86

لو

پشتو میں کلمہ ’لوی‘ کی شکل میں ملتا ہے ۔ جس کے معنی بزرگ ، سردار اور منعظم کے ہیں ۔ لوی کی جمع لویک ہے جب کہ لویک کی جمع لیکان ہے ۔ لوی ، لویک اور لویکان کا افغانستان میں عام رواج ہے ۔ ظہور اسلام کے وقت ایک خاندان غزنہ و گردیز کے علاقے میں حکومت کررہا تھا ۔ بقول لنگوت تقریباً ۳۶۰ھ میں غزنی کے حکمران کا نام شاہ لویک تھا ۔ گردیزی اور نظام الدین ملک نے غزنہ کے امیر کا نام لویک لکھا ہے ۔ 

اس کلمہ کا املا عہد اسلام اور قبل مختلف رہا ہے ۔ منہاج سراج نے ابوبکر لایک کا سبکتگین سے مقابلے کا ذکر کیا ہے ۔ کرامات سخی سرور کے ایک خظی نسخے سے جو ڈیرہ اسمعیل خان سے ملا ہے ۔ اس میں غزنی کے اس خاندان کے متعلق روایت درج ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کلمہ لایک ہے ۔ تخاری زبان میں یونانی رسم الخط میں کوشیانی عہد کے ایک آتش کدے سے ایک کتبہ ملا ہے ۔ اس میں یہ کلمہ فائیلی لویک اور املا لویخ ہے ۔ ایک دوسرے کتبے میں یہ املا لوخ ہے ۔ عبدالحئی حبیبی کے نذدیک یہ کلمہ لویک ہے یہ زابلستان کا ایک حکمران خاندان تھا ۔ جس کے حالات انہوں نے جمع کرکے ایک رسالے (کابل کی ادبی انجمن) میں شائع کرائے ہیں ۔

یہ کلمہ شہروں اور علاقوں کے ناموں میں استعمال ہوا ہے ۔ کابل کے جنوب میں شہر لوگر واقع ہے ۔ تاریخ کرامان سے پتہ چلتا ہے گوگ کرامان کا علاقہ ہے رواٹی نے اس کے مختلف تلفظ لکھے ہیں ایک تلفظ لوک بھی ہے ۔

اس طرح یہ کلمہ برصغیر میں بھی عام ملتا ہے اور ہند آریائی میں اس کے معنی بھی بزرگ کے ہیں ۔ رام کے بڑے لڑکے کا نام لو تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور اس نے آباد کیا تھا اور اس کا ابتدائی نام لو کوٹ یا لوہ کوٹ تھا ۔ عبدالحئی حبیبی نے سلطان محمود کی چودویں لشکر کشی کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے قیرات نور ، لوہ کوٹ اور لاہور پر کی تھی ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوہ کوٹ لاہور کے قریب کوئی اور جگہ تھی ۔ اس طرح سلطان شمش الدین نے ملک اتیمر بہائی کے سپرد ولایت ، سوالک ، اجمیر ، کاسلی ، سانبر نمک اور لو کی تھی ۔ صوبہ سرحد ، کشمیر ، حیدرآباد سندھ کے قریب اور راجپوتانہ میں لونی نام کے شہر اور جگہوں کے نام ہیں ۔

پٹھانوں ادر بلوچوں کے دو بڑے قبیلے لودھی اور لوہانہ (نوحانہ) کے علاہ بہت سے قبیلوں کے ناموں میں یہ کلمہ شامل ہے ۔ راجپوتوں کا ایک قبیلہ لوہانہ ہے جو راجپوتانہ سے سندھ تک آباد ہیں ۔ راجپوتانہ میں رہنے والے ہندو مذہب اور سندھ میں آباد مسلمان ہیں ۔ پنجاب کے لنگا جو سندھ اور بلوچستان میں بھی آباد ہیں ۔ یہ بھی اس کلمہ کی ایک شکل ہے ۔ فرشتہ اس کو ایک جگہ افغان اور دوسری جگہ انہیں راجپوت قرار دیتا ہے ۔ جب کہ جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ یہ سولنگی یا چالک ہیں ۔ مگر وہ یہ بھی کہتا ہے کہ یہ تمام بیانات اپنی جگہ درست ہیں کیوں کہ راجپوت مسلمان ہونے کے بعد پٹھان کہلائے ہیں

اس بلاالذکر بحث سے یہ نتیجہ باآسانی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کلمہ لو ایک آریائی کلمہ ہے اور اس کو استعمال کرنے والے آریا قبائیل ہیں اور اس کے نام پر شہر اور شخصوں کے نام رکھے گئے ۔          

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں