63

متعزلہ

عرب کے لوگ توحید کے قائل تھے اور وہ شخصی تقدس کے بھی قائل نہیں تھے ۔ خلافت راشدہ میں اسلام تیزی سے پھیلنا شروع ہوا اور تیزی عربوں کے علاوہ دوسرے مذہب کے لوگوں نے اسلام کو قبول کرنا شروع کیا ۔ یہ نو مسلم جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا ان کے ذہنوں میں اپنے قدیم افکار زندہ تھے ۔ وہ اپنے اسلام کو بھی اپنے ان قدیم افکار کی روشنی میں دیکھتے ۔ اس کے علاوہ مختلف مذاہب کے لوگ قران اور اسلام پر بعض سوال اٹھاتے تھے ۔ اس طرح قران اور حدیثوں میں کچھ ایسے الفاظ بھی آئے ہیں مثلاً خدا کا ہاتھ یا قیامت کے دن وہ لوگوں کو اپنا جلوہ دیکھائے گا ۔ ابتدائی مسلمان ان باتوں پر سوالات نہیں کرتے تھے اور علماء ان پر بات کرنا ناجائز سمجھتے تھے ۔ مگر غیر مسلم اور نو مسلم ایسے بہت سے سوالات کرتے تھے اور وہ اپنے سوال کے جواب میں بہت سے فرقہ وجود میں آگئے تھے ۔ مثلا مجسمہ ، وغیرہ ۔
ان نو مسلموں میں ایرانی کئی خداؤں کے اور الوہی تقدس کے قائل تھے ۔ لہذا بنی امویہ خلاف جتنی سازشیں ہوئیں اس میں ایرانیوں کا بڑا ہاتھ ہوتا تھا ۔ ان میں رواندی تناسخ کے قائل تھے ۔ ناستک عیسائی حضرت عیسیٰ کی الوہیت کے منکر اور اعلی شخصیت کے قائل تھے ۔ غالیہ فرقہ کے عیسائی مسلمان ہونے کے بعد حضرت علی کو مسیح کہتے اور ان الوحید کے قائل تھے ۔ نصریہ ، اسحاقیہ اور خطابیہ بالتریب حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن اور ْحضرت حسین کو خدا کہتے تھے ۔ عبدالقادر جیلانی کو سنی تقریباً خدائی درجہ دیتے ہیں ۔ جب کہ جبریہ عقائد میں جبر کو مانتے تھے ۔ 
سید امیر علی اسپرٹ آف اسلام میں لکھتے ہیں کہ فرقہ سفاتیہ میں افراط اس حد تک پہنچ گئی کہ ان کا عقیدہ تھا کہ خدا صفات اس کی ذات سے علحیدہ ہیں ، خدا عرش پر مقیم ہے ، وہ آنکھوں سے وہ دیکھا جاسکتا ہے ، انسان کسی مفہوم میں آزاد نہیں ہے ، ہر انسان براہ راست خدا کا فعل ہے اور انہوں نے علم و فنون کی مذمت کی اور مقولیت کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ 
ایک طرف ان نظریات کی روشنی میں نئے نئے فتنہ وجود میں آرہے تھے اور دوسری طرف علماء اس پر بات کرنے سے منع کرتے تھے کہ ان پر بات کرنا حرام ہے ۔ لیکن بہت سے لوگ ان کے جوابات دینے کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اس سلسلے میں پہلا نام داصل بن عطا تھا جو حضرت حسن بصری کا شاگرد تھا ۔ اس نے اپنے استاد سے علحیدہ ہو کر ایک نئے مکتبہ فکر متعزلہ یعنی علحیدہ ہونے والے کی بنیاد ڈالی جو اعتزال بھی کہلاتا ہے ۔ آنے والی صدیوں میں اس کے خیالات تیزی سے پھیلے اور ایک یہ تحریک اہل علم کے علاوہ امرا بعض اموی خلیفہ بھی جن میں یزید سوم ، مردان دوم اور آخری خلیفہ ہشام بھی متزلہ کا عقیدہ اپنالیا تھا ۔ عباسی خلفا میں مامون ، معتصم باللہ اور واثق اللہ متعزلی تھے ۔ 
ہارون الرشید جو کہ علم کلام کے سخت خلاف تھا ۔ مگر وہ بھی ان سے مدد لینے پر مجبور ہوگیا ۔ ایک موقعہ پر سندھ کے ایک راجہ نہ کچھ سوالات ہارون الرشید کو بھیجے ۔ جن میں ایک سوال تھا کیا خدا اپنا جیسا بنا سکتا ہے ۔ اس سوال کا ایک لڑکے نے جواب دے دیا ۔ جس سے ہارون الرشید مطعین ہوگیا ۔ اس نے اس علم الکلام کے ماہرین کا ایک وفد سندھ بھیجوایا اس میں اس لڑکا بھی شامل تھا ۔   
یہ متزلی علماء مختلف ان خیلات کے خلاف جو نو مسلموں کی بدولت اسلام میں آئے سینہ تان کے کھڑے ہوگئے اور ان کا جواب عقلی دلائل سے دیا ۔ یہ علماء متککلمن کہلائے اور اس بنا پر علم کلام کی بنیاد رکھی گئی ۔ بقول سید امیر علی کے متعزلہ کی بدولت مسلمانوں میں قومی و ذہنی زندگی پیدا ہوئی ۔ ممتاز عالم حاذق اطبا ، مورخ اور فقیہ ، مہندس اور حکما عالم اس تحریک کی بدولت وجود میں آئے ۔ ابو الہذیل ہمدانی ، ابراہیم ابن سیار ، علی بن محمد الجبانی ، جار اللہ زمخشری ، ابو مسلم اصفہانی ، مسعودی ، نظام اور الحزن جیسے ان میں شامل تھے اور یہ سب متزلی تھے ۔ ان متزلیوں کی تصانیف سے امام شافعی اور ابوالحسن اشعری جو ممتاز صحابی موسیٰ اشعری کی اولاد میں سے تھے استفادہ حاصل کیا ۔ مگر جلد ہی متزلیوں سے الگ ہونے کے بعد میں ان کی مخالفت میں سرگرم ہوگئے ۔ خاص کر ابوالحسن اشعری اشعری نے ان کے خلاف ایک تحریک کی بنیاد رکھی  جو ان کے نام سے اشعری کہلائی اور اشعری جو بشتر شافعی مکتبہ تعلق رکھتے تھے متزلیوں کی شدت سے مخالفت کی اور ان کو فنا کرکے دم لیا ۔ متزلہ جو فقی اعتبار سے حنفی تھے اور بعد میں مختلف فرقوں اور فقوں مثلاً شیعوں اور خوارج بھی اس مکتبہ فکر میں شامل ہوگئے اپنے مذہب کے لیے عقلی دلیلیں دیتے اور بھی اپنے کو فخریہ متزلی کہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے ان کے عقیدوں میں اختلاف ہے ۔ لیکن موٹے موٹے عقائد یہ ہیں ۔
اللہ لاشریک اور اس کی صفات اسی ذات سے نہیں ہیں بلکہ عین ذات ہے قران کریم مخلوق ہے اور یہ لفظ و آواز سے ظاہر کیا جاسکتا ہے ۔
ایسی صفات جو مادی اشیا میں پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً جہت ، مقام اور جسم وہ خدا سے منسوب نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ آیات جن سے ایسی صفات ظاہر ہوتی ہیں مجازاً اور استعارہ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ۔ یہ ان کے نذدیک تو حید کے معنی ہیں ۔
انسان مختار ہے ، نیک و بد افعال پر قادر ہے اور اپنے افعال کی بدولت جزا و سزا کا مستحق و مستوجب ہوتا ہے ۔ کوئی شر خدا کی طرف سے منسوب نہیں کی جاسکتا ہے ۔ اگر اس نے شر کو پیدا کیا ہے تو معاذاللہ وہ خدا شریر ہوگا ۔ 
خدا خیر کا خالق ہے اور وہی کرتا ہے جو صلح و خیر ہے اور من حثیت الحمتہ اس پر لازم ہیں ۔ اس کو وہ عدل کہتے ہیں اور اپنے کو صاحب التوحید کہتے ہیں ۔
رسالت کے قائل ہیں اور مربی کی شکر گزاری لازمی سمجھتے ہیں ۔ عقل پر ان کا مدار ہے ۔ برے اور اچھے فعل کی عقل سے تمیز کی جاسکتی ہے ۔
امام یا خلیفہ انتخاب کے ذریعے بنایا جاسکتا ہے ۔ بعد میں بہت سے شیعوں نے اس منسلک کو اختیار کیا تو وہ اپنے عقیدے کی بنا پر ان کا عقیدہ تھا کہ امام مامور من اللہ یعنی خدا کی طرف سے مقر کردہ ہے ۔ 
 مختصر یہ ہے کہ متعزلہ اسلام کو ایمان و عقیدے سے نکال کر دلیل و فہم کے دور میں لے آئے ۔ جس کا انہوں نے قران کریم سے استدلال کیا ۔ 
گو یہ تحریک عقلی بنیاد پر تھی مگر مامون جیسے علم دوست خلیفہ نے اپنے خیالات اور عقیدوں کو سختی سے کوڑوں ، قید و بند اور تلوار کے زور سے رائج کرنا چاہا جس سے یہ عوامی حمایت سے محروم ہوگئی ۔ دوسری طرف اس مخالفت امام حمبل بن احمد نے کی ۔ امام حمبل بن احمد حدیثوں کی بنیاد پر اپنے فقہ کی بنیاد رکھی تھی ۔ یہ ابوحنیفہ کی آزاد خیالی ، مالکیوں تنگ نظری اور شافیعوں کی عامیانہ روش متنفر تھے اور یہ آیات کریمہ کے لفظی معنوں سے سرمو ادھر ادھر نہ ہوتے تھے ۔ اس وجہ سے واقعی طور پر ید اللہ سے خدا کا ہاتھ اور استوا علی عرش سے خدا کو واقعی عرش پر مقیم مانتے تھے ۔ عوام ان کے جوش خطابت سے متاثر تھے اور ان کے ساتھ وہ حنفی بھی شامل ہوگئے جو قران کو مخلوق کہنے پر متزلہ کے خلاف ہوگئے تھے حنبلہ اور اشعریہ کے معاون ہوگئے اور متزلہ اور عوام کے درمیان جنگ چھڑ گئی ۔ بات گالی گلوچوں سے خون خرابہ تک پہنچ گئی اور بغداد کے کوچوں میں آئے دن کشت و خون ہوتے تھے اور اس نزاع میں لاکھوں افراد مارے گئے ۔ متصم باللہ اور واثق باللہ نے تشدد کے ذریعہ اس مذہبی جوش مذہبی کو فرد کیا ۔ واثق نے امام حنبل کو قید کر دیا اور قید کے دوران کی موت واقع ہوگئی ۔ ان کا مذہبی فرقہ جو کبھی مقبول نہیں ہوا حنفیوں میں جذب ہوگیا اور حنفی مذہب کو ایک نئی شکل میں یعنی حدیثوں ماخذ سمجھاجانے لگا ۔ اس زمانے تین عقیدے لوگوں میں عام تھے ۔
(۱) جبریہ ۔ یہ اشعریہ کا مذہب تھا ۔ فعل مخلوق خدا ہے ۔ اس میں انسان کی مرضی کو دخل نہیں ۔ خدا شہنشاہ ہے گناہگاروں کو بخش سکتا ہے اور نیکوں یا بے گناہوں کو سزاد دے سکتا تھا ۔ یہ خارق العادات پر یقین رکھتے تھے ۔ 
(۲) قدریہ یا تفویض ۔ یہ مذہب اعتزال کا تھا ۔ انسان اپنے افعال میں مختار ہے اور اس کو اچھے یا برے فعل اختیار کرنے کا ہے اور انہیں اس کی جزا یا سزا ملے گی ۔ 
(۳) افعال انسان پیدا کرتا ہے ۔ مگر نیکی اور برائی خدا نے پیدا کی ہے لیکن انسان برائی کے لیے مجبور نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ شیعوں کا مسلک تھا ۔
متوکل کے دور سے اعتزال کا زوال شروع ہوا اور بالخصوص مذہبی معاملات میں عقل کو ذوال ، تصوف شیعت کو عروج حاصل ہوا اور لوگوں میں ان کے بہت سے خیالات داخل ہوگئے ۔ گو متزلہ بظاہر ختم ہوگئے مگر ان کے خیالات فنا نہیں ہوئے ۔ اس طرح اشعریہ بھی امام غزالی کے بعد فنا ہوگئے مگر ان کے عقائد و خیالات فنا نہیں ہوئے ہیں اور آج اہل سنت اور دوسرے فرقوں نے اپنالیے ہیں اور اہل علم متزلہ کے دلائل کو پیش کرتے ہیں ۔ جب کہ عوامی وعظ اپنی تقریروں میں اشعریہ کے خارق العادات واقعات کو پیش کرتے ہیں ۔ موجودہ دور کی کسی بھی تفسیر کو دیکھ لیں وہ متزلہ کا طریقہ پر لکھی ہوئی ہوگی ۔ آج کسی بھی فرد سے معلوم کرو تو خدا کہاں ہے ؟ جواب ملے گا خدا ہر جگہ ہے ۔ امام تمیمہ کے نذدیک ایسا کہنے والا کافر ہے ۔ وہ منبر کی سیڑھیوں اتر کے بتاتے ہیں خدا قیامت میں ایسے زمین پر اتر کر آئے گا ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں