121

لوہانہ (نوحانہ)

نوحانی بن اسمعیل بن لودھی بن بی بی متو زوجہ شاہ حسین اس کا شجرہ نسب ہے ۔ نعمت اللہ ہروی کا کہنا ہے کہ صحیح روایت کے مطابق سیّد سرمست علی تھا اور شاہ حسین کے لقب سے مشہور تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری متو قوم اپنے کو سیّد جانتی ہے اور یہ بات سچی اور مستند دلائل سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے ۔ ان کے سیّد ہونے کی بات خرافات ہے ۔ 

یہ کلمہ شیر محمد گنڈاپور نے یہ کلمہ نوہانہ لکھا ہے ۔ جب کہ معارف اسلامیہ میں لوہانہ لکھا ہے ۔ اس کلمہ کی اصل لوہانہ ہے اور نوحانہ اس کا معرب ہے ۔ لوہانہ راجپوتوں کا ایک قبیلہ ہے جو راجپوتانہ میں ہندو ہیں اور سندھ میں یہ مسلمان ہیں ۔ افغان قبیلہ لوہانہ اور راجپوت قبیلہ لوہانہ دونوں غالباً ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جب افغانستان میں رہنے والے لوہانہ افغانستان میں رہنے اور مسلمان ہونے کی وجہ سے راجپوت لوہانہ سے علحیدہ ہوگئے ہیں ۔

کلمہ لوہانہ کا ابتدائی حصہ لو پشتو اور ہند آریائی میں بزرگ کے معنوں میں آتا ہے اور ہان نسبتی کلمہ ہے ۔ اس طرح کے معنی بزرگ یا عظیم گروہ کے ہیں ۔ (دیکھے لو) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہان ہن کا معرب ہے اور ان کے کسی بڑے گروہ کو اس کی تعداد کے پیش نظر یہ خطاب بخشا گیا ہو ۔ جس کی حقیقت بعد میں بھلادی گئی ۔ بہر صورت جو بھی ہو یہ ہند آریائی گروہ ہے ۔ جسے بعد میں افغانوں کے شجرہ نسب میں شامل کرلیا گیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں