57

لکشمی

دولت کی دیوی لکشمی اس لیے ہندوؤں میں سیم و زر کو بھی لکشمی مانا جاتا ہے اور کاروباری افراد اور سرمایادار  اس کی پوجا میں لکشمی کی مورتی کے بجائے مال و زر کی پوجا کی جاتی ہے ۔ یہ خوش نصیبی ، فروانی اور کامرانی کی دیوی سمجھی جاتی ۔ اس کی خاص پوجا شبراتری میں کی جاتی ہے ۔ اس دن لکشمی کے پیرو چراغاں ، آتش بازی اور جوا کھیلتے ہیں ۔ یہ دولت کی دیوی ہے اس لیے اس کی مورتیاں اور تصویریں لوگ اپنے گھروں ، دوکاندار اپنی دوکانوں اور کاروباری افراد اپنے آفس میں ضرور رکھتے ہیں ۔ غالباً آج بھی اس کی مورتی اور تصویریں گنیش سے زیادہ فروخت ہوتی ہے ۔ جس کے نام سے ہر نیا کام شروع کیا جاتا ۔ لکشمی کو ہری (وشنو) کی بیوی مانا جاتا ہے اور تصویروں میں ایک عظیم سیس ناگ جو سمندر تیر رہا اس پر وشنو جی لیٹے ہوئے ہیں اور لکشمی ان کے پیروں کے پاس بیٹھی ہوئی دیکھائی جاتی ہے ۔ مگر وشنو کی مورتیاں نہیں بنائی جاتی ہیں اور وشنو کو علحیدہ پوجا نہیں جاتا ہے ۔ بلکہ اسے اوتاروں مثلاً رام کی شکل میں پوجاتا ہے ۔ مگر لکشمی کے علحیدہ مندر بھی ہیں اور اس کی علحیدہ پوجا بھی کی جاتی ہے ۔ بدھ کی ماں کا نام مایا یعنی لکشمی کا مترادف تھا اور اس کی مورتیاں جو دستیاب ہوئی ہیں وہ لکشمی یا سرسوتی دیوی کی طرح کی رقص کرتی ہوئی ہیں ۔ اس لیے ایک خیال یہ بھی ہے یہ بدھ کی ماں تھی جسے ہندوئوں لکشمی یعنی دولت کی دیوی بنالیا ۔      
یہ قدیم دیوی ہے اور آریاؤں کی آمد سے پہلے بھی اس کی پوجا کے نشانات ملتے ہیں ۔ ویدوں میں اس دیوی کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ ہندو دیو مالا میں اس دیوی کے متعلق مختلف روایات پائی جاتی ہیں ۔ سنگھتا میں لکھا ہوا کہ لکشمی اور شری دونوں آدیتہ کی بیویاں تھی ۔ جب کہ شت ستییہ برہمن کے مطابق شری پرجاپتی سے نکلی ہے ۔ اسے وشنو کی بیوی اور کام دیو کی ماں بھی کہا جاتا ہے ۔ رامائن کے مطابق راکشوں اور دیوتاؤں نے مل کر جب سمندر کو متھا تھا تو یہ اس وقت سمندر سے دوسرے رتنوں کا ساتھ کنول کا پھول ہاتھ میں لیے نکلی تھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے جب دنیا پیدا ہوئی تھی تو یہ کنول کے پھول پر تیرتی ظاہر ہوئی تھی ۔ اس لیے اس کا نام ’کشیا بدہی تن جا’ یعنی کثیر سمندر کی بیٹی پڑا اور کنول سے تعلق کی وجہ سے اس کو پدما کہا جاتا ہے ۔ پورانوں میں لکھا ہے کہ یہ بھرگو اور اس کی بیوی تسنیائی کی بیٹی تھی اور وشنو پران کے مطابق پہلے یہ بھرگو کی لڑکی کشیاتی کے بطن سے پیدا ہوئی تھی اور اس کے بعد دوبارہ سمندر متھن کرنے برآمد ہوئی ۔
جب ہری (وشنو) نے دامن کا اوتار لیا تو اس وقت لکشمی کنول کی صورت میں ظاہر ہوئی تھی اور پدما اور کملا نام پڑا ۔ جب ہری نے سری رام جی کا اوتار لیا بھرگو کے خاندان میں لیا تو یہ وہرنی کی شکل میں ظاہر ہوئی ۔ جب ہری نے رگھو یعنی سری رام چندر جی کا اوتار لیا تو یہ سیتا جی کی صورت میں ظاہر ہوئی اور جب ہری نے سری کرشن جی کا اوتار لیا تو یہ رکمنی کے نام سے ان کے ساتھ تھی ۔ یعنی یہ ہر موقع پر وشنو کے ساتھ دیکھائی جاتی ہے ۔ لکشمی کے جو نام بتائے جاتے ہیں ان میرا ، اندرا ، جل دہی جا اور چھچلا تو ہیں ۔

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں