56

ماروت

مروت جو طوفابوں کا دیوتا ہے اور وایو سے زیادہ خوفناک ہے ۔ مروت ایسے طوفان ہیں جو اکثر ہندوستان میں برپا ہوتے ہیں اور ان کے آنے سے فضا خاک سے اور بادلوں سے تاریک ہوجاتی ہے ۔ درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں ، شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں اور درخت زمین سے اکھڑ جاتی ہیں ۔ زمین کانپتی ہے اور پہاڑ لرز اٹھتے ہیں ۔ دریاؤں کی موجوں کی گردش سے کف برآمد ہوتا ہے ۔ مروت دیوتا سر پر سنہری تاج رکھے ہوئے اپنے کاندھوں پر دہاری دار کھال اٹھائے ہوئے ہاتھ میں سنہری ڈھال کو جنبش دیتے ہوئے اپنی برچھی کو گھماتا ہوا ، آتشی تیروں کو برساتے ہوئے اپنے چابک کڑک اور بجلی کے بیج میں چمکاتے ہوئے نمودار ہوتے ہیں ۔ 
یہ دیوتا بھی اندر کا ساتھی ہے ۔ بعض دفعہ اندر کی طرح سپتر بنجاتے ہیں ۔ لیکن یہ ایک اور ہیبت ناک دیوتا رودر کے پتر بھی کہلاتے ہیں ۔ رودر ہے جنگجو دیوتا ہے ۔ جس کے نام سے وید میں کئی رچائیں ہیں ۔ اس میں تندرست کرنے اور نجات دینے صلاحیتیں ہیں ۔ ہندوستان میں بخار کو بھگانے ، صحت کو بحال رکھنے ، انسانوں و حیوانوں کو تر و تازہ رکھنے کے لیے آسمانی بجلی کی کڑک سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہیں ہے ۔ 
ویدوں میں ماروتوں کا تفصیلی بیان موجود ہے ۔ میکس ملر کا کہنا کہ ماروت کے لفظی معنی مارنے والا یا پیسنے والے ہیں اور اس کا مادہ مار سے ماخوذ ہے ۔ بیان کیا گیا ہے کہ ماروت رتھ سوار رہتے ہیں ۔ جن کے تیز رفتار گھوڑے یا چتلے ہرن انہیں آندھی کی طرح کھنچتے ہیں ۔ انہیں اس طرح خطاب کیا گیا ہے ۔
’’تمہارے کندھوں پر نیزے ہیں تمہارے پیروں میں کڑے ہیں ، تمہارے سینوں پر سنہرے زیور ہیں ، تمہارے کانوں میں زیور ہیں ، آتشی بجلیاں تمہارے ہاتھوں میں اور تمہارے سروں پر سنہری خود ہیں ۔’’ 

ٍ ماروتوں کو بھی اکثر رُدرا کہا گیا ۔ ان کے ہمیشہ جھنڈ کے جھنڈ نظر آتے ہیں ۔ کبھی تو ان کی تعداد ۲۷ ہوتی ہے ، کبھی ۶۶ اور کبھی ہزاروں کی تعداد پہنچ جاتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد بہت تھی شکل و صورت اور عمر کے لحاظ سے سب یکساں تھے ۔ کبھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ سب ہر کام میں شریک رہتے تھے اور ایک دل تھے ۔ کبھی وہ سنہری جامہ زیب تن کرکے اپنے گھوڑوں کو ہانکتے کبھی بارش کا جامہ پہنے رہتے تھے اور ایک مقام پر بتایا گیا ہے کہ ’’ادنی بادلوں کے کپڑے پہن کر پہاڑوں کو چیر ڈالتے تھے ۔ ان کی رتھوں میں ابلق گھوڑیاں اور تیز رفتار ہرن جتے ہوئے تھے اور ان پر بجلیاں لدی ہوتی تھیں اور کبھی پانی کی بالٹیاں اور مشکیں جنہیں وہ انڈیلتے ہوئے گاتے بجاتے چلے جاتے ۔ ان کا پسینہ بھی بارش اور ان کے چابکوں کی آواز (آندھی) کی آواز کان کو خوشگوار لگتی ہے’’۔ ان کے شور شغب کا بھجنوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ ذکر ہے ۔ آسمان اور زمین پر کوئی ان کا حریف نہیں ہے کہ وہ ان کے مقابلے پر آسکے ۔ پہاڑ ان کے خوف سے کانپتے ہیں ۔ درختوں کو وہ جنگلی ہاتھیوں کی طرح ہلا کر توڑ دیتے ہیں ۔ زمین ان کی دہشت سے ایک بوڑھے بادشاہ کی طرح کانپ اٹھی ہے اور ہلنے لگتی ہے ۔ ماروتوں سے بھی ان کے پوجنے والے انہی چیزوں کے طلب گار ہوتے ہیں جن کا دینے والا اندر ہے اور اندر کی طرح وہ داد وہش میں کمی کریں تو ان کی سرزش ہوتی ہے ، مثلاً
’’اے پرشنی کے بیٹوں (ماروت) ! اگر تم فانی ہوتے اور تمہارا پوجنے والا غیر فانی ہوتا تو گھانس میں رہنے والے کیڑے کی طرح تمہاری پرورش ہوتی ۔ تم یاما کی راہ نہ لیتے (نہ مرتے) اور نہ تم ہمیشہ مصائب و خطرات میں مبتلا رہتے’’۔
اندر اور ماروتوں میں گو گہری دوستی بیان کی جاتی ہے ۔ مگر بعض بھجنوں میں نزاع کا پتہ چلتا ہے جس کے دوران وہ ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کرتے ہیں اور شیخی جھاڑتے ہیں ۔ دیوتاؤں میں نزاع سے عموماً یہ مراد ہے کہ ان کی پرستش کرنے والوں میں کوئی پرخاش تھی اور نیچے دیے گئے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ ماروتوں کے پجاریوں اور اندر کے پجاریوں کے درمیان زمانہ قدیم میں کوئی نزاع تھا اور ہر فریق اپنے دیوتا کی قوت اور زور بازو کی تعریف کرتا تھا ۔ اس سلسلے میں اہم ترین عبارت میں اندر ماروتوں کو ملامت کرتا ہے کہ جب میں آہی سانپ سے لڑنے گیا تو تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا مگر مجھ میں اتنی قوت موجود تھی کہ تن تنہا اپنے دشمنوں کو اپنے زور بازو سے زیر کرلوں ۔ ماروت جواب دیتے ہیں ۔
’’ماروت ۔ اے زبردست ہستی ! تو نے بڑے بڑے کام ہماری مدد سے کیے ہیں ، جن میں ہم برابر کے شریک تھے ۔ مگر اے زبردست اندر ! ہم ماروت بھی جب چاہیں اپنی قوت سے بڑے بڑے کام کرسکتے ہیں’’۔
’’اندر ۔ اے ماروتوں ! میں نے اپنی خلقی قوت سے وِرِت را کو قتل کیا ۔ میں اپنے غصے سے زور آور ہوا ۔ میں نے ہی بجلی کو چمکا کر چمکتے ہوئے پانی کے لیے راستہ کھول دیا تاکہ انسان اس سے فائدہ ہو’’۔
ماروت ۔ سچ ہے اے سورما ! کوئی قوت ایسی نہیں جس پر تو فتح حاصل نہ کرسکے ۔ دیوتاؤں میں تیرا کوئی ہمعصر نہیں ہے’’۔
اندر ۔ پھر میری قوت مسلم ہے ، جس کام کو میں شروع کرتا ہوں اسے اے ماروتوں میں پورا کرتا ہوں کیوں کہ مجھے لوگ زبردست کہتے ہیں’’۔
بالآخر اندر ان کی تعریف و توصیف و اظہار عقیدت پر اپنی مسرت کا اظہار کرتا ہے اور قدیم دوستی کی تجدید ہوتی ہے ، مگر اس شرط پر کہ اندر کی برتری تسلیم کریں اس طرح اس نزاع میں وہی کامیاب رہتا ہے جیسا کے وارن کے مقابلے میں ۔
’’سات گھوڑیاں تیرے بوجھ کو سنبھالتی ہیں ۔ اے دوربین سوریا ! اے درخشاں زلفوں والے دیوتا’’۔
’’سوریا نے ساتوں ہارتوں کو جو رتھ کی بیٹیاں ہیں جوت دیا ہے’’۔
’’اندھیرے میں سے اونچی روشنی کی طرف دیکھتے دیکھتے ہم سوریا تک پہنچ گئے جو دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا ہے’’۔
سوریا اور اوشاس (سپید صبح) کی ساتوں گھوڑیوں کو ہارت (چمکدار) کہا جاتا ہے ۔ گھوڑیوں سے مراد کرنوں سے ہے ۔ دوسرے دیوتاؤں مثلاً اندر یا اگنی کی گھوڑیوں کو ہارت کہا جاتا ہے ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں