64

مانویت

مانی بابل میں ۲۱۵ء یا ۲۱۶ میں پیدا ہوا تھا ۔ جہاں اس کا باپ فقق ہمدان سے ہجرت کرکے آباد ہوا تھا ۔ یہ مغتسلہ فرقہ میں شامل ہوگیا تھا اور غالباً اسی کے زیر اثر مانی کو یہودیوں اور بت پرستی سے سے نفرت تھی ۔ اس کی ماں کا نام مارہ یا مریم تھا ۔ مانی کی ایک ٹانگ میں لنگ تھا ۔ اسے تیرہ برس سے مختلف انکشافات اور وارداتوں ہونے لگیں اور چونتیس برس کی عمر میں اسے اپنے مذہب کی اشاعت کا حکم دیا گیا ۔ اس نے اپنی نبوت کا اعلان شاہ پور کے دربار میں شاپور کی تاجپوشی کے موقع پر کیا تھا ۔ بعد میں بادشاہ کی نظروں سے گرنے کی وجہ سے اس نے ہندوستان و چین اور مشرق کے طویل سفر کیے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شاپور نے اسے ملک سے دربدر زرتشت کے اس حکم کی تعمیل میں کیا گیا تھا کہ نبوت کے چھوٹے دعویداروں کو جلاوطن کردیا جائے اور مانی کو پابند کیا گیا کہ وہ ایران میں قدم نہیں رکھے ۔ لہذا وہ ہندوستان ، تبت اور چین گیا جہاں اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا رہا ۔ پھر وہ واپس آگیا اور بہرام کے ہاتھوں ۲۷۶ء میں قتل ہوا ۔ کیوں کہ وہ نقص شرط کا مرتب ہوا تھا ۔          
البیرونی نے لکھا ہے کہ مانی کا مذہب نے شاپور اور اس کے بیٹے ہرمزد کے دور میں مقبول ہوتا گیا ۔ لیکن جب بہرام مسند نشین ہوا تو اس نے مانی کو تلاش کروایا کہ یہ شخص لوگوں کو عالم کی تخریب کی دعوت دیتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس منصوبے کو بارور ہونے سے پہلے ابتدائے تخریب ہم اس کی ذات سے شروع کریں ۔ لہذا جب مانی ہاتھ آگیا تو اس کی کھال کھنچوادی ۔ دیکھنا یہ کہ مانی کے عقائد میں ایسی کیا بات تھی کہ پارسی موبدوں کے لیے یہ ناقابل برادشت ہوگیا تھا جو کہ اس قدر قوت رکھتے تھے کہ آٹھویں صدی کے آخر تک اس کے پیروؤں کو قتل کروانے کی کوشش کرتے رہے ۔ حالانکہ مانوی زرتشتیوں کی طرح ثنویت پرست ہونے کے باوجود زرتشتی ان سے دشمنی رکھتے تھے ۔    
یہ مذہب جو تیسری صدی عیسوی میں وجود میں آیا تھا اور مسلسل تیرویں صدی عیسوی تک تمام مذاہب کے پیروؤں کی مخالفت برداشت کرتا رہا اور ان مذاہب نے اس کے استیصال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ساسانی فرمانروا بہرام نے زرتشتیوں کے اکسانے پر اس کے دو لاکھ پیروں کو قتل کرادیا اور مانی کی کھال کھنچی گئی اور اس میں بھس بھروا کر جندی شاپور کے پور کے دروازے پر لٹکادیا ۔ عیسائیوں اور اس کے بعد مسلمانوں نے ان کے استیصال کی بھر پور کوششیں کیں ۔ صرف یہود نے ان کے خلاف کوئی کاروائیاں نہیں کیں ۔ مگر اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ان سے ہمدردی رکھتے تھے ۔ بلکہ وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے ۔ 
یہ مذہب اپنے اوپر ظلم و ستم کے باوجود یہ صدیوں تک دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے ظلم و ستم براداشت کرتا رہا اور ہزاروں دلوں پر حکومت کرتا رہا اور زندہ رہا ۔ اس نے ایران سے لے کر یورپ تک کے ہر مذہب پر اپنے خیالات سے انہیں متاثر کیا اور صدیوں تک مشرق و مغرب کے مذہبی خیالات کو اپنے شکنجہ اثر میں دبائے رکھا ۔ یہاں تک عیسائیوں میں ایک فرقہ وجود میں آگیا جو مانوی عقائد رکھتا تھا ۔ اگرچہ عباسیوں نے ان کے استیصال کی بھرپور کوششیں کیں ۔ مگر عباسیوں کے دور میں بہت سے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اصل میں مانوی عقائد رکھتے ہیں اور ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے ہیں ۔ ابن ندیم نے ان کی ایک فہرست دی ہے ان میں عباسی خلیفہ مامون کا نام بھی شامل ہے ۔ جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے یہ مانوی عقائد رکھتے ہیں ۔ 
عبادسی خلیفہ المہدی نے ایک خاص افسر کو مقرر کیا جو کہ صاحب الزنادقہ کہلاتا تھا ۔ اس کام یہ تھا کہ ان لوگوں کا پتہ چلا کر سزا دی جائے جو کہ بظاہر مسلمان اور در پردہ مانی کے پیرو تھے اور یہ لوگ زندیق کہلاتے تھے ۔ اس کلمہ کا اطلاق پہلے پیران مانی پر ہوتا تھا اور  بعد میں رفتہ رفتہ بلکہ آج تک یہ کلمہ دھریوں اور ملحدوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ 
عام خیال ہے کہ یہ لفظ زندیک فارسی کا اسم صفت ہے اور اس کے معنی ژند کا معتقد کے ہیں ۔ یعنی اوستا کے اصل متن کے بجائے اس کی تفسیر کا معتقد ہو اور اسے اپنا دین و ایمان سمجھے ۔ یہ کلمہ اس لیے مانیوں کے پیروؤں کے استعمال ہوا تھا ۔ کیوں کہ وہ غیر مذاہب کی الہامی کتابوں کے معنی اپنی رائے کے مطابق لیتے تھے اور اپنے منشاء کے منافق ان کے معنی پیدا کرتے تھے ۔ یہ طریقہ کچھ مسلک ادریت میں معرفت (یونانی ناسز) اور بعد میں شیعوں اور خاص کر اسعمائیلیوں نے تاویل کا طریقہ کا تھا ۔  
پروفیسر بے ون کا کہنا ہے یہ کلمہ سماع (سننے والا) جو افلاس تجرد اور مجاہدات مذہبی کے متعلق تمام پابندیاں کے متعلق تمام پابندیاں اپنے اوپر عائد کرتے تھے اور صلحا و ذہاد جنہیں حکم تھا کہ افلاس کو تمول پر ترجیع دیں ، حرص و ہوس کو ترک کردیں ، زہد کو کام میں لائیں ، مسلسل روزے رکھیں اور جہاں تک ممکن ہو خیرات کریں ، ان کے لیے صدیق (جمع صدیقوں) تجویز کیا گیا تھا جو کہ عربی کلمہ ہے اور غالباً اس کی اصل آرامی کلمہ زدیقائے تھی جو فارسی میں آکر زندیق ہوگیا ۔ ذدیقائے کی دال مشدد زندیک میں ند سے جس اصول پر بدل گئی ہے اس کی ایک مثال شبنذ (شنبہ) میں ملتی ہے ۔ یہ لفظ اصل میں سبتث تھا ۔ اور فارسی میں اس کی مشدد ب نب سے بدل کر سبنذ ہوگیا ۔ دوسری مثال کے لیے سنسکسرت کا کلمہ سدھانت عربی میں سندہند بن گیا ۔ اس قول کے مطابق زندیک عربی میں زندیق بن گیا ۔ جو کہ آرامی کلمہ ذدیقائے کی فارسی شکل ثابت ہوتا ہے ۔ جو کہ ابتدا میں تقویٰ شعار مانیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعد میں یہ کلمہ عام طور پر بدعتیوں کے لیے استعمال ہونے لگا ۔   
مانی کا مذہب اگرچہ ثنویت کے اصولوں پر قائم تھا اور مانی نے قدیم مذہب بابل و بدھ مت سے مواد حاصل کیا تھا ۔ لیکن بقول گبن کے اس کا منشا یہ تھا کہ وہ زرتشتی اور عیسایت کے عقائد بغل گیر کرادے ۔ مگر اس وجہ سے سے ایک طرف ایرانی اور دوسری طرف ایرانیوں نے اس کی مخالفت میں کوئی کشر نہیں چھوڑی ۔ مسلمانوں نے مانیوں کو اہل ثنویت میں شمار کرتے ہیں ۔ مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے زرتشتی اور دوسرے تمام مذاہب مانویوں کے خلاف کیوں تھے ؟ اس کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔   
مانوی کے بعض مسائل مثلاً نور و ظلمت کی آمیزش کے اسباب ، ملک جنان النور اور اس کے متعلق خیالات ، انسان اول شیطان ، نور کو قید سے رہا کرنے کے لیے عالم مادی کے مادی اسباب ، آدم و حوا ، ہابیل و قابیل کی بابت مانویوں کے مضحکہ خیر مثلاً اعتقادات حکیمتہ الدھر ، ابنۃ الحرص ، روفریاد ، برفریاد اور شارل (شیتٌ) وغیرہ شامل ہیں ۔ مانی نے عبرانی انبیاء کو اپنے مذہب سے خارج کردیا ۔ مگر بدھ اور زرتشت کو نبی مرسل تسلیم کیا بلکہ حضرت عیسیٰ کو بھی مان لیا ، تاہم وہ مسیح صادق کو جو عالم نور کا ایک خیال اور لباس طیفی میں ملبوس تھا بتاتا اور مسیح مصلوب سے الگ بتاتا ہے ۔ جو اس کا مثل اور دشمن اور ابن ارملہ تھا ۔ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح کی بابت مانی کا عقیدہ مسلمانوں کی کی طرح ہے ۔ 
آتش پرستوں کے یہاں نیک و بد موجودات (یعنی ہرمزد اور اہرمن) کی جداگانہ اقلیموں میں ہر ایک بجائے خود روحانی جز اور مادی جز پر مشتمل ہے ۔ نہ صرف امشپند اور فرشتے ہیں بلکہ عناصر مادی جملہ حیوانات و نباتات جو لوگوں کے لیے مفید ہیں ۔ نیز وہ لوگ جو دین زرتشت کو سرمایا ایمان سمجھتے تھے تو اہرمزد کی طرف سے اہرمن کے لشکر دیو (خوفسقر) یعنی موذی حیوانات ، ساحروں ، شعبدے بازوں بدعقیدہ لوگوں اور بدعتیوں سے لڑے ۔ زرتشتی مذہب میں اگرچہ روحانی عہدہ داروں کا ایک باضابطہ و دقیق نظام قائم ہوگیا تھا ۔ لیکن وہ حقیقی مادی مذہب ہے ۔ وہ اپنے معتقدوں کو توالد و تکاثر اور زمین کو معمور کرنے کی تاکید کرتا ہے اور تخم ریزی اور فضلیں حاصل کرنے میں جانفشانی کا حکم دیتا ہے ۔ برخلاف اس کے مانی کی تعلیم نور و ظلمت کی آمزش جس نے عالم مادی کو پیدا کیا سرے سے بری چیز تھی اور محض قوائے ظلمت کا نتیجہ عمل تھا ۔ آمیزش کو اگر اچھا کہہ سکتے ہیں تو اس اعتبار سے کہ اس میں نور کے ان اجزا کے لیے جو ظلمت میں اٹک کر رہ گئے اپنے مناسب مقام کی طرف واپسی اور نجات حاصل کرنے کے زرائع موجود ہیں ۔ جب ان اجزا کو حتمی الامکان نجات حاصل ہوجائے گی ۔ تو وہ فرشتے جن پر زمین و آسمان قائم ہیں اپنی گرفت کو ڈھیلا کردیں گے اور عالم مادی درہم و برہم ہوجائے گا ، آخر کار کائنات جل کر خاک ہوجائے گی ۔ تب لافانی اور ناقابل تسخیر ظلمت سے نور کی علحیدیکی اور اس کی نجات کا آخری وقت آئے گا ۔ قبل اس کے یہ حالت رونما ہو ۔ عمود السبح یعنی پرہیز گاروں کی نماز و تسبیح تقدس اور اعمال صحالحہ سے جو آسمان کی طرف چڑھتے ہیں اور کہکشاں بن کر صاف نظر آتے ہیں کے ذریعے نور کے ٹکڑے ظلمت کی قید سے آزاد ہوکر اوپر بلند ہوتے ہیں اور بالآخر آفتاب و مہتاب کی کشتیوں میں سوار ہوکر جنان الفور میں جو ان کا اصل مقام ہے پہنچ جاتے ہیں ۔ لہذا مانویوں کے نذدیک ہر وہ فعل جو اس نور و ظلمت کی آمزیش کا معاون ہو ۔ مثلاً مناکحت و تناسل مذموم اور قابل گرفت ہے ۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کہ ہرمز کا ان الفاظ سے اس شخص نے تخریب عالم کی لوگوں کو دعوت دی ہے ۔ کیا مطلب تھا ؟ الغرض زرتشتی میں عصبیت اور جنگ جوئی مادیت اور شہنشاہی   Imperalismاقتدار و تسلط کی تعلیم ہے ۔ مانویت میں عدم عصبیت ، تسلیم و رضا اور زہد و بے نفسی کی ہدایت کرتا ہے ۔ اصولاً دونوں فرقین بعد المشرقین ہے ۔ باوجود ظاہر مماثلت کے جسے اسپیگل نے تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ در حقیقت دونوں میں لزوماً اور اصولاً تصاد موجود ہے ۔ یہودی مذہب اور روایتی Orthodox عیسائیت و اسلام سے بھی مانی کی تعلیم اس قدر متضاد ہے ۔ 
پروفیسر نوڈیکے کا کہنا ہے کہ چھٹی صدی میں عیسوی میں مزدکیوں میں ان کے دشمنوں نے مشہور کیا تھا کہ ان کے ہاں اشترکیت اور اباحت خصوصاً عورتوں کے بارے میں عین دین و ایمان وغیرہ ۔ لیکن اشتراکیت کے اصول بہت حد ابتدائی عیسائیوں اور خود یہود کے بعض فرقوں میں رائج تھے اور بعد کے دور تک عیسائی راہبوں میں رائج رہے ہیں اور خود مسلمان صوفیا بھی ان اصولوں پر عمل پیرا رہے تھے ۔ تاہم ان سب سے جو چیز انہیں جدا کرتی ہے وہ مذہبی رنگ ہے ۔ کیوں کہ مزدک کا کہنا تھا ایک برے فعل کا سرچشمہ حسد ، غصہ اور لالچ ہیں اور مساوات کا ازسر نو قائم کرنا ، رہبانیت جو کے ماتی کی تعلیم میں بھی تھی ۔ مزدوکی مذہب میں خونریزی اور گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے ۔ زرتشتیوں کو کو مزدک پر سب سے بڑا اعتراض تھا وہ دین ہے ہے اور گوشت نہیں کھاتا ہے ۔ عورتوں کے بارے جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ زرتشتیوں کے نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے ہیں ۔ کیوں زرتشتیوں میں اباحت کی رسم رائج تھی ۔ 
قباد نے یہ مسلک موبدوں کی طاقت کو توڑنے کے لیے اختیار کیا تھا اور بالآخر اس نے موبدوں سے صلح کرلی اور مزدوکیوں کا قتل عام کیا گیا ۔ یہ قباد کا آخر دور تھا لیکن اس قتل عام کو انوشیروان سے منسوب کیا گیا ۔ کیوں کہ یہ کاروائی اس کی سردگی میں انجام دی گئیں اور بہانے مزدک اور اس کے پیروں کو ایک باغ میں بلایا اور پھر مزوک کو زندہ دفن کرکے اس کے دو لاکھ پیروؤں کو قتل کیا گیا ۔ یہاں تک پورا فرقہ ایک ہی دن میں نست و نابود ہوگیا ۔ نوشیروان جس کو عام لوگ یہ سمجھتے ہیں اس کے عدل کی و انصاف کی وجہ سے عادل کا خطاب دیا گیا تھا ۔ مگر حقیقت میں مزدوکیوں کے قتل عام کے وجہ سے اسے زرتشتی موبدوں نے دیا تھا ۔ 
تاہم اس کے بعد مانوی اور مزدکی اعلانیہ باقی نہ رہا اور مسلمان موخین کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تیرویں صدی عیسوی تک موجود رہے اور بعض اباحی فرقوں کو مثال میں پیش کیا جاتا ہے ۔ خود نظام المک سیاست نامہ میں اسماعیلہ اور باطنیہ کے بارے میں کہتا ہے یہ مزدکیوں کے براہ راست جانشین ہیں ۔ تاہم اس کے اثرات اسلام میں مختلف فرقوں پر پڑے ۔ مثلاً صوفیا نے رہبانیت ، برابری اور امن کو اپنے اندر رائج کیا ۔ دوسری طرح شیعہ فرقہ نے زرتشتی مذہب کی پیروی میں تصوف و رہبانیت کی مخالفت کی اور نسل کو تقدس بخشا ۔ 

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں