لگا ہے ۔ جس رفتار سے تارکین وطن کی تعداد بڑھ رہی ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جارہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں اور جلد ہی تارکین وطن اکثریتی طبقہ ہوگا ۔ اس طرح ان ملکوں پر حکمرانی بھی تارکین وطن کی ہوگی ۔ تاکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے وہاں کی ثقافتی اور تہذیبی تبدیلیاں بھی واقع ہورہی ہیں ۔ وہاں اب ان تارکین وطن کے تہوار بڑے پیمانے پر بنائے جارہے ۔ اگرچہ ان تارکین وطن کے مقامی باشندوں سے تعلقات مختلف سطح پر تعلقات بڑھ رہے ہیں اور ان کے درمیان شادیاں بھی ہوری ہیں ۔ مگر ان کے مابین نسلی میل جو اتنا زیادہ نہیں بڑھا ہے ۔کیوں کہ مغرب میں شادی یا مستقل ازواجی تعلقات رجحان کم ہو رہا ۔ جب کہ تارکین وطن گھر اور اپنی روایات کو اہمیت دیتے ہیں ۔ 
تاہم تارکین وطن کے اثر و رسوخ میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان مغربی ملکوں کو زیردست کرلیں گے اور اس کی تہذیب ذوال پزیر ہوجائے گی ۔ یہ سب ممکن ہے یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ لیکن حالات یہی بتارہے ہیں ۔ مغربی مفکرین کو اس ذوال کا احساس ہے اور وہ تارکین وطن کے خلاف آوازیں بلند کر رہے اور ان کی آواز سنی بھی جارہی ہے ۔ لیکن بچوں کی کم پیدائش اور مختلف کاموں کے لیے لوگوں کی کمی کی وجہ سے یہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کر پارہے ہیں ۔ تاریخ اپنا قرض چکائے گی ۔ کبھی مغرب نے مشرق کو غلام بنایا تھا اور اب مشرق مغرب پر چھا رہا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

کیٹاگری میں : فکر

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں