83

لوہار

یہ حقیقی خدمت گاروں میں سے ایک ہے جو کہ پیداور میں رواجی حصہ وصول کرتا تھا اور اس کے بدلے زراعت میں استعمال ہونے والے اوزار بناتا اور ان کی مرمت کرتا تھا ۔ یہ دیگر ذاتوں کی طرح وسیع پیمانے پر کھیتوں میں مزدوری بھی کرتا تھا ۔ لوہار کی سماجی حثیت پست ہے ۔ حتیٰ خدمت گاروں میں بھی اسے غیر خالص ذات کا خیال کیا جاتا تھا ۔ جٹ اور دوسرے افراد اس سے سماجی میلاپ نہیں رکھتے تھے ۔ البتہ یہ خاکروب کی طرح اچھوت نہیں ہے ۔ حجام ، رنگریز اور دھوبی کی طرح شاید اس کی ناپاکی کی نوعیت پیشہ ہے اور غالباً یہ ایک گندا کام سمجھا جاتا ہے ۔ یا پھر اس لیے کہ لوہے کا کالا رنگ بدشگونی ہوتی ہے ۔ لیکن دوسری طرف لوہار نظر بد کے خلاف نیکی کا فسوں بھی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی ناپاکی کا سبب وہ دھونکنی ہو جو گائے کی کھال سے بنتی ہے ۔ وہ عمومی طور پر اپنے پڑوسیوں کے مذہب کا پیروکار ہے ان کی غالب اکثریت مسلمان اور کچھ سکھ ہیں باقی ہندو ہیں ۔

ماخذ

بعض جگہوں پر لوہار اور ترکھانوں میں تمیز کی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر انہیں ایک ذات کے بتایا جاتا ہے ۔ جو کہ آپس میں شادی بیاہ کرلیتے تھے ۔ بعض علاقوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے لوہار کا بیٹا ترکھان اور ترکھان کا بیٹا لوہار کا پیشہ اپنالیتا ہے ۔ ایسا معلوم دیتا ہے کہ یہ دو الگ الگ ذاتیں ہیں ۔ کیوں کہ ان کی مشترکہ ذاتیں دو الگ الگ شاخوں میں بٹی ہوئی تھیں اور یہ آپس میں شادی بیاہ ، کھانا یا تمباکو نوشی بھی نہیں کرتے ہیں ۔ ان کی ایک شاخ کا نام دھمان اور دوسرے کا نام کھاٹی ہے ۔ دھمانا یعنی بھڑکانا اور کھاٹی یعنی کھاٹ یعنی لکڑی سے مشتق ہیں ۔

ذات

لوہاروں کو تین شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ پہلی جٹ یا راجپوت جنہوں نے غربت کی وجہ سے یہ پیشہ اپنایا ۔ دوسری ستھار لوہار ہیں ۔ یہ ترکھانوں کے ستھار قبیلے کے لوگ ہیں اور انہوں نے لوہار کا پیشہ اختیار کیا ۔ سوم گاڈیا لوہار ، یہ لوہاروں کا سیلانی قبیلہ ہے ۔ یہ خود کو راجپوتانہ و شمال مغربی علاقے کے باشندے بتاتے ہیں ۔ یہ اپنے کنبوں اور اوزاروں کے ساتھ جھکڑوں پر گاؤں گاؤں پھرتے ہیں اور عمدہ قسم کا لوہے کا کام کرتے تھے ۔

روایت کے مطابق ستھار لوہار جو مسلمان ہیں اصل میں ستھار ہندو ترکھان تھے اور ان میں سے بارہ ہزار کو اکبر زبردستی ختنہ کراکر جودھپور سے دہلی لے گیا اور انہیں لکڑی کے بجائے لوہے کے کام پر لگا دیا ۔ یہ افراد سندھ سے آئے ہیں اور جہاں وہ زمینوں کے مالک ہیں اور بالعموم ملتانی لوہار کے نام سے مشہور ہیں ۔ اس طرح کے بیانات سے یہ کہانی حقیقت معلوم نہیں دیتی ہے ۔ تاہم صوبہ سندھ میں ایک شہر سٹھارجہ یہ اشارہ کرتا ہے کہ اس شہر کو اس قبیلہ نے آباد کیا ہے ۔ جٹ اور ستھار لوہار کا رتبہ گاڈیا سے بلند ہے ۔     

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں