65

لاما ازم

تبتیوں کا قدیم مذہب روحیت پرستی یعنی مٖظاہر قدرت کی پوجا تھا وہ بے شمار دیوتاؤں اور ان کی اولادوں کو پوجتے ہیں ۔ وہ اپنے تحفظ کے لیے دریاؤں ، پہاڑوں ، چشموں اور ہواؤں کی روحوں کی عبادت کرتے تھے اور ان کو خوش کرنے کے لیے ان پر جانور بھینٹ چڑھاتے تھے ۔ یہ مذہب جو کہ بون مذہب کہلاتا ہے اور کچھ تبدیلوں کے ساتھ حکومتی مذہب بھی رہا ہے ۔ اس مذہب کے پرہتوں اور کاہنوں کا تبت میں بہت اثر و رسوخ رہا ہے ۔ 
تبت میں بدھ مت ایک ملحد بادشاہ جس شادی دو بدھ شہزادیوں سے ہوئی تھی نے جاری کیا تھا ۔ اس نے اپنی بیویوں کے اصرار پر ایک ایلچی کو 865ء؁ میں ہندوستان بھیجا اور اس نے واپس آکر بدھ مت کو تبت میں جاری کیا ۔ اس بادشاہ نے بدھ مذہب کے پجاریوں کو  خانقاہوں کے لیے زمینیں اور دوسری مراعات دیں ۔ ایک صدی کے بعد ہندوستان سے بدھ مت کے مشہور رہنما پدم سمبھو کو بلوایا ۔ اس نے بدھ مت کو ایک نئے ڈھنگ سے جاری کیا جو اب لاماازم کے نام سے مشہور ہے ۔ اس طرح لاما کا موجودہ مذہب کی تشکیل ہوئی ۔ ٹسن ٹلپو Tson Tlapu اس میں بڑی اصلاحاتیں کیں اور گلنگ پا Gelang pa فرقے کی بنیاد ڈالی ۔ جس میں خود لائی لاما اسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ عام طور پر سرخ ٹوپی کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کے برخلاف ین بان پا کے فرقے کے لوگ سیاہ ٹوپی والے کہلاتے تھے ۔
 لاما ازم وہ فرقہ ہے جس کی بدھ مت میں کوئی اور مثال نہیں ہے ۔ لاما ازم کے پجاری خانقاہوں میں پوجا پاٹ کرتے ، سیکھتے ، سکھاتے اور عام لوگوں سے نذر و بھینٹ لے کر انہیں بری روحوں سے بچانے ہیں ۔ جو کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی میں اور مرنے کے بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں ہیں اور یہاں تک ان کے نئے جنم میں بھی ان سے چمٹی رہتی ہیں ۔ جب لوگ ایسے توہمات و خرافات میں گرفتار ہوں تو ان کے ساتھ بھوت یقینا لگے ہوں گے اور اسے مذہبی گرہ فائدہ اٹھاتے ہیں اس لیے یہ لاما بھی ہر وقت ان لوگوں سے بھینٹ کا تقاضہ کرنا نہیں بھولتے تھے ۔ 
لاما ازم میں پرہتوں کو تقدس و اہمیت حاصل ہے اس کی مثال بدھوں کے دوسرے فرقوں میں نہیں ملتی ہیں ۔ تبتیوں کا عقیدہ ہے کہ لاما کو جسمانی اور روحانی قوتوں پر مکمل اختیار حاصل ہے ۔ سترویں صدی میں ان کے سربراہ کو دلائی لاما یعنی زندہ بدھ کے خطاب سے نوازا گیا ۔ تبت کے ہر گھر ، ہر چھونپڑی اور ہر خیمے میں قربان گاہیں اور عبادت کے لیے جگہ مخصوص ہوتی تھیں ۔ ہرے بھرے میدانوں ، صحراؤں اور دیہاتوں کے ارد گرد پگواڈ کی شکل میں چاٹنز یا مقبرے واقع تھے ۔ جن میں مردوں کی راکھ رکھی ہوتی تھے اور دعائیہ چرخ جگہ جگہ نصب تھے اب بھی کثیر تعد میں موجود ہیں جنہیں مقامی لوگ اور مسافر گھماتے رہتے ہیں ۔ لمبے لمبے بانسوں پر لہزاتے ہوئے دعائیہ جھنڈے اور پتھروں کی دعائیہ دیواریں جو ہمیشہ چلنے والوں کی داہنی سمت ہوتی ہیں جس پر ہر پتھر پر ہر ماننے والے کی یہ دعا اوم مانی پدی ہم کندہ ہوتی ہے جس کے معنی ’اے کنول کے پھول میں جڑے نگینےْ ۔ دیہاتوں میں سر نکالتی سنہری چھتوں والی سرخ ، بھورے اور پیلے رنگ کی بڑی خانقاہیں صدیوں سے نوک دار چوٹیوں کے ساتھ نظر آتی تھے ۔ جن کے سامنے مقامی آبادی کے مکانات ہیچ تھے ۔ تبتی مذہب کو تجارت پر ہمیشہ فوقیت دیتے ہیں ۔ چینیوں کے آمد کے بعد بھی یہاں بہت کم تبدیلیاں آسکی ہیں ۔ اکثر تبتی باشندے محض دیوتاؤں کی پوجا ، تجارت اور بھیڑ بکریوں کی نگداشت کرتے ہیں ۔ 
تبتیوں کے ہر گھر کے باہر چار چیزیں ضرور ملتی تھیں ۔ پہلی دعاخوانی کی چھڑی یا ہوا اڑتے پتلے یا چوکور کپڑوں کے جھنڈا کی قطاریں ۔ دوسری مٹی کی ٹوٹی ہوئی چائے دانی جس میں جیونپپر کی جلی ہوئی شاخوں کا دھواں اٹھتا رہتا تھا اور یہ وہ خوشبو ہے جس سے بھوت پلید دور بھاگتے تھے ۔ تیسری چیز کتے یا بھیڑ کی کھوپری پر مکڑی کے جالوں طرح بٹی ہوئی رسی کا گھونسلا ۔ یہ رنگین کپڑوں کے چیتھروں ، پتیاں ، پنکھریاں اور فراش کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سجی ہوتی ہے ۔ جن پر باہر نکلی ہوئی شیشہ کی گولیوں کی آنکھیں لگی ہوئی اوور سر پر ایک رنگین ٹوپی ہوتی تھی ۔ اس سے بیماری کے آسیب گھر میں ہوں تو باہر نکل جاتے تھے ۔ اس طرح ہر مکان کے دروازے پر سوستیکار کے نشان مختلف شکلوں میں بنے ہوتے تھے ۔ یہ سوستیکار سیاہ ٹوپی والوں کی خاص نشان تھے مگر اب یہ نشانات بہت ہی کم نظر آتے ہیں ۔ 
مہاتما بدھ ایک وہی تھا جو راہ نجات واقف ہوا اور اس نے اپنے عقائد و ذاتی نظیر پیش کرکے انسان زندگانی گزارنے کی تعلیم دی ۔ چنانچہ بدھی نور ، بدھ ہی غیر فانی ، وہ قدیم ، لازوال اور حکیم حازق ہے ۔ اگرچہ ہزارہا بدھ ہیں جس میں ہر ایک خود خدا مانا جاتا ہے ۔ ان کے علاوہ بہت سے بدھی یا وہ لوگ ہیں جو عنقریب بدھ کا درجہ حاصل کرنے والے ہیں ، جو وہ دیوتا یا انسان ہیں جو نروان کا درجہ حاصل کرنے میں صرف ایک سیڑھی پر قدم رکھا اور ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اگلے جنم میں ضرور بدھ کا مرتبہ حاصل کرلیں گے ۔ بعد میں عورتوں کو بھی تنترک عقیدہ والوں کوششوں سے انہیں نروان کا حقدار سمجھا گیا اور انہیں دیوتاؤں کی بیویاں مانا گیا ۔
اس مذہب میں ایک زندگی ختم ہوتے ہی فوراً دوسری کا جنم لینا پچھلی زندگی کے اعمال پر منحصر ہے ۔ کرم کا قانون کے مطابق اس کو جنم لیا پڑتا تھا ۔ کام ، کرودہ اور موہ (شہوت ، غضب ، جہل) اور زندگانی کا چھ طبقے ہوتے ہیں ۔ جن میں بڑے یا بھلے کاموں کی وجہ سے دوبارہ پیدائیش ہوتی ہے ۔ 
تبت میں عام شخصوں اور دلائی اور تاشے لاماؤں اور دیگر اشخاس کی روحیں بھی جسم تبدیل کرلیتی ہیں ۔ یہاں کے دیوتا و دیت تعداد اور خونخواری کے لحاظ سے ہندوستان کے دو ملین دیوتاؤں کے رقیب ہیں ۔ یہاں کا ملکی انتظام بھکشوں کے ہاتھ میں تھا اور ان لاماؤں کی مداخلت کے بغیر یہاں ایک ادنی کام بھی نہیں ہوسکتا تھا ۔  
بدھ مت جو تبت میں رائج ہے اس میں تین بدھی ، (وجراپانی) Vajrapani اور رحم کا دیوتا (آوی لوکتا) Avalokita کی تثلث ہندوؤں کی تری مورتی کی طرح ہے ۔ اس کے علاوہ شاہ سرن سان گیمپو جس نے تبت میں بدھ مت کو رواج دیا تھا اس کی بیویاں کی سبز اور سفید تارا کی بھی پرستش ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی دیوتا کثرت سے ہیں اور ان میں سے بہت سی کی ریشمی تصویریں ٹنگکا Tangka دیواروں پر اکثر بنی ہوئی تھیں ۔ آئندہ آنے والا بدھ جو اعلیٰ درجہ کا بدھست اور پلڈن شامو Polden Chamo جو ایک خوفناک اور خونخوار دیوی ہے ۔ اس کی تین آنکھیں ہیں اور وہ انسان کی کھوپڑی میں خون پیتی ہے ، ان ٹکڑے کئے جسموں پر چلتی ہے ، کھوپڑیوں کا تاج پہنے ہوئے اور اس کے گھوڑے کی زین سانپوں کی ہے ۔ انسان کی تازہ اتری کھال اوڑھے ہوئے ۔ تبت میں کالی کی صفات رکھنے والی دیوی کا ہندوستان کی طرح احترام اور پوجی جاتی ہے ۔
 ایک اور دیوی ماری سی Marici سور کے چہرے والی دیوی جو سب سے بڑی خانقاہ کے یم ڈک کے سربراہ کی بیوی کا اوتار ہے ۔ یہ مردوں کا دیوتا یم دیوتا کی بیوی کی کے علاوہ گھوڑے کی گردن والے ٹام دن Tamdinکی بیوی بھی ہے ۔ اس دیوتا جس کا آدھا دھڑ گھوڑے کا اور آدھا انسان کا ہے ایک نہایت زبردست دیوتا ہے ۔ یہاں کئی مردوں کی ایک بیوی ہوتی تھی ۔ 
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں بدھ مذہب زور تو پکڑ گیا مگر وہ بون مذہب کو ختم نہیں کرسکا ۔ بدھ مت کو اپنے اندر پرانے مذہب کے بہت سے عقائد اور رسوم کو شامل کرنا پڑا ۔ یہاں بدھ خانقاہوں کے پہلو میں زمین ، ہو اور زخیزی کے دیوتاؤں کی پوجا بھی ہوتی ہے ۔ آج بھی بدھ پرہتوں ، علماؤں اور راہبوں کے ساتھ غیب دان ، جوتشی ، آسیب اتارنے والے ، جادوگر اور مذہبی رقاص بھی نظر آتے تھے ۔ بقول ولیم کرافٹ کے یہاں کا مذہب مذہبی عقائد اور رسوم الہیات ، صوفی ازم ، اخلاقیات ، جوتش ، شعبدے بازی اور بت پرستی کا عجیب و غریب ملغوبہ ہے ۔
چین کے تاتاری شہنشاہ قبلائی خان نے سرخ ٹوپی والے بھکشوں کے سردار یعنی خانقاہ ساکیا ایبٹ Abbar of Sakyeکو تبت کا حکمران بنایا تھا ۔ جب منگول خاندان کو چین سے خارج ہونا پڑا تو وہ منگولیا چلے گئے ۔ انہوں نے ایک علحیدہ لاما اعظم ارگا کے مقام پر قائم کیا ۔ لیکن ارگا کا لاما اعظم ہمیشہ دلائے لاما کے حکم کے مطابق صرف تبت میں اوتار لیتا تھا ۔ 
زرد ٹوپی والوں نے سرخ ٹوپی والوں سے ایک تاتاری شہزادہ گشئی خان کے مدد سے اختیارات جھین لیے ۔ شہزادہ نے طاقت کے زور پر زرد ٹوپی والے کو تبت کا حکمران بنا دیا اور خود نے فوج کی سپہ سلاری اپنے لیے مخصوص کرلی اور حکمران کو دلائی کے لقب سے خطاب کیا ۔ جس کے معنی سمندر جیسا عظیم کے ہیں ۔ لوزنگ  Lodsnh Loپہلا دلائی لاما تھا ۔ اس نے اوتار کا پرچار کیا اور کہا کہ بدھ کو فرست نہیں ہے کہ وہ زمین پر آئیں ۔ اس لیے انسانوں کو نجات کی لیے خود اوالوکیٹا Avalokita نے میری ذات میں ظہور فرمایا ہے اور اوالوکیٹا ہی انسان کے کرم کے مطابق ان کے دوبارہ جنم میں ان کے درجات کا فیصلہ کرتا ہے ۔ اواکیٹا خدائے رحیم ہے اور دلائے لاما اس کا اوتار ہے ۔ لامہ اعظم وہ بدھ ہے جس کو فنا نہیں ہے اور یہ اپنی وفات کے بعد یہ کسی نوزائیدہ بچہ کی شکل میں دوبارہ ظاہر ہوتا ہے اور تاشے لامہ کا کا تقدس دلائے لاما سے بھی زیادہ ہے ۔ گزشتہ دور میں یہ دونوں لاما ایک دوسرے کے لیے بچے تجویز کیا کرتے تھے ۔ جس میں ان کی غیر فانی روحوں نے ظہور فرمایا ہو ۔ بچوں کو مرنے والے دلائی لاما کی کچھ چیزیں دیکھائی جاتی ہیں کہ وہ ان چیزوں چیزوں کو پہچانتا ہے اور مختلف امتحانوں سے گزر کر منتخب بچہ آئندہ دلائی لاما ہوتا تھا ۔ اس بچے کے باپ کو فورا کنگ Khing کا اعلیٰ خطاب دے دیا جاتا تھا ۔
دلائی لاما کی وفات کے بعد اس کی روح نوزائدہ بچے کی صورت میں دوبارہ ظاہر ہوتی ہے ۔ جو کہ عموماً امیر خاندان کے بچے ہوتے تھے اور یہ چونکہ عمر کم ہوتے تھے اس لیے ایک نائب کاروبار مملکت چلاتا تھا ۔ وہ نائب کم عمر لاماؤں کو زہر کے ذریعے موت کی نیند سلا دیا کرتا تھا ۔ اس لیے دلائی لاما ٹیدان گیاٹسو Tulidun Gyatso نے بھی اپنے نائب سلطنت کو حفظ ماتقدم کے زہر کا ذائقہ چکا دیا تھا ۔ وہ دلائی لاما ایک صدی میں پہلی دفعہ تیس سال کی عمر کو پہونچا تھا ۔ 
لاہسہ میں چار لنگ یعنی شاہی خانقاہوں میں سے ایک نائب سلطنت لیا جاتا تھا ۔ دوسری خانقاہوں کو بھی انتظام مملکت میں بہت کچھ دخل تھا ۔ دلائی لاما کی مدد کے لیے چار وزیر شاپتر ہوتے تھے ۔
دلائی لامہ کی استعمال شدہ ہر چیز تبت کے لوگوں کے لیے بلیات کے دفیعہ کے لیے اکثیر تعویز سمجھی جاتی اور انہیں بڑی سے بڑی قیمت دے کر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ۔ دلائی لاما کے کپڑے ، بال ، ناخن حتیٰ کے پیشاب و پاخانہ بھی متبرک سمجھا جاتا ہے ۔ دلائی لاما سے یہ دعا مانگی جاتی ہے اوم مانی م پدم ہنت ،جے ہے ۔ یعنی کنول کے پھولوں کے سرتاج کی جے ہو ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اے دلائی لاما تو نہایت عاجزی سے التجا کرنے والے کی مدد کر ۔ تاکہ وہ اس زندگانی سے نجات کے مرتبہ کو پہنونچے اور مرنے کے بعد اس کی روح پر مہربانی کر اور اسے دوبارہ پیدا ہونے کے لیے کوئی عمدہ مقام عطا فرما ۔ 
بدھ مت میں کنول کا پھول یہاں ایک ربانی اور پاکی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ گڑر ، ققنس اور لق لق جو سانپ اور اژدہوں کے دشمن ہیں اور بدھ کی تصویروں کے ساتھ ان کی تصویر بنی ہوتی ہیں اور اکثر شیر اور چیتوں کی تصویریں بھی دیواروں پر بنی ہوتی ہیں ۔ چمکاڈروں کو یہاں مبارک سمجھا جاتا ہے ۔ ہر طرح کی آفتوں سے بچنے کے لیے دعا خوانی کے جھنڈے ، چھڑیں اور پہیے تبت کی خاص نشانی اور علامتیں ہیں ۔ مندروں میں چارٹنس ہوتے ہیں یہ موت کی یادگار اور پانچ عنصروں زمین ، جڑ ، پانی ، آگ و ہوا اور ایتھر یعنی وہ لطیف ہوا جو کرہ ہوائی کے اوپر ہے ۔ بعض اوقات اس سے متعدد آسمان مراد ہوتے ہیں ۔ مینڈن Madona یا پتھروں کی دیواریں جن پر اوم مانی پدم ہنگ لکھا ہوتا ہے جگہ جگہ دیکھنے میں آتی تھیں اور یہ جگہ کا پتہ بھی بتاتی تھیں ۔ وسطی تبت میں ان کے پاس سے گزرتے ہوئے خاموش رہنا چاہیے تھا مگر مغربی تبت میں یہ مرضی پر منحصر تھا ۔  
یہاں مندر نہایت اندھرے اور چراغوں کے جلنے سے چپکٹ اور بدبودار اور کثیف ہوتے تھے ۔ ان مندروں میں محرابیں یا لکڑیاں استعمال نہیں ہوتی تھیں ۔ کیوں کہ یہ محرابوں کے بارے میں نہیں جانتے نہیں تھے اور لکڑی وہاں درخت نہیں ہونے کی وجہ سے پہلے نیپال وغیرہ سے آتی تھی ۔ ان کا طرز تعمیر ناقص ، چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں ، جن پر پیلا کپڑا پڑا ہوتا تھا ، سردی اور ہوا کا تو بچاؤ ہوجاتا تھا ، مگر روشنی بھی نہیں آتی تھی ۔ کیوں یہاں شیشہ بھی ملتا نہیں تھا ۔
بدھ مت کی بہت سی باتیں خاصی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں ۔ مثلاً دعاؤں ایک نلکی یا پیٹی میں بند کرکے اسے بار بار گھمانے سے وہی مطالب ہوتا تھا جو ازراہ ادب گھٹنے جھکانے اور بار بار التجا کرنے سے ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے وہاں ایک عام فرد ہاتھ لیے ایک گھومانے والی چرخی جس کے اندر دعائیں لکھی ہوتی ہیں گھوماتا ملے گا ۔ بدھ مندروں ، خانقاہوں اور ویرانوں میں دعائیہ چرخیاں نصب ہوتی ہیں ۔ جنہیں گھما کر اپنی خیر و عافیت کی اور مختلف دعائیں مانگتا ہوئے ملیں گے ۔ اس طرح خانقاہوں میں قرنے ، سنگ اور بڑے برے جل ترنگ دعاؤں کے دوران بجائے جاتے ہیں ۔ 
لاہسہ کا عبادت خانہ Jokagn  متبرک و مقدس مانا جاتا ہے ۔ لوگ اسے لہسہ کہتے ہیں جس کہ معنی دیوتاؤں کی جگہ ۔ لہا بمعنی دیوتا اور سا جگہ ۔ اس طرح اس شہر کا نام لہسہ پڑ گیا ہے ۔ یہاں مہاتما بدھ کا ایک بت ہے جسے بیش بہا جوہرات سے ڈھک رکھا ہے ۔ کہا جاتا ہے یہ Sron Tsan Gampo کی بیوی کے جہز میں آیا تھا ۔ یہ شہر اس قدر مقدس تھا کہ یہاں کسی کو ہلاک کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس لیے قصابوں کی دکانیں شہر سے باہر تھیں ۔ ان کی مذہبی رسمیں اور پرستش کا طریقہ رومن کتھولک سے ملتا جلتا ہے ۔   
تبت میں ہر خاندان میں ایک لڑکا خانقاہ میں لاما یا بھکشو بن جاتا تھا اور اس طرح ہر خاندان کی ایک سے زیادہ لڑکیاں بھی ان خانقاہوں میں بطور جمیو (نن) کے رہتی تھیں ۔ شیطانی ناچ بھکشو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ لوگوں کو ان خوفناک عفریتوں سے آگاہ کیا جائے جن کا مرنے کے بعد سابقہ پڑتا ہے ۔ تکلا کوٹ کی خانقاہ کو فخر ہے کہ وہاں یہ ناچ بری شان و تزک احتمام کے ناچا جاتا تھا ۔ اس میں وہ مہیب دیوؤں ، اژدھوں ، جانوروں کے کریہ منظر کے سوانگ پھرتے تھے ۔ بھوت پریتوں صورتوں میں سوانگ میں بتایا جاتا جاتا تھا کہ جب روح جسم کو جھوڑ کر جاتی ہے تو اس پر خراب روحیں حملہ کرتی ہیں اور اس کو ڈراتی ہیں ۔ اس وقت کوئی لاما ہی ان کی مدد کرتا ہے ۔ جو ان روحوں کو منزل مقصود پر پہنچاتا ہے ۔ 
تبت کا مذہب منچوریا ، منگولیا ، وسط ایشیا ، لداخ ، نیپال ، بھوٹان اور سکیم میں پایا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ چین میں بھی ایک کروڑ سے زائد آدمی اس مذہب کو مانتے ہیں اور پیکنگ میں لاماؤں کا ایک مندر ہے ۔ روس میں دریائے والگا کے کنارے دیگر مقامات پر ان کی نو آبادیاں ہیں ۔ اس کے ماننے والوں میں دلائی لاما کی ہستی متبرک ہے اور اس کی نظرعنایت ایک بڑی چیز سمجھی جاتی ہے ۔
تبت بلند و بالا پہاڑوں اور شدید موسم کے باجود اپنے اندر کشش رکھتا ہے ۔ اس لیے گزشتہ سات سو سالوں میں چین ، لداخ ، نیپال اور وسط ایشیا سے اس سرزمین پر حملے ہوتے رہے ہیں ۔ یہاں کے مذہبی حکمران ان حملوں کو روک نہیں سکے مگر انہوں نے غیر ملکیوں کا سفر کرنا ناممکن بنا رکھا تھا ۔ اگرچہ تبت کی سرحدیں جب مکمل طور پر بند تھیں تب بھی کچھ غیر ملکی یہاں پہنچ جاتے تھے اور گفت شنید کے بعد یہاں کچھ غیر ملکی آئے تھے ۔ مگر ان کے گھومنے پھرنے کے علاقے کا تعین اور ان پر کڑی نگاہ بھی رکھی جاتی تھی ۔ گزشتہ چین کے قبضہ کے بعد بھی یہاں کے لوگوں کی زندگی میں بہت کم تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔ حلانکہ چینوں کی آمد کے بعد دلائی لاما فرار ہوکر بھارت چلاگیا ۔ تبت میں اب دلائی لاما کی تصویر یا اس کے متعلق کسی قسم کا لٹریچر لانا سختی سے منع ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں